پاکستان کا سیاسی ٹرانزٹ لاؤنج
پاکستان میں ائرپورٹس پر جو لاؤنج عام مسافروں کے لئے ہوتی ہے، اس کو لاؤنج کہا جاتا ہے۔ جو مسافر اپنا سفر پورا کرنے کے لئے لاؤنج میں انتظار کرتے ہیں، اس کو ٹرانزٹ لاؤنج کہا جاتا ہے۔ آج سیاست کے سفر پر نیت باندھنے والے سب اسی لاؤنج میں موجود ہیں۔ پورے کا پورا پاکستان ٹرانزٹ لاؤنج میں بدل گیا ہے، جس میں وہ تمام مسافر بٹھائے جاتے ہیں جو سیاست، معیشت اور سماجیات سے متعلق ہوتے ہیں کیوں کہ ٹرانزٹ لاؤنج کسی بھی دین دھرم، زبان، قوم اور قومیت یا نسل سے ہٹ کر ہوتا ہے، لاؤنج موجود مسافروں کو یکساں نشستیں فراہم کرتا ہے
کبھی کبھی پاکستان میں یا پاکستان سے باہر جانے کے لیے ائرپورٹ کی ٹرانزٹ لاؤنج میں بیٹھنے کا موقع ملتا ہے۔ آج کل ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے پورا پاکستان ٹرانزٹ لاؤنج میں بیٹھا ہے، سارے پاکستانی کسی مسافرت یا وسیلے کے انتظار میں ہیں۔ کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی مسافرت آئے گی، کوئی وسیلہ پہنچے گا جس کے ذریعے وہ اپنی منزل تک پہنچیں گے۔
لیکن پاکستانی عوام ٹرانزٹ لاؤنج میں کب سے بیٹھے ہیں، اس پر کچھ سیر حاصل گفتگو کی جائے۔ اس سے پہلے کہ اس گفتگو کا آغاز کیا جائے، یہ لازم ہے کہ آپ کو بتائیں کہ کیمبرج ڈکشنری، آکسفورڈ ڈکشنری اور مختلف ڈکشنریوں میں دو طرح کے لاؤنج لکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہسپتال کا اور دوسرا ائرپورٹ لاؤنج۔
ہسپتال کے ٹرانزٹ لاؤنج ترجیحی طور پر ہسپتال کے داخلی دروازے کے قریب ایک مخصوص علاقہ ہے جو مریضوں کے لیے ایک عبوری انتظار گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ائرپورٹ لاؤنج ملک کے اپر مڈل کلاس اور عام مسافروں کے لئے الگ الگ مختص ہوتے ہیں۔ جس میں عام لوگ دیواروں کو دیکھ کر انتظار کاٹتے ہیں اور اپر مڈل کلاس باقی عام لوگوں سے دور اپنے اپنے مقصد اور مفاد نیز نئے نئے تعلقات وضع کرنے کی گفتگو کرتے ہیں۔
اس ٹرانزٹ لاؤنج میں جو بھی عام لوگ بیٹھے ہیں، کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا، ہر ایک دیوار کی جانب اپنے میزبان یا پورٹ عملے کو ہی دیکھتے رہتے ہیں، اپنے کان کھلے رکھتے ہیں کہ کبھی آواز آئے گی اور وہ ”منتظر“ سے ”مسافر“ کا روپ دھار لیں گے۔ لاؤنج میں کس کو کھانے کا کیا ملتا ہے، پینے کا کیا ملتا ہے، زبان کون سی بولتے ہیں، جانا کہاں ہے، کس کس کے ساتھ جانا ہے؟ اس پر کم ہی سوچا جاتا ہے۔ ٹرانزٹ لاؤنج میں ایسے لگا کہ پاکستان میں ہر شخص کو اسی ٹرانزٹ لاؤنج میں بیٹھنے اور انتظار کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اپنے اپنے خیالات، نظریاتی اور غیر نظریاتی اساس کے ساتھ ٹرانزٹ لاؤنج لوگوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے، کوئی وسیلہ پہنچتا ہے، تو ائرپورٹ کے میزبان نما ملازمین مخصوص لوگوں خواتین و مرد حضرات کو کہتے ہیں کہ آپ چلیں آپ کی سواری تیار ہے۔
لاؤنج میں ایک دیوار پر آویزاں ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر مختلف منزلوں کی فلائٹس کے آنے جانے کے اوقات دکھائی دیتے ہیں، جو فلائٹ تاخیر سے جا رہی ہے اور جو فلائٹ نامعلوم وجوہات کی بنا پر منسوخ ہو جاتی ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ دوسری دیوار پر ائرپورٹ کی جانب سے ایک ٹیلی ویژن لگایا گیا ہے جس میں انتظامیہ اپنی مرضی کا چینل لگائے ہوئے ہیں جس پر مختلف خبریں مختلف پٹیاں دکھائی دیتی ہیں، ٹی وی کی آواز مخلوق کی آواز کی طرح بند کردی گئی ہے، بس مسافر چلتی پٹیاں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ وہ جان سکیں کہ ہمارے ملک میں کون کون سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
ایک اور دیوار پر مشہوری کے اشتہارات کا پینل لگا ہوا ہے جس میں مٹھائی سے لے کر نمکین غذا تک اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں گاہے بگاہے اشتہارات سامنے آ جاتے ہیں۔ مسافروں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جو فلائٹس کا اوقات کار کا بورڈ لگا ہوا ہے یا ٹیلی ویژن لگا ہوا ہے اور اشتہاروں کے لگے بورڈز کا کوئی اور مقصد بھی ہو گا۔ یہ مقصد صرف ملک کی اقتداری پارٹیاں اور اقتدار سے منسلک لوگ ہی سمجھ پاتے ہیں۔
ہال میں آنے جانے والے جہازوں کی معلومات دیوار پر آویزاں الیکٹرانک بورڈ پر کبھی کبھی لکھا آ جاتا ہے، ”مدینے جانے والی پرواز منسوخ“ یا ”گوادر پسنی فلائیٹ 8 گھنٹے تاخیر سے جائے گی“ ۔ ائرپورٹ پر مختلف کھانے کی سلائیڈ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ایک بورڈ بار بار تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ خوشخبری۔ برٹش ائر ویز لندن تا لاہور اپنی پروازیں شروع کرے گا۔ لندن کی وجہ سے لاؤنج میں موجود نواز لیگ والے اس کو میاں صاحب کی فتح گردانتے ہیں۔ جب کہ نوابشاہ اور موہن جو دڑو کی فلائٹس ختم کرنے کو ”ڈومیسائل“ کا عنوان دیا جاتا ہے۔
اس عام مسافروں کی لاؤنج میں ایک جانب وہ تمام لوگ ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں، جن کو کئی زمانوں سے لاؤنج میں بیٹھنے اور انتظار کرنے کا کہا گیا ہے۔ ان کا نام ’قوم پرست‘ رکھا گیا ہے، کچھ ایسے ہیں جو کبھی کبھی اپنی نشستوں سے اٹھ کر دوسروں کے ساتھ بغلگیر ہوتے ہیں اور بغیر کہے ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے ہیں۔ نعروں کی وجہ سے انہیں فوری طور پر لاؤنج کی اگلی نشستوں پر براجمان کیا جاتا ہے۔ لیکن انتظار ان کا مقدر ہی ہوتا ہے۔
لاؤنج کے انتہائی دائیں جانب کرسیوں کی ایک لمبی قطار مولوی صاحبان کی موجود ہے، جن کے ہاتھوں میں تسبیح ہوتی ہے، سب کے سب باریش ہونے کی وجہ سے چھپی مسکراہٹ سے طنزیہ بات کرتے ہیں گویا وہ سب مکینوں کو بتاتے ہیں کہ ”آپ خواہ مخواہ بیٹھے ہیں، یہ سب کچھ ہمارے حصے میں آنا ہے“ انہیں ائرپورٹ کے میزبان نہیں بتا سکتے کہ انہیں کتنا وقت اور بیٹھنا ہو گا۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اگلے سال مارچ 24ء میں سعودی عرب اور عراق میں جو علمی اور فقہی تبدیلیاں رونما ہوں گی، ان کا ان کی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے؟
ہال کے انتہائی بائیں حصے میں بائیں بازو کے لوگ بیٹھے ہیں، جو 1951ء کی بغاوت کے بعد آج تک اس آسرے میں بیٹھے ہیں کہ شاید گرتی ہوئی دیوار کو کسی نہ کسی دن ایک دھکا اور لگ جائے گا، اور ان کا کام ہو جائے گا۔ ان لوگوں نے وہ خواب دیکھے تھے جو ان کو ساحر لدھیانوی سے لے کر کرشن چندر کی تحریروں میں ملے تھے جو خواب پاکستانی کلچر دیکھے سمجھے بغیر ان کو دکھائے گئے تھے۔ ان راہنماؤں کو اتر پردیش سے لے کر کشمیر، سری لنکا، کلکتے سے لے کر مشرقی پنجاب کے بارے میں معلوم تھا، بس ان کو صرف یہ معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں سندھ کے لوگ کیا ہیں، پنجابی اور بلوچی اسپیکنگ اور پشتون کس طرح سوچتے ہیں، اسی لیے وہ اپنا بنا بنایا جو بھارتی خواب لے کر آئے تھے ان کی پاکستانی تعبیر نکلنا ہی نہیں تھا۔ سو دھکے پر چلنے والا خواب ’ایک دھکا اور دو‘ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ زمینی حقائق سے کٹ کر زمینی نظریے کو کس طرح نقصان ہوتا ہے، وہ اس ملک میں دیکھا گیا۔ یوں چلتے چلتے، پاکستانی بایاں بازو بٹتا گیا۔ بائیں کا ایک بازو بنگالیوں کا حامی اور دوسرا بازو مخالف ہو گیا۔ دیکھتے دیکھتے چینی روسی کتب کی طرح ملک میں بایاں بازو کتابوں تک محدود رہا، بٹنے کے بعد وہ روسی فقہ ( اصل فقہ سوویت فرقہ) اور چینی فقہ میں بدل گیا۔
لاؤنج میں موجود بایاں بازو اب دائیں، سنٹرل، جمہوری، اسٹبلشمنٹ، عدالتوں، پارلیمان سمیت اپر کلاس پر تنقید کر رہا ہوتا ہے۔ لوگ ان کی باتیں انہماک سے سنتے ہیں، جس طرح 75 برس سے سنتے آئے ہیں۔ ظاہر ہے، ان کی طرح پڑھا لکھا بھی تو کوئی نہیں بچا۔
اچانک سرگرمی بڑھ جاتی ہے۔ عام لاؤنج کے مسافر اپنے انتظار کو ختم ہوتا دیکھتے ہیں۔ لیکن بعد میں سب مسافروں کو بتایا جاتا ہے کہ موسمی حالات کے پیش نظر بعض فلائٹس مقررہ وقت سے بعد میں جائیں گی۔
ہم لوگ فقط نامور دانشور جناب فرانز کافکا کی بات کو یاد کر کے اپنے اندر ’منتظر رہنے‘ کی اوقات بڑھاتے جاتے ہیں۔ کافکا نے کہا تھا :
” کچھ سننا بھی مت، بس انتظار کرو، خاموش رہو، خاموش اور تنہا رہو۔ دنیا آزادانہ طور پر اپنے آپ کو بے نقاب ہونے کے لئے پیش کرے گی، اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے، یہ آپ کے قدموں میں خوشی سے لپٹے گی“


