صیہونی مقتدرہ، ویژن 2030 اور نیا عالمی نظام

صیہونی مقتدرہ نے 2024 تک جن اہداف کو حاصل کرنے کا پلان ترتیب دیا ہے ان میں سے بیشتر کے قریب تر وہ پہنچ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ویژن 2030 بآسانی حاصل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ویژن 2030 دراصل جس فارمولے پر اپنی تگ و تاز جاری رکھے ہوئے ہے وہ ”کرہ ارض پرایک نظام کی تشکیل“ ہے۔ اس پورے فارمولے کو پوری دنیا میں چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ملک و اقوام میں پھیلے صیہونی مقتدرہ کے ایجنٹ اسے اپنے اپنے طور پر ڈیزائن کر رہے ہیں اور زمینی سطح تک نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس تاثر کے ساتھ کہ ”تم مستقبل کے معمار ہو اور مستقبل تمہارا ہے“ صیہونی مقتدرہ کے ایجنٹ ”حشاشین“ کی کھیپ تیار کر رہے ہیں۔ ہر ملک، وہاں کی تہذیب، وہاں کی لسانی و علاقائی عصبیتیں اور پھر مذہبی عصبیتوں کے ساتھ مکمل پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پالیسی و پروگرام میں نوعمر اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ نوجوانوں کے ذوق و خواہش کا لحاظ رکھتے ہوئے نہ صرف تفریحی و غذائی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں بلکہ تعلیمی پروگرام کا بھرپور خاکہ بنایا گیا ہے۔ نوجوان بچیوں کے ساتھ خواتین کے لئے خوشنما نعروں کا سہارا لیا گیا ہے اور ”آزادی“ اور ”تعلیمی انقلاب“ کے نام پر خواتین کی بربادی کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔
چونکہ صیہونی مقتدرہ کا ایک مرکز ہمارا خطہ بھی ہے لہذا مختلف انداز میں یہاں کام کی تقسیم کی گئی ہے۔ آج کل ”ماڈریٹ اسلام“ کے جس قدر چرچے ہیں۔ پوری دنیا کے ساتھ مذکورہ خطے میں بھی اس کی بھرپور درجہ بندی کی گئی ہے۔ نظام دجل کے غلاموں کی جہاں پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے وہیں ان کے لئے مختلف سطح پر پالیسی و پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ہیں۔ ان کی جنت کو جہاں خوشنما بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہیں مخالفین پر عرصہ حیات تنگ سے تنگ تر کیا جا رہا ہے۔ مختلف سطح پر ”ڈیٹا“ کے حصول کے لئے دل لبھاتے منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں تو مقتدرہ کی نگرانی میں ایسی این جی اوز قائم کی گئی ہیں جو راست طور پر ان کے زیر اثر کام کر رہی ہیں۔ طبقاتی کشمکش کو چھیڑ کر جہاں مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف صف آرا کر دیا گیا ہے وہیں ”اسلام“ سے ”اس کے روح“ کو نکال کر مسلمانوں کو زندگی کا سبق دیا جا رہا ہے۔ دجل کے وہ تمام طریقے جس سے انسان فریب کا شکار رہے، اس پر عمل آوری کی کوششیں جاری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو انسانیت اور انسانی قدروں کے حوالے سے محتاط ہیں ان کے خلاف بھی محاذ آرائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یعنی ایک ایسا ماحول تیار کیا گیا ہے جہاں ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے خوف آنے لگا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ سرکردہ لوگ جو اس پورے مہم میں صیہونی مقتدرہ کا ساتھ نہیں دینا چاہتے انہیں مختلف انداز میں ٹارگیٹ کیا جانے لگا ہے۔
میری ناقص رائے یہ ہے کہ جس عالمی نظام کی تیاریاں زور و شور سے کی جا رہی ہیں اس کا عملی مظاہرہ 2030 تک کیا جانا ہے۔ حدیثوں میں جس کاٹ کھانے والی حکومت کا تذکرہ ملتا ہے، پوری دنیا کا جائزہ لیں تو محسوس ہو گا کہ ہر جگہ کاٹ کھانے والی حکومت ہی براجمان کردی گئی ہے۔ مسلم ممالک ہوں یا عیسائی ممالک، کمیونسٹ ہوں یا بودھسٹ یا پھر ہندتوا وادی فاشسٹ، یہ تمام حکومتیں محض افراتفری پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور باقاعدہ حکومت کی نگرانی میں انسانیت سوز کام انجام پا رہے ہیں۔ یوں تو دنیا طبقاتی اعتبار سے امیر و غریب میں تقسیم ہو چکی ہے اور حکومتیں امیروں کے لئے کام کرنے لگی ہیں لیکن ان امیروں نے جس ”یونی کارن“ کا سہارا لیا ہے دراصل وہی صیہونی مقتدرہ کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بھی ہے۔
اس وقت سماجی سطح پر بھی ”یونی کارن“ کی تشکیل ہو رہی ہے۔ وہ تنظیم و جماعت جس کے معاشرے پر مثبت اثرات ہیں ان کے اثر و نفوذ کو جہاں ختم کیا جا رہا ہے وہیں ان این جی اوز کو جن کا اپنا کوئی نظریہ یا فلسفہ نہیں ہے بڑے پیمانے پر پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی مقامی این جی اوز کو کسی ایک کے زیر اثر لاکر نہ صرف مقامی طور پر اس کے سود مند نتائج پر قدغن لگایا جا رہا ہے بلکہ کمال ہوشیاری سے ان کے وسائل پر بھی ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک میں چونکہ اس کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے لہذا اب اسی تجربہ پر اس خطے میں بھی عمل آوری ہو رہی ہے۔ سماج میں جس چیز کو سب سے زیادہ بڑھاوا دیا جا رہا ہے وہ حرص و ہوس کے ساتھ تمام طرح کے اخلاقیات کو بالائے طاق رکھنے کا ہے۔ سماجی طور پر ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جا رہا ہے جہاں ہر فرد ذاتی و شخصی فائدے کے لئے سماج کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کر رہا ہے۔ اسمارٹ سٹی کے نام پر شہروں کی تشکیل دراصل اسی ضمن کی کوشش ہے جہاں ہر فرد اب ایک اکائی میں تبدیل ہو جائے۔ وہ تمام ادارے جو اجتماعیت کو فروغ دینے کا سبب بن سکتے ہیں یا تو ان پر قبضہ کر لیا گیا ہے یا پھر انہیں ختم کر دیا گیا ہے۔
میں یہ بات پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ ”کرونا وائرس“ کا دور جہاں نئے عالمی نظام کے ریہرسل کا تھا وہیں صیہونی مقتدرہ کی مرکزیت کی منتقلی کا بھی تھا۔ چونکہ ہمارا خطہ صیہونی مقتدرہ کے زیر اثر آ چکا ہے لہذا یہاں ایسے واقعات کا ظہور کثرت سے ہو رہا ہے جو کسی بھی سماج میں قابل قبول نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تحریر آپ کی سمجھ سے بالاتر ہو لیکن یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو بین السطور پڑھنا جانتے ہیں۔ کیونکہ فی الحال معاملہ یہ ہے کہ ”بلبل ہوں جس کو تاک لیا ہے عقاب نے“ ۔
دانش ریاض ممبئی میں مقیم معیشت میڈیا کے منیجنگ ایڈیٹر اور معیشت اکیڈمی کے ڈائریکٹر ہیں۔

