بین الاقوامی شہرت یافتہ فلمساز اور ہدایتکار ڈاکٹر حسن زی کی باتیں (4)
ڈاکٹر حسن زی کی گفتگو کا یہ چوتھا حصہ ہے۔ چوں کہ اب وہ امریکہ واپس جا چکے ہیں لہٰذا یہ بات چیت بذریعہ فون ہوئی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آج ڈاکٹر صاحب ہمیں کیا بتا رہے ہیں :
” میں سان فرانسسکو اپنے ساتھ ایک خواب لے کر آیا تھا کہ فلمیں بناؤں گا۔ پچھلی اقساط میں سان فرانسسکو لائبریری کا ذکر ہو چکا ہے کہ کس طرح وہاں خاص طور پر سنیما کا شعبہ متعلقہ کتابوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہاں میں نے اسکرین رائٹنگ پر کتابیں اور مشہور فلموں کے اسکرین پلے پڑھے۔ میں بھی اسکرین پلے لکھنا چاہتا تھا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ سیکھی کہ کوئی ایسی چیز لکھوں جو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ کہانی جو خود میرے ساتھ پیش آئی ہو۔ کوئی ایسا کردار جس سے میں ملا ہوں۔ وہیں میں نے کہانی اور اسکرین پلے ’نائٹ آف حنا‘ لکھا۔ اس وقت میری عمر 27 سال تھی۔ میں نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (المعروف پمس) کے ’برن یونٹ‘ میں ہاؤس جاب کی تھی۔ مختلف وجوہات کی بنا پر جلائی گئی خواتین کے مرنے کے خوفناک اور دہشت ناک مناظر دیکھے۔ عورت کے حقوق کے بارے میں میں نے ایک کہانی ’مہندی کی رات‘ 2004 میں لکھی۔ میری کردار ایک عورت ’حوا‘ تھی۔ وہ چھوٹی بچی ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ سان فرانسسکو امریکہ میں رہتی ہے۔ اس کا باپ یہاں ٹیکسی ڈرائیور اور ماں گھریلو عورت ہے۔ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی بچی مغربی ماحول میں پلے بڑھے لہٰذا وہ اپنی بچی کو پاکستان بھیج دیتے ہیں۔
لیکن لڑکے کو یہیں رکھا۔ کہانی شروع ہوتی ہے تو لڑکی کی عمر 22 سال ہے اور وہ امریکہ واپس آتی ہے۔ اس لڑکی کا نام حوا ہے۔ میں نے حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کی مناسبت سے یہ نام رکھا۔ وہ واپس یہاں کچھ خواب لے کر آتی ہے۔ کالج جانے کی خواہش ہے اور چاہتی ہے کہ زندگی میں کچھ بنے! لیکن اسے یہ نہیں پتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی طے کر رکھی ہے ”۔
” بہرحال آج میں کیمرے اور روشنی کی اہمیت پر کچھ بات کروں گا۔ 80 کی دہائی میں کیمرے کی ایک دکان ہوتی تھی جہاں 35 ایم ایم موشن پکچر کیمرے کرایہ پر ملتے تھے۔ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کیمرہ کرایہ پر لے کر کوئی فلم بنائیں! لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی دور میں ڈیجیٹل کیمرہ ایجاد ہوا۔ میں جب امریکہ آیا تو ڈیجیٹل کیمروں سے فلمیں بن رہی تھیں۔ کیمرے والے سے میں گپ شپ کرتا تھا۔ اسے میں نے بتایا کہ میرے پاس اسکرین پلے ہے جس پر فلم بنانا چاہتا ہوں۔
اسی دکان پر آسکر یافتہ سینماٹاگرافر کی فہرست لگی ہوئی تھی۔ ان میں ایک ہیرونریٹا تھے جو سان فرانسسکو آتے رہتے تھے۔ اس زمانے میں گوگل کے بجائے یاہو مشہور تھا میں نے وہاں سے تحقیق کر کے ہیرونریٹا کا فون نمبر حاصل کیا۔ بات ہوئی اور میں نے انہیں کافی پینے کی دعوت دی اور کہا کہ اپنا اسکرین پلے بھی پیش کروں گا۔ انہوں نے آنے کی حامی بھر لی۔ اگلے ہی دن میں نے اسکرین پلے کا پرنٹ آؤٹ نکالا اور جیسا کہ دستور تھا ویسے ہی اس کو بنا کر تیار کر لیا۔
اگلے روز ہماری کافی شاپ میں ملاقات ہوئی۔ سان فرانسسکو میں بہت کافی شاپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں میں پڑھ کر بتاتا ہوں۔ میں گھر آیا اور سوچنے لگا کہ یہ اتنے بڑے سنیماٹاگرافر ہیں اداکارہ ڈیمی مور، چارلی شین جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا ہے، شاید ان کی آواز دوبارہ نہ سن سکوں نہ جانے کتنے لوگ روزانہ انہیں اسکرین پلے پڑھنے کو دیتے ہوں گے! بہرحال تین دن بعد ہیرونریٹا کا فون آ گیا۔ کہنے لگے کہ تمہارا اسکرین پلے پڑھا۔ کہانی بہت عمدہ ہے بس تھوڑی نوک پلک درست کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن میں تمہاری فلم شوٹ کروں گا۔ اتنے بڑے کیمرہ مین نے میرا اسکرین پلے قبول کر لیا۔“
” اگلا مرحلہ یہ تھا کہ میں فنڈنگ کہاں سے لاؤں! تا کہ فلم کو بنایا جائے۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ سان فرانسسکو فلم آرٹس فاؤنڈیشن کالج کے شعبہ فلم کے طلباء کی مدد کرنے والی ایک انجمن تھی جہاں میں کبھی کبھی جاتا تھا۔ اس انجمن کا ایک ماہانہ رسالہ بھی نکلتا تھا۔ ان ہی دنوں میں نے ان کا ایک شمارہ دیکھا جس میں نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈیجیٹل کیمرے وغیرہ کے استعمال کا اشتہار دیکھا کہ خواہشمند افراد اس گراں قدر سہولت کے حصول کے لئے فون پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
پچھلی اشاعت میں اس بات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح وہ میرے کیمرہ مین ہیرونریٹا کے نام سے چونکے اور کہا کہ پانا وژن تو چاہتا ہے کہ ان کے ’سونی 900‘ ڈیجیٹل کیمرے ہیرونریٹا استعمال کرے۔ نیز انہیں جو ساز و سامان درکار ہے اس کی فہرست بنا دیں وہ پانا وژن مفت فراہم کرے گا۔ میں تو خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ مجھے پانا وژن سونی 900 ڈیجیٹل کیمرے استعمال کو دے گا۔ اسی کیمرے سے ہالی ووڈ کے نامور فلمساز و ہدایتکار جارج لیوکس نے اسی سال فلم“ اسٹار واز ” ( 1985 ) بنائی تھی۔ یہ مجھ پر اللہ کا بڑا کرم ہو گیا کہ ہیرونریٹا اسی کیمرے سے میری فلم شوٹ کریں گے۔ بہرحال یہ سب ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے! پھر جو تھوڑا بہت روحانیت سے میرا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ جب آپ دل میں کسی کام کا مصمم ارادہ کر لیں اور ڈٹ جائیں تو اللہ پاک راستے کھول دیتا ہے“ ۔
بینک سے فنڈنگ:
” ہمارے پاس تمام ضروری ساز و سامان اور سنیماٹاگرافر کا انتظام ہو گیا اب فنڈنگ کی تلاش تھی! یہاں امریکہ میں کمرشل بینک آپ کو قرض دینے کی پیشکش کرتے رہتے ہیں۔ میرے پاس بینکوں کی جانب سے قرضوں کی پیشکشیں آتی رہتی تھیں۔ میں نے پہلے بینک کو فون کیا اور انہوں نے مجھے 10,000 ڈالر کا قرضہ دے دیا۔ دوسرے سے رابطہ کیا وہاں سے بھی 10,000 ڈالر۔ اس ایک دن میں مجھے 75,000 ڈالر کا قرضہ مل گیا۔ یوں میرے پاس فنڈنگ بھی آ گئی۔ اب اداکاروں کی تلاش کرنا تھی“ ۔
اداکاروں کی تلاش:
” ان ہی دنوں بھارت سے ایک بہت بڑے اداکار ’گرجا شنکر‘ یہاں آئے ہوئے تھے جنہوں نے“ مہابھارت ”کی ٹی وی سیریل میں کوئی 100 سے زیادہ قسطیں کی تھیں۔ جب میں نے انہیں اپنی فلم کا بتایا تو انہوں نے بخوشی میری پیشکش قبول کر لی۔ پھر انہوں نے ایک نئی لڑکی ’پوجا کمار‘ کا بتایا جس نے اس زمانے میں ’مس انڈیا امریکہ‘ کا ایوارڈ جیتا تھا۔ جسے اداکاری کا بھی شوق ہے اور میری اس سے بات کرا دی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ابھرتی ہوئی باصلاحیت اداکارہ ہے۔
میں نے اسے حوا کے کردار کے لئے منتخب کر لیا۔ پھر ہالی ووڈ میں رہنے والی ’نور شیخ‘ نام کی اداکارہ تھیں انہوں نے ماں کا کردار کیا۔ یہاں بھارت سے تعلق رکھنے والی ’اونی جیسر‘ میری ایک اچھی ملنے والی ہیں جن کی چاشنی سے بھرپور لکھنوی اردو خاص و عام میں مقبول ہے۔ انہوں نے بھی میری فلم میں اداکاری کی۔ اس کے علاوہ نوجوان امریکی اداکار ’کریگ مارکر‘ نے بھی اپنے جوہر دکھلائے۔ نینسی کارلین سان فرانسسکو کی نامور اداکارہ ہیں جنہوں نے ایک گوری کا کردار ادا کیا“ ۔
کیمرہ اور موویز:
” سنیماٹاگرافر ہیرو نریٹا نے کیمروں اور لائٹنگ کی ذمہ داری لی۔ ان کے ساتھ کام کرنے سے مجھے بھی کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ جب سے فلمیں بننی شروع ہوئیں تب سے مختلف کیمرہ مین اپنے اپنے انداز سے کیمرہ شاٹ لیتے رہے۔ ہر دور میں شاٹ لینے کے انداز بدلے۔ جیسے کہ ایک طویل عرصے کیمرہ فریم ساکت رہا۔ یعنی اس میں زیادہ حرکت نہیں تھی۔ ہیرونریٹا جب شاٹ لیتے تو کیمرے کو آہستہ سے ہلاتے تھے۔ اس سے پکچر سمندر کی لہروں کے مانند رومانوی لگتی۔
مجھے بھی وہ فلمیں اچھی لگتی ہیں جہاں اداکار کیمرے کے سامنے حرکت کر رہا ہو اس کے ساتھ ساتھ کیمرہ بھی چلے۔ کیوں کہ فلم تو ہوتی ہی ’مووی‘ ۔ یعنی چلنا۔ اگر ہم کیمرہ ایک جگہ پر رکھ کر عکس بندی کریں تو وہ ساکت عکاسی ہو جائے گی! لہٰذا کیمرے کو اداکاروں کے ساتھ ساتھ حرکت کرنے اور ان کے تاثرات کو کیمرے کی آنکھ کے ذریعہ عکس بند کرنے کا نام موویز ہے“ ۔
ٹاکیز:
” پہلے پہل فلمیں خاموش ہوتی تھیں۔ 1890 سے 1926 اور 1930 تک خاموش فلمیں بنتی رہیں۔ پھر ’ٹاکیز‘ بننا شروع ہوئیں۔ لفظ ’ٹاکیز‘ گفتگو سے نکلا ہے۔ اب فلموں نے بولنا شروع کر دیا۔ جب اداکار اپنے جذبات اور احساسات کے ذریعے سین کو سمجھ کر اداکاری کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ کیمرے بھی حرکت کے ذریعے اداکار کی بہترین اداکاری کو کیمرے کی آنکھ سے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتے ہیں“ ۔
شاٹ کی اقسام:
” اندرونی اور بیرونی عکس بندی دونوں میں سین کی شوٹنگ میں سب سے پہلے ’وائڈ شاٹ‘ لیتے ہیں۔ وائڈ شاٹ موقع/لوکیشن دکھاتے ہیں۔ یعنی ہمارے اداکار کہاں اور کس جگہ ہیں۔ اس کے بعد ’مڈ شاٹ‘ لیتے ہیں۔ اس میں اداکاروں کا آدھا دھڑ اور چہرہ ریکارڈ کرتے ہیں۔ پھر وہی سین ’کلوز اپ شاٹ‘ میں اداکار کے چہرے کے بہت قریب کیمرہ لے جا کر ریکارڈ کرتے ہیں۔ ایک ہی سین بار بار مختلف انداز اور طریقے سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ پھر ہمارے پاس سین میں شاٹ منتخب کرنے کے لئے مواد موجود ہوتا ہے۔
بنیادی سبق یہ ہے کہ فلم تین مرتبہ بنتی ہے۔ ایک اس وقت جب اسکرین پلے لکھا جاتا ہے۔ ایک تب بنتی ہے جب اداکار اداکاری کر رہے ہوتے ہیں اور ڈائریکٹر اور کیمرہ مین اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اس کو ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے۔ تیسری فلم ایڈیٹنگ کے دوران بنتی ہے۔ تمام سین کو اسی طرح وائڈ شاٹ، میڈیم شاٹ، ٹو شاٹ، تھری شاٹ اور کلوز اپ شاٹ میں فلماتے ہیں“ ۔
کیمرے کے بنیادی اصول:
” یہ کیمرے کے بنیادی زاویے کی باتیں ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خود کیمرے کے بھی کچھ بنیادی قواعد اور ضوابط ہیں۔ ان کے مطابق سین میں کرداروں کا تعلق سمتوں کے لحاظ سے یکساں رہنا چاہیے۔ آپ نے 180 زاویے کو کراس نہیں کرنا ورنہ ایڈیٹنگ میں شاٹ میچ نہیں ہو سکے گا“ ۔
لائٹنگ:
” جہاں تک لائٹنگ کی بات ہے تو وہ بذات خود ایک بہت بڑا شعبہ ہے۔ سنیماٹاگرافر ہیرونریٹا جب کام کر رہے تھے تو ان کے ساتھ پانچ عدد لائٹنگ مین لگانے پڑتے تھے کیوں کہ ان کی لائٹنگ بڑی پیچیدہ تھی۔ وہ پرانے انداز سے لائٹنگ کرتے جس سے بہت خوبصورت ماحول بنتا تھا۔ وہ سیٹ پر تقریباً دو گھٹے میں لائٹنگ کرتے۔ اسی دوران میں اداکاروں کے میک اپ سے فارغ ہونے کے بعد ریہرسل کرواتا۔ پھر میں نے اور فلمیں بنائیں جیسے ’‘ بائسیکل برائڈ“ ( 2010 ) ، ”گڈ مارننگ پاکستان“ ( 2018 ) ۔
ہر فلم کا اپنا ایک الگ تجربہ ہوا۔ مثلاً ہیرونریٹا کی لائٹنگ نہایت شاندار ہوتی تھی۔ ہالی ووڈ سے ان کی مطلوبہ ہر قسم کی بہت ساری لائٹیں ہمارے لئے آئی تھیں۔ یہ بڑی قسمت کی بات تھی۔ اس کے بعد میں نے چھوٹے بجٹ کی فلمیں بھی بنائیں۔ میں نے یہ سیکھا ہے کہ کچھ مہینے ہوتے ہیں جن میں قدرتی روشنی بے حد خوبصورت ہوتی ہے۔ جیسے پاکستان میں نومبر اور دسمبر کے مہینے میں ہمیں بہترین قدرتی روشنی ملتی ہے۔ جتنی زیادہ دھند ہو گی یا جتنی کم سورج کی روشنی چیزوں پر پڑ رہی ہو گی اتنا ہی خوبصورت ماحول پیدا ہو جائے گا۔
خاص طور پر بارش کے فوراً بعد کی لائٹنگ بڑی زبردست ہوتی ہے۔ پھر بادلوں سے گھرا آسمان ہوتو اس میں بھی آپ کے شاٹ بہت خوبصورت بنتے ہیں۔ میں نے سیکھا ہے کہ رات کو اگر آپ گھر کے اندر شوٹ کر رہے ہوں یا اسٹوڈیو میں ان ڈور شوٹ کر رہے ہوں تو آپ بہت کم لائٹ استعمال کر کے سین کو عکس بند کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہی سین باہر شوٹ کرنا ہے تو اس میں آپ کو مختلف قسم کی لائٹوں کی ضرورت ہو گی ”۔
فلمیں ایک جادوئی دنیا:
” لائٹنگ سے اداکاروں کو خوبصورت دکھانا اور ایک ماحول تخلیق کرنا جس میں اداکار اپنے جوہر دکھا سکیں ایک جادوگری لگتی ہے۔ جب ہم سیٹ پر جاتے ہیں، کیمرے چل رہے ہوتے ہیں، اداکار میک اپ اور گیٹ اپ کر کے آ رہے ہوتے ہیں، پھر وہ میرے لکھے ہوئے جملے ادا کرتے ہیں تو وہ کیا ہی خوبصورت جادو ہوتا ہے۔ پھر جب وہ فلم بڑی اسکرین پر چلتی ہے اور آپ تھیٹر میں بیٹھ کر بڑے پردے پر آواز اور موسیقی کے جادو کے ساتھ بڑے بڑے چہرے دیکھتے ہیں تو سب کچھ جادو ہی لگتا ہے۔ ہم فلم میکر ایک خوبصورت جادوئی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔ دیکھنے والا اس سے محظوظ ہوتا ہے“ ۔
فلم کا ارتقا:
” ایک بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے اسی طریقے سے فلم بھی ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ پہلے دور میں جب فلم کی بنیاد رکھی گئی تب کیمرے بہت بھاری تھے۔ کیمرہ چل رہا ہوتا تو اس کا اپنا شور بھی بہت زیادہ ہوتا۔ بعد میں ایسے کیمرے ایجاد ہوئے جن کا شور کم ہونے لگا۔ پھر 1930 میں ٹاکیز فلموں کا چلن عام ہوا۔ ان کے آنے پر خاموش فلموں میں کام کرنے والے فلمی ستارے مضطرب اور بے چین ہو گئے اور انہیں کام ملنا کم ہو گیا۔
ہر ایک دور میں فلم میں بھی نئی نئی ایجادات ہوئیں۔ پھر ٹاکیز کے بعد 40 کی دہائی میں فلم ڈائریکٹر الفریڈ ہچکاک نے سسپنس فلمیں بنائیں اور دنیا میں ان کا چرچا کر دیا۔ پھر 50 اور 60 کی دہائیوں میں ہارر /خوفناک فلمیں بننا شروع ہوئیں۔ یہ سب کچھ 35 ایم ایم نیگیٹیو فلم پر بن رہا تھا۔ اسی طرح ساؤنڈ میں بھی ایجادات اور بہتری ہو رہی تھی۔ پہلے ناگرا ٹیپ ریکارڈر سے ساؤنڈ ریکارڈ ہوتی تھی۔ کیمرے کی شوٹنگ پہلے ہوتی اور مکالمے بعد میں ڈب ہوتے۔ یہ ڈبنگ کا نظام ہالی ووڈ میں پچھلے پندرہ بیس سال سے ختم ہو چکا ہے۔ اب تو وہ موقع ہی پر تمام ریکارڈنگ کرتے ہیں۔ لیکن چار سال پہلے تک بھارت میں مکالموں کی ڈبنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ البتہ میں ابھی پاکستان گیا تو وہاں اب بھی فلموں میں ڈبنگ ہو رہی ہے۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی سننے کو ملا کہ صاحب ہم نے تو سنا ہی نہیں کہ موقع پر بھی ساؤنڈ ریکارڈنگ ہوتی ہے! اب میں سمجھتا ہوں کہ ڈیجیٹل دور آ گیا ہے۔ اب کیمرے سستے ہو چکے اور ان کا معیار بہت بہتر ہو چکا ہے اور وزن میں بھی بہت ہلکے ہیں۔ پھر آواز ریکارڈ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے ۔ ایسے کمپیوٹرائز آلے ایجاد ہو گئے ہیں جو مکالمے بہت اچھے اور معیاری ریکارڈ کر سکتے ہیں ”۔
سب پر بھاری فلم کہانی:
” اب فلم میں بہت آسانیاں ہو چکی ہیں۔ لیکن ان سب پر بھاری ایک چیز میں نے سیکھی ہے وہ ہے ’جان دار کہانی‘ ! آپ کی کہانی اگر دل پر اثر کرتی ہے، آپ کے احساسات اور جذبات کو جگاتی ہے تو وہ فلم کامیاب ہے۔ اگر آپ کی کہانی اچھی نہیں ہے تو چاہے آپ کروڑوں کا ساز و سامان لگا دیں اسکرین پلے لکھنے پر بھی تگڑی رقم لگا دیں، پھر بہترین صدا بندی کا بھی سامان کروا لیں تو کوئی بڑا اداکار بھی اس فلم کو اچھا نہیں بنا سکتا۔ یہ ہے اچھی کہانی کی اہمیت! فلم کی اولین اہم بات اس کی کہانی ہوتی ہے۔ اسی لئے میں خود بھی اچھی کہانی کی تلاش میں رہتا ہوں۔ اس کہانی کو لکھنے میں خواہ زیادہ وقت لگ جائے لیکن میں بہت توجہ دیتا ہوں“ ۔
(جاری ہے )






