جیم فے غوری۔ مہجری ادب کے ترجمان شاعر


جیم فے غوری ممتاز سینئر شاعر (سات شعری مجموعہ ہائے کلام کے خالق) ، نقاد، ادیب او ر صحافی ہیں۔ عرصۂ دراز سے دیارِغیر میں مقیم ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز خصوصاً ساکواہ (SACWA) اور سامواہ (SAMWA) سے اُردو ادب کی ترقی و ترویج کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ ادبی اور صحافتی حلقوں میں آپ ایک معتبر پہچان کی حامل شخصیت ہیں۔ موصوف کو ہمہ جہت شخصیت کہنا اس طور مناسب ہو گا کہ وہ اپنی منفرد شعری اسلوب کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری، ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ آپ صحافت میں بھی سرگرم ہیں۔

ولیم ورڈز ورتھ نے کہا تھا، ”شاعری طاقت ور احساسات کا بے ساختہ بہاؤ ہے۔ شاعری کا خمیر، پُرسکون وقت میں یاد کیے جانے والے جذبات سے اُٹھتا ہے۔“ جیم فے غوری نے اظہار ِ خیال کے لئے شعری اصناف میں سے غزل، نظم، قطعات، رُباعی اور ماہیے کے ساتھ ساتھ نثر نگاری کا بھی انتخاب کیا ہے۔ ان شعری اصناف میں خاص کر تازہ شعر کہنا جو آپ کے حافظے میں بہت اچھی طرح پہلے ہی سے نقش ہوں ایک سکہ بند شاعر کا ہی کام ہے۔ جیم کے شعری اسلوب میں روایت اور خوب صورتی کی جھلک نمایاں ہے۔ وہ جہاں اپنے تاریخی ماضی کو اپنے سُخن میں پیش کرتے ہیں وہیں اُردو کی شعری روایت کے مستقبل گر رویوں کی معطر کرنے والی خوشبو میں اپنے ادبی سفر کی منزلوں کو متعین کرتے ہیں۔

غزل کے عہدِ نو کے ترجمان اور معروف و معتبر شاعر نذیر قیصرؔ نے جیمؔ کی شاعری کو ایک باذوق قاری کے لئے وجۂ نشاطِ قلب و جان قرار دیا ہے۔ وہ جیمؔ فے غوری کی سُخن وری پر اپنا خوب صورت تجزیہ پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ، ۔ ”جیم کی شاعری میں فطرت کی خوب صورتی اور محبت کے ساتھ ایک مقصدیت کی لہر بھی کناروں سے ٹکراتی ہے۔“

دیارِ سُخن کے گلی کوچوں سے عرصۂ دراز پہ محیط شناسائی کی وجہ سے جیم فے غوری، اس ہنر کی باریکیوں سے واقف ہیں۔ شعری روایت میں علمِ عروض ایک صاحبِ سُخن کو ادبی حلقوں میں معتبر پہچان دیتا ہے۔ معروف ادیب و صحافی منصور آفاق نے جیم ؔفے غوری کی شاعری پر اپنی آراء کچھ اس طور دی ہے، ملاحظہ ہو:، ”جیمؔ ایک خالص شاعر ہے۔ وہ کسی سیاسی یا مذہبی نظریے کا پرچارک نہیں۔“ نامورآئرش شاعر، دانش، ڈرامہ نگار اور ناول نگار آسکر وائلڈ کا حوالہ دیتے ہوئے منصور آفاق گویا ہوتے ہیں کہ، ”آسکر وائلڈ نے جب کہا تھا کہ نظریاتی وابستگی ایک فنکار کے لئے ناقابلِ معافی جرم ہے تو مجرموں کا ایک جمِ غفیر اسے حر ف حرف مصلوب کرنے کے لئے گلیوں میں نکل آیا تھا۔ وہ اعتماد کے کسی سفاک لمحے سے بار بار مجروح ہوا مگر اُس نے ادب کو معاشرتی مسائل کے حل کی قربان گاہ کی نذر نہیں ہونے دیا۔“ وہ مزید لکھتے ہیں کہ، ”جیم ؔفے غوری کی شاعری پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ صنفِ ادب شخصیت کے باطنی خلا کو پُر کرنے والا تخلیقی عمل ہے اور یہی حقیقی شاعری ہے۔ “

ڈاکٹر افضال فردوس ( معتبر شاعر، دانش ور، ماہر ِ تعلیم) جیم ؔفے غوری کے تخئیل اوروصفِ تخلیق پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ”جیمؔ فے غوری کی جو خوبی اُنہیں دیگر شعراء سے ممتا ز کرتی ہے وہ اُن کا علمِ عروض میں کمال حاصل کرنا ہے۔“ مزید لکھتے ہیں، ”جیم ؔکی شاعری، زندگی کے تمام پہلوؤں کی عکاس اور فطرت کے قریب تر ہے۔ فطرت سے قربت کے باعث ان کی شاعری میں فرحت و راحت پائی جاتی ہے۔“

ڈاکٹر عادل امین (دانشور، شاعر اور علمِ الہیات کے ماہر) جیم کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ : ”جیمؔ فے غوری ایسا شاعرہے جو تخئیل کی بلند پروازی کے باعث مادی دُنیا سے آگے کی حقیقی دُنیا کے رنگ سمیٹ کر قرطاس کی نذر کرتا ہے۔“ مزید لکھتے ہیں کہ، ”جیم ؔنے اہالیانِ کائنات کو مصرع بند کرنے میں اُردو شاعری کے نازک ترین پہلو یعنی علمِ عروض کو ترجیحاً ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔“

جیم ؔفے غوری کی شاعری میں محبت جیسے لازوال اور آفاقی جذبے کے شعری اظہار پر ڈاکٹر عادل امین اس طور اپنی آراء سپرد ِ قلم کرتے ہیں، ”شاعر موصوف کے دل کی اتھا ہ گہرائی میں پوشیدہ وہ تڑپ دکھائی دیتی ہے جو انسانی تاریخ کی ابتداء سے آج تک“ محبت ”کے نام سے جانی جاتی ہے۔ عام فہم اور سادہ اشاروں میں وہ اپنے ایک ایک جذبے اور احساس کی مکمل تصویر کشی کرتے ہیں۔ جیم ؔفے غوری اپنے شعری اظہار میں نشان سے علامت اور علامت سے اصطلاح تک کا سفر اس انداز سے نبھاتے ہیں کہ بہتیروں کے لئے ہمسفر ہونے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔“

الیشع ایاز ؔ ادبی حلقوں میں جداگانہ اسلوب کے حامل شاعر ہیں۔ وہ صنف غزل کو ایک مشکل طریقِ اظہار گردانتے ہیں بلکہ اُردو ادب کے ہر دور میں اسے آسان نہیں سمجھتے۔ اور جدید غزل گوئی کے دور میں ریاض مجید اور نذیر قیصر ؔ کے زمانے اور اُن کے اسلوب کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اور مشکل بلکہ انتہائی مشکل خیال کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ جیمؔ فے غوری کے شعری اسلوب پر اس طور اظہارِ خیال کرتے ہیں، ملاحظہ ہو: ”مشکل پسند لکھاریوں میں ایک نام جیمؔ فے غوری کا بھی ہے، جنہوں نے سورج (جیسے کئی ایک ستاروں ) کے بیچ موم کی سیڑھی لگا کر غزل کے اُفق کو چھو کر چوم لیا۔ تو فضائیں، ہوائیں، خوشبوئیں، پنچھی، پہاڑ، بلندیاں، تراکیب، رمزیں، اشارے، استعارے اُن کو مبارک دے رہے تھے۔“

صنف ِغزل میں شعراء کی تخلیقی ہنر مندی دیدنی ہے۔ عصرِ حاضر میں صنف غزل میں عمومیت کے ساتھ ساتھ غزل گو شعراء کے ان گنت اسلوب اور لہجوں میں اپنا مقام اور جداگانہ اندازرکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جیم ؔفے غوری کی شعر گوئی میں جہاں وہ اپنا ایک منفرد اندازِ اظہار رکھتے ہیں وہیں وہ اپنے ماحول اور مشاہدات سے مضامین کو کشید کرنے کا التزام کرتے ہیں۔ جیمؔ جہاں عناصرِ اربعہ ( پانی، آگ، ہوا، مٹی) کو اپنی تراکیب، رمزوں، استعاروں میں استعمال کرتے ہیں وہیں اُن کی غزلوں میں کئی ایک دوسرے استعارے اور تراکیب صاحبِ ذوق قارئین کے مطالعے میں آتی ہیں، چند ایک استعارے اور تراکیب ملاحظہ ہوں، :پروانے، برسات، شب، صندل، بہار، میلے، یادیں، کرنیں، آنکھیں، چہرے، سرد رُتیں، جفا، پرندے، خورشید، لمحے، کہسار، خوشبو، دشت، مہ کدہ، شاخیں، ابر، شیشہ، شجر اور بہارِ گل، حصارِ مرمر، حُسنِ اظہار، جامِ غم، شہرِ دل، چشمِ گریہ، فصلِ گل، شہرِ آشوب، اداِ پیالہ، عملِ خیر، خوفِ غم (تراکیب) وغیرہ۔ جیم ؔفے غوری نے غزل، نظم، گیت، قطعہ، رُباعی اور ماہیے جیسی اصنافِ سُخن میں اپنے تخئیل اور مشاہدات کو شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ جیم ؔکی شاعری میں شعری جمالیات کی دھنک نمایاں ہے جو کہ صاحبِ ذوق قارئین کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کیے رکھتی ہے۔ جیمؔ کی شعری تخلیقات سے چند منتخب اشعار ملاحظہ ہوں :

ہر شخص میری طرح کیوں دربدر ہے لگا
جاناں کا مارا بے چارہ بے ہنر ہے لگا
جس نے سمندر میں کشتی میری ہے ڈبو دی
وہ آشنا سا سمندر کا بھنور ہے لگا
سرحد کے اس پار میرا منتظر ہے کوئی
اس بار گھر کا ختم ہوتا سفر ہے لگا

پرندے ہیں ہم اپنا وطن چھوڑ آئے ہیں
وطن اپنے پر چھائی گھٹن چھوڑ آئے ہیں
شجر ساتھ باتوں میں مگن میرے لوگ ہیں
یوں ہم ان کو باتوں میں مگن چھوڑ آئے ہیں
امانت بنا کر سوچ بھی اٹھا لائے ہیں
جہاں پر تھکے تھے ہم تھکن چھوڑ آئے ہیں

دیس کی خاک میں ستارے ہیں
عہدِ غم کے یہ سب اشارے ہیں
دیس میں آئے کانچ کے موسم
ہاتھ پر رکھے جو خسارے ہیں

محبت عشق سارے شہر میں جو پھر جواں کر دے
سُخن ور جیمؔ جیسا نر بنانا پڑ گیا مجھ کو
رستے سارے تو خاک میں گم ہیں
چلتے چلتے ہی کچھ کمال کرو

جُدائی کا وہ پردیس سے حساب لئے
وہ گھر میں واپس آیا ہے کچھ گلاب لئے

جیمؔ فے غوری شاعری اور نثر کی 10 عدد تصانیف کے خالق ہیں۔ ان تصانیف میں شعری مجموعہ ہائے کلام میں، ”نئی رُت کے گیت ( 1986 ء) ، ہاتھ پہ دیا رکھنا ( 2008 ء) ، خواب کی کشتی پر ( 2011 ء) ، ندی میں اُترتا ستارہ ( 2012 ء) ، ستارہ، ندی اور میں ( 2016 ء) ، برگزیدہ حسین لوگ ( 2017 ء)“ شامل ہیں۔ بحیثیت افسانہ نگار اور ناول نگار ان کی یاد گار تصانیف میں : ”لایب (افسانوی مجموعہ 1981 ء) شطرنج، لڑکی اور فالتو چیز (افسانوی مجموعہ 2011 ء) ،“ اور ”ہم گمشدہ لوگ (ناول 2018 ء)“ ، شامل ہیں۔

Facebook Comments HS