سہیل احمد کا ڈرامہ جیون نگر

حال ہی میں نئے شروع ہونے والے چینل سے نشر کیا جانے والا ڈرامہ ”جیون نگر“ اپنی کہانی کے اعتبار سے یوں منفرد ہے کہ اس میں لیجنڈ سہیل احمد نے بیک وقت دو کردار نبھائے ہیں۔ ایک کردار ببر شاہ عرف شاہ جی کا ہے جو جیون نگر کے باسیوں کا مسیحا ہے۔ دوسرا کردار پراسرار خواجہ سرا کا ہے جس کے بارے میں جیون نگر کے رہائشی کچھ نہیں جانتے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس کے بارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں اور وہ راز سب جاننا چاہتے ہیں۔
یہ بات جیون نگر کے لوگوں کے لیے پراسرار راز ہے کہ شاہ جی جو دن بھر علاقے کے مختلف کاموں اور سماجی خدمت میں مصروف رہتے ہیں لیکن چاہے جتنا بھی ضروری کام ہو وہ چھوڑ کر رات گیارہ بجتے ہی اپنے کمرے میں بند ہو جاتے ہیں اور صبح تک کمرہ بند رہتا ہے۔
ببر شاہ کا ایک دشمن مستری ہے جو پیشے کے اعتبار سے بھی مستری ہی تھا لیکن منشیات کے کالے دھندے میں شامل ہو کر کافی دولت بنا لیتا ہے اور ببر شاہ کے مقابلے میں اپنا ایک گینگ ( گروہ) بنا لیتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا کہ ایک دوسرے کے علاقے میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔
معاملات بہت معمول کے مطابق چل رہے تھے ایسے میں ببر شاہ کا ایک اور دشمن جس کے خلاف اس نے جیون نگر کی ملکیت کا کیس جیتا تھا مستری کو ساتھ ملا کر ببر شاہ کے خلاف ایک نئی چال چلتا ہے۔ وہ جیون نگر کے لوگوں کو دولت اور منافع کا لالچ دے کر وہاں کی زمینیں خریدنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ ببر شاہ کی کمزوریاں ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی دوران انہیں ایک ویڈیو ملتی ہے اور وہ ہے خواجہ سرا کے ایک گروپ کی جن کا گرو ہو بہو ببر شاہ میں ملتا ہے۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں کہانی مزید دلچسپ ہوجاتی ہے۔
خواجہ سرا کے اس گروہ میں ایک نئے خواجہ سرا کا اضافہ ہوتا ہے۔ گرو کی اس کی طرف زیادہ توجہ باقی لوگوں کو حسد میں مبتلا کر دیتی ہے اور یوں آپس میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ راستے میں کچھ ڈاکو ان کی گاڑی پر حملہ کر کے ان کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ در حقیقت ان کا مقصد بھی ببر شاہ کے راز سے پردہ اٹھانا ہے تا کہ جیون نگر میں اس کو بدنام کرنا ہے تاکہ جیون نگر میں اس کی مقبولیت کو کم کرنا ہے۔ ایک جانب یہ ساری سازشیں ہیں تو دوسری جانب ببر شاہ ان سب سے بے خبر جیون نگر کی زمینیں بچانے کی کوشش کرتا ہے اور نئی رہائشی منی میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔
کیا ہو گا کہانی کا انجام کیا گرو بچا پائے گا اپنے گروہ کو ؟ کیا ببر شاہ کے خلاف سازشیں ہوجائیں گی ناکام یا ہو گا پراسرار حقیقت کا راز فاش؟ کیا ببر شاہ ہی حقیقت میں خواجہ سراؤں کا گرو ہے یا پھر اس کا کوئی ہم شکل ہے جس کو دشمن ببر شاہ کے خلاف استعمال کریں گے؟ ان سب سوالوں کا جواب تو آنے والی اقساط میں ہی ملے گا۔
ان سب کے علاوہ جس معاشرتی رویے کی عکاسی کی گئی ہے اس کا اظہار بار بار خواجہ سراؤں کی گفتگو کے ذریعے کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خواجہ سراؤں کے حوالے سے ہمارے یہاں رویے بہت منفی ہیں۔ ان کے نامکمل ہونے میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بطور انسان وہ بھی اسی عزت و احترام کے مستحق ہیں جو باقی لوگوں کو حاصل ہے۔ ان کے مسائل، بیماریاں اور پریشانیاں وہی ہیں بلکہ شاید بڑھ کے ہیں جن کا سامنا ایک عام انسان اپنی زندگی میں کرتا ہے۔
ان کو قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان کے نامکمل ہونے پر ان کا استحصال کرنا یا ان کی ذاتی زندگی کا اشتہار لگانا غیر اخلاقی ہے۔ اگر وہ اپنا مخصوص طرز زندگی چھوڑ کر کوئی بہتر راہ اپناتے ہیں تو ماضی کو طعنہ نہیں بنانا چاہیے۔ بہرحال ڈرامے کی کہانی یقیناً دلچسپ انداز میں آگے بڑھے گی اور ببر شاہ کا راز یقیناً جیون نگر کے باسیوں کے ساتھ ساتھ ناظرین کو بھی حیران کردے گا۔

