برؔق عظیم آبادی اور پٹنہ میں آٹھ محرم کا جلوس علم
جاتے ہیں بؔرق تابع فرمان یار ہیں۔
وہ صبح کو بلائیں تو کیوں دو پہر کریں
بر صغیر کے مختلف شہر، قصبے، گاؤں وغیرہ ایام محرم میں عزاداری کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ اسی طرح صوبہ بہار میں بھی کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں عزاداری کے سلسلے میں امتیاز حاصل ہے۔ صوبے کا دارالحکومت پٹنہ (عظیم آباد) ہے جہاں محرم کی ایک منفرد شان ہے۔
اودھ اخبار، مورخہ 23 فروری 1875 عیسوی، میں پٹنہ کی عزاداری کے سلسلے میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جو کچھ اس طرح تھی: ”اضلاع بہار میں سب سے زیادہ تعزیہ داری اور مجلس عزا پٹنہ میں ہوتی ہے۔ چنانچہ امسال بھی حسب دستور سالہائے گزشتہ مرزا دؔبیر صاحب اور میر مؔونس صاحب مجالس عزا میں مصائب کربلا سے مومنین کو رلا کر داخل ثواب کرتے ہیں۔ گرچہ عرصہ چند سال سے جناب مرحوم (اؔنیس) پٹنہ میں نہیں آتے تھے لیکن اس پر بھی اعزہ پٹنہ کو ان سے تعلق خاص تھا“ ۔
پٹنہ میں عزاداری کی بنیاد حاجی نواب سید احمد علی خان قؔیامت عظیم آبادی نے 1134 ہجری میں رکھی تھی۔ موصوف محلہ دولی گھاٹ، پٹنہ سیٹی، کے ساکن و رئیس تھے اور سات سالوں تک کربلا و نجف اشرف میں رہ کر علم دین حاصل کر چکے تھے۔ جب ہندوستان واپس آئے تو اپنے ساتھ دو عدد ضریح مقدس بھی لیتے آئے جنہیں محترم بزرگ نے اپنے امام باڑے، واقع دولی گھاٹ اور سنگی دالان، میں نصب کیا۔ اور اس طرح شہر میں باقاعدہ عزاداری کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنے رفیق خاص حاجی عبداللطیف صاحب کے لیے ایک امام باڑہ گوری استھان میں تعمیر کروایا اور ان کے حوالے کر دیا۔ ہر ماہ کی 9 تاریخ کو تکیہ شاہ باقر، 20 تاریخ کو امام باڑہ سنگی دالان، اور 21 تاریخ کو امام باڑہ حاجی عبد اللطیف صاحب کے یہاں مجالس ہوتی تھیں۔ نیز ہر سال محرم میں قؔیامت کے امام باڑے واقع دولی گھاٹ میں عشرہ ہوتا تھا جو اب بھی قائم ہے۔ یہ حالات قؔیامت عظیم آبادی کے نبیرہ نواب نجات حسین خان آؔشکی عظیم آبادی، صاحب تصانیف سوانح لکھنؤ و فرس نامہ، کے فارسی مخطوطہ بعنوان تذکرة الاکابر میں تفصیل سے درج ہیں۔ یہاں یہ بھی لکھنا بے محل نہ ہو گا کہ انیسویں صدی عیسوی کے وسط کے لکھنؤ کے ثقافتی و تاریخی حالات جس قدر تفصیل سے مذکورہ سوانح لکھنؤ میں دستیاب ہیں وہ اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مورخین نے اپنی تحقیقات کے لیے اس کتاب کا خوب سہارا لیا ہے۔
پٹنہ میں آٹھ محرم کے جلوس علم کو سید عبدالحسین خاں عرف حجو نواب صاحب بؔرق عظیم آبادی نے 1875 عیسوی میں قائم کیا تھا۔ آپ کو سید الشعراء شاؔد عظیم آبادی سے شرف تلمذ تھا۔ آپ نے اپنے استاد کی تصنیف کردہ مثنوی فغاں دلکش کی تاریخ طباعت رقم کی تھی۔ وہیں شاؔد نے اپنی ایک غزل میں بؔرق کو یاد بھی کیا تھا۔ صاحب تذکرہ گلشن حیات آپ کے بارے میں لکھتے ہیں : ”سکونت مغلپورہ، عظیم آباد۔ خوش رو، کشیدہ قامت، ہنس مکھ اور خلیق جوان تھے۔ پختگی طبیعت کا یہ رنگ تھا کہ جس سے مربوط ہوئے تا دم آخر اس کے دلدادہ رہے۔ دوستوں کے لیے جان و مال بے دریغ صرف کرنے کو تیار۔ نہایت عالی ہمت اور دل کے بہادر تھے۔ شاعری میں زبان و خیالات عمدہ، اور نہایت ہونہار تھے۔ افسوس کہ بہ عارضہ سل جوانی میں رحلت کی۔ نمونہ کلام حسب ذیل ہے ؎
دلکش ہے کیا بہار دل داغدار کی۔ ہیں پھول سب بسے ہوئے خوشبو سے یار کی
سارے چمن کے پھول نگاہوں سے گر گئے۔ گھر کر لیا دماغ میں خوشبو نے یار کی
میں خاک میں ملا تو ملا اس کا کیا گلہ۔ یہ بھی ادا تھی اپنے تغافل شعار کی
رسوائیوں سے ہم نہ ڈرے راہ عشق میں۔ جو وضع دل کو بھائی وہی اختیار کی
صدمے اٹھائے اتنے شب ہجر کے، کہ اب۔ تصویر بن گیا ہوں دل داغدار کی
کٹتی تو ہے کسی کے تصور میں دو گھڑی۔ کیا بات ہے ہماری شب انتظار کی
مدت ہوئی کہ سینے میں دل کا پتا نہیں۔ یارب ہو خیر، میرے غریب الدیار کی
اے درد اور بڑھ کہ نکل جائے تن سے جاں۔ یہ چھیڑ چھاڑ خوب نہیں بار بار کی
اے بؔرق اپنے خامہ کہنہ کو سی تو لو۔ کیا جانے کس گھڑی خبر آئے بہار کی ”
لالہ سری رام، مولف خمخانہ جاوید، جلد اول، میں رقمطراز ہیں : ”بؔرق۔ نواب سید عبدالحسین خان عرف حجو نواب۔ رئیس پٹنہ۔ شاگرد مولانا شاؔد عظیم آبادی۔ یہ آپ کا کلام ہے ؎
کیا مقدر ہے واہ بسمل کا۔ چل کے رکتا ہے ہاتھ قاتل کا
نہ امیدانہ تھک کے بیٹھ رہے۔ جب نہ پایا نشان منزل کا
ضبط کی آہ مرحبا اے قیس۔ رکھ لیا تو نے پردہ محمل کا ”
نقی احمد اؔرشاد، نبیرہ شؔاد عظیم آبادی، لکھتے ہیں کہ بؔرق محلہ کشمیری کوٹھی میں رہتے تھے۔ معروف انشا پرداز نصیر حسین خاں خؔیال عظیم آبادی کا بیان ہے کہ سید علی سؔجاد دہلوی العظیم آبادی، صاحب ناول محل خانہ، نئی نویلی و پھولوں کی ڈالی، ان سے آخری ملاقات میں اپنے دیرینہ دوست بؔرق عظیم آبادی کا شعر پڑھتے تھے اور روتے تھے۔
بؔرق کا انتقال 25 صفر، 1301 ہجری، بروز شنبہ، بوقت شام ہوا اور گلشن حیدری، پٹنہ سیٹی، کے گورستان میں امام باڑے کے اتر جانب سپرد خاک کیے گئے۔ شاؔد عظیم آبادی نے مندرجہ ذیل فارسی قطعہ تاریخ رحلت رقم کیا جو آپ کے مزار کے سنگ مرمر پر کندہ تھا:
ہزار حیف کہ عبدالحسین خاں شد فوت۔ زہے جوان و سہے قامت و زہے شانش
نثار جان ودل او بر اہل بیت رسولؑ۔ چہ مومنے کہ بہ ہر نہج پختہ ایمانش
بیاض صبح ز نور جبین او پیدا۔ بہار خلد نمایاں، زروئے خندانش
برب کعبہ دلم خوں زمرگ او اے شاؔد۔ رواں سر شک غم از چشم من ز ہجرانش
چو گشت داخل جنت برائے سال درود۔ بقصر خلد رسیدی بگفت رضوانش
بؔرق کی اولاد پٹنہ، لاہور، اور دہلی وغیرہ میں آباد ہیں۔ لاہور کے مشہور تاجر سید ہاشم نواب، مدفون
پٹنہ، آپ ہی کی نسل سے تھے۔
رسالہ شیعہ، لکھنؤ، عزا نمبر، 1408 ہجری، میں نواب سید وارث اسمعیل صاحب، ساکن پٹنہ، کا عزاداری کے سلسلے میں ایک مفصل و تحقیقی مضمون شائع ہوا تھا۔ موصوف لکھتے ہیں : ”8 محرم کو علم محترم کا ایک عظیم جلوس نکلتا ہے۔ اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ حجو نواب صاحب نے جب اس علم کو نکالا تو مفسدپ ردازوں نے سازش کر کے پولیس کے ذریعے اسے بند کرا دینے کا حکم صادر کروا دیا۔ جب نواب بہادر ولایت علی خاں مرحوم کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس وقت کے سپر انٹینڈینٹ اوف پولیس کو ایک خط لکھا۔ سپر انٹینڈینٹ اوف پولیس نے نواب بہادر ولایت علی خاں مرحوم کو جو جواب دیا۔ اس انگریزی خط کا ترجمہ درج ذیل ہے :
محترم نواب صاحب:
مجھے ابھی تین منٹ قبل یعنی 11 بج کے دس منٹ پر آپ کا ایک خط ملا جس میں آپ نے پولیس کے ذریعے جلوس علم کو روک دینے کے بارے میں شکایت کی ہے۔ مجھے اس سلسلے میں ہدایات مل چکے ہیں کہ پولیس کو ان لوگوں کو روکنے یا گرفتار کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جنہوں نے علم بر آمد کیا ہے۔ آپ کے دوستوں اور ساتھیوں کو پچھلے برسوں کی طرح اس سلسلے میں مکمل آزادی حاصل ہے۔
آپ کا خیر خواہ
ایس۔ پی۔ پٹنہ ( 6 مارچ 1877 عیسوی) ”
خداوند جہاں کے فضل و کرم سے مذکورہ جلوس اب بھی قائم ہے اور روایتی شان و شوکت کے ساتھ امام باڑہ چمرو ڈنڈیا، پٹنہ سیٹی، سے بر آمد ہو کر گرہٹہ، میتن گھاٹ، دولی گھاٹ، مغلپورہ، اور گزری کے امام باڑوں میں جاتا ہے۔ اور عاشورہ کے دن یہی علم محترم ایک جلوس کی شکل اختیار کر کے تکیہ شاہ باقر جاتے ہیں اور وہاں ٹھنڈے کیے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ محرم کے دس دنوں کا سوگ ختم ہوتا ہے۔ خداوند کریم نے بؔرق کو ان کی نیک نیتی کا صلہ کچھ اس طرح عطا کیا کہ تقریباً ڈیرہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی موصوف کا قائم کردہ جلوس اب بھی رواں اور مرجع خلائق ہے۔
( 8 محرم الحرام 1445 ہجری مطابق 27 جولائی 2023 عیسوی)





