بہاولپور یونیورسٹی اور بلا وجہ کا شور شرابا


بہاولپور یونیورسٹی سکینڈل اور ایک جج کی بیوی کے ہاتھوں قریب قریب قتل ہو جانے والی بچی۔

سماج کے دو گھناؤنے چہرے، جتنی ویڈیو سامنے آئیں سب دیکھ کر دل بیٹھ جانے والی کیفیت ہے۔ جج کی بیوی تو بچ جائے گی ہم سب کو علم ہے اسے زیادہ انصاف کی تعریف کیا ہو سکتی ہے۔ بہاولپور یونیورسٹی سکینڈل وہاں پہنچ گیا ہے جہاں جتنے منہ اتنی باتیں۔ جو بھی موبائل پکڑا گیا اس کی میموری کتنی اچھی تھی کہ ظالم نے سو ویڈیو سنبھال رکھی تھیں۔

جو ویڈیو منظر عام پہ آ رہی ہیں اکثر عبایہ والی لڑکیاں اس لئے پردہ اور مذہب کی بات نہ کی جائے تو مناسب ہے۔ جب پردہ کرواتے ہیں تو بتایا بھی جاتا ہے کہ مرد سے نرم لہجے میں بات نہیں کرنی۔

پانچ ہزار سے زیادہ ویڈیوز کا مطلب ہوا کہ دھندا پرانا ہے اگر بات اتنی پرانی ہے تو اس زمین پہ کوئی بھی ایک بہادر لڑکی پیدا کیوں نہیں ہوئی؟ چلیں وہ لڑکی تھی تو کیا گروہ مذکورہ کے علاوہ باقی سب نامرد تھے؟ جہاں ایک بوتل ٹوٹنے کی ویڈیو تو وائرل ہو سکتی ہے اتنا بڑا سکینڈل چھپا لیا جاتا ہے۔ گریڈ منفی ایک سے گریڈ آگ کی وادی تک سب ہی ملوث اور فیض یاب ہو رہے تھے۔ کمال ہے۔

لیکن اسے زیادہ کمال یہ ہے کہ اس سب کے بعد آ ”عام“ کا قاعدہ جس نے نہیں پڑھا وہ بھی سر اٹھا کر بات کرنے کے قابل ہو گئے ہیں کہ بہت شکر ہے تعلیم سے فیض یاب نہیں ہوئے ورنہ یہی لوگ تکیوں میں منہ دے کر روتے تھے۔ کاش پڑھ لیا ہوتا تو آج کسی مقام پہ ہوتے۔

وہی دقیانوسی سوچ عورت کو پڑھنا نہیں چاہیے۔ جب پڑھے گی تو یہی ہو گا۔ اجی وہ جو گھر بیٹھی ریپ ہو جاتی ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے اور جو جج کی بیوی نے ایک بچی کے ساتھ کیا ہے وہ کیا ہے؟

وہی مخلوط تعلیم کی بات، نہ دیں مخلوق تعلیم، حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ لڑکیوں کے لئے الگ یونیورسٹی بنا دیں لیکن یاد رکھیں الگ یونیورسٹی میں بھی سربراہ عورت اگر کسی گینگ سے مل گئی تو ہوسٹل کی لڑکی سپلائی بھی ہو گی، زیادتی کا نشانہ بھی بنے گی اور یہاں منشیات بھی آئیں گی۔

ایک عرصہ سے لکھ رہے ہیں کہ بڑوں شہروں کا چارم چھوڑ کر حکومتوں سے مطالبہ کیا جائے کہ تعلیم اور صحت دو بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہسپتال اور یونیورسٹی تک تعلیمی ادارے چھوٹے قصبات میں، دیہات میں بنائے جانے پہ فوکس کرنا چاہیے۔

بڑے شہروں کی جنگ بڑی ہوتی ہے جب ایک لڑکی ایک بار ہوسٹل آ گئی تو وہ شہری لڑکی سے کئی گنا آگے سفر کرتی ہے کیونکہ اس کو گھر کے مرد تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں مگر گھر کے اندر وہی عورت موجود ہے جو سماجی نمائندہ ہے وہ یہی سمجھا کے بھیجتی ہے کہ اب واپسی کا کوئی رستہ نہیں ہے تم اپنا رستہ بنا کر آنا۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کہ قصور وار عورت ہے۔ مرد تو موقع پرست ہے اور اگر عیاش ہے اور کسی ادارے کا سربراہ عیاش کو بنا دیا جائے تو وہاں جرائم ہی جنم لیں گے۔

یہاں واقعہ ایک نہیں ہے واقعات کی سلسلہ وار کڑی ہے
منشیات کی سپلائی
لڑکیوں کو نشہ کا عادی بنانا
نمبروں اور جی پی اے کے لالچ
ڈانس پارٹی، فارم ہاؤس، دو گاڑیاں تین لڑکیاں
وٹس ایپ پہ سینہ چاک ویڈیوز
وٹس ایپ چیٹ
وٹس ایپ پہ پورن ویڈیوز کلپ کا تبادلہ

ان سب عناصر سے مل کر جو سکینڈل بنتا ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہ مافیا ہو سکتا ہے۔ مافیا کوئی بڑا بندا چلاتا ہے اثر و رسوخ کے بنا مافیا نہیں چلتا

مزے دار بات یہ ہے پورن ویڈیوز کی طرح، اس سکینڈل میں بھی مرد کی تصویر یا چہرہ غائب ہے خواتین کے جسم اور چہرے دیکھ کر سب چسکے لے رہے ہیں گویا پہلے یونیورسٹی والوں نے چسکے لئے اب ”آ“ عام کی باری ہے۔

پانچ ہزار ویڈیو کا مطلب سمجھ آتا ہے؟ صرف لڑکیوں کو ہر وقت سٹینڈ بائی پہ بلیک میل کرنا نہیں ہے۔ یہ تو صنعت ہو گئی۔ کیا معلوم لائیو سٹریمنگ کاروبار تک کی کہانی بھی معلوم ہو جائے

لیکن دیکھئے بات یہاں ختم نہیں ہو گی کہ لڑکی کی تعلیم کو روک دیا جائے۔ نہ ہی ہر لڑکی اس سسٹم سے نکل کر ڈگری لیتی ہے۔ نہ ہی اس دھندے میں ملوث سب مرد ہوں گے۔ ہوسٹل کی انچارج تو عورت ہو گی ناں۔ اس کا ذکر پورے قصے میں نہیں ہے۔

اگر لڑکی غلط عمل پہ رد عمل نہیں دے رہی تو گھر کی تربیت پہ حرف آئے گا۔ پندرہ بیس سال تو وہ گھر میں ہی تھی ناں۔ گھر والوں سے اس کو سمجھایا کیوں نہیں کہ کیا غلط اور کیا درست ہے؟

کہاں کیا رد عمل دینا ہے؟ ایک سال کا بچہ بھی رد عمل دیتا ہے یہ تو سب جیسے بے حس یا واقعی نشے کی عادی تھیں۔

اب ہمیں سیکس ایجوکیشن پہ بات کرنی ہوگی۔ جب سیکس کر سکتے ہیں، چھپ کے یا ریپ کر کے، یا کسی رشتے سے پہلے اور بعد میں تعلق تو کیا سیکس کو تعلیم کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ لطف کا آخر سیکس ہے اور اتنی بڑی ہوش ربا تعداد میں سے سینکڑوں تو اس عمل سے گزری ہی ہوں گی اور چند لڑکیاں حاملہ بھی ہوئی ہوں گی۔ ان کے ابارشن بھی ہوئے ہوں گے ابارشن کے بعد ایک عورت کی کیا حالت ہوتی ہے وہ وقت انہوں نے کیسے گزارا ہو گا۔ کسی ساتھی لڑکی کو درد کیوں نہیں ہوا کہ وہی چیخ اٹھتی؟
کیا ابارشن کرنے والی ڈاکٹرز یونیورسٹی کے عملے کی طرح گیم کا حصہ ہیں؟ کچھ نرسوں کو بھی خبر تو ہو گی۔ کچھ میڈیکل سٹور سے دوا بھی گئی ہو گی؟

بات ختم نہیں ہو گی۔

جامعات کے پروفیسرز کو دیکھیں تو ان کے چہرے اتنے کنفیوزڈ ہوتے ہیں جسے ان کا فیوز اڑا ہو، یہ ذہنی بیمار استاد قوم کے بچوں کو پڑھا رہے ہیں جن کو خود ابھی سیکس ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔

اس لئے بہتر ہے بات پروفیسری تک جائے کم عمری میں بچوں کو سیکس آگہی بھی دیں اور یہ بھی بتائیں کہ سیکس کرنا ماڈرن ہونا نہیں ہے یہ فطرت ہے۔

ڈانس پارٹیز، منشیات اور سیکس میں کچھ بھی ماڈرنزم کی علامت نہیں ہے یہ سب بیماری کی علامت ہے۔ سیکس ایک جبلت ہے لیکن ہر وقت اور ہر روز جبلت بھی سر اٹھا کر کھڑی نہیں رہتی۔ سکینڈل سے تو لگتا ہے جیسے جنگل میں ایک کے بعد ایک والا نظام چلا ہے۔

جرم کے لئے تعلیم یافتہ ہونا یا غیر تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے مجرم و بیمار ذہین کہیں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔

ہم نے معلومات کی غرض سے یونیورسٹی سے متعلقہ کچھ افراد سے یونہی رابطہ کیا کہ اس بات میں کتنی سچائی ہے تو بلیم گیم شروع ہو گئی

”آپ اپنے لاہور کی فلاں یونیورسٹی کو دیکھیں، فلاں کی بات کریں، فلاں اور وہاں۔“

تو جب جناب من آپ میرے لاہور تک آ ہی گئے ہیں تو ذرا درد کا در بھی کھول لیں۔ یہ وہ شہر ہے جسے یہاں آنے والے منی یورپ کہتے ہیں۔ بلا شبہ منی یورپ ہے۔ یہاں پنجاب کا مقابلہ نہیں ہے یہاں پورے پاکستان سے میرٹ بنتا ہے۔ بڑا مقابلہ ہے۔

جن کے باپ دادا اور بیوی بچے یہاں رہتے ہیں ان کو گند ڈالتے ہوئے بھی سوچنا پڑتا ہے۔ جیسے یورپ جانے کے خواب میں ایک خواب یہ ضرور شامل ہوتا ہے کہ اگر وہاں پہنچ ہی گئے تو کسی پب میں نہ بھی جا سکے تو باہر بیٹھ کر ایک عریانی کا سانس ضرور لیں گے۔ یونہی یہاں آنے والا اپنے صندوق میں نیکر رکھ کر ضرور لاتا ہے۔ یہاں آنے والا واپس نہیں جانا چاہتا اور وہ جو گند وہ ڈالتا ہے وہ اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ ہر بڑے شہر کا یہی المیہ ہوتا ہے۔

تو اگر ابھی بات بہاولپور یونیورسٹی یا جج کی بیوی کی ہو رہی ہے تو اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں۔

اس سب کے پیچھے کوئی طاقت ہے جو ریاست و قوم کی بنیادوں میں زہر بھرنا چاہ رہی ہے ورنہ اتنا شور شرابا کس بات کا تھا۔ روز کی بنیاد پہ یہاں بے شمار لڑکیاں ہراس کی جاتی ہیں۔ مار دی جاتی ہیں۔ کچھ ہے جس کی پردہ داری ہے۔

Facebook Comments HS