زمین کے بیٹے زندہ رہتے ہیں


محترمی وجاہت مسعود سے ”ہم سب“ کے لیے باقاعدہ لکھنے کا عہد ہوا ہے۔ پہلا کالم لکھنے سے قبل خاکسار نے ضروری جانا کہ کالم نگاری کی زمین سے اپنی زمانی وابستگی کا حال نذر قارئین کر دے۔

٭٭٭           ٭٭٭

1984ء میں سپیشل ملٹری کورٹ نے مجھے سزائے موت سنائی۔ میرے ذمہ یہ جرم لگایا گیا تھا کہ میں نے جنرل ضیا الحق کی ”قانونی“ حکومت کا غیر قانونی ذرائع سے تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ میں نے ملٹری کورٹ میں جرم صحت سے انکار کی بجائے اقرار کرتے ہوئے اس الزام کو اپنے لیے حسن کارکردگی کا تمغہ قرار دیا۔

گھپ اندھیروں، جاہلیت، منافقت، مذہبی استحصال، آئین کی بے حرمتی اور پامالی، بنیادی حقوق کے خاتمہ اور عدالتوں کے اختیارات پر قدغنوں جیسے مارشل لائی اقدامات کے خلاف اپنی مقدس جدوجہد کے صلے میں سزائے موت کے اعزاز کے اصل مرحلے یعنی پھانسی پر لٹکائے جانے کی بجائے میری سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا۔ حالانکہ میں نے اپنی زندگی بچانے کی خاطر رحم کی اپیل کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بقول فیض

گلوئے عشق کو دارو رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سربلند کیا کرتے

گرفتاری سے لے کر پھانسی کوٹھڑی کے قیام کا عرصہ ختم ہونے تک میرے پانچ سال مکمل ہو چکے تھے۔ جن کی اجمالی کیفیت یوں ہے کہ تئیس ماہ شاہی قلعہ لاہور، تین ماہ قلعہ بالا حصار پشاور اور بقیہ چونتیس مہینے کے پی کے اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں گزار چکا تھا۔

سزائے موت کی عمر قید میں تبدیلی کی بعد مجھے ملتان اور پھر سنٹرل جیل میانوالی بھیج دیا گیا۔ قلم کاغذ، کتاب کی سہولت سے من کی دنیا شاد کام ہو گئی۔ ایک روز ”جنگ“ اخبار میں ”اسلام یا ڈیمو کریسی؟ یا دونوں“ کے عنوان سے ڈاکٹر محمد باقر کا کالم نظر سے گزرا جس میں موصوف نے ڈیمو کریسی کے لتے لیتے ہوئے اسلامی نظام سیاست و ریاست کی انتہائی سطحی انداز میں وکالت کی، پڑھ کر طبع گراں بار ہو گئی۔ چند روز بعد جواب آں غزل کے سلیقے میں خان زمان مرزا کا مضمون بعنوان ”اسلام یا ڈیمو کریسی؟ یا دونوں۔ دوسرا نظریہ“ شائع ہوا۔ موصوف نے ڈاکٹر محمد باقر کے مندرجات پر طنز و تضحیک کے نشتر چلائے اور اس میں سے کیڑا کاری کے علاوہ کوئی علمی بات نہ کی۔ موصوف کی تحریر ان کی موضوع سے عدم واقفیت کی غماز تھی۔ اس خاکسار نے قلم و قرطاس اٹھائے، مذکورہ موضوع پر اپنے نقطۂ نظر کو قرآن و سنہ، فلسفہ شریعہ اسلام، سماجی ارتقا کے قوانین اور تاریخ سے استشہاد و استنباط کرتے ہوئے اپنا نقطۂ نظر بیان کیا اور ”اسلام یا ڈیمو کریسی؟ یا دونوں۔ تیسرا نظریہ“ کے نام سے روزنامہ ”جنگ“ کے پتا پر ارسال کر دیا۔ کالم نویسی کی زمین پر یہ میرا اولین قدم تھا۔ اس کا نتیجہ کیا رہا، تاہم مزید کلام سے پیشتر اپنے ساتھ فطرت کے معجزاتی برتاؤ کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

فطرت میں جاننے کی امنگ کا بیج میری ذات میں رکھ کر مجھے عدم سے ہست کیا تھا۔ قید و بند کا سلسلہ بے مثل برکت بن جاتا ہے اگر انسان کو پڑھنے کی لت ہو اور اس ماحول میں کتاب کی سہولت میسر ہو۔

ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کی قانون سے ماورا حکومت ہو اور آپ پر اسے قتل کرنے کی سازش کا الزام اور قدرت اسی کی قید میں آپ کے لیے کتاب کا انتظام کر دے، کیا یہ فرعون کے گھر موسیؑ کی پرورش سے کم اہمیت کا واقعہ ہے؟ یہ معجزہ میرے ساتھ پیش آیا۔ یہ کیسے ممکن ہوا۔

گرفتار ہو کر شاہی قلعہ آئے، تیسرا ہفتہ تھا۔ تشدد کا ایک مرحلہ گزارے ابھی 24 گھنٹے بھی پورے نہیں گزرے تھے کہ صبح گیارہ بجے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اختر عبد الرحمٰن لاؤ لشکر کے ساتھ میرے سیل کی دہلیز پر آن کھڑے ہوئے ”کیا حال ہے“ ؟ انہوں نے انتہائی شستہ لہجے میں سوال کیا۔ ”خدا کا شکر ہے جناب“ میں نے اپنائیت سے جواب دیا۔ سامنے دیوار پر قرآن کریم لٹک رہا تھا اس کی طرف دیکھ کر انہوں نے کہا ”قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں؟“ ”نہیں“ فی البدیہ میرے منہ سے نکلا۔ ساتھ ہی میں نے کہا ”ناظرہ تو بچپن ہی میں مکمل کر لیا تھا۔ اب یہاں میرے پاس وقت ہی وقت ہے اگر ہو سکے تو میرے لیے تفسیر قرآن کا انتظام کروا دیں تاکہ میں موقع سے فائدہ اٹھا کر سمجھ سکوں۔“ انہوں نے کرنل ولی کو مخاطب کر کے کہا ”ولی ان کے لیے قرآن کی تفسیر کا انتظام کرو۔“ کرنل ولی نے کہا ”جناب ہمارے پاس تو ترجمے والا قرآن ہے۔ تفسیر قلعہ میں نہیں ہے۔“ میں نے اپنے لیے موقع غنیمت جانتے ہوئے فوراً مداخلت کی ”جناب انہیں کہیں مجھے گھر سے پیسے منگوانے دیں۔ یہ اپنے پاس رکھ لیں ساتھ ہی اردو بازار ہے مجھے تفسیر اور کچھ اسلامی کتابیں خرید کر مہیا کر دیں تاکہ میں اسلام کو سمجھ سکوں۔ اور جب کوئی کتاب پڑھ لیا کروں وہ واپس لے کر مجھے اگلی اسلامی کتاب دے دیا کریں۔“ ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا ”اسلامی کتابیں پڑھنے سے آپ کو کوئی کیوں روکے گا“ اور ساتھ ہی کرنل ولی سے مخاطب ہو کر تحکمانہ لہجے میں کہا ”ولی ان کی گھر بات کرا دو۔ وہ پیسے جمع کرا دیں تو یہ جو اسلامی کتاب کہیں، انہیں منگوا دیا کرو“ ۔ قارئین کرام! وہ مجھے کمیونسٹ، لامذہب اور دہریہ سمجھتے تھے۔ یقیناً اختر عبد الرحمان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہو گا کہ اگر قرآن اور اسلامی کتابیں پڑھ کر میں راہ راست پر آ گیا تو خدا انہیں اس کا اجر دے گا۔ اس طرح قلعہ لاہور میں خدا نے مجھ پر کتاب کا دروازہ کھول دیا۔ اور میں نے اپنے شب و روز علم کی روشنی سے باطنی اندھیرے کم کرنے کے نام کر دیے۔

بات ہو رہی تھی جیل سے کالم لکھ کر روزنامہ ”جنگ“ کے پتا پر روانگی کی۔ چوتھے روز میرا ارسال کردہ کالم 23 نومبر 1985 کے روز ادارتی صفحے کا جھومر بن کر چھپ گیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا میرے ارسال کردہ کالم ادارتی صفحے کے کالم نمبر ایک کی حیثیت سے شائع ہوتے رہے۔ رہائی کے بعد طویل عرصے تک کے لیے کالم نگاری سے ہاتھ کھینچ لیا۔ آج سے دس سال قبل ایک نجی محفل میں برادر سہیل وڑائچ نے کالم لکھنے پر اصرار کیا۔ میں نے دوبارہ آغاز کر دیا۔ اب کہ ادارتی صفحہ کے ساتھ ایک اضافی صفحہ بھی کالمز کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ درجہ بندی کے لحاظ سے کم اہمیت کے کالم اضافی صفحے پر شائع کیے جاتے ہیں۔ میرے کالم کو ادارتی صفحے کی بجائے اضافی صفحے پر شائع کیا جانے لگا۔ میں کہ جس کے کالم تیس برس قبل پہلے ادارتی صفحے کے اپر ہاف پر چھپا کرتے تھے، اس بے توقیری کو اس لیے برداشت کرتا رہا کہ اگر میری تحریر میں زور ہوا تو کچھ دیر بعد از خود ادارتی صفحے پر اپنی جگہ بنا لے گی۔ چونکہ زمانہ بدل چکا تھا، اب صحافت کے دائرے کے اندر بھی اقدار سماج کے دیگر دائروں کی طرح انحطاط اور زوال کی زد پر آ چکی تھیں۔ میرے کالم کے ساتھ یہی برتاؤ جاری رہا۔ خیال مرزا محمد رفیع سودا کے اس شعر کی طرف گیا۔

ترک کر سوداؔ ہنر کو اب ہنر رکھتا ہے عیب
ہو گئیں خلقت کی نظروں میں ہنر معیوبیاں

گزشتہ تین برس سے لکھنا بند کر دیا۔

ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے محبی وجاہت مسعود اور خاکسار کی ملاقاتوں میں برسوں پر محیط وقفے حائل ہو گئے۔ چند روز قبل ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ”ہم سب“ میں لکھنے کی دعوت دی۔ میرے نزدیک وہ شعبہ صحافت کے قلندر ہیں۔ ان کے انداز فکر و نظر سے اختلاف و بعد تو ممکنات میں آ سکتا ہے لیکن ان کی صحافیانہ دیانت پر انگشت نمائی نہیں ہو سکتی۔ امید کرتا ہوں کہ ان کے صفحات میرے قلم کا ”بوجھ“ آسانی سے اٹھا لیں گے۔

٭٭٭ ٭٭٭

عرض مدیر: محبی آصف جاوید بٹ کا شمار وطن عزیز کے ان سپوتوں میں ہوتا ہے جنہیں بائبل مقدس کے لفظوں میں زمین کا نمک کہا گیا ہے۔ وطن کو آمریت کا عذاب آ لے تو اس کی ہر ممکن مزاحمت ہر شہری کا فرض ہے۔ ہمارے ملک پر یہ آزمائش بارہا گزری۔ اس دھرتی کا اعجاز ہے کہ جہاں آمریت کے خوان نعمت سے لقمہ ذلت اٹھانے والوں کی کمی نہیں رہی، وہاں ننگی آمریت کو للکارنے والے حسن ناصر، نذیر عباسی، خالد چوہدری، جاوید اقبال معظم، فرخندہ بخاری، حمید بلوچ، عثمان طوطی، شہلا رضا،  پرویز رشید اور مشاہداللہ خان جیسے درجنوں لعل و گہر بھی تواتر سے آوازہ حق بلند کرتے رہے۔ آمریت بانجھ ہوتی ہے۔ آج آمریت کے کاسہ لیسوں کو یاد کرنے کا کوئی روادار نہیں۔ عوام کے حق حکمرانی کا دھارا آج بھی پوری شان سے بہ رہا ہے۔ محترم آصف جاوید بٹ کی ان صفحات پر آمد ادارہ ”ہم سب“ کے لئے باعث اعزاز ہے اور اس حقیقت کا اعلان کہ زمین کے بیٹے زندہ رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS