شادی، سول پارٹنرشپ اور روایتی شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑے
پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد برطانیہ میں مقیم ہے لہذا یہ مضمون ان تارکین وطن کے لئے قانونی نقطہ نگاہ سے وہاں کے خاندانی نظام کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مضمون میں انگلش قوانین کے حوالے سے خاندان بنانے والے تین اداروں (شادی، سول پارٹنرشپ اور روایتی شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑوں کے) بارے ابتدائی سطح کا تعارف پیش کیا گیا ہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ دور جدید میں معاشرے کی بنیادی اکائی اب کس طرح تشکیل پا رہی ہے۔ اور کس طرح زندگی کے ہر شعبے کو انسانی عقل اور انسانی قوانین کے حوالے سے دیکھا، سمجھا اور پرکھا جا رہا ہے۔
انگلش قانون، خاندانی زندگی کی تعریف کو ان لوگوں تک محدود نہیں رکھتا جو روایتی طور پر شادی شدہ ہوں یا جن کا رشتہ خون سے ہو۔ قانون یہ قبول کرتا ہے کہ دوسرے کم رسمی تعلقات سے بھی خاندان تشکیل پا سکتے ہیں۔ قانونی طور پر خاندان یا فیملی کی تعریف میں اتنا زور نہیں دیا گیا ہے جتنا زور شادی یا بچوں کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریوں پر دیا گیا ہے۔ ماں اور باپ کی تعریف بھی ایک پیچیدہ سوال ہے اور ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ والدین ہونے اور والدین کی ذمہ داریوں کا ہونا، ان دونوں کے درمیان قانون میں واضح فرق موجود ہے۔
شادی کا مطلب مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہے۔ بعض کے نزدیک شادی ایک مذہبی تقدس لیے ہوئے ہے اور بعض کے لئے شادی محض ایک قانونی معاہدہ ہے۔ شادی یا میرج کی واحد تعریف ناممکن ہے کیونکہ ہر شادی کرنے والا شا شادی کو اپنے لحاظ سے معنی اور مطلب دیتا ہے۔ بہرحال، شادی کو عملی، نفسیاتی، سیاسی اور مذہبی انداز سے دیکھا جا سکتا ہے۔ انگلش قانون شادی کی کوئی مخصوص تعریف متعین نہیں کرتا۔ قانون صرف یہ بتاتا ہے کہ کون کس سے شادی کر سکتا ہے، یہ تعلق ختم کب اور کیسے ہو سکتا ہے اور شادی کے قانونی مضمرات کیا ہوتے ہیں۔
سول پارٹنرشپ صرف ہم جنس جوڑے کر سکتے ہیں۔ مخالف جنس والے جوڑے یا تو شادی کر سکتے ہیں یا بغیر شادی کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ سول پارٹنر شپ اور شادی میں صرف نام کا ہی فرق ہے۔ مساوات ایکٹ، 2010 مذہبی تقریب کے حصے کے طور پر سول پارٹنر شپ کو شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس قانون نے شادی اور سول پارٹنر شپ کے درمیان فرق کو ختم کر دیا ہے۔
بغیر روایتی شادی کے رسمی بندھن میں بندھے لیکن ساتھ مل کر زندگی گزارنے والے جوڑوں کی بہت ساری صورتیں ہیں جن کی تفصیلات میں جانا یہاں ممکن نہیں۔ ساتھ مل کر رہنے کے لئے جوڑے آپس میں ہی زبانی یا تحریری طور پر معاہدہ کر لیتے ہیں۔ جبکہ قانون اس قسم کے تعلقات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے بچوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ شادی یا سول پارٹنر شپ کیے بغیر لیکن مل کر اکٹھے رہنے والے جوڑوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ قانون شادی کے بغیر اکٹھے رہنے والے جوڑوں کو شادی یا سول پارٹنر شپ کے برابر قرار دیتا ہے۔ چند بنیادی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
شادی اور سول پارٹنرشپ کے آغاز اور اختتام کے لئے قانون نے مخصوص رسمی کارروائیوں کو لازمی قرار دیا ہے جبکہ شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑوں کے لئے کسی رسمی کارروائی کی کوئی ضرورت نہیں۔
شادی اور سول پارٹنرشپ کے دوران کوئی بھی فریق خرچہ نان و نفقہ کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور اسی طرح طلاق یا شادی کی تحلیل پر عدالت کو کسی بھی فریق کی ملکیت والی جائیداد کو دوبارہ تقسیم کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑے خرچہ نان و نفقہ اور جائیداد کی تقسیم کے لئے عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ جائز اور ناجائز بچوں کے درمیان فرق فیملی لا ریفارم ایکٹ، 1987 نے مٹا کے رکھ دیا ہے اور ناجائز کا لیبل ختم کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود والدین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے دونوں بچوں کی قانونی حیثیت میں معمولی اختلافات موجود ہیں۔
شادی اور سول پارٹنرشپ والے جوڑوں کو ٹیکس سے خصوصی استثنا حاصل ہیں جبکہ شادی کے بغیر ساتھ رہنے والے جوڑوں کو یہ سہولت میسر نہیں۔
شادی اور سول پارٹنرشپ میں جب کوئی وصیت کیے بغیر فوت ہو جاتا ہے تو اس کا شریک حیات خود بخود میت کی تمام یا زیادہ تر جائیداد کا وارث ہو جاتا ہے جبکہ شادی کے بغیر اکٹھے رہنے والے جوڑے وصیت کے بغیر جائیداد کے کے وارث نہیں بن سکتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اب شادی کا روایتی مذہبی ماخذ اب کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود شادی کے بغیر مل کر رہنے والے جوڑوں کو وہاں کا قانون بہت سارے معاملات میں روایتی شادی جتنے حقوق نہیں دیتا۔
یہ سوالات ہمارے معاشرے میں بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ کیا غیر روایتی شادی سے متعلق روایتی مذہبی اعتراضات کو اہمیت دینی چاہیے کہ نہیں؟ کیا شادی کرنے سے متعلقہ انسانی حقوق اجازت دیتے ہیں کہ کوئی کسی سے بھی شادی کر سکتا ہے؟ اور شادی کے لئے جنس اتنی اہم کیوں ہے؟ کیا صرف شادی کی روایتی مذہبی رسومات ادا کرنے سے ہی شادی ہو سکتی ہے یا قانونی طور پر بھی شادی ہو سکتی ہے؟ انسانی معاشروں کی تشکیل میں مذہب اور قانون میں کس کو بالا دستی حاصل ہے؟
ان سب اور اس سے ملتے جلتے سوالات پر کھل کر گفتگو کرنے کی اور نئی نسل کو جدید زمانے کے لحاظ سے جوابات ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وگرنہ، بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور بنی نوع انسان کے مشترکہ ورثے پر مبنی روایات و اقدار سے عاری معاشرہ تو ہم بنا ہی چکے ہیں۔


