باجوڑ کا سانحہ اور مولانا کی آئندہ حکمت عملی
وقت کی بہترین خصوصیت یہ ہے کہ یہ گزر جاتا ہے ۔ جس طرح چھوٹے دنوں کے بعد بڑے دن آتے ہیں، اسی طرح برے دنوں کے بعد اچھے دن بھی آجاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد، جب ہر کوئی طالبان کے ساتھ برادران یوسف جیسا سلوک کر رہا تھا تو ان کے چہروں پر چڑھائے گئے کالے نقابوں کے باوجود ان کو پتہ لگا کہ اہل حدیث، جس کا جنگی جتھہ خود کو سلفی کہتا ہے، وہ بھی بازارِ مصر میں ان کی تجارت میں ملوث پائے گئے۔ جب طالبان ری گروپ ہوکر واپس میدان میں آئے، تو امریکیوں اور ان کے حمایتیوں کے ساتھ ساتھ، انہوں نے اپنے تاجر بھائیوں کے ساتھ بھی حساب چکتا کرنا شروع کردیا۔ اسی طرح جب دوحا معاہدے کے تحت ان کو دوبارہ حکومت ملی، تو وہی عمل، جو انہوں نے کبھی بیچ بازار اپنے بیچے جانے والے سلفی بھائیوں کے ساتھ کیا تھا، اب داعش خراسان نے ان کے ساتھ شروع کردیا۔ یہ لڑائی کسی نہ کسی طرح افغانستان سے چلتی چلتی باجوڑ تک پہنچی۔ جب وہاں دیوبندیوں پر حملہ آور داعشیوں کے دو بندے ایک حملے کے دوران زندہ پکڑے گئے، اور بعد میں گرفتار شدگان میں سے ایک ان کیمرہ تشدد کے ذریعے ہلاک کیا گیا تو داعش نے اس کے انتقام میں تشدد کی ویڈیو میں موجود ایک ایک بندے کو ڈھونڈا اور اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اسی انتقام کے بدلے نے حالیہ باجوڑ حملے میں 54 بیگناہ پختون قتل اور سو سے زیادہ زخمی کر دیے۔ یہ باجوڑ کے خونریز حملے کی مختصر روداد تھی۔
مولانا صاحب اس خطرے کی وجہ سے ایک مدت سے عوامی اجتماعات سے پرہیز کرتے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کوئی ایک مہینے پہلے انہوں نے ایک بیان کے دوران فرمایا کہ میں تو اپنے علاقے میں الیکشن کی کمپین کیلئے بھی نہیں جا سکتا۔ باجوڑ کا سانحہ بڑا دلدوز تھا جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اس سانحے کے ردعمل میں مولانا نے اپنے ابتدائی ٹویٹر بیان میں اس حملے کو پاکستان اور اسلام پر حملہ قرار دیا اور اپنے پیروکاروں کو حوصلہ رکھ کر مزید قربانیاں دینے کی تلقین کی تو دوسری طرف، حافظ حمد اللہ صاحب نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ بھی اس فنکشن میں مدعو تھے لیکن ذاتی وجوہات کی بنا پر حاضری نہ دے سکے۔ انہوں نے اس حملے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کا بدلہ الیکشن میں لینے کا ٹارگٹ دے دیا۔
دونوں کے ابتدائی بیانات سانحے کی گھمبیرتا سے میچ نہیں ہو رہے تھے اس لیے ان پر عوامی ردعمل بڑا منفی آیا۔ یوں سعودی ایرانی اور اماراتی سفراء سے صلاح مشورے کے بعد مولانا نے کل رات سوشل میڈیا پر، ان کے پارلیمنٹرین بیٹے نے اسمبلی میں اور حافظ حمد اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام کے ذریعے اپنا مشترکہ نقطہ نظر عوام کے سامنے رکھا۔ مولانا صاحب کا بیان بڑے نپے تلے الفاظ اور سیاسی و سفارتی اصطلاحات سے مزین تھا۔ جس کے ذریعے پیغام دینے والوں کو پیغام دیا گیا اور دھمکی دینے والوں کو دھمکی دی گئی۔
مولانا نے اپنا بیان دینے سے پہلے سعودی ایرانی اور یو اے ای کے سفراء سے مشاورت کرکے اپنی حمایت بیس بڑھانے کی کوشش کی، کیوں کہ مذکورہ تینوں ممالک علاقائی اور مسلکی سیاست کے بڑے پلیئر اور کسی نہ کسی طرح اس مسئلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر جس گروہ کے ساتھ مولانا جنگ لڑنے جا رہے ہیں اس کے بارے میں ان کو ان تینوں ممالک سے معلومات، مشاورت، حمایت اور مدد کی ضرورت ہے۔
حملے کی ہلاکت خیزی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عوامی سیاست اور آنے والے انتخابات کو مولانا کیلئے اسی طرح مشکل بنا دیے گئے ہیں جس طرح مشرف کے دور میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کیلئے طالبان نے بنائے تھے۔ مولانا کو خطرے کا مکمل احساس اور شاید خبر تھی، اس لیے عین ممکن ہے کہ اسی کے پیش نظر حافظ حمد اللہ یا کسی اور بڑے عہدے دار نے اس کنوینشن میں وعدہ کر کے بھی شرکت نہیں کی۔
سانحہ کے دوسرے دن نگران وزیر اعلی پختونخوا وزیر اور آئی جی پی باجوڑ آئے لیکن جمعیت علمائے اسلام کے لوکل لیڈرشپ نے ان سے ملنے سے انکار کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کردیا جبکہ مولانا کو شاید اب بھی اپنی جان کا خطرہ ہے اس لیے وہ باجوڑ جاکر غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کرنے کی بجائے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں جہاں ان سے صرف خواص تعزیت کر رہے ہیں۔
مولانا نے سوشل میڈیا پر دیے ہوئے اپنے بیان میں حفاظتی اور جاسوسی ایجنسیوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے ان کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اس کے علاؤہ انہوں نے ملک کیلئے اپنی جماعت کی قربانیوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے ملفوف انداز میں دھمکی بھی دی ۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک پرامن جماعت ہے، لیکن صبر اور برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ انہوں نے ریاست سے اپنی تحفظ کی گارنٹی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مصلحت کے تحت منہ نہیں کھولتے لیکن ایسا ہوتا رہا تو بالآخر منہ کھولنا پڑے گا۔ ساتھ ہی ملکی ایجنسیوں کی خراب کارکردگی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کا کام بس کسی غریب مولوی کا کسی کو کھانا کھلانے کے الزام میں اٹھانا رہ گیا ہے۔
مولانا نے رواں قتل و غارتگری کو نظریاتی جنگ کہتے ہوئے قبائلی عمائدین اور پختون لیڈرشپ کو بٹھا کر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی بات بھی کی۔ انہوں نے مخالفین کا نام لیے بغیر کہا، کہ یہ فسادی سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ان کو اچانک خیبر، کرم، بلوچستان وزیرستان اور بطور خاص پختون بیلٹ میں مدتوں سے جاری دہشت گردی بھی نظر آئی۔
مولانا کی تقریر اور صورتحال پر نظر ڈالنے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ بہت بری طرح پھنس گئے ہیں۔ جس اقتدار کے حصول کی خاطر انہوں نے عمران دور میں دن رات محنت کی، اس کے حاصل کرنے کا وقت آیا تو ان کے پاس باہر نکلنے کی بہت محدود پرخطر اور مہلک آپشنز رہ گئی ہیں۔ مولانا کی لڑائی، جس کو وہ نظریاتی جنگ کہتے ہیں، کسی کمزور گروپ کے ساتھ نہیں بلکہ ایک بہت ہلاکت خیز اور نہایت خفیہ آؤٹ فٹ کے ساتھ ہے، جس کا وہ کسی ریاست کی مدد کے بغیر کسی بھی طرح سامنا نہیں کرسکتے۔ لیکن حالیہ دنوں میں مولانا کو جس طرح سیاست میں سائیڈ لائن کردیا گیا ہے وہ کوئی زیادہ حوصلہ افزا صورت حال نہیں۔
اگر مولانا اس جنگ کو "نظریاتی جنگ” سمجھتے ہوئے جاری رکھنا چاہتے ہیں، تو پھر وہ پختون لیڈرشپ اور قبائلی زعماء کو ساتھ ملانے کی بات نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مولانا کے اسی "نظریے” کی وجہ سے پختونوں نے عشروں تک بدترین تباہی کا، مولانا کے بغیر بلکہ مخالفت میں، سامنا کیا ہے۔ اب پختون جس واحد نظریہ پر متفق ہوگئے ہیں وہ مزید جنگ نہیں بلکہ امن کی تلاش ہے۔
مولانا کا نظریہ ہے کیا؟ پاکستان خطرے میں ہے، اسلام خطرے میں ہے اور جمہوریت خطرے میں ہے۔ پختونخوا کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان اور اسلام کو کوئی خطرہ ہے اور نہ اس خطرے کا سامنا کرنے کیلئے مولانا صاحب کی کوئی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کے پاس لاکھوں کی تعداد میں تیار فوج، سینکڑوں ایٹم بم اور جدید میزائل موجود ہیں۔ رہا اسلام، تو وہ اس سیارے کا ایک بڑا مذہب ہے، جس کے اربوں پیرو کار ہیں، اور درجنوں ممالک میں اس کی پریکٹس ہو رہی ہے۔ اسلام پاکستان یا مولانا کی پارٹی تک محدود یا اس کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اور جمہوریت! تو اس کے بارے میں مولانا صاحب جتنے کنفیوز ہیں اتنے وہ کسی مسئلے میں نہیں۔ وہ پاکستان میں جمہوریت کو عین اسلامی نظام، لیکن افغانستان میں کفر سمجھتے ہیں، جبکہ انڈیا میں وہ اسلامی نظام کی بجائے جمہوری اور بلکل سیکولر نظام کو بہترین نظام گردانتے ہیں۔ اگر جمہوریت واقعی مولانا کا مطمح نظر ہے تو پھر وہ افغانستان میں جمہوریت کیلئے کیوں فکرمند نہیں؟ اور وہاں پر اس کی بیخ کنی پر کیوں شکر ادا کرتے ہیں؟
عمران کے آخری دنوں میں ایسٹبلشمنٹ افغانستان سے اپنے طالبان واپس لارہی تھی، اور پورا پختون خطہ اس عمل کے خلاف ایک اواز ہوکر اٹھ کھڑا ہوا تھا، تو پی ٹی آئی کے بعد دوسری پارٹی مولانا کی تھی، جو اس سارے عمل پر خاموش اور رضامند تھی۔ اس لیے اس نے ان احتجاجوں میں شرکت کی نہ اس کے حق میں ان کے کہے ہوئے دو الفاظ ریکارڈ کا حصہ ہے۔
پختون قوم، پختون قوم پرست پارٹیاں اور مولانا کی پارٹی قطبین کی طرح، نظریاتی طور پر، ایک دوسرے سے چالیس سال کے فاصلے پر کھڑی ہیں جن کے درمیان پختونوں کی لاشوں کا ایک ہمالیہ پڑا ہوا ہے۔
جماعت اسلامی کے بعد جنت اور جہاد کیلئے سواریاں لے جانی والی بارودی گاڑی کو پختونوں کے خون کے تیل سے چلانے کا کاروبار مولانا اور اس کے ہمدم کرتے آئے ہیں۔ جماعت، مجاہدین طالبان اور کشمیریوں کو برن کرنے کے بعد مولانا کی پارٹی کا وقت بھی شاید آ پہنچا ہے۔ مولانا ایک شاندار اور عملی سیاسی لیڈر ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پارٹی کی بقا پختونوں کی اجتماعی فیصلے کی مرہون منت ہے، تو پھر ان کو مزید نظریاتی چورن بیچنے کی بجائے، پختونوں کے دو بڑے مسائل، یعنی پائیدار امن کا قیام اور ان کے وسائل پر انکا اختیار دلانے کیلئے کمر کسنی ہوگی۔ پختون مزید کسی شخصیت، پارٹی، نظریے یا ملک کی جنگ لڑنے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں۔ اگر مولانا صاحب پھر بھی اپنے نظریات کی جنگ پختونوں کی زمین اور پختونوں کی حمایت سے لڑنے کی تیاری کرنے کیلئے کوشاں ہیں، تو پھر ان کو یہ جنگ اکیلے لڑنی ہوگی، کیونکہ باجوڑ کے سانحے میں جتنے مولوی، حافظ، قاری اور طالب قتل ہوئے، وہ سب مولوی، حافظ، قاری اور طالب نہیں تھے، پختون تھے، جن کو ریاستی بیانیے اور مولانا کی تبلیغ و ترغیب نے گزشتہ چالیس سال کے دوران کنفیوز کرک ے مولوی، حافظ، قاری اور طالب بنا دیا تھا اور جو پرائی جنگ کی ایندھن بن کر جل گئے، ورنہ چالیس سال پہلے پختون اور تھے اور مولوی اور تھے۔


