تیرے جانے کے بعد!



جب کبھی بھی ذہن کے قرطاس پر گانا ”کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے“ گونجنے لگتا ہے تو دل میں تیری یاد ابلتی ہے۔ روح یاد کے جنگل کی آگ میں جھلسنے اور تڑپنے لگتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میرا وجود خاک ہونے والا ہو! میری ہستی کی کشتی آگ کے دریا کی لہروں پر تیرتے ڈوبنے والی ہو۔ جیسے۔ سوہنی مہینوال کی طرف جاتے ڈوب گئی ہو جس کے لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی نے ایک شعر میں کہا ہے کہ جب سوہنی ڈوب گئی تو اس کی میت کو دریا کی جیوت نے کولہا یا کاندھا دیا اور لہروں میں دفن کیا۔

تم میرے لیے کیا تھی یہ تم نے کبھی بھی نہیں جاننا چاہا۔ مجھے نہ استعارہ استعمال کرنے آتا ہے اور نہ تشبیہ۔ سیدھی سی بات کرتا ہوں کہ جنت کی حوروں کو تیرے قدم چومنے کی خواہش رہتی تھی۔ پریوں کو تیری ناز و انداز پر رشک آتا تھا۔ وہ خواہش کی دلدل میں پھنس کر بے اختیار کہتی تھیں کہ کاش وہ بھی تم جیسی ہوتیں۔ آس کی کھائی میں گر کر سوچتی تھیں کہ کاش کوئی انسان انہیں دیکھتا اور پیار کرتا!

تمھیں یاد ہو کہ نہ ہو مگر ہم فون پر کئی گھنٹوں تک بات کرتے تھے۔ تیری آواز میری حواسوں میں رس گھولتی تھی۔ تیری ہنسی کی خوشبو میری دھڑکنوں میں پھیل جاتی تھی اور میرا پورا وجود مشک عدن بن جاتا تھا۔ بات کرتے وقت تیری آواز کی خوشبو میرے آس پاس کی ہر چیز معطر بن جاتی تھی۔ یہاں تک کہ پوری فضا خوشبودار بن جاتی تھی۔ پھولوں کی حسرت تھی کہ اے کاش تیری خوشبو سے وہ بھی معطر ہو سکیں!

مجھے یاد ہے کہ میرے فون کے پیکیج تم ہی کراتی تھی۔ مجھے تحائف بھی بھیجتی تھی۔ جیسے میں محبوب اور تم عاشق! شکریہ ادا کرتا تھا تو غصے ہو جاتی تھی۔ ممکن ہے کہ مجھ سے تغافل ہوا ہو شاید۔ یا پھر تجھ سے تغافل ہوا! اس خوف میں مبتلا ہو کر تجھے غالب کا شعر بھی سنایا تھا :

ہم نے مانا کہ تغافل نہ گرو گے لیکن،
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک۔

ہاں! پھر ہوا یوں کہ آہستہ آہستہ تیرا جی بھرتا گیا شاید! یا پھر تجھے محسوس ہوا کہ میری دنیا میں کوئی اور داخل ہو گیا تھا۔ جو ناممکن تھا۔ بات کرنے سے تم نے گریز کرنا شروع کیا۔ کبھی کوئی بہانہ کبھی کوئی مسئلہ تو کبھی کوئی عذر! میں نے سمجھ لیا کہ میری محبت کی جوانی بڑھاپے میں تبدیل ہونے لگی ہے۔ میری محبتوں کے باغ میں پت جھڑ کے موسم نے بسیرا کرنا شروع کیا ہے۔ میرے پیار کے باغ کے تناور درختوں کے پتے جھڑنے اور گرنے لگے ہیں۔ عشق کے باغیچے کے پھول اجڑنے لگے ہیں۔ پھولوں کی پتیاں مرجھانے اور گرنے لگیں۔ جیسے میری محبت مزار بن گئی ہو اور پھولوں کی پتیوں کی چادر اوڑھ لی ہو۔ سانس گھٹنے لگی اور میرا دل پکارنے لگا:

”آواز دو کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے۔“

مگر میری آواز تیرے بہانوں اور تیری بتائی مجبوریوں کی گھٹن کے پہاڑوں تلے دبتی رہی۔ سانس پھولنے لگی۔ بہانوں کی گرمی میں سکون کی برف پگھلنے لگی۔ سوچتا رہا کہ پیاسے کی طرف خود چل کر آنے والا دریا کہاں رک گیا ہے؟ جو کہتی تھی مجھے کبھی بھی چھوڑ کر نہیں جانا۔ تیرے چھوڑ کر جانے کا خدا کبھی غم ناں دے! اب وہ کہاں ہے؟ اب پیاسا دریا کو ڈھونڈ رہا ہے اور دریا بہانوں کے صحرا میں گم ہو گیا ہے!

میں نے سمجھا کہ شاید وقت رک گیا ہے اور دل موہنجو دڑو بن گیا ہے۔ مگر یہ میری بھول تھی۔ وقت کب رکتا ہے؟ وقت تو معمول کے مطابق گزرتا رہتا ہے۔ ہاں پھر یوں ہوا کہ بہانوں کی الٹ پلٹ میں محبتوں کے چولستان اور صحرائے تھر کے حسن کو صفحہ ہستی پر لانے والے محبت کے مست الست سرسوتی کا گھر اور ہاکڑو دریا سوکھ کر گم ہو گئے! تمہارے بہانوں کے حصار میں تنہا رہ گیا۔ تم نے ہی پوچھا تھا کہ میرے جانے کے بعد تیرا کیا ہو گا؟ میں نے کہا تھا کہ زندگی کا کوئی پتہ نہیں مگر تیرے جانے کے بعد قیامت برپا ہوگی اور حشر کا دن ہو جائے گا اور اس محشر کے دن لوگ چھٹکارا ڈھونڈیں گے میں پریشان ہوں گے مگر میں تجھے ڈھونڈوں گا! تیری تلاش میں سرگرداں رہوں گا!

Facebook Comments HS