امریکی سازش سے امریکی حمایت تک کا سفر


عرب کے ریگزاروں میں بسنے والے ان پڑھ بدو کو جب نبی پاکﷺ نے ایک سوچ دی تو خدا کی پناہ! کیا کیا خطابات اور القابات سے آپﷺ کی ذات مبارک پر نشتر چلائے گئے۔ کن کن اذیتوں سے گزارا گیا اور جگہ جگہ مسائل کے جو انبار لگائے گئے وہ ایک الگ داستان ہے۔ نبی پاک ﷺ کی اس تحریک کا مقصد، ان پڑھ اور جاہل افراد کی زندگی کو نیا فلسفہ حیات دینا اور ریگستان عرب کی بے ترتیب معاشرت کو نئے نظریہ معاشرت میں ڈھالنا تھا۔ اگرچہ ناکافی وسائل اور ساتھیوں کی کمی کا سامنا تھا مگر آپ ﷺ مسلسل کوشش کے بعد ان نفوس کی زندگیوں میں اسلامی عمل و فکر کو داخل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

یہ عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دنیا میں سوچ، نظریے، ترتیب، مسلسل عمل اور نظم و ضبط کے حسین امتزاج سے ہی مہذب قومیں وجود میں آتی ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ یہ سب عناصر یک دم سے کسی بھی گروہ اور بے ہنگم ہجوم میں پیدا ہو جائیں۔ مخلص لوگوں کی رہنمائی، سالوں کے اتار چڑھاؤ اور بدلتے مزاجوں کی پیداوار ہی بکھرے لوگوں کے گروہوں کو ایک قوم کی تعمیر و تشکیل دینے کے عمل میں معاون ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان ایک ایسا خطہ زمین ہے کہ جہاں صدیوں سے شخصی غلامی کا طوق، فخر سے گلوں میں ڈالے انسان زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ زندہ مگر مردہ سوچ اور فکر کے ساتھ چلتے پھرتے انسان نما مخلوق، اپنی سوچ اور اعمال پر خود ساختہ زنجیروں کے باوجود مطمئن ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمین کے اکثر باسیوں نے ملکی اور غیر ملکی گروہوں کی یلغار کے سامنے سینہ سپر ہونے کی بجائے ہمیشہ سر جھکانا اور اطاعت کرنا آسان سمجھا اور مصلحت اندیشی کے پیش نظر، وقت کے ساتھ، ہر بدلتے حکمران کو خوش آمدید کہا۔ ہندؤ مذہب میں چونکہ مختلف انسانی شخصیات کو دیوتاؤں کا روپ سمجھا جاتا ہے لہذا شخصیت پرستی کی جو بد ترین شکل ہمیں صرف ہندؤ مذہب میں نظر آتی ہے بد قسمتی سے اس کا اثر، نہایت آہستگی سے برصغیر میں بسنے والی باقی اقوام میں بھی سرایت کر گیا۔

قوم کی نا پختہ سوچ میں ابھی پختگی نہیں آئی تھی کہ قائد اعظم وفات پا گئے اور یوں ہمارے نصیب میں مفاد پرست سیاسی اور مذہبی قیادت لکھ دی گئی اور پھر اس ٹولے نے شخصیت پرستی کے اثرات کو ختم کرنے کی بجائے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد قائم کرنے کے لیے، اس سوچ کو اور زیادہ فروغ دیا۔ اس با اختیار طبقے نے چالاکی سے محروم و مجبور طبقے کو شخصی غلامی سے نکال کر عقیدت و احترام کی غلامی کا نیا طوق پہنا دیا۔

ان دنوں پاکستانی سیاست میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ ایک عرصے تک شجر ممنوعہ رہنے والی ایک سیاسی شخصیت کو پہلی بار عدالتوں میں جواب دہ ہونا پڑ رہا ہے چنانچہ جہاں پناہ، عدالت کی پیشی سے بچنے کے لیے حیلے بہانے تراش رہے ہیں کبھی انسانی حقوق کی آڑ لی جاتی ہے، کبھی بیرونی آقاؤں سے مدد مانگی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ایک سیاسی جماعت نے چند سال پہلے سازش کے تحت شعور دینے کی آڑ میں سلامتی کے اداروں کے خلاف عوامی رائے قائم کی، جس کے نتیجے میں 9 مئی والا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔

اس واقعہ کے بعد ، جونہی انصاف کی ہوا چلی تو ”سب کے لیے ایک قانون“ کہنے والے ہی چلا اٹھے۔ واقعہ کے سہولت کاروں نے بدلے تیور دیکھے تو انصاف کے اس عمل کو روکنے کے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر سازشوں کا جال بنا جانے لگا۔ اس موقع پر انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے ”حقہ پانی“ کا حساب نہیں دیں گے، چاہے ملکی استحکام اور سلامتی داؤ پر لگ جائے۔ بد قسمتی سے ”سیاسی ٹائی ٹینک“ اپنے بچاؤ کی آخری کوششوں میں کسی تنکے کا سہارا لینے سے بھی گریزاں نہیں ہے۔

سیاسی ٹائی ٹینک پر سوار تمام سواریاں، جانتی ہیں کہ اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے چنانچہ ہر کوئی، سلامتی کے اداروں کو انڈر پریشر کر کے اپنے لیے ”نجات کا محفوظ راستہ“ تلاش کر رہا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اب نہ تو 1970 ء کا زمانہ ہے اور نہ ہی یہ 1977 ء ہے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے جس کی وجہ سے عوام آپ کی پرانی باتیں بھی یاد رکھتے ہیں اور اس عمل نے عوام کو پہلے سے بہت زیادہ باشعور اور با خبر کر دیا ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ عوام کا اور اس ملک کا وفادار کون ہے اور کون اپنے مفادات کا غلام ہے۔

کون مہنگائی اور آزاد عدلیہ کا نعرہ لگا کر اپنے لیے نئے این آر او کا متلاشی ہے؟ کون ہے جو اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ کے پیچھے چھپنا چاہتا ہے؟ عوام اب تک نہیں بھولے، جب جسٹس (ر) عبدالقیوم کو فون کر کے انصاف کا خون کیا جا رہا تھا۔ کس سیاسی جماعت نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا؟ کس سیاسی جماعت کے کارکنوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا تھا؟ کس جماعت کے سربراہ کو مسٹر ٹین پرسنٹ کہا جاتا تھا؟

کس جماعت کے قائد نے فوجی افسران کو، اپنے چیف کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا؟ کس نے عوام کو یوٹیلٹی بلز جمع نہ کروانے کا مشورہ دیا تھا؟ کس سیاسی جماعت کے کارکنوں نے 9 مئی کو سلامتی کے اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا؟ کس سیاسی جماعت نے پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کو لڑانے کی ناپاک سازش کی تھی؟ کون سی جماعت کا رہنما، نوٹوں کے بھرے بریف کیس کوئٹہ ہائی کورٹ لے کر گیا تھا؟ وہ کون تھا جس نے اپنے ہر غلط فیصلے کا ذمہ دار، دوسروں کو قرار دیا؟

وہ کون تھا جس نے یو ٹرن کو کامیابی کا ضامن کہا؟ وہ کون تھا جس نے معزز ججوں کو ”چمک کا شکار“ کہا تھا؟ وہ کون تھا جس نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی؟ وہ کون تھا جس نے سر عام ججوں کی توہین کی تھی؟ وہ کون تھا جس نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش کی تھی؟ وہ کون ہے جو پہلے ”ہم غلام نہیں“ کا نعرہ لگاتا رہا اور بعد میں بیرونی آقاؤں سے ملکی معاملات میں مداخلت کی درخواستیں کرتا رہا؟ وہ کون ہے جو آئی ایم ایف کی ٹیم سے اس سال الیکشن کے انعقاد کی یقین دہانی مانگتا رہا؟

وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پہلے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد روک دیا اور جب اپوزیشن میں آئے تو آئی ایم ایف کو کو مس گائیڈ کیا، تاکہ پاکستان کو قرض کی رقم نہ مل سکے۔ مالیاتی اداروں کا پاکستانی سیاسی قائدین پر اعتماد کے فقدان کا یہ حال ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کی وجہ سے آئی ایم ایف کی ٹیم، حکومت سمیت اپوزیشن کی قیادت سے ملاقاتیں کر کے، اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی سیاسی جماعت، حکومت میں آنے کے بعد ، اس معاہدے سے انحراف نہ کرسکے۔

ان سب باتوں کے علاوہ یہ بات طے ہے کہ اس بار سیاسی ٹائی ٹینک اپنی تمام سواریوں سمیت ڈوبنے والا ہے کیونکہ اس بار، شہداء کی بے حرمتی، ملکی سالمیت اور خودداری کا معاملہ ہے اور قوم کو اپنی افواج پر ناز ہے۔ آپ یقین کریں کہ پاکستان کی عوام جانتی ہے کہ سب سیاسی جماعتوں کے سربراہان صرف اپنے ذاتی مفادات اور اختیارات کے حصول کی خاطر فیصلے کرتے ہیں اور جب ان کے مقاصد کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو یہ سب مخالف قوتوں کے خلاف ہم آواز اور یک زبان ہو جاتے ہیں لہذا اس بار یہ بات طے ہے کہ عوام کی اکثریت، احتساب کے عمل کو جاری و ساری رکھنے کے موڈ میں ہے، چاہے اس کی زد میں کوئی بھی آئے۔

Facebook Comments HS