خواتین کے لیے الگ بستیاں بساٶ


اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا معاملہ ہوا، چار دن سوشل میڈیا پہ ہنگامہ رہا، ذمہ داران پہ لعن طعن ہوئی اور اس کے بعد تواتر سے اک ٹرینڈ چلا کہ عزت بچاوٴ یا بیٹی کو پڑھاوٴ۔

اس قسم کے جملے ہر دوسری وال اور گروپ میں نظر آتے ہیں۔ کہیں سے کوئی افلاطون اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ لڑکیوں کے لیے ایسا نظام تعلیم رائج کیا جائے کہ وہ گھر بیٹھے ہی نرسری سے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کرسکیں۔ کوئی حکیم الامت پوسٹ داغتا ہے کہ اب تمام یونیورسٹیز میں پڑھنے والی لڑکیوں کا کردار مشکوک ہو چکا ہے، ان کو کون بیاہنے آئے گا؟ یونیورسٹیز میں پڑھنے والیاں باپ کی دہلیز پہ بیٹھی رہ جائیں گی کیونکہ آنکھوں دیکھی مکھی کون نگلتا ہے (یہ الگ بات کہ انجانے میں ایسے ہی افراد بڑے بڑے مکوڑے نگل جاتے ہیں )

کوئی ارسطو اسلامی قوانین اور شرعی پردہ کی افادیت پہ بحث کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کوئی مغربی ثقافتی یلغار کو کوستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

مزاحیہ میمز بنائے جا رہے ہیں، محنتی اور ہونہار طالبات کے گریڈز اور ڈگریز کو بھی کسی عیار پروفیسر کے ساتھ ڈیٹ کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے (گویا کثیر آبادی والے اس ملک کی ہر کامیاب عورت کسی ڈیٹ یا نائٹ کے نتیجے میں ہی اچھے نمبر یا اچھی نوکری حاصل کرتی ہے ) ۔ کہیں سے کھلم کھلا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ لڑکیوں کا مخلوط تعلیمی اداروں میں داخلہ ممنوع قرار دیا جائے اور ان کے لیے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔

پاکستان میں ویسے بھی کالج لیول تک سرکاری ادارے مخلوط نہیں ہیں۔ طلبا و طالبات کے الگ الگ ادارے موجود ہیں۔ فقط یونیورسٹی لیول پہ جا کے مخلوط تعلیمی نظام ہے۔ یہ وہ درجہ ہے کہ جہاں طلباء و طالبات بالغ ہوتے ہیں اور قدرے سمجھدار بھی، اپنا اچھا برا پہچانتے ہیں اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی بہتر صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اب اگر اس مقام پہ آ کے بھی لڑکے لڑکیوں کو چوزوں کی طرح ڈربے میں بند کر کے مبینہ بلی سے بچانا ہے تو پھر کچھ تجاویز ہیں جن پہ عمل کرنے سے شاید ہم بہتر معاشرتی فضا پیدا کر سکیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں بنیادی سطح پہ کام کرنا ہو گا۔ مثلاً لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کو اک صندوق میں بند کر دیا جائے جس پہ موٹے تالے ہوں، جن کی چابیاں دریا برد کر دی جائیں تاکہ کوئی تالا کھول کے بچیوں تک نہ پہنچ سکے۔ گھر کے مردوں سمیت رشتہ داروں اور محلہ داروں سے بچیوں کا کامل پردہ کروایا جائے۔ مکتب مدرسے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر بچی کو پڑھانے کا شوق ہو تو پھر کسی خاتون استانی کا انتخاب کیا جائے۔ بچیوں کے لیے گھر کے اندر تہہ خانہ بنوایا جائے جہاں تک مردوں کے تنفس سے آلودہ ہوا بھی نہ پہنچے۔

بچیوں کو گھر سے باہر کسی صورت نہ نکالا جائے۔ بیمار ہوں تو ہسپتال لے جانے کی ضرورت نہیں کہ خدا نخواستہ وہاں مرد ڈاکٹر حضرات موجود ہوتے ہیں یا پھر رستے میں کہیں نہ کہیں ٹکراوٴ تو لازمی ہے۔ خریداری کے لیے بازار بھیجنا تو تقریباً حرام سمجھیے کیونکہ وہاں بھی مرد ہیں جو چلتے پھرتے ضرور ہراساں کریں گے۔ تعلیم اور اس کے بعد نوکری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس بالغ ہونے کے فوراً بعد بچیوں کی شادیاں کریں اور اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔

لیکن ٹھہرئیے

شاید یہ سب کرنا بھی کافی نہیں ہے، اگر لڑکیوں کو بچانا ہے تو پھر ہمیں ان کے لیے الگ بستیاں بسانی ہوں گی، جہاں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سڑکیں بازار اور دفاتر بھی مکمل طور پہ مردوں سے پاک ہوں یا عین ممکن ہے کہ ہمیں خواتین کے لیے ایک الگ سیارے کا انتظام کرنا پڑے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یہ تمام امور مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہیں سو ان تجاویز کے بعد چند گزارشات بھی سن لیجیے۔

پہلی بات تو یہ کہ ثقافتی تبدیلیاں ہوں یا سماجی قوانین اور رجحانات کا بدلاوٴ یہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ہر فرد ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے اور کسی نہ کسی حد تک ہر کسی کو ان تبدیلیوں کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی فرد یا طبقہ اس بدلاوٴ کو قبول نہیں کرتا تو وہ معاشرتی بہاوٴ سے کٹ جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ لڑکیوں کو شرعی پردہ کرواوٴ یا پھر یونیورسٹیز میں مت بھیجو یا نوکری کی اجازت نہ دو تو یہ تمام نظریات آپ فقط اپنے گھر پہ لاگو تو کر سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پہ معاشرے کی تمام خواتین کی جانب سے آپ یہ مطالبہ پیش نہیں کر سکتے۔

دوسری بات جو سب سے زیادہ خوف ناک ہے وہ یہ کہ خلقت آدم و حوا (صلوة اللہ علیھما) سے لے کے اب تک خدا کی انسانوں کے اندر دو مستند ترین اصناف یہی ہیں یعنی مرد اور عورت، انہیں سے گھر بنتا ہے انہیں سے رشتے وجود میں آتے ہیں اور یہی معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔ لہذا زندگی کے ہر موڑ پہ یہی دونوں اصناف کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ اک دوسرے کے سامنے آئیں گی۔

آپ تعلیمی ادارے تو الگ کر سکتے ہیں لیکن مرد و زن کے لیے الگ گھر اور بستیاں نہیں بسا سکتے۔

تیسری بات جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ ہمیں کسی بھی ایک صنف کی اجارہ داری ختم کرنی ہو گی، انسان ہونے کی حیثیت سے مرد و زن برابر ہیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی اک جیسے ہیں۔ لہذا ان کے درمیان مطابقت و موانست کی کوشش کرنی ہو گی، اک دوسرے پہ تسلط اور حکمرانی اور بالادستی کا رویہ ختم کرنا ہو گا ورنہ آفاقی اصول تو ہے ہی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

چوتھی بات ان دونوں اصناف کی تربیت اس انداز میں کرنی ہو گی کہ کوئی اجتماعی سطح پہ کسی کے لیے باعث ضرر نہ بن سکے، ایسے قوانین وضع کرنے ہوں گے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو، مواقعے سب کے لیے یکساں ہوں اور سوسائٹی کا ماحول بھی سب کے لیے سازگار رہے۔

پانچویں بات یہ کہ عصمت اور غیرت کے معیار تبدیل کرنے ہوں گے، اگر کسی مخلوط ادارے میں پڑھنے والی لڑکی کا کردار مشکوک ہو سکتا ہے اور اس بنیاد پہ اس کا مستقبل سوالیہ نشان بن سکتا ہے تو یہ خوف سو فیصدی بد کردار لڑکے پہ طاری کیوں نہیں ہوتا؟ جب آپ اک صنف کے تمام کالے کرتوتوں کو اس کی فطرت کا تقاضا قرار دے کے خصوصی رعایت دیں گے تو پھر انا للہ پڑھ لیجیے۔

جدید دنیا روز بروز بدل رہی ہے اور ہم معاشرے کی آدھی آبادی کو لولے لنگڑے تعلیمی نظام سے بھی دور کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہم نے مسائل کا سدباب نہیں کرنا بلکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھنی ہیں لیکن میرے عزیزو آخر کب تک؟

ہمیں بہت بنیادی نظریات اور معاشرتی قوانین پہ کام کرنے کی بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کر لیں تو معاشرہ مہذب ہو گا ورنہ آسان حل یہی ہے کہ مرد و زن کے لیے الگ بستیاں بساوٴ۔

Facebook Comments HS