انڈس ہسپتال کا دورہ!


چند دن قبل پاکستان میڈیا رائٹرز کلب کے چیئرمین افتخار خان کی قیادت میں کالم نگاروں ’صحافیوں نے انڈس ہسپتال ہیڈ کوارٹر (جوبلی ٹاؤن) لاہور کا وزٹ کیا وفد میں کالم نگاروں‘ صحافیوں میں راقم سمیت افتخار خان ’عقیل انجم اعوان‘ شہزاد چوہدری ’نبیلہ اکبر‘ فضل عباس ’ڈاکٹر امانت علی اسجد‘ محمد طاہر درانی ’محمد عمار خان اور رفیق مغل شامل تھے جب ہم انڈس ہسپتال ہیڈ کوارٹر کی بلند و بالا عمارت میں داخل ہوئے تو حیرت کے در وا ہوتے چلے گئے اس ٹرسٹی کئیر ہسپتال کو صحت کی عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ کیا گیا تھا جہاں عام مریض کے مرض کی تشخیص سے لے کر علاج تک اسے عالمی اسٹینڈرڈ کی سہولیات دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں جو سہولیات عام مریض کو میسر ہیں وہ ناکافی اور معیاری نہیں ہیں اسی لئے سرکاری ہسپتالوں میں صحت کے حوالے سے دی جانے والی سروسز پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔

انڈس ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا وزٹ کرواتے ہوئے انڈس ہسپتال کے میڈیا کوارڈی نیٹر رانا وقار نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہcash lessہسپتال ہے اور ہسپتال میں کوئی کیش کاؤنٹر نہیں ہے یہاں پرچی سے لے کر علاج تک عام مریض کو فری سروسز مہیا کی جاتی ہیں علاج معالجہ کی مفت سہولیات دینے میں یہ ہسپتال اب عام مریض کے لئے Brand کا درجہ رکھتا ہے۔ انڈس ہسپتال اور ہیلتھ نیٹ ورک نان پرافٹ آرگنائزیشن ہے اور پچھلے پندرہ سالوں سے بلا معاوضہ اور بلا امتیاز انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ انڈس ہسپتال اور ہیلتھ نیٹ ورک انسانیت کی خدمت کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پاکستان کے پندرہ بڑے شہروں لاہور ’کراچی‘ ملتان ’مظفر گڑھ‘ بدین ’بھونگ‘ میانوالی ’گوادر تک ہسپتالوں کا جال بچھا چکا ہے انڈس ہسپتال ملک عزیز کے 54 اضلاع میں سالانہ 60 لاکھ مریضوں کو بلا امتیاز مفت اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ٖfirst come first service کے اصول کی بنیاد پر استوار ہونے والا انڈس ٹرسٹ ہسپتال میں علاج کے لئے آنے والے ہر مریض کو میرٹ پر ہسپتال میں موجود سہولیات دی جاتی ہیں انڈس ہسپتال ہیڈ کوارٹر (جوبلی ٹاؤن) لاہور چھ سو بیڈ پر مشتمل یہ ٹرسٹی کیئر پروجیکٹ 21 بلین روپے کی لاگت میں مکمل ہو گا پچھلے سال وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے باقاعدہ افتتاح کیا اور یہ ہسپتال 2025 ء میں مکمل ہو جائے گا اس وقت ملک بھر میں انڈس ہسپتال ٹرسٹ کے ہسپتالوں کا جال بچھ چکا ہے جہاں‘ نادار ’مفلس اور مفلوک الحال انسانوں کا مفت علاج ہو رہا ہے انڈس ہسپتال ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبدالباری خان نے انسانیت کی خدمت کا سفر جو 2007 ء میں شروع کیا تھا آج بھی وہ اس انسانیت کی خدمت کے مشن کو انسانی معراج کی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم لئے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالباری خان جیسے انسان ہوتے ہیں جو مقاصد پر نظر رکھتے ہیں اور اپنی تمام تر توانائیاں مقاصد کے حصول پر لگا دیتے ہیں اور ایسے ہمالیہ جیسے پر عزم حوصلہ رکھنے والے انسان ہی دنیا میں روشن دلیل کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں اور معاشرہ کے لئے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔ انڈس ہسپتال ہیڈکوارٹر لاہور میں میرٹ پر مبنی شفاف نظام کو دیکھ کر رشک ہوا کہ ملک میں ایسا بھی ہسپتال ہے جہاں فیور ازم کو فروغ نہیں دیا جاتا جہاں سفارش کلچر کا دور دور تک نشان نہیں اور عالمی معیار کی سہولیات پر پورا اترتا ہے جہاں صرف ہسپتال میں پہلے آنے والے مریض کو بلا امتیاز صحت کی وہ تمام سہولیات دی جاتی ہیں جو ملک کے دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں میں وی وی آئی پی کے لئے مختص ہوتی ہیں انڈس ہسپتال ٹرسٹ قابل رشک اور قابل تقلید ادارہ ہے یہ ادارہ ایک ایسی تحریک میں ڈھل چکا ہے جہاں ملک عزیز سے تعلق رکھنے والے صاحب ثروت احباب اربوں روپے کے عطیات دیتے ہوئے اس کے دست و بازو بن چکے ہیں۔

انڈس ہسپتال لاہور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے نرسوں ’ڈاکٹرز کی ٹریننگ کے لئے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرتا ہے انڈس منیجمنٹ کی جانب سے ایسے کورسز کی مدد سے مریض کی دیکھ بھال میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے ایسے کورسز کی مدد سے کم وقت میں مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے ترقی یافتہ ممالک میں پیرا میڈیکل سٹاف کو ایسے کورسز ترجیہی بنیادوں پر کروائے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مرض کی بروقت تشخیص کی جا سکے، وطن عزیز میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی صحت کی سہولیات ناکافی ہونے کے باعث نادار‘ مفلس انسان ملک میں بنے مہنگے ترین پرائیویٹ ہسپتالوں میں اپنا علاج نہیں کروا سکتے ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے بجٹ میں صحت کے حوالے سے مزید اضافہ کرے تاکہ حکومت کے عملی تعاون سے انڈس جیسے مثالی ٹرسٹ کو آکسیجن فراہم ہوتی رہے اب بھی انڈس ہسپتال ٹرسٹ کے چھ سے سات ہسپتال پنجاب حکومت کے تعاون سے عام آدمی کو اپنی سروسز فراہم کر رہے ہیں لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ اس دائرہ کو مزید وسعت دے تاکہ صحت کی سہولیات عام مریض کی دسترس میں ہوں۔

صحت کی سہولیات کی فراہمی ہر انسان کا بنیادی حق ہے ایک صحت مند انسان ہی صحت مند زندگی گزار سکتا ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر شخص کو بیماری یا معذوری کے باعث طبی معائنے اور تحفظ کا حق حاصل ہے یونیورسل ہیلتھ کوریج نے تمام افراد کو صحت کی مساوی سہولیات سے مستفید ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نظام صحت دوہرے راستے پر گامزن ہے ایک نظام فنڈ سے چلنے والا دوسرا نظام پرائیویٹ سیکٹر ’ذاتی مفادات کو فنڈ سسٹم پر فوقیت دینے کی وجہ سے معیار صحت روز بروز تنزلی کی جانب گامزن ہے غریب طبقہ اگر پرائیویٹ علاج پر آمادہ بھی ہو تو علاج کے اخراجات اس کی قوت سے باہر ہوتے ہیں۔

ضروری ہے پرائیویٹ سیکٹر کو گورنمنٹ ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے کہ وہ غریب اور مستحق مریضوں سے منافع نہ لیں یونیورسل ہیلتھ کوریج نے تین بنیادی مقاصد اجاگر کیے ہیں پہلے بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے جو عام افراد کو بھی حاصل ہوں ’دوسرا فراہم کی گئی سہولیات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے اور تیسرا ان سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔ ملک میں مہنگائی میں جس برق رفتاری کے ساتھ ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اس سے سہولیات کی ترسیل میں فرق آ چکا ہے صرف امیر طبقہ کے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ غریب اور متوسط طبقہ کے ہاتھ سے یہ سہولیات پھسل چکی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں بالخصوص دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے تاکہ گراس روٹ لیول پر بھی عام آدمی کو وہ تمام سہولیات میسر آ سکیں جو شہروں میں بنے ہسپتالوں میں مریضوں کو میسر ہیں۔

Facebook Comments HS