ایران میں شناسا (3)


سعدی و حافظ کے مسکن کو نہ دیکھا تو ایران میں کیا دیکھا، سو شیراز کی راہ لی۔ لاری اڈہ شہر سے باہر کوہ صفا کے دامن میں تھا۔ کوہ صفا پہ رات کو چوٹی تک ہری بتیوں سے روشن رکھا گیا تھا۔ اندھیروں کو روشن رکھنا، پابندیوں میں خود کو قائم رکھنا۔ ہونے اور رکھنے کا فرق ایرانی قوم نے سمجھ رکھا ہے شاید۔ ڈرائیور نے اڈے میں بس سروس والوں کے حوالے کیا کہ زبان نا آشنائی کسی کٹھنائی میں نہ بدل جائے۔ بس اڈہ، ہوائی اڈے کے اصول پر چل رہا تھا۔ مختلف کمپنیوں کے چیک ان پوائنٹ تھے جہاں سے متعلقہ پلیٹ فارم پر بھیج دیا جاتا تھا۔ بس آدھا گھنٹا لیٹ تھی اور راستے میں بھی سواریاں اتارتی چڑھاتی رہی۔ ایک ریسٹ ایریا میں اترے تو بالکل پاکستان جیسے آوارہ بیکار کتوں کو لڑتے پایا۔ پتہ نہیں ان کی کون سی آئینی لڑائی تھی کہ رات کے اس پہر بھی گتھم گتھا تھے۔ گو بس بے حد آرام دہ تھی مگر بار بار کا رکنا اور لوکل بس کے اصولوں پر آپریٹ کرنا طبیعت پر کافی گراں گزرا۔ شیراز پہنچ کر وقت سے پہلے ہوٹل جا پہنچے، بند دروازوں کو کھلوایا اور کمرے تک رسائی لی۔ کچھ دیر آرام کر کے گلابی مسجد کی راہ پکڑی۔ اصفہان کے نقش جہاں سکوائر نے یہاں کریم خان کو جذباتی کیا اور اس نے کچھ ویسا ہی کرنے کی کوشش کی، گو شیراز اپنے آپ میں کوئی کم شہر نہ تھا۔

سولر واچ یہاں راستے کے درمیان نصب اور یاد دلاتی کہ کیسے وقت پتھروں سے سمٹ کر کلائیوں میں اور پھر ہتھیلیوں تک آن پہنچا ہے۔ مسجد تک آتے آتے بازار ختم اور پرانا رہائشی علاقہ شروع ہو گیا تھا۔ وہی تنگ گلیاں اور کچے پکے گھر۔ قاچاروں نے کچھ اچھے کام بھی کیے، پرانا ڈھایا تو نیا بنایا بھی۔ ڈھاتے ہیں تو بناتے بھی تو ہیں۔ گلابی مسجد کو ناصرالملک مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ بنانے والے کے نام سے منسوب کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ دنیا کو بھی تو ہم خانۂ خدا کہتے ہیں۔ 1876 میں تعمیر شدہ مسجد کے کام میں روایتی نیلے رنگ کے علاوہ پیلا اور گلابی رنگ نمایاں ہے۔ صحن میں تالاب اور ارد گرد ایک جیسی نقش و نگاری کے چار دریچے۔ اندر نماز کی جگہ کو صحن سے لکڑی کے دروازوں سے الگ کیا گیا ہے اور ان میں نیلا، سرخ، سبز اور پیلا شیشہ لگا ہے۔ سورج اگنے سے قریبا دس بجے تک جب ان شیشوں سے روشنی چھن کے آتی ہے تو قالین پر قوس قزح کے رنگ بکھر جاتے ہیں۔ بے شمار سیاح، مقامی، روسی، چینی اس قوس قزح کو اپنے اوپر اوڑھ کر تصاویر بنانے میں مشغول تھے۔ صحن کے اس پار آرٹ گیلری، عجیب سی زیر زمین جس کا بظاہر مسجد سے کوئی تعلق نہیں۔ اندھیرے میں ایک گہرا کنواں اور بیل اس میں سے پانی کھینچتا ہوا۔ بادشاہوں کو شاید خدا سے زیادہ اپنی عظمت کا احساس ہوتا کہ خدا کے گھروں کو بھی اپنی صناعی سے امر کرنے کی جہد کرتے ہیں اور اکثر کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

گلابی مسجد سے نکل کر اردو بازار سے ہوتے ہوئے وکیل بازار پہنچے۔ گو بازار شاید ازل سے یہاں ہو مگر موجودہ صورت 18 ویں صدی میں نکلی۔ لمبے لمبے کورٹ یارڈ۔ موتی بازار راولپنڈی طرز کے مگر آس پاس کوئی لال حویلی نہیں بلکہ مساجد اور امام زادوں کے آخری مسکن۔ قالین، کاشی کاری کی چیزیں، مصالحے اور بہت کچھ۔ نکل کر پھر فوارہ اور سکوائر اور وکیل مسجد۔ مسجد بھی 18 ویں صدی کی اور مخصوص شیرازی ہفت رنگی پتھروں کے آرٹ کی۔ پاس ہی وکیل حمام ہے۔ یہاں لوکل اور فارن سیاح کی فیس میں ڈبل کا فرق تھا۔ یہ ایک عوامی حمام تھا۔ پھلے ہال میں تالاب کے گرد معاشرے کے مختلف نمائندوں کے ماڈل تھے۔ خان، قلندر، باورچی، پہلوان۔ سب یہاں نہانے آتے تھے۔

دوسرے ہال میں درمیان میں نیم برہنہ لوگوں کو دکھایا گیا، ایک دوسرے کے بال کاٹتے اور صفائی میں مدد کرتے۔ گرم اور ٹھنڈے پانی کی سپلائی کا خاطرخواہ انتطام موجود۔ ہاں انٹیرئیر قدرے پھیکا۔ سلیٹی اور ہلکے بھورے رنگ کے امتزاج کی چھت۔ باہر آزادی سکوایئر کے ارد گرد یورپ کا سا ماحول۔ شاید قدیم ایران کی بھی یہی روایت ہو۔ موسیقی کے آلات بجا کر، گا کر، لوگوں کو محظوظ کر کے پیسے کمانے والے سٹریٹ فنکار۔ راستے میں ہی بنچوں پر بیٹھے بابے لڈو نما گیم کھیلتے ہوئے، اس بات سے بے نیاز کہ دنیا نے ان کو پابندیوں میں جکڑ رکھا ہے۔ ماحول اور اس کے لوازمات اس بات سے بے نیاز تھے کہ سامراجی خدا ان سے ناراض ہیں۔ شاید اصلی خدا کو راضی رکھا ہوا انہوں نے۔ پاس ہی کریم خان کا قلعہ ہے۔ 18 ویں صدی میں زیادہ تر دفاتر تھے یہاں اور میٹنگز بھی ہوا کرتی تھیں۔ شروع میں لمبا تالاب، ساتھ باغ۔ پہلو میں حمام جو کہ شاہی تھا اور گرم اور ٹھنڈے حصوں پر مشتمل تھا۔ آگے دفاتر تھے اور دو کمروں میں بالکل گلابی مسجد جیسے شیشے نصب تھے۔ آرٹ کی دکان پہ سرکاری ریٹ پر خاتم کاری کا کام دستیاب تھا۔ کچھ سیاح، کچھ لوکل طلبہ اور کچھ ڈیٹنگ والے نوجوان جوڑے۔ ایرانی معاشرہ اتنا بھی قدامت پسند نہیں یا شاید کچھ رویے قدامت پسندی بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے، اپنی بقا کے لیے۔

شیراز، ایران میں شہر کا نام ساتھ لگانے کا رواج عام ہے۔ بہت سے شیرازی پھر بھی رات و رات بننے والے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو شیراز کی پہچان ہیں، جن کو اپنا نام دے کر یہ شہر گنگا نہا لیا ہے۔ حافظ، صدیاں گزر گئیں، کوئی صوفی شاعر اس کے اثر کے بغیر شاعری نہ کر سکا۔ کس کو پتہ تھا کہ حافظیہ تک جانے کے لیے گاڑیوں کی مارکیٹ سے گزرنا پڑے گا۔

pink mosque

نصف صدی پہلے جب عینی بی بی حافظ سے ملنے آئی تھیں تو یہ جگہ شہر سے باہر تھی۔ اب شہر کا حصہ۔ عینی نے ساتھ آئے جرنلسٹ کو حافظ کا کلام بھی سنایا تھا۔ حافظ بھی ان لمحوں میں منوں مٹی اوڑھے کچھ دیر دم بخود رہ گئے تھے۔ گاڑیوں کی مارکیٹ کے بعد دانش گاہ راستے میں پڑنا بہتر لگا۔ یونیورسٹی کا بھی اچھا ترجمہ فارسی میں۔ شاید ایران کی یونیورسٹیاں واقعی دانش بانٹتی ہوں، فقط روزگار کے مواقع اور مغرب کے ویزے نہیں۔

حافظ کے محافظ کو انگریزی آتی تھی۔ ہماری انگریزی کی کوالٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انگریزی لہجے سے پاکستانی نہیں لگتے، لگتا کہ باہر رہتے ہو۔ حافظ کے مزار کا مزاج شاعر کا کم لگا اور صوفی کا زیادہ اور کیوں نہ ہو۔ تصوف کے عجیب پردے کھولتی، بند کرتی شاعری۔ اپنے ذہن کو پڑھنے میں مدد دیتی۔ اپنے جسم و روح کے تنازعات خود پہ آشکار کرتی۔ ایک لمبا کورٹ یارڈ اور پھر حافظ سو رہے، مل کر اپنے خدا سے۔

اوپر مختصر گنبد وہی نیلے کام والا۔ ارد گرد پڑھتے، لیپ ٹاپ پر کام کرتے، پکنک مناتے، سیاحت کرتے، ڈیٹ کرتے لوگ۔ ہر عمر اور فکر کے۔ ساتھ ہی پس پردہ موسیقی۔ حافظ کے اثرات اقبال پر مگر اقبال ہم نے کم و بیش مار ہی دیا۔ مخصوص فلسفہ لے کر بیٹھے ہیں۔ مزار بھی ٹوٹل کا۔ بہرحال جہاں ایک عظیم شاعر سویا ہو، وہاں شایان شان ماحول قائم رکھنا، پیچھے رہ جانے والوں کی اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایک دفعہ حافظیہ آئیں، اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے کا گر سیکھیں۔ ایرانی حافظ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مغرب کا وقت ہوا تو موسیقی رک گئی اور حافظ روشن ہو گئے۔ سوئے رہیں پہاڑ کے دامن میں، اس رونق میں، تمام عمر انسان، خدا اور کائنات کی بوالعجبیوں کو کھنگالتے رہے۔ اب ریلیکس کریں حافظ جی۔ آس پاس پوش علاقہ اور مغربی طرز کے کافی ہاؤس۔ نوجوان سگریٹ پکڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک طرف تو دوسری طرف بزرگ میز کے گرد گپیں مارتے ہوئے۔ چلو کباب کھانے کا رسک لیا جو کامیاب رہا۔

صبح مقامی گائیڈ شیلا کے ساتھ اس کی گاڑی میں پرسی پولس کا سفر شروع کیا۔ ہجرت نامی گلی پر اتفاق ہوا کہ اردو، فارسی اور عربی تینوں میں وطن چھوڑنے کی کیفیت کو اسی لفظ کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس تکلیف دہ عمل کے لیے شاید بہت لفظوں کو تکلیف نہیں دی گئی۔ بابا چوٹی اور ہوٹل شیراز پاس پاس۔ بابا چوٹی سر سبز پہاڑ ہے جس پر لوگ بڑے شوق سے ہائیک کرتے ہیں۔ اسی ہائی وے پر گاڑی رواں دواں تھی جو ہمیں اصفہان سے یہاں لائی تھی۔ راستے میں فارسی اور انگریزی میں بورڈ تھا مینٹل ہیلتھ پارک کا۔ طبعی جگہ کے ساتھ پارک کا لفظ کم ہی سننے میں آیا ہے۔ شہر سے باہر پہاڑوں کے دامن میں کھلی جگہ پر نفسیاتی الجھنوں کا شکار لوگوں کو شاید پارک کیا گیا ہے۔

جتنا بھی جدید ادارہ ہو، مقام جتنا بھی پر فضا ہو، ان مریضوں کو عام ہسپتالوں میں علاج فراہم کرنا اور ان کو مارجنلائز ہونے سے بچانا ہی ان کے لیے بہتر ہے۔ راستے میں ساتھ ساتھ گندم اور جو کے کھیت بھی تھے اور انڈسٹری بھی اور تیل کی ریفائنری بھی۔ شیلا نے بتایا کہ تہران کے پاس انڈسٹری کو حکومت کی بہتر سرپرستی حاصل ہے اور اس طرف لوگ بددل ہیں حکومتی رویے سے۔ اتنی صنعت ہونے کے باوجود نوکریاں مشکل ہیں۔ ریٹائرمنٹ کی عمر بھی متعین نہیں، جب نوکری کے 30 سال مکمل ہو جاویں، گھر جانے کا سندیسہ مل جاوے۔ گاؤں کا منظر بالکل ہمارے پنجاب جیسا تھا۔ ایک طرف کچے پکے گھر، دوسری طرف کھیت، سرسوں اپنے جوبن پہ تھی۔ ملکہ فرح کی بات ہوئی تو ہم نے اسے بتایا کہ ایران جیسے عالم فاضل ملک نے ہماری عینی بی بی کو بلوایا تھا ملکہ کی زندگی کا احوال رقم کرنے۔ ’ہماری‘ عینی بی بی؟ اپنے نیم سچ نیم جھوٹ پر ہم چنداں نادم نہ تھے۔ ایک اور ”ہمارے“ ، یہاں بکثرت تھے۔ ہمارے افغان بھائی۔ ہمارے ہاں کی طرح یہاں بھی ہر شہر میں ہر چھوٹا بڑا کام کرتے ہوئے شاملات میں شامل تھے۔

پرسی پولس کے باہر ایرانیوں نے گھنا جنگل اگا ڈالا ہے۔ سیاحوں کا بے شمار رش تھا۔ 500 بی سی، جب نرگس کا اپنی بے نوری پہ رونے کا چلن نہ ہوا تھا، دارس اول نے نوروز کی تقریبات کے لیے اس عظیم الشان کامپلیکس کی بنیاد رکھی۔ 30 کلومیٹر سے آٹھ آٹھ ٹن وزنی پتھر منگوائے، اتنا پالش کرایا کہ ایک دوسرے پہ فٹ بیٹھ گئے اور درمیان میں لوہا پگھلا کے بھروا دیا۔

سیڑھیوں کی اونچائی صرف دس سنٹی میٹر رکھی کہ دور سے آنے والے بغیر تھکے فٹافٹ چڑھ جائیں، سیکیورٹی خدشات جو نہ تھے۔ پھر سکندر کی فوج بھی بغیر تھکے چڑھ دوڑی اور سب لے اڑی۔ دو سو سال میں پندرہ بادشاہ کھا گئی یہ عمارت اپنی تعمیر کے دوران۔ مزدوروں کو باقاعدہ مزدوری دی گئی کام کی جس کا ان دنوں بالکل رواج نہ تھا۔ غلامی کی زنجیریں ہلا کر شاید ایسی عمارات وجود میں نہیں آتیں۔

فردوسی نے اپنے شاہنامے میں کچھ اس انداز سے اس کھنڈر کی حقیقتوں کو تصوف کے غلاف میں لپیٹا ہے کہ سب دھندلا سا گیا ہے۔ جمشید واقعی کوئی حقیقی کردار لگتا ہے اور اس کا پیالہ دیکھنے اور پھر اس کے اندر اپنی دنیا دیکھنے کو جی مچل مچل جاتا ہے۔ وہ پیالہ کسی میوزیم میں نہیں رکھا، ہاں مگر اپنی ذات کی پرتوں میں ملے شاید۔

دروازے کو دنیا کا دروازہ کہا گیا اور طاقت و عظمت کے لیے شیر نصب کر دیے گئے، ساتھ ہی سانڈ اور عقاب۔ ’سرکاری سانڈ‘ کی اصطلاح کیا پتہ یہاں ہی سے چلی ہو۔ گوروں نے ایک صدی قبل اس عظمت سے خود کو جوڑنے کے لیے اپنے نام گیٹ پر کنندہ کرنا شروع کر دیے۔ اب مکمل ممانعت ہے۔

10 women executed in Shiraz 40 years ago

گیٹ کے ساتھ ہی سرکاری محافظ یعنی فوج کی گلی۔ عقاب، گھوڑے اور شیر کو ملا کر کسی غیر مرئی مخلوق کے مجسمے نصب، جو اب ایرانی ایرلائن کا نشان ہیں۔ سکندر اس فوج کو ہرا گیا۔ سب کچھ لوٹ گیا۔ دیواروں پر بے مثال آرٹ۔ ہر شے کا کوئی مطلب کھوجا ہوا آرکیالوجسٹ نے۔ ایک دیوار پر سپاہی قطار اندر قطار، لافانی ہونے کو ظاہر کرتے ہوئے۔ سپاہیوں کی ٹوپیاں علاقے کے حساب سے یکسر مختلف۔ ہر جگہ کا حاشیہ پھولوں سے بنا۔ نوروز میلا بہار کا استقبال جو ٹھہرا۔ ہر ہال میں کالمز کی سیمٹری۔

دروازوں اور چھتوں کی لکڑی لبنان سے آئی۔ ہر شے سے طاقت کا اظہار۔ بادشاہ لمبے جوتے پہن کر شیر سے لڑتے ہوئے۔ ایرانی کہتے ہیں ایڈیڈاس والوں نے یہاں سے اپنے برانڈ کا بنیادی ڈیزائن چرایا۔ کانوں میں بڑے بڑے بالے اور گھنگھریالے بال بھی سپاہیوں کی بے پناہ طاقت کے مظہر۔

صدیوں بعد شاید یہی ریت پاور میں آنے کے لیے مستورات نے اپنا لی۔ رولر بنانے والی کمپنیوں کا کام چل پڑا۔ ایک اور دیوار پر نوروز کا فلکیاتی فگر۔ سردی کے سانڈ کو بہار کا شیر نگلنے کو اور عوام اس موسمی خونریزی کا جشن منانے کو۔ ساتھ ہی پرسی پولس کی خوبصورت ترین مانے جانے والی دیوار۔ 23 ملکوں کے طائفے کنندہ، دارا کی شان کو سلام پیش کرتے ہوئے، نوروز کے تحفے لاتے ہوئے۔

ہندوستانی بھی گدھے پر مصالحے لاد کر لا رہے۔ آگے بادشاہ کا ذاتی محل جس پر مختلف حکمرانوں کے فرمان درج۔ اس جگہ پانی استعمال کرنے اور فاضل پانی کو ٹھکانے لگانے کا نظام زیر زمین دو کلومیٹر پر محیط اور اتنا معجزاتی کہ پانچ سال پہلے کے سیلاب میں جدید سسٹم پانی بھرتے نظر آئے اور پرسی پولس شاہی انداز میں کھڑا رہا کہ بنیاد مضبوط تھی۔

یہ لوگ اپنے مردے رہائشی علاقوں سے دور پہاڑوں پر رکھتے یا دفناتے تھے۔ روایت یہ بھی ہے کہ پہلے رکھ دیتے تھے۔ جب جانور اور گدھ ان کو نوچ اور بھنبھوڑ کر ہڈیوں میں بدل دیتے تھے تو پھر پہاڑوں میں سوراخ کر کے ان کا حتمی انجام کرتے تھے۔

باقی مردے تو قریب ہی نیکروپولس میں گڑے ہوئے مگر کڑی کے آخری بادشاہوں میں سے دو ان پہاڑوں میں۔


چوٹی پر چڑھتے ہوئے شیلا نے پوچھا کہ ’اقبال لاہوری کو جانتے ہو؟‘

پہلے سوچ میں پڑ گئے کہ یہ کوئی اشتہاری ٹائپ مشہور مجرم جس کی شہرت ایران میں بھی۔ موصوفہ علامہ اقبال کا نام اتنی بے تکلفی سے لے رہی تھیں۔ مانا کہ ہمارے ہاں بھی شاعروں کے ساتھ شہر کا نام ملانے کا رواج مگر اقبال لاہوری پہ دل نہ مانتا تھا۔ پہاڑ کاٹ کر مقبرے تک پہنچا گیا تھا۔ مقبرے کی اونچی دیواروں پر طاقت کی نشانی آگ اور بادشاہ کا تاج اٹھائے 28 ملکوں کے سپاہیوں کی تصاویر موجود۔ اس وقت تک شاید پانچ اور ملک بادشاہ کی سلطنت میں شامل ہو چکے تھے۔ مزار سے سارا پرسی پولس اور شہر ہمارے قدموں میں تھا۔ محل کے کورٹ یارڈ، پھر جنگل اور پھر شہر۔ گائیڈ کو وہاں بیٹھ کر مسجد قرطبہ کا فارسی زدہ حصہ سنایا۔

اول و آخر فنا
باطن و ظاہر فنا
نقش کہن ہو کہ نو
منزل آخر فنا

ہمارے علامہ صاحب اور اپنے اقبال لاہوری کا کلام قریباً اپنی زبان میں سن کر گائیڈ خوشی سے لال ہو گئی اور ہمیں بھی کر ڈالا۔ ہم نے اپنے گلوکاروں کے فارسی گانوں کے قصے اور افغان شاہ کے بلاوؤں کا بھی بتایا۔ فریدہ خانم کی بیا و جوش تمنا دیدہ نم بنگر تو گنگنائی بھی۔ (جاری ہے۔ )

Facebook Comments HS