باجوڑ میں دہشت گردی
دس محرم الحرام یوم عاشور کا دن ہی گزارا کو 11 محرم الحرام کو باجوڑ میں کربلا برپا کردی گئی۔ اب تک 46 زائد بے گناہ معصوم لوگ شہید ہو گئے ہیں۔ باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اور دوران جلسہ خود کش حملے میں 46 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔ شہداء میں 2 مقامی رہنما جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیاء اللہ جان اور تحصیل ناواگئی کے جنرل سیکرٹری حمیداللہ حقانی بھی شامل ہیں۔
کنونشن سے مولانا فائق کی تقریر کے دوران خودکش بمبار نے اسٹیج کے قریب خود کو اڑا لیا، دھماکے سے ٹینٹ منہدم ہو گیا اور خوفزدہ لوگ نکل نہ سکے اور افراتفری مچ گئی، دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی اور انسانی اعضاء ہر طرف بکھر گئے، شدید زخمیوں کی آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ ہر وقت ہمیشہ ہی مولانا اور اس کی جماعت دہشتگردی کے نشانے پر کیوں رہتی ہے۔ ایک طرف ہر الزام اور تنقید برائے تنقید مولانا پر کی جاتی ہے دوسری طرف سب سے زیادہ جانی اور سیاسی نقصان بھی مولانا اور اس کی جماعت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
آپ مولانا فضل الرحمن کو انتہا پسند سمجھیں یا دہشتگرد، مذہبی ملا سمجھیں، یا سیاسی مفاد پرست، آپ اس سیاست یا شخصیت سے لاکھ بار اختلاف رکھیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ مفتی محمود کا بیٹا مولانا فضل الرحمن اس وقت ملک میں سیاسی بصیرت رکھنے والے مدبر سیاستدان اور مذہبی رہنما صف اول کے لیڈر اور ملک کے لئے درد رکھنے والے صوفی منش عالم دین ہیں۔ مولانا نے ملک میں فرقہ واریت کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے کوششیں کیں، مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ایم ایم اے کا اتحاد بنایا آج ملک میں مذہبی ہم آہنگی ہے اور امن امان کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا نے اس عمل کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔
آپ نے مذہبی طبقے کو بندوق، کلاشنکوف، بارود اٹھانے کے بجائے عدم تشدد کا درس دیا، پرامن رہنے پر زور دیا اور ملکی سسٹم کے تحت جمہوریت پر یقین رکھتے ہوئے ووٹ کی پرچی کا سہارا لیا۔ آپ کو اور جماعت جے یو آئی کے ممبران کو جان بوجھ کر ہرایا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ملک میں نام نہاد دہشت گردی کے جنگ میں جب مشرف کی وجہ سے پاکستان کود پڑا تو اس وقت آپ نے ملک میں امن امان کے قیام کے لئے جدوجہد کی۔
آپ کے اوپر مسلسل 3 بار خودکش حملہ ہوئے، بم دھماکے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندگی دی، محفوظ رکھا، آپ نے جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کی آپ کے پر امن کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ اور 23 ملین مارچ اس بات کا ثبوت ہے۔ آپ کے ساتھی علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو شہید کیا گیا، آپ پرامن رہے، کوئٹہ میں آپ کے قافلے پر دھماکے ہوئے، آپ کے گھر ڈیرہ اسماعیل خان پر مسلسل راکٹ لانچر مارے گئے تھے۔ آپ کے ساتھی مولانا حسن جان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔
کراچی میں جید علماء کرام مفتی نظام الدین شامزئی سمیت دیگر کو گولیوں سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ بلوچستان میں آپ کے جماعت کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری پر دہشت گرد حملہ کیا گیا، جس میں متعدد آپ کے جماعت کے کارکن شہید ہوئے۔ آپ کو ہمیشہ اقتدار میں رہنے کے طعنے دیے جاتے ہیں، آپ کو ”ڈیزل“ کے نام سے گالی دے کر پکارا جاتا ہے۔ آپ پر کرپشن کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں مگر ثبوت پیش نہیں ہوتے۔ آپ کو اور آپ کی جماعت کو انتخابات، اقتدار، جمہوریت، امن سے دور رکھنے کی کوشش وہ سازش کی جاتی ہے مگر آپ ہمیشہ اصول، نظریہ، جدوجہد ووٹ کی پرچی سے اپنا مقدمہ لڑتے آرہے ہیں۔
باجوڑ میں جے یو آئی ورکرز کنونشن میں دہشت گرد حملے میں اب تک کے تفصیلات کے مطابق 46 افراد عالم، کارکن شہید اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ مولانا صاحب ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسے انتہا پسند ہیں کہ آپ اور آپ کی جماعت انتہاپسندی کا شکار ہو رہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔ آپ کیسے دہشت گرد ہیں کہ آپ اور آپ کی جماعت کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آپ خاموش ہیں۔ مولانا صاحب آپ کیسے سیاستدان اور مذہبی رہنما ہیں کہ تین خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات اور سینکڑوں علماء کرام کارکنوں کے جنازے اٹھانے کے باوجود اتنے پرامن ہوتے ہیں کہ ایک درخت کا پتا نہیں ٹوٹتا نہ کسی گاڑی کا شیشہ توڑا جاتا ہے۔
آپ کیسے لوگ ہو آج تک کسی قاتل کا، سہولت کار کا، دہشت گردی کرانے والے عناصر کا نام تک نہیں لیتے؟ آپ ہمیشہ نشانے پر ہیں، یہ کون سی قوتیں ہیں جو آپ جیسے مولوی کو برداشت نہیں کرتے، آپ کی جماعت تک کو برداشت نہیں کرتے۔ آپ کی پرامن تحریک سیاست کو برداشت نہیں کرتے اور آپ زبان سے آف تک نہیں کہتے، ایک دو دن کی مذمت اور احتجاج کے بعد دہشت گردی ہضم ہو جاتی ہے؟ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ کب تک لاشیں اٹھاتے رہو گے؟
کب تک جنازے اٹھاتے رہو گے، کب تک مدارس مساجد میں لاشیں اٹھاتے رہو گے؟ کبھی مسجدوں پر ڈرون حملوں میں سینکڑوں معصوم بچے شہید ہوتے ہیں تو کبھی جلسوں میں سینکڑوں لاشیں ملتی ہیں! یہ دہشتگردی، یہ قتل و غارت یہ لاٹھی گولی، بم، بندوق کی زبان آخر کب تک جاری رہے گی؟ باجوڑ دہشتگردی واقعے پر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ کارکن پرامن رہیں۔ صدر عارف علوی، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو، میاں نواز شریف، آصف علی زرداری اور دیگر خود کش حملے پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے منصوبہ سازوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ادھر افغان طالبان نے باجوڑ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم کسی طور جائز نہیں۔ امریکا نے باجوڑ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن اور جمہوری معاشرے میں ایسی دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ حملہ سوچی سمجھی سازش ہے۔ مولانا راشد محمود سومرو نے اسے پاکستان پر حملہ قرار دیا ہے۔ اس حملہ کا مقصد نگران حکومت میں جے یو آئی کو انتخابات سے دور رکھنے کی سازش ہے یا مولانا کو کسی طرف سے اشارہ ہے۔ امید ہے کہ ہمارے ادارے دہشتگردی میں ملوث عناصر کو ڈھونڈ نکال کر سامنے لے آئیں گے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔


