دریائے سین کے ساتھ ساتھ


ٹیرس پر لال چھتری کے نیچے دھوپ سینکتی، سستاتی ہوئی صبح۔ ایک نسبتاً خالی دن کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم سفر دوپہر تک پہنچیں گے اور کچھ شام کو ۔ اس شہر میں پچھلا سفر ٹھیک ایک سال پہلے کیا تھا۔ یومِ جمہوریہ کی چھٹیوں کے یہی دن جب سین دریا کے علاوہ پورا شہر سستا رہا ہے کہاں جائیں؟

پیرس کی جو تصویر میرے ذہن میں تھی وہ اُردو سفر ناموں، انگریزی فلموں اور اخباری خبروں سے کشید کی ہوئی تھی۔ خوشبوؤں اور فیشن کا شہر، مصوروں اور ادیبوں کی پناہ گاہ، کوڑا کرکٹ، غیر مطمئن ورکنگ کلاس (پینشن پر تو ابھی پچھلے دنوں بھی ہنگامے ہوئے ) ۔ لیکن جب سین دریا کے کنارے پہنچے تو دنیا ہی بدل گئی تھی۔ خوب صورتی، شادابی میں اپنی دل کشی، اپنی مثال آپ۔ یونیورسٹی کے دنوں میں برمنگھم میں رہتے ہوئے لندن کا ٹیمز کا علاقہ بڑا خوب صورت لگتا تھا اور ٹیمز سے جڑے سفر ناموں کے ٹکڑے یاد آنے لگتے تھے، مگر اُس ملگجے دریا سے دور یہ شہر اپنی ہی شان سے ایستادہ ہے

سیاحوں کے ہجوم میں ایک انڈین لڑکے نے ہمیں دیسی سمجھ کر پانی کی بوتلیں نصف قیمت میں دے دیں تھیں۔ اتنی طویل قطاریں کہ روزِ محشر یاد آنے لگے اور ہماری قطار تو شاید وہاں بھی بائیں ہاتھ سے حساب لینے والوں میں ہو گی، اس لئے شاید وہاں بھی اتنا ہی انتظار کرنا پڑے گا جتنا آئفل ٹاور پر کیا۔ تصویر کشی خوب کی کہ نصرت کو تصویریں بنوانے کا بہت شوق ہے۔ شانزے لیزے پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی تھی اس لئے صرف ایک بلیک اینڈ وہائٹ سیلفی لی جسے دوستوں نے بہت پسند کیا۔ اب کسے خبر کہ ہم تو وہاں صرف دس منٹ ٹھہرے تھے۔

پچھلے برس تین چار دن یہاں بہت اچھے گزرے تھے۔ لمبی واک کرنے کا موقع ملا۔ فرانسیسی زبان سے اُلجھتے رہے۔ چونکہ کئی دنوں کے سفر اور دو تین پڑاؤ کر کے یہاں پہنچے تو اس لئے آتے ہی دیسی کھانوں کی جگہیں ڈھونڈ لیں۔ بل دیکھ کر مرچوں کی کمی کا احساس نہیں ہوا۔

پیرس میں تاریخی ورثے کو اس قدر مہارت اور خوب صورتی سے محفوظ کیا گیا ہے کہ حیرت سے دیکھتے رہ جائیں۔ ہمیں شمالی پاکستان اور لاہور میں کیے گئے تاریخی ورثے کی بحالی کے اپنے کام پر بڑا فخر ہے لیکن یہاں آ کر لگا کہ پاکستان میں تو ابھی صرف آغاز ہے۔ دلی دروازہ تو بحال ہو گیا مگر دلی ہنوز دُور است۔

اگلا ایک ہفتہ کیسا گزرے گا کچھ معلوم نہیں۔ کچھ خواب اور اُمیدیں ہیں اور کچھ اندیشے۔ ارادہ ہے کہ تاریخی ورثہ جیسے فرانس میں مارکیٹ ہوا ہے، کچھ ایسا ہی بندوبست پاکستان میں بھی ہو جائے۔ ہم سفر پر عزم ہیں اور نیک نیت بھی۔ نجانے کتنی کامیابی ہو گی۔

وکٹر ہیوگو اور رات کا انتظار

ایک نسبتاً گرم سہ پہر۔ ایک پرانے گرجا گھر کے لان میں، جسے ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تاریخی Bourges شہر میں رات ہونے کا انتظار۔ صبح بڑی شاندار تھی۔ پیرس کے La Cité de l’Histoire میوزیم کی سیر، کیا خوب صورت عجائب گھر ہے۔ ماڈلز اور ٹیکنالوجی کا مجموعہ۔ فرانس کی ایک ہزار سالہ تاریخ کو ایک ڈیجیٹل آرٹ گیلری میں یوں محفوظ کیا ہے کہ ہر اُٹھے قدم کے ساتھ تاریخ کا کوئی اہم لمحہ سامنے آتا ہے۔ چارلس ڈیگال کے Wax مجسمے کو دیکھ کر یوں لگا کہ ابھی حال چال پوچھنے لگیں گے۔ سب سے یادگار حصہ وہ ڈیجیٹل شو تھا جس میں وکٹر ہیوگو کے اپنی محبوبہ کو لکھے ہوئے خطوط کے ذریعے فرانسیسی، سیاسی اور سماجی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ فرانسیسی ریستوران بھی خوب تھا۔ تازہ، مہکتے ہوئے کھانے۔

دوپہر سفر میں گزری۔ ہم سفر دلچسپ ہوں تو کھڑکی سے باہر دیکھنے کی کسے فرصت ہو گی۔ بات فلسفے سے چلی۔ نطشے کا Super Man ہٹلر نے کیسے Politicize کیا اور ایک عظیم قوم /برتر قوم کا تصور پیدا کیا۔ دنیا کو دوسری جنگِ عظیم کے علاوہ کچھ بھی تو ہاتھ نہ آیا اس فلسفے سے۔ عربی شاعری کا ذکر اہوا امراء القیس کی شاعری کا ذکر ہوا۔ ایک ہم سفر نے ذکر کیا کہ حضرت فاطمہ نے شاعری کی تھی۔ قرۃ العین حیدر کا ذکر چلا۔

دارالفاطمہ بنانے کے منصوبے کا ذکر ہوا۔ کامران لاشاری صاحب، کہ صاحب ذوق اور حکمت سے لبریز ہیں، بیچ بیچ میں لقمے دیتے رہے تاکہ باتیں رُک نہ جائیں۔ لبنی بھابھی اپنے ننھیال کی میٹھی میٹھی باتیں سناتی رہیں۔ صبامت رفیق سے جو بحث چھڑی تو خدا کی پناہ۔ صباحت Silion Valley اور Chat GPT پر بھی اتنی ہی سہولت سے گفتگو کرتی ہیں جتنی آسانی سے وہ تصوف کے قصّے سناتی ہیں اور حافظ کے شعر پڑھتی ہیں۔ جزو اور کُل پر خوب بحث ہوئی اور حسب توقع بے نتیجہ۔ بات خوش گپیوں کی طرف مڑ گئی اور ہنس ہنس کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔

ایک بے رنگ سادہ سی شام ہے، جسے فرانسیسی موسیقی کی آواز کچھ خوش کُن بنا رہی ہے۔ زرد پھول اور قدیم اونچے درخت سامنے ایستادہ ہیں۔ بس رات ہونے کا انتظار ہے۔

اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

river seine

سینٹ مائیکل کے گرجا گھر سے ڈیانا تک

فرانس تو پہلے بھی دیکھا ہے اور فرانسیسیوں کے ساتھ کام بھی کیا ہے لیکن فرانسیسی ہم کاروں کے جانے کے بعد کبھی اُن کی کمی نہیں محسوس ہوئی لیکن اس سفر نے تو دل ہی بدل دیا۔ بورژ شہر کے گرجا گھر میں، کہ ایک نہایت قابل اور تاریخ سے باخبر، ہم سفر نے ایک ہزار سالہ فرانسیسی تاریخ، مذہبی رجحانات، گرجا کے فن تعمیر اور عمارتوں کی اندر کی گئی نقاشی اور مجسمہ سازی کو یوں کھول دیا کہ سب کی آنکھیں پھیل گئیں۔ کھڑکیوں کے Stained Glass کا فن، کہ جستی پٹیوں سے سہارا لیے شیشوں پر ایسی رنگین نقاشی کہ آٹھ سو سال گزرنے کے باوجود، ویسی ہی تروتازہ، چمکتی دمکتی۔ عمارت کے بیرونی دروازے والی دیوار پر مذہبی روایات مجسموں کی صورت میں پیش کی گئی ہیں۔ دوزخ اور جنت، کم عمر میں مر جانے والے بچوں کا جنت میں استقبال، سینٹ مائیکل کے شاگرد، Gothicآرٹ کی فنی باریکیاں۔ یونیسکو (UNESCO) نے یوں ہی تو اس عمارت کو عالمی تاریخی ورثے میں شامل نہیں کیا۔

اگلے دو دن شمبورڈ (Chambord) اور فونتے وارد (Fontevard) کے گرجا گھروں کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہوئے گزری۔ تاریخی عمارتوں کو بحال کر کے تجارتی بنیادوں پر کیسے استعمال کرنا ہے، کوئی ان سے سیکھے۔ عمارات اور ملحقہ علاقے کی سکون آور فضا اور تقدس کو آلودہ کیے بغیر۔ مگر ہمارے ہاں تو تاریخی ورثے کی بحالی میں عجب ہڑبونگ ہے۔ اوّل تو اتنی زیادہ مثالیں ہیں ہی نہیں کہ کوئی روایت سی بن سکے۔ چیدہ چیدہ کامیابیاں ہیں، عالمی ایوارڈز ہیں، اور بہت سی ناپسندیدہ اور غیر متاثر کن مثالیں اور پھر اس کے نکتہ چیں۔ ایک ہانڈی اور درجنوں باورچی۔

notre dame

آخری پڑاؤ پیرس میں تھا۔ ناٹراڈیم کے Virtual reality شو نے تو گنگ کر دیا۔ فنِ تعمیر میں اپنی مثال آپ، یہ گرجا گھر جس پر فلمیں بنیں اور کتابیں لکھی گئیں، چند برس پہلے جل گیا تھا۔ آگ بجھاتے ہوئے فائٹرز کی جانبازی، آنسو بہاتا ہوا ہجوم اور پھر اس کی دوبارہ تعمیر کی تفصیلات، اور یہ سب بیان کرتے ہوئے شوزنے اس قوم کی اپنی تاریخ اور اپنے ورثے سے محبت کی ایسی تصویر دل پر نقش کر دی ہے کہ کسی کو دکھانی ہو تو آنسو گرنے لگتے ہیں۔

لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

آج اس شہر دلربا میں آخری شام ہے۔ لابی میں ڈیانا ملی، جس کا باپ اطالوی اور ماں رومانیہ کی ہے۔ روزگار کے صدمے اُٹھاتی ہوئی۔ کالے بالوں اور ملگجی آنکھوں میں گزرے دنوں کا غم اور آنے والے وقت کے اندیشے ہیں، شام کے نارنجی رنگ، شہر کا آخری بوسہ لے رہے ہیں اور سین کا پانی جھومتا جھامتا اپنے رستے پر رواں ہے۔

میں کن اندھیروں میں پھرتا رہا ہوں ساری عمر
یہ میرا چاند نہ پوچھے تو اور پوچھے کون
(اطہر نفیس)

Saint Michel Paris
Facebook Comments HS