عالمی بیگانگی کے شاخسانے
کسی نجی ٹیلی ویژن پر پاکستان کی موجودہ معاشی سماجی اور سیاسی صورتحال پر معروف صحافی اور دانشور حسن نثار صاحب نے اپنے مخصوص جوشیلے اور شاعرانہ انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا اصل المیہ یہ ہے کہ ”ہمارے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہے۔ دعا ہے قبولیت نہیں، غذا ہے لیکن خالص نہیں، دوا ہے لیکن جعلی ہے اور اس میں اثر نہیں، مرض ہے لیکن علاج نہیں، عدالت ہے لیکن انصاف نہیں، چولہا ہے مگر گیس نہیں، واپڈا ہے لیکن بجلی نہیں، اذان ہے لیکن ایمان نہیں، سائل ہے مگر وکیل نہیں، وکیل ہے تو دلیل نہیں، کرنسی ہے مگر قوت خرید نہیں، دکان ہے تو گاہک نہیں، قائد ہیں مگر قیادت نہیں، آبادی ہے مگر اتحاد نہیں، عالم ہے لیکن علم نہیں، آدمی ہیں مگر انسان نہیں ہیں وغیرہ“ ۔
حسن نثار صاحب نے بہت سادگی اور خوبصورتی سے بیگانگی کی کیفیات اور اثرات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بیگانگی ایک ذہنی رجحان کا نام ہے جس میں انسان ذہنی یا نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو گردونواح، کام، معاشرہ وغیرہ سے بجائے اپنائیت کے الٹا ان سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے یا ان سے اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیگانگی کی موضوع پر فیورباخ، ہیگل اور کارل مارکس نے اپنے اپنے فکری زاویوں سے بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ بقول ہیگل ”انسان اس وقت بیگانگی کی شکار ہو جاتا ہے جب وہ دنیا کو اپنا گھر سمجھے لیکن دنیاوی معاملات کو نہ سمجھ سکے اور یا انسان دنیا کو سرے سے اپنا گھر ہی نہ سمجھے اور اپنے آپ کو محض ایک مسافر تصور کرے“ ۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلس نے بھی بہت تفصیل سے لکھا اور اسے دور غلامی سے جوڑ کر دیکھا۔ بدقسمتی کی بات یہ کہ بعد میں مارکس کے تصور بیگانگی کو صنعتی مزدور سے جوڑ کر دیکھا گیا اور فرض کر لیا گیا کہ صرف مزدور ہی وہ طبقہ ہیں جو بیگانگی کا شکار ہیں اور باقی کے تمام لوگ اس سے ماورا ہیں۔
قدیم دور غلامی میں غلاموں کی اپنے آقا اور دنیا سے بیگانگی کا یہ عالم تھا کہ ان سے کوئی کا سیدھا ہو ہی نہیں پاتا تھا۔ غلام پانی بھرنے گیا تو راستے میں برتن توڑ دیا، دکان سے سودا لینے گیا یا تو دکان بند یا سودا ناقص۔ ویسے اس طرح کا رجحان آج کل بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ آپ کسی کو کوئی کام دے کر نتیجہ دیکھ لیں تجربہ شرط ہے۔ ابھی حال ہی میں انڈیا میں ایک خاتون سول جج کو شک گزرا کہ اس کا ملازم اسے پانی پلانے میں کچھ گڑ بڑ کرتا ہے۔ لہذٰا دفتر کے کچن میں خفیہ کیمرے لگائے گئے۔ پتہ چلا کہ موصوف پانی کا گلاس بھرنے کے بعد اس میں اپنے لعاب دہن یا تھوک کی اچھی خاصی مقدار شامل کر کے پھر با ادب جج صاحبہ کو پیش کرتے ہیں۔ تفتیش کے بعد معلوم ہو کہ موصوف اپنی باس کے رویے سے انتہائی نالاں تھے۔
مزدور، ملازم اور غلام گو کہ معنوی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف جانے جاتے ہیں مگر آقا ٹائپ مخلوق کی سوچ میں ان تینوں کے علاوہ ہر وہ انسان جو کسی بھی حوالے سے ان کا دست نگر ہے غلام ہی تصور کیا جاتا ہے۔
بیگانگی کا عالم صرف پاکستان کا ہی خاصہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کا فرق البتہ ہو سکتا ہے۔ یہ طے ہے کہ بیگانگی کا رجحان دور غلامی سے جڑا ہوا ہے۔ قدیم دور میں انسان دوسرے انسانوں کا غلام تھا۔ آقا تعداد میں مختصر جبکہ کہ غلام بہت زیادہ ہوتے۔ ہزار ہا سال تک یہی عمل تواتر کے ساتھ ہوتا رہا۔ یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد غلامی کا رشتہ مزدور اور ملازم میں بدل گیا جس کی طرف کارل مارکس نے اشارہ کیا ہے۔ تاریخ کے اس دورانیہ میں انسان سرمایہ دار اور مشین کا غلام ہوا۔ جنگ عظیم دوئم کے فوری بعد دنیا میں بریٹن ووڈ کانفرنس کے ذریعہ سے عالمی مالیاتی نظام یا نئے عالمی نظام کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اس سے پہلے کے صنعتی دور میں صنعتی سرمایہ دنیا کے فیصلے کرتا تھا لیکن اس نئے عالمی نظام میں مالیاتی سرمائے نے سب سے پہلے نا صرف صنعتی سرمائے کو زیر کیا بلکہ سرمایہ دار، دوسرے با اثر افراد، حکومتوں اور ریاستوں کو بھی اپنا غلام بنا لیا۔ دنیا کے باقی عوام تو پہلے سے ہی سرمایہ داروں اور با اثر افراد کے غلام تھے اس طرح غلام ابن غلام ابن غلام کا سلسلہ شروع ہوا۔ سرمائے نے نوع انسانی اس طرح سے مغلوب کیا جس طرح آج کل یہ بحث زبان زد عام ہے کہ ”مصنوعی ذہانت“ دنیا کے تمام انسانوں عنقریب ہی اپنے کنٹرول میں کر لے گی۔
اس نئے عالمی نظام نے انسانوں کو مزید شخصی آزادیاں دینے کی بجائے اس وقت کے آزاد انسانوں کو بھی اپنی غلامی میں لے لیا۔ صنعتی دور میں سرمایہ دار یا سیاسی حکمران و اشرفیہ اپنی سوچ میں آزاد تھے لیکن اس نئے نظام نے انہیں بھی غلاموں کی صف میں شامل کر دیا۔ اب ایک طرف سرمایہ ہے اور اس کی دوسری طرف سرمائے کے غلام اور ابن غلام کھڑے ہیں یعنی سرمایہ دار، سیاست دان، ریاستی اہل کار، دانشور، پالیسی ساز، ریاستی ادارے، سول سوسائٹی وغیرہ سب ہی سرمائے کے تحفظ اور غلامی میں ہمہ تن ہیں۔
ہم اوپری سطور میں پہلے ہی عرض کر چکے ہیں بیگانگی دور غلامی کی پیداوار ہے اور جبر جس قدر ہو گا اس تناسب سے بیگانگی کے رجحانات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ اس وقت ہم سب ہی طاقتوروں کی جسمانی غلامی سے آزاد ہو کر سرمائے کی ذہنی غلامی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس نئے عالمی نظام نے پہلے غلامی کے دائرے کو بہت وسیع کیا اور بعد میں اس طرح کے اقدامات لیے جس کے نتیجے میں غلامی اور بیگانگی میں مزید ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے۔
اس نئے عالمی نظام نے عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، اقوام متحدہ جیسے اداروں کو جنم دیا اور ان میں سرمائے کے بہترین غلاموں کو چن چن کر بھرتی کیا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں قومی ریاستوں کے نام پر موجودہ ریاستوں کی تشکیل اور آبیاری کی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ، منتقلی اور ان کی تجارت پر عائد پابندیوں کو ختم کر کے پوری دنیا پر صنعت و حرفت کے دروازے کھول دیے۔
اس وقت ان اداروں کو کام کرتے ہوئے 78 سال ہونے کو ہیں۔ ان اداروں کی کارکردگی اور اثرات کا ایک نظر جائزہ لیتے ہیں۔ چونکہ امریکہ اس نئے عالمی نظام کا سرخیل ہے اس لیے خود امریکہ پر اس کے اثرات کا مختصر جائزہ پہلے لے لیتے ہیں۔ کسی زمانے میں جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، ابراہم لنکن، تھیوڈور روزویلٹ جیسے لوگ جنہیں لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں وائٹ ہاؤس کی شان ہو کرتے تھے۔ واضح رہے کہ ہم انہیں کوئی نیک اور صالح ثابت نہیں کر رہے فقط کوالٹی کا فرق بتانے جا رہے ہیں۔ گزشتہ 50 سالوں میں مونگ پھلی کے تاجر، اداکار، درمیانے درجے کے تاجر پیشہ، استاد اور بعد میں بزرگ شہری جن کی باتیں شاید ان کے گھر والے بھی نہ سنتے ہوں اب اس عمر میں بجائے آرام کرنے کے وائٹ ہاؤس میں خوار ہیں۔
امریکہ دنیا کی بہترین اور مہنگی فوج رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فوج نے کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی۔ گزشتہ بیس سالہ جنگوں پر جتنا خرچ اٹھا ہے اگر اس کا دو چار فیصد ہی ان ممالک کے عوام میں بانٹ دیا جاتا تو وہ خود ہی مٹھی بھر دہشت گردوں کو جوتے مار کر نکال باہر کرتے۔ اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے معمولی اٹھائی گیرے برسوں اس فوج کو ناک کے نیچے چونا لگاتے رہے۔ جنگ میں شکست خوردہ جاپان پر اس فوج نے ایٹم بم گرا کے وقتی دبدبہ تو قائم کر لیا تب سے امریکی عوام ہر سال جاپانی عوام سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں۔
برطانیہ نے برسوں نوآبادیاتی قبضوں اور لوٹ کھسوٹ کے باوجود عزت کمائی مگر بغیر کسی سامراجی قبضے کے امریکہ بہادر پوری دنیا میں بدنام ہے۔
اقوام متحدہ جس کا بنیادی مقصد جنگوں کی روک تھام تھا۔ اس کی مختلف دستاویزات کو اگر ایک نظر دیکھ لیا جائے تو وہ معرکتہ الآرا تحریریں ہیں مگر یہ ادارہ اپنی پوری تاریخ میں کسی ایک جنگ بھی نہ روک پایا۔ البتہ اس ادارے نے بہت سی جنگوں کی منظوری ضرور دی ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا اور ترقی پذیر دنیا کے مہنگائی اور کرپشن کے مارے ہوئے عوام ان کے متعلق کیا رائے قائم کرتے ہیں۔ انہیں تو بس اپنی دیہاڑی اور نوکری سے مطلب ہے۔
اندھا دھند صنعتی پھیلاؤ کے نتیجے میں آج کی دنیا موسمیاتی تبدیلیوں سے دو چار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا حل کیا ہے کہ ”زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں“ ان عقل کے اندھوں کو شاید پتہ نہیں کہ درخت دن کے 12 گھنٹوں میں جتنی آکسیجن پیدا کریں گے اتنی ہی رات کے 12 گھنٹوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کر کے حساب برابر کر دیں گے۔ اس سے دنیا کی کل کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کی نسبت تناسب پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
اوپری سطور میں ہم نے نہایت اختصار سے غلامی اور بیگانگی کی اینٹوں پر کھڑی عالمی نظام کی عمارات کی ایک جھلک ہی بیان کر پائے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے لے کر کریملن، تیان مین اسکوائر، برسلز، جنیوا، ہیگ اور راس الخیمہ تک کی تمام اہم جگہیں سرمائے کے غلاموں سے پر ہیں اور ڈیوٹی پر مامور یہ غلام اپنی دائمی بیگانگی کے سبب کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کر رہے بلکہ پوری دنیا میں بیگانگی کے رجحانات میں بھر پور اضافہ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ سرمائے کے براہ راست غلاموں کی نا اہلیوں کا عالم اگر یہ ہے تو تصور کیجئے کہ ابن غلام اور پھر ان سے چھوٹے ابن غلام اپنے اپنے معاشروں یا ریاستوں میں کیا گل کھلا رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔
اب شاید وقت آ گیا ہے کہ اہل فکر و دانش کو سرمائے کی حقیقت کو سمجھ کر سرمائے کی سامراجیت کو علمی و فکری بنیادوں پر رد کرنا ہو گا۔ اس کے لیے کسی غلام یا ابن غلام سے الجھنے کی قطعی ضرورت نہیں صرف ذہنی آزادی کا احساس ہی کافی ہے اور دنیا کی 90 % آبادی اس عمل کی سپورٹ میں ہو گی جو سرمائے سے زخم خوردہ ضرور ہے لیکن ذہنی طور پر سرمائے کی عظمت کے تاثر اور غلامی سے آزاد ہے۔


