باجوڑ بم دھماکہ
جمعیت العلماء اسلام باجوڑ کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے خود کش دھما کہ میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 54 ہو گئی ہے۔ دھماکے میں 90 سے زائد زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جبکہ دیگر کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے بال بیرنگ وغیرہ سے پتا چلا ہے کہ یہ دھماکا خودکش تھا البتہ تادم تحریر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس حملے میں کون سا دہشت گرد گروپ ملوث ہے۔
ذرائع کے مطابق باجوڑ کی تحصیل خار میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن کے دوران دھما کہ اس وقت ہوا جب ایک مقامی رہنما مولوی عبد الشکور جماعت کے ایک دوسرے رہنما مولانا ضیا اللہ جان کو تقریر کے لئے سٹیج پر بلا رہے تھے۔ جمعیت کے اس ورکر کنونشن کے مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو نماز کی وجہ سے کنونشن میں پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔ مولانا جمال الدین نے بتایا کہ تحصیل خار میں جے یو آئی کے نوجوان امیر مولانا ضیاء اللہ جان حقانی کافی عرصے سے اس ورکر کنونشن کے لئے کام کر رہے تھے۔
دھماکے سے 15 منٹ پہلے وہ میرے ساتھ تھے۔ میں لمبے سفر کے بعد پہنچا تھا تو سوچا کھانا کھا کر اور نماز پڑھ کر جلسہ گاہ میں جاتا ہوں۔ میں نے مولانا ضیاء اللہ جان حقانی سے کہا کہ ساتھ کھانا کھا کر چلتے ہیں مگر وہ نہیں مانے اور کہا کہ میں جا کر انتظامات دیکھتا ہوں، جلسہ گاہ میں آپ کا استقبال کروں گا۔ ابھی میں کھانا کھا کر اور نماز پڑھ کر لوگوں سے بات چیت کر ہی رہا تھا کہ اطلاع ملی دھما کہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب سی ٹی ڈی کی تحقیقاتی ٹیموں نے زخمیوں کے بیانات قلمبند کر لئے ہیں جبکہ جائے وقوعہ پر جیو فینسنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور حملہ آور کے سہولت کاروں کو بھی ڈھونڈا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں وہی دہشت گرد گروپ ملوث ہے جس نے پہلے بھی علمائے کرام کو نشانہ بنایا ہے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ میں یہ گروپ ملوث رہا ہے۔ اس سے قبل مولانا سلطان محمد، قاری الیاس، مولانا شفیع اور مولانا بشیر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
رواں سال پشاور میں بھی علمائے کرام اور اقلیتی برادری کے افراد کو ٹارگٹ کیا گیا اور خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ان واقعات میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔ اطلاعات کے مطابق باجوڑ بم دھماکے میں سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ابوذر بھی شہید ہو گیا ہے۔ ضلع باجوڑ کے تحصیل خار علاقہ ہنڈ تو حیدر آباد سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ ابوذر جو کہ 7 ویں جماعت کا طالب علم تھا اور سرکاری سکول میں پڑھتا تھا وہ کنونشن میں پاپڑ اور چپس بیچنے گیا تھا۔ ابوذر کے والد جاوید کے مطابق وہ سکول کی چھٹیوں اور فارغ اوقات میں چپس فروخت کرتا تھا تا کہ گھر کی معاشی مشکلات دور کرنے میں مدد کر سکے لیکن گھر کا چولہا جلائے رکھنے کی کوشش نے اس کی جان لے لی۔
باجوڑ بم دھماکے میں 11 روز کا نوبیاہتا دولہا اعجاز احمد بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔ اعجاز احمد تین بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کی شادی گیارہ روز پہلے ہوئی تھی۔ اعجاز احمد پیشہ کے لحاظ سے ترکھان تھا جبکہ اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اعجاز احمد کے چچا عرفان اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ صبح خار بازار میں دکان گیا تھا جہاں اس کے دوستوں نے جا کر اسے بتایا کہ دکان بند کرو، آج ہم سیر کے لیے جاتے ہیں تاہم وہ دوستوں کے ساتھ سیر کی بجائے جلسہ گاہ آ گیا جہاں دھما کہ میں جاں بحق ہو گیا۔
اعجاز احمد کے چچا نے بتایا کہ اس کی شادی گیارہ دن پہلے ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ دھماکہ کے روز جب اعجاز احمد بازار گیا تو اس کی بیوی میکے سے واپس آ گئی تھی تاہم اعجاز کے ساتھ اس کی ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ چچا نے مزید بتایا کہ اعجاز کا آخری رابطہ دھماکہ سے کچھ دیر قبل اپنے چھوٹے بھائی سے ہوا تھا۔ چھوٹے بھائی نے اعجاز کو بتایا کہ بھابھی اور اس کے ساتھ مہمان واپس آ گئے ہیں، وہ چاول، چکن اور دیگر روایتی کھانے ساتھ لائی ہے، آپ گھر آ جائیں سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
لیکن اعجاز احمد نے انہیں بتایا کہ وہ لیٹ آئیں گے، آپ لوگ میرا حصہ رکھ لیں میں تھوڑی دیر بعد گھر آ کر کھالوں گا اور اس کے بعد انہوں نے فون بند کر دیا۔ یہ اس کا آخری رابطہ تھا۔ اعجاز احمد کے پڑوسی اور دوست شاہد نے بتایا کہ اعجاز دھما کہ میں زخمی ہوا تھا۔ اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا لیکن وہاں سے اس کی شہادت کی خبر آ گئی۔ دریں اثناء باجوڑ میں ہونے والے خود کش حملہ کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اجتماعات اور پریس کانفرنسز وغیرہ کو منسوخ کر دیا ہے جبکہ 6 اگست کو تحصیل کونسل متھرا کے چیئر مین کے لئے ہونے والے انتخابات کے لئے بھی سیاسی جماعتوں نے اپنی مہم کو محدود کر دیا ہے البتہ یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ آیا ان حالات میں عام انتخابات کا کیا ہو گا اور کیا ان مخدوش حالات میں کسی بھی جماعت کے لیے آزادانہ انتخابی مہم چلانا ممکن ہو گا۔


