پاکستان میں نسل پرستی کے رجحانات
ایک عام سے سیاسی کارکن کی حیثیت سے راقم کو اپنی یادداشتیں اور مشاہدات کو مضامین کی شکل میں رقم کرتے ہوئے چار سال مکمل ہونے کو ہیں۔ اس عرصہ میں ہم ٹوٹی پھوٹی شکل میں چند درجن کے قریب مضامین ہی شائع کروا سکے ہیں۔ ہماری کوشش رہی کہ سچ لکھا جائے، بے لاگ لکھا جائے، پروپیگنڈا یا غیر مستند معلومات لینے اور دینے سے قطعی پرہیز کیا جائے۔ ایسا کرنے میں ہمیں کبھی کوئی دقت پیش نہیں آئی اور نہ ہی ہمیں کبھی خوف آیا۔ اپنے اس مضمون کو لکھتے ہوئے ہمیں باقاعدہ خوف محسوس ہو رہا ہے کہ ہم اپنی اس فکری بے سروسامانی کے عالم میں کس ہمالیائی حجم سے ٹکر لے بیٹھے ہیں۔
اپنے گزشتہ کالم ”نسل پرستی۔ :ایک سرسری جائزہ“ میں ہم نے نسل پرستی کی ایک عمومی تعریف (Definition) کرنے کی کوشش کے علاوہ چند عام فہم باتیں بھی رقم کی ہے۔ خلاصہ کے طور پر ہم پھر بیان کر رہے ہیں تا کہ ابہام نہ ہو۔ نسل پرستی بنیادی انسانی جبلت ’ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش‘ کا ایک شاخسانہ ہے۔ نسل پرستی ایک ذہنی و نفسیاتی رجحان ہو سکتا ہے جس میں نسل سے مراد صرف خون، تخم، نطفہ، پشت در پشت اولاد سے ہے۔ پرستی سے مراد کسی فرد کے آبا و اجداد اور آنے والی اولادیں ہی اعلیٰ و ارفع ہیں اور دوسری نسلیں کمتر یا ادنیٰ ہیں لہذا تمام معاشی، سماجی، سیاسی حقوق و وسائل پر ترجیہی حق اعلیٰ نسل کا ہی ہو گا۔ دوستوں سے درخواست ہے کہ اس مضمون کو بھی ایک نظر دیکھ لیں۔
عام خیال یہی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں نسل پرستی نام کی کوئی بیماری موجود نہیں ہے۔ پاکستانی دانشوروں اور اہل علم کو پوری دنیا میں نسل پرستی نظر آتی ہے لیکن پاکستان میں سب اچھا کی گردان ہے۔ اردو زبان میں نسل پرستی کے موضوع پر کوئی خاص یا Focused) (تحریر یا تقریر کم از کم راقم کی نظر سے نہیں گزری اور اگر ہمارے کسی قاری یا دوست کے علم میں ہو تو میں اس ضمن میں پیشگی معذرت خواہ ہوں۔)
پاکستان میں نسل پرستی کو اس قدر مخفی، ملفوف یا کیمو فلاج کر کے رکھا گیا ہے کہ اہل علم کو بھی محسوس نہ ہو کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہے یا یہ صورت بھی البتہ ہو سکتی ہے کہ اہل علم و دانش سمیت ہم سب ہی اس حمام میں ننگے ہوں۔ اپنی اولادیں تو سب کو ہی اچھی لگتی ہیں اور ہم سب کی شدید خواہش بھی شاید یہی ہو کہ صرف ہماری اولادیں ہی پھلیں اور پھولیں۔ پنجابی کہاوت ہے کھانے پینے کے لیے بھاگ بھری اور جوتے کھانے کے لیے جمعہ۔ یہ منظر نامہ ہر دو صورتوں میں عوام کے لیے انتہائی مہلک ہے۔
پاکستان جیسے معاشروں جہاں غربت، بیروزگاری، وسائل کی دستیابی کی نسبت آبادی بہت زیادہ جیسے مسائل موجود ہیں۔ غربت اور معاشی و سماجی جدوجہد کے دوران تمام انسان عام طور پر بھائی بھائی ہی ہوا کرتے ہیں۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جونہی کسی فرد کو اختیار، اقتدار، دولت، وسائل حاصل ہو جائیں تو ان میں فوری طور پر نسل پرستانہ سوچ کا جن بوتل سے باہر آ جاتا ہے یا آنکھیں ماتھے پر۔ اس طرح کی سوچ پر مبنی فیصلے ہر قسم کے معاشی، سماجی و سیاسی امتیازات، نا انصافی، اقربا پروری، تعصبات، کمینگی، نفرت، تشدد، فسادات، کرپشن وغیرہ کے جو گل کھلاتے ہیں الحفیظ الامان۔ ہمیں کسی وقت ایسے لگتا ہے کہ نسل پرستی آدم خوری کی ہی ایک شکل ہے۔ آدم خوری کے زمانے میں انسان اپنی اور اہل خانہ کی بھوک مٹانے کے لیے دوسرے انسانوں کو خوراک بناتے۔ آج کے دور میں نسل پرست دوسرے انسانوں کو محض نسلی بنیادوں پر معاشی اور سماجی طور پر باہر یا زیر کر کے دھیرے دھیرے قتل کرتے ہیں۔
پاکستان میں نسل پرستی جنوبی افریقہ، امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کی طرح کھلی یا اوپن نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ میں گورے اور کالے، امریکہ میں گورے، کالے، ریڈ انڈین، ایشین، اسرائیل میں یہودی اور غیر یہودی، انڈیا میں چار جاتی والے آریائی ہندو، قدیم ہندو اور غیر ہندو آمنے سامنے ہیں اور دست و گریباں ہیں اس لیے عام فہم میں نسل پرستی ان ممالک میں زیادہ عیاں ہے۔
پاکستان جیسے ممالک جہاں کے تقریباً تمام شہری گندمی رنگ کے ہیں، اکثریت مسلمان ہے اس لیے یہاں نسل پرستی کھلے عام نہیں ہوتی بلکہ ملفوف پردوں میں ہوتی ہے۔ ملفوف نسل پرستی کھلی نسل پرستی سے زیادہ خطرناک ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں نسل پرستی کے خلاف ریاستی قوانین موجود تو ہیں عمل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا یہ علیحدہ سے اور بعد کی بحث ہے۔ ان ممالک میں سول سوسائٹی نسل پرستی کے مسئلہ پر زیادہ حساس اور آگاہ ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں نسل پرستی کو ثابت کرنا ہی مشکل کام ہے۔ اس لیے اس مسئلہ پر کوئی شوروغوغا نہیں اور کوئی ریاستی پالیسی اور قانون بھی نہیں۔ ہم بہرحال پر امید ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی کبھی سول سوسائٹی وجود پا جائے گی۔
پاکستان میں نسل پرستی اور اس کی وارداتوں کو سمجھنے کے لیے نسل پرستی کی ترکیب کو ترتیب سے سمجھنا ضروری ہے۔ نسل پرستی کی ابتداء ہمیشہ ایک باپ یا جد امجد سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کے ہاں اولادیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس ترکیب میں خواتین کو کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی اس لیے مردوں کا نام ہی نمایاں رہتا ہے۔ ان کی جلد کا رنگ تقریباً ایک جیسا ہی ہو گا، وہ ایک ہی زبان لکھیں اور بولیں گے، ان کی رہائش یا بودوباش کا علاقہ بھی ایک ہو گا، ان رسم و رواج و روایات، طریقے سلیقے اور عادات و اطوار بھی ایک جیسی ہوں گی۔ دنیا بھر کی نسل پرستی اسی ترکیب یا فارمولے کے گرد ہی اپنا کام کرتی ہے۔
پاکستان میں چونکہ ہر آدمی کی نسل پرستی کا چھپر علیحدہ علیحدہ سے ہے لیکن طریقہ واردات ایک جیسا ہی ہے۔ سیاست، سیاسی سوچ اور سیاسی طریقہ کار کو کسی بھی گروہ انسانی کے بہتر شعور کو ماپنے کا پیمانہ ہو سکتا ہے اس لیے ہم صرف پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور سیاسی گروپوں کے طریقہ کار کا ایک مختصر جائزہ لے لیتے ہیں۔
اربن سندھ یعنی کراچی اور حیدرآباد میں گزشتہ عرصہ کے دوران ایک لسانی سیاسی جماعت کا خاصا ڈنکا رہا ہے۔ شروعات میں اردو بولنا اور انڈیا سے مہاجرت رکنیت کی بنیادی شرائط یا خصوصیات ٹھہریں۔ یاد رہے کہ انڈیا سے پنجابی، بنگالی اور دوسری زبانیں بولنے والوں نے بھی ایک بڑی تعداد میں ہجرت کی لیکن وہ اس تحریک یا پارٹی کا حصہ نہ بن سکے لہذاٰ مہاجرت کی شرط تو ہو گئی صاف باقی بچی ارد و زبان۔ اردو زبان کی بنیاد پر یہ سیاسی عمارت کھڑی کی گئی۔
لگ بھگ چالیس سالہ سیاسی جدوجہد کا نتیجہ کیا نکلا۔ قتل و غارت، نفرتیں، فسطائیت، بیروزگاری، جرائم، قبضہ مافیا، بھتہ خوری، آج کراچی کا یہ حال ہے کہ وہاں کوڑا اٹھانے والا بھی کوئی نہیں۔ یہ جماعت بے پناہ عوامی حمایت اور حکومتی وسائل کے ہوتے ہوئے بھی کوئی ایک اچھا یا قابل ذکر کام نہ کر سکی۔ لسانیت بنیادی طور پر نسل پرستی کا ہی شاخسانہ یا چھپر ہے۔ اس میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے ایک ہی زبان بولنے والوں کا جد امجد بھی ایک تھا اس لیے اردو بولنے والے آپس میں بھائی بھائی ٹھہرے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد اسرائیلی ریاست نے باقاعدہ مشن ترتیب دیے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بنی اسرائیل کو ڈھونڈیں اور انہیں اسرائیل واپس لا کر آباد کریں۔ ’عبرانی زبان‘ اصلی یہودی کی پہچان کا معیار مقرر ہوا۔ جہاں بھی عبرانی زبان بولنے والا ملا ان کی اسرائیلی شہریت سمیت یہودیت بھی کنفرم۔
اندرون سندھ بلوچ اور سندھی قبائل میں تقسیم ہے۔ عام طور بڑے جاگیردار اور زمیندار جو اپنے اپنے قبیلے کے سردار یا عمائد ین بھی ہیں اور ہر قسم کی سماجی و سیاسی فیصلہ سازی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ بڑی سیاسی پارٹیاں بھی ان کے ساتھ تضاد نہیں بناتیں بلکہ ڈیل یا سمجھوتے کو ترجیح دیتی ہیں۔ پوری دنیا میں ثابت شدہ ہے کہ قبیلہ کی تمام عمارت کلی طور پر نسل پرستی یا نسل پرستانہ اصولوں پر ہی استادہ ہوتی ہے۔ ہمارے جیسے لوگوں نے ہمیشہ اس نسل پرستی کو قوم پرستی کا جامہ پہنایا ہے یا اسے ملفوف کیا ہے۔
صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی بلوچ قبائل اور پشتون قبائل کی سیاست ہی عروج پر رہی ہے۔ ان صوبوں کی سیاست میں بھی نسل پرستی کا کھیل قوم پرستی کے چھپر میں کھیلا جا رہا ہے۔
جنوبی پنجاب میں سرداری یا تمن داری اور جاگیر داری کا ہی سیاسی بول بالا ہے اور یہاں کی نسل پرستی بھی اندرون سندھ اور بلوچستان جیسی ہے مگر یہاں کے سردار شاید قوم پرستی کے چھپر کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ برادری ازم کو شمالی پنجاب کی سیاست میں اہم مقام حاصل ہے۔ برادری قبیلہ سے ہی جنم لیتی ہے۔ اس وقت پنجاب میں جتنی بھی برادریاں ہیں وہ ماضی میں قبائل ہی تھے لیکن وقت کے ساتھ قبیلہ کی آبادی میں اضافہ سے سردار کی گرفت کمزور ہوتی چلی گئی اور وہ قبیلہ مختلف چھوٹے سرداروں میں بٹ گیا ہوں اس قبیلہ کو مجموعی طور پر برادری پکارا جانے لگا۔ یاد رہے کہ قبیلہ اور برادری میں زیادہ فرق نہیں۔ اگر سردار کا کنٹرول اور نظم مضبوط ہے تو قبیلہ اور اگر زیادہ سردار ہیں تو برادری۔ اس وقت پنجاب کی تمام چھوٹی، بڑی، تگڑی اور کمزور برادریاں چھوٹے چھوٹے قبیلوں میں تقسیم ہیں۔ نسلی پرستی کے معاملے برادریاں بھی قبائل سے کسی طور کم یا اچھی نہیں۔
علاقائی سیاست یا گروہ بندیاں بھی نسل پرستی کی اساس پر ہی کی جاتی ہیں کیونکہ عام تصور ہے کہ کسی خاص علاقے کے مکینوں کی زبان و لہجہ، رسم و رواج، جلد کا رنگ ایک ہی جیسا ہوتا ہے اس لیے یہی فرض کر لیا جاتا ہے کہ ان تمام کا جد امجد بھی ایک ہی ہو گا۔ اگر مفروضہ فٹ نہ بیٹھے تو کسی مناسب کہانی کا سہارا بھی لے لیا جاتا ہے۔
ایک آدھ استثناء کے تمام ملکی مذہبی سیاسی پارٹیاں جو کہ اسلامی روایات کے مطابق نسل پرستی کی مخالفت کرتی ہیں مگر جونہی قیادت یا قیادت کی منتقلی کا آتا ہے تو لیڈران کو صرف اپنی اولاد ہی اہل نظر آتی ہے۔
کسی زمانے میں سرمایہ دار طبقہ کو جدید اور نسل پرستی کے خلاف سمجھا جاتا تھا شاید اس میں کوئی حقیقت ہو مگر پاکستان میں آپ کسی بھی پرائیویٹ یا پبلک لمیٹڈ کمپنی کے ہیڈ آفس کا دورہ کر کے دیکھ لیں مالکان کے بعد تمام کلیدی پوسٹوں پر مالکان کی اولادیں اور ان کے قریبی رشتہ دار ہی براجمان نظر آئیں گے۔
پاکستان میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ تصور کیا جاتا ہے اور ہے بھی۔ تمام کرپٹ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ کفن کی جیبیں نہیں ہوتی اور پل صراط جیسے معاملات میں دولت کسی کام کی نہیں مگر وہ پھر بھی وہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کا پیسہ یا حق چھین کر اپنی اولادوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پوشیدہ خواہشات یہی ہیں کہ ان کی اولادیں ہی مستقبل میں پھلیں پھولیں، برتر رہیں اور تا قیامت اپنے آبا و و اجداد کا نام روشن رکھیں۔ یاد رہے ایسی تمام طفلی خواہشات، جذبات، نفسیات اور خیالات کا نام ہی ”نسل پرستی“ ہے۔


