کچھ بیاں بلوچی افسانہ نگاری کا


بلوچی زبان و ادب کی تاریخ یوں تو بڑی قدیم ہے تاہم بلوچی میں افسانہ نگاری کا آغاز ترقی پسند تحریک کے نتیجے میں ہوا، اسکے متعلق نامور بلوچ دانشور و محقق عبداللہ جمالدینی رقم طراز ہیں ” بلوچی میں افسانہ نگاری کا آغاز تراجم سے ہوا، انگریزی اور روسی افسانہ نگاروں کے تخلیقات کے تراجم بلوچی میں کئے گئے اور پھر اسکے بعد طبع زاد افسانے سامنے آئے .”
بلوچی زبان کے ادب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ، پہلا کلاسیکل دور ہے کہ جو سوفیصد شاعری پر مبنی ہے ، یہ پندرھوی صدی عیسوی کا دور ہے ، اس دور میں بلوچی زبان ، زبان و بیان اور ادب کے حوالے سے عروج پر ہے اورکسی عام قاری کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ دور بلوچی زبان کاابتدائی دور ہے ، اس دور کے شعرا ء کا کلام یا انکے تذکرے سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہے اور آج ہم تک پہلوانوں (روایتی بلوچی کلاسیکل گلوکار ) کے وسیلے سے پہنچتے رہے ہیں .
بلوچی زبان و ادب کا دوسرا دور مُلائی دور کہلاتا ہے جو سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی کا دور ہے ، اس دور میں شعراء چونکہ عالم فاضل تھے عربی اور فارسی سے مکمل طور پر واقف تھے سو کلاسیکل شاعری کا رنگ لئے ہوئے عربی اور فارسی کے زیر اثر اس دور کا ادب نمایاں ہوتا ہے ، اس دور کی ایک ا اہم پیشر فت یہ ہوئی کہ تخلیقات خالق کے ناموں کے ساتھ ہماری تاریخ میں موجود ہیں .
بلوچی ادب کا تیسرا دور نیا دور کہلاتا ہے جسکی ابتدا ء 1922 سے ہوتی ہے ، 1948 میں بانی ِپاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے انتقال پر ریڈیو پاکستان کراچی کے ماتمی پروگرام میں فیض محمد بلوچ کی آواز میں موتک (مرثیہ) نے بلوچی زبان کی ترویج میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس سے ریڈیو پاکستان کراچی سے باقاعدہ بلوچی نشریات کا آغاز ہوا جس میں مولانا خیر محمد ندوی اور سید ظہور شاہ ہاشمی کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے. ریڈیو پاکستان کراچی میں بلوچی کی نشریات شروع ہوتے ہی بلوچی نے ایک طرح سے نثری ادب کی ابتدا کی ،بلوچی میں ابتدا میں دیگر زبانوں سے تراجم کیے گئے۔ بیشتر تراجم برائے راست روسی زبان ، فرنچ ، انگلش ، فارسی ، اردو اور عربی سے کیے گئے ، بلوچی میں افسانے کی ابتدا ترجمہ سے ہوئ جو عبدالصمد امیری نام کے ایک قلمکار نے کیا .
ادب کے اس تیسرے دور میں یعنی 1951 سے 1956 تک محمد حسن کلاکوٹی ،عبدالغفور بلوچ ،انور شاہ قحطانی ،نثار احمد بلوچ ،برکت اللہ ،آزات جمالدینی ،شیر محمد مری،شاہ بیگ آسکانی ،تاج محمد ،فقیر محمد عنبر ،ملک محمد بلوچ ،غلام محمد عابد ،محمد نور خان راز ،محمد اسحاق بلوچ ،علی محمد بلوچ اور دیگر بے شمار افسانہ نویسوں نے افسانے لکھے اور ماہنامہ اومان بلوچی میں شائع کروائے . 1956 سے 1959 تک افسانہ نگاروں کے اس قافلے میں عارف بلوچ ،عبدالرحیم صابر ، ادیب یوسفزئی ،احمد علی امان، شمیم دشتی ،ناصر بلوچ جیسے مزید افسانہ نگار شامل ہوئے . اس دوران اس دورکے افسانوں پر ترقی پسند تحریک کی چھاپ نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے ، ان افسانوں میں ادب برائے زندگی کا نعرہ بلند نظر آتا ہے ، انسانی زندگی بذات خود ایک ساکت وجامد شئے نہیں بلکہ ہمیشہ تغیّر کا شکار رہتی ہے تو ایسے میں بھلا یہ کیوں کر ممکن ہو کہ افسانہ نگار جمود کا شکار ہوں ،انہیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونا پڑا ، اس ابتدائی دور کے بلوچ افسانہ نگاروں میں نمایاں شیر محمد مری ، سید ظہور شاہ ہاشمی ، کریم دشتی ، مراد ساحراور محمد بیگ بیگل تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انکی ترجیحات تبدیل ہوگئیں مثلاً سید ہاشمی شاعری اور تحقیق کے ، کریم دشتی بھی شاعری اور تنقید کے ، مراد ساحر شاعری کے اور بیگ محمد بیگل طنز ومزاح کے ہوکر رہ گئے تو ایسے میں بلوچی افسانہ نگاری میں ایک خلا پیدا ہوا.
اسی خلا کو پُر کرنے کے لئے شاید کراچی سے آزات جمالدینی کی صدارت میں ” ماہنامہ بلوچی “ شائع ہوئی جس نے ماہنامہ اومان سے ذرا ہٹ کر ادب کی خدمت کی . اس ماہنامہ کی اشاعت کے ساتھ ہی بلوچی نثر نویسی خصوصا افسانہ نویسی میں کسی قدر بہتر افسانے لکھے گئے یہاں پر ماہنامہ اومان کے قلمکاروں کو بھی لکھنے کا موقع دیا گیا ، اس ماہنامے بلوچی افسانہ نگاروں کی ایک پوری نئی پود سامنے آئی جن میں امان اللہ گچکی ،محمد صدیق ،رونق بلوچ ،زبیدہ بلوچ، غنی طارق ،ایوب بلوچ اور دیگر بے شمار افسانہ نویس متعارف ہوئے .ابتدائ دور میں بیانیہ تیکنیک میں افسانہ نویسی کی گئی تھی ، بیشتر افسانوں کی کہانی سماج میں موجود متعصبانہ رویہ جات ، سرداروں ،زرداروں اور طاقتوروں کے ظلم و ستم کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ حاکم ِ وقت اور سیاسی رہنماؤں سے خوفزدگی کے علاوہ بھوک افلاس کی عکاسی بھی کرتے نظر آتے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر ایسے افسانہ نویس جو کسی بھی طرح سے سرداروں یا زرداروں یا طاقتوروں کے حمایتی تھے انکے ہاں انکے خلاف افسانے نہیں ملتے جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ہر زبان و ادب کی طرح بلوچی ادب میں بھی خوشامدی اور کاسہ لیسی کرنے والے ادباء کی کمی نہیں تھی.
اس دور کے بعد بلوچی افسانے کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوا جسے ہم بلوچی افسانے کا سنہری دور کہہ سکتے ہیں ، یہ دور ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی سے شروع ہوتا ہے اوراس دور میں غنی پرواز ،م منیر احمد بادینی ،حکیم بلوچ ،صبادشتیاری ،حفیظ حسن آبادی نیر بادینی ،امان اللہ گچکی،صورت خان مری ،عباس زیمی اور علی رئیسی جیسے نام سامنے آتے ہیں ، یہ وہ دور ہے جس میں دنیا بھر میں افسانہ نگاری میں نت نئے تجربات کئے جارہے تھے تو بلوچ افسانہ نگاروں نے بھی اس جدیدیت کے دور میں ن نئے رحجانات متعارف کئے، اس دور میں خواتین کے مسائل پر بھی بہت لکھا گیا ،گھریلو اور خاندانی مسائل پر بھی لیکن افسانوں میں تجسس کی کمی ، یکساں تیکنیک اور اسلوب کے باعث انہیں قبولیت ِ عامہ نہیں مل سکی ، تاہم ڈاکٹر نعمت اللہگچکی ایک ایسے افسانہ نگار کے طور پر نمایاں ہوئے جنہوں نے بلوچی ثقافت و روایات کے دائرے میں رہتے ہوئے نئے موضوعات پر طبع آزمائی کی ،انکے ساتھ صبا دشتیاری نے بلوچی افسانے میں فلسفے کو متعارف کیا ، منیر بادینی اپنے منفرد اسلوب کے باعث نمایا ں ہوئے جنکے افسانوں میں حقیقت اور تخیل کی آمیزش نظر آتی ہے ، غنی پرواز کو ہم بجا طور پر بلوچی افسانے کا پریم چند قرار دے سکتے ہیں کہ جنہوں نے روایتی بلوچی معاشرت کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ، انکے افسانوں میں کردار نگاری اس قدر طاقتور نظر آتی ہے کہ جسے دیکھ کر اس زمانے کے ناقدین یہ کہہ اُٹھے کہ کردار تو غنی پرواز کے اشاروں کے قیدی ہیں کہ وہ انہیں جیسے چائیں انہیں پیش کریں لیکن ایک سچے افسانہ نگار کی مانند غنی پرواز کا بھی یہی کہنا تھا کہ یہ کردار میری تخلیق نہیں ہیں ، یہ تو آپ کے اردگرد بکھرے ہوئے ہیں جنکے پاس بے شمار کہانیا ں ہیں ، میں نے بس انہیں آپ کے سامنے پیش کردیا ہے .
جب ماہنامہ اولس کوئٹہ امان اللہ گچکی سرپرستی میں شائع ہونے لگی تو بلوچی افسانہ نویسی میں بھی مزید بہتری آنے لگی . ماہنامہ اولس کوئٹہ میں چھپنے والے بیشتر افسانوں کو اس لحاظ سے بھی بہتر کہا جاسکتا ہے کہ اس میں انگریزی ، اردو اور یورپی افسانوں کے اثرات بھی نظر آئے اور شخصی مسائل سے ہٹ کر بنی آدم کے مسائل ، قومی شعور اور آگہی کے علاوہ انسان کے فکری آزادی کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا گیا . اکتوبر 1961 سے 1994 تک چھپنے والے ماہناموں اور مجلوں میں نوکیں دور ، زمانہ ، بولان ، لبزانک ، بام ، نوائے وطن ، سوغات ، شُبینگ ، برانز ، بندیگ ، منزل ، تپتان ، مئے تاپ ، بہار گاہ ، رژُن ، چاگرد ، سنگار ، آساپ ، بانگواہ ، گوانک اور روچ نامی رسائل و جرائد نے بےشمار نئے افسانہ نگاروں کو متعارف کروایا.
بلوچی افسانہ نگاری کے اس مختصر سفر میں ابتدائی افسانہ نگاروں اور پھر سنہرے دور کے افسانہ نگاروں کے جب دور ِموجود د کے افسانہ نگاروں کی جانب نگاہ کرتے ہیں تو ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ جس دور میں معاشی زندگی ابتری کا شکا ر ہوچکی ہو اور خاص طور پر اہل بلوچستان اس معاشی بدحالی سے زییادہ متاثر ہوئے ہوں تو ایسے میں بھی بلوچ ادیب و شُعراء اپنے فن کے معراج پر نظر آتے ہیں ، آج بلوچی افسانہ نگاروں ڈاکٹر ناگُمان، الفت نسیم ،غنی طارق غوث بہار ، تاج محمد طاہر ،اسحاق خاموش ،اصغر علی آزگ ،کریم رضا ،رخشندہ تاج ،زاہدہ رئیس راجی ،سلیمان رئیس اور منیر عیسٰی نے کم وبیش ہرشعبہ زندگی کو اپنے افسانوں میں بیان ن کیا ہے ، ان تمام بلوچ افسانہ نگاروں کی تخلیقات ہر چند کہ دنیائے ادب میں اس طرح سامنے نہیں پیش ہوسکیں جیسا کہ انکا حق تھا لیکن اکادمی ادبیات اور بلوچی اکیڈمی نے کافی حد تک بلوچی افسانوں کے تراجم شائع کیے ہیں جو بلوچ تخلیق کاروں کے ان کاوشوں کے لئے ناکافی ہیں جنہوں نے شبانہ روز محنت اور اپنے خونِ جگر سے یہ تخلیقات پیش کی ہیں.
بلوچی افسانہ نویسی کے نئے دور میں بھی افسانوں کی بہت سی کتابیں چھپی ہیں ۔ جیسے الفت نسیم کے افسانوں کا مجموعہ گُژنءُ آجوئی،غنی طارق کی دو کتابیں جلار، گُژنءِ کاروان،غوث بہارکی کتابیں زرگوات اور کرکینک ،عباس علی زیمی کی کتاب اوپال ،مولابخش مشتاق کی کتاب سالونکیءِ سِہرا ،تاج محمد طاہرکی کتاب واھگءِ مَرگ ،حفیظ حسن آبادی کی کتاب ٹپی ایں گوربام ،رزاق نادر کی کتاب ِ زامُریں زند ،یاسین مجروح کی کتاب دوزحیں زندءِ جنتیں دروشم،غنی پروازکی کتابیں سانکل ، بے منزلیں مسافر،مہر پہ بہا گیپت نہ بیت،مُرتگیں مردءِ پچیں چم،صبادشتیاری کی کتابیں ھونءُ ھوشام ،ترانگانی بُنزہ ،آسءُ آسیب ،منیر عیسی کی کتابیں نودی شل،کپند،گرکی تَل ،مراد ساحرکی کتاب گرمیں ساھگ، ڈاکٹر ناگمان کی کتاب دارءِ اسپ ،مقبول انور کی کتاب ماہیکانءِ جلشک ۔ملا مراد کی کتاب زیارتی، رفیق چاکر کی کتاب موتکءُ نازینک، زاھدہ رئیس راجی کی کتاب ” بے کسہءَ من ءَ واب نئیت “ اور دیگر بے شمار کتابیں ہیں جو افسانوں کا مجموعہ ہیں۔ .
(اس تحقیقی مضمون کی تیاری میں مصنف محترمہ زاہدہ رئیس راجی کے تعاون کے لئے بیحد شکرگذار ہیں جنہوں نے اپنی انتہائئی مصروفیت کے باوجود اہم معلومات فراہم مہیا کیں۔)

Facebook Comments HS