اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل کا انجام کیا ہو گا؟
ماماااا۔ ماما یوسف!
جی شیخ صاحب، جی میڈا سائیں؟
ماما! چاول چھولے کے اوپر دو سموسے رکھ دو۔ سلاد بھی ہو۔ رائتہ چٹنیاں بھی ساتھ ہوں اور ہاں کولڈ ڈرنک کی بوتل بھی ساتھ ہو۔ جب میں چاول چھولے کھا لوں تو تیز پتی والی چائے ساتھ ایک سگریٹ گولڈ لیف کا بھی۔ ماما کے چہرے پہ مسکراہٹ آ جاتی۔ وہ میرے مزاج کو سمجھتا تھا۔ بہت سارے درختوں کے سائے تلے بنی اسلامیہ یونیورسٹی کے بغداد کیمپس کی یہ اکلوتی کینٹین تھی جس کے اردگرد درختوں کے نیچے کرسیاں پڑی ہوتیں اور سینکڑوں طلبا و طالبات وہاں بیٹھے ہوتے۔
جب بل آتا تو ماما کہتا ”سائیں! کل آپ کے فلاں کلاس فیلو دوست نے چائے پی اور سگریٹ کا پیکٹ بھی لیا اور کہا پیسے شیخ صاحب سے لے لینا“ ۔
ماما کی یہ بات سن کر میرا نفس پھول جاتا۔ چندی پور سے والد صاحب ماہانہ اخراجات کے لیے جو رقم بھجواتے تھے، میرے دوستوں کا بھی حق بنتا تھا کہ یونیورسٹی کینٹین پہ ان کے چھوٹے موٹے بل اپنے والد صاحب کی بھجوائی ہوئی رقم سے ادا کروں۔ یہ سال 1998 – 2000 کی بات ہے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ سبزی والا دس روپے زیادہ مانگ لے تو سانس گلے میں اٹک جاتا ہے۔ بخار جو چڑھا رہتا ہے کہ بجلی کا اتنا بل آ گیا۔ گیس کا اتنا زیادہ بل۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کا بل۔ بائیک کا پٹرول۔ کچن کے اخراجات۔ میڈیکل اسٹورز پہ ادویات کی قیمتوں نے تو امیروں کے بھی ہوش اڑا دیے ہیں غریب بیچارہ تو انھیں خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بندہ جائے تو جائے کہاں؟ بس اللہ کا ہی در ہے جہاں بندہ اپنی درخواست پیش کر سکتا ہے۔
آج کل مین سٹریم میڈیا نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کو اپنی خبروں میں فوکس کیا ہوا ہے۔ منشیات، ہراسمنٹ، بلیک میلنگ، ویڈیوز وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ اگر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں آئس کا استعمال ہوا۔ امتحانی پیپرز میں پاس فیل کرنے کا لالچ اور ڈراوا دے کر جنسی استحصال ہوا تو کیا ملک کی باقی یونیورسٹیاں ان تمام قباحتوں سے پاک ہیں۔ لکھ لیں اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل ایک وائرس کی طرح جلد یا بدیر ملک کی تمام سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کو ایجوکیشن کالجز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ایسا اس لیے ہو گا کہ جب اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل میں تحقیقات کا باقاعدہ آغاز ہو گا تو اسکینڈل کے ڈانڈے اور ”کھرے“ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں تک بھی جا ملیں گے۔
اب آتے ہیں اسکینڈل میں لگائے گئے الزامات کی طرف۔ جہاں تک یونیورسٹیوں اور کو ایجوکیشن کالجز میں منشیات کے استعمال کا تعلق ہے تو یہ حقیقت ہے کہ وہاں آئس اور چرس کا استعمال ہو رہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ہر یونیورسٹی میں منشیات کا استعمال کرنے والی لڑکیوں کی تعداد بس اتنی ہوتی ہے جسے ہاتھ کی انگلیوں پہ گنا جا سکتا ہے البتہ اسی یونیورسٹی میں منشیات کا استعمال کرنے والے لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ہر یونیورسٹی اور کو ایجوکیشن کالج میں تمام پروفیسرز شیطان ہوتے ہیں اور نہ تمام فرشتے۔ ہر یونیورسٹی کے سو اساتذہ میں پانچ چھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی شاگرد طالبات سے پس پردہ دوستی کی خواہش رکھتے ہیں اور یہی وہ اساتذہ ہوتے ہیں جو امتحانی پیپرز میں پاس کرنے کی لالچ دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں سمیسٹر امتحانات کی آڑ میں امتحانی پیپرز کی چیکنگ اور پاس فیل کرنے کا اختیار اسی یونیورسٹی کے اساتذہ کو ہی کیوں دیا گیا؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ امتحانات اگر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں منعقد ہوئے تو پیپرز کو چیکنگ کے لیے پشاور اور کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ پاس فیل کرنے کی آڑ میں جنسی ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کا کسی ایسے مقامی استاد کو موقع ہی نہ مل سکے جو شیطان صفت ہو۔ کیا حکومت ایسا کوئی مستقل قانون نہیں بنا دیتی کہ آئندہ سے ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور کو ایجوکیشن کالجز چاہے وہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ ان کے امتحانی پیپرز کی چیکنگ کا اختیار مقامی اساتذہ کو نہیں ہو گا بلکہ وہ کسی دوسرے صوبے کے اساتذہ کے پاس بھیجے جائیں گے۔ پشاور کے پیپرز بہاول پور اور ملتان میں آئیں تو لاہور کے پیپرز کراچی کے اساتذہ کے پاس جائیں۔ دوسرا آپ یہ دیکھیں کہ امریکہ، یورپ اور جاپان امتحانات میں روایتی طریقوں کو ترک کر کر ”معروضی“ سسٹم کو اپنا چکے ہیں آپ ابھی تک مائی بیسٹ فرینڈ اور صبح کی سیر پہ کھڑے ہیں۔ آپ بھی یونیورسٹی اور کالج کے امتحانات کاغذ کی بجائے کمپیوٹرز پہ لیں اور سارا سسٹم معروضی ہو۔ میرے جاننے والے ایک صاحب نے مائیکرو سافٹ کی یو ایس جاب کے لیے پاکستان سے اپلائی کیا تو انھوں نے اسے انٹرنیٹ پہ آن لائن بلا لیا اور پھر مخصوص طرح کا معروضی پرچہ بھیج دیا جسے بہت ہی کم وقت میں حل کرنا تھا ساتھ ہی سوالوں کے جوابات بھی اپنی آواز میں دینا تھے۔
پاکستانی یونیورسٹیوں میں تو پی ایچ ڈی کا ڈیفنس امتحان بھی اس طرح سے منعقد ہو تا ہے کہ ایک انٹرنل ایگزامنر اور ایک باہر سے آنے والا ایگزامنر۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایکسٹرنل ایگزامنر کے اعزاز میں پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ کے خرچہ پہ کسی مقامی اچھے ریسٹورنٹ میں کھانا رکھ دیا جاتا ہے جہاں مقامی ایگزامنر اسے ریکوئسٹ کر دیتا ہے کہ بچے کو پاس کرتے جائیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ ایکسٹرنل ایگزامنر اپنی ہی یونیورسٹی میں بیٹھا رہے اور پی ایچ ڈی کا وائیوا اور ڈیفنس کرنے ولا امیدوار خود چل کر اس کی یونیورسٹی میں جائے۔ خیر۔
احباب کہتے ہیں اکبر شیخ اکبر جب تم بلاگ لکھنے بیٹھتے ہو تو اکثر تمہارا قلم بہک جاتا ہے اور تمہاری بلاگ ٹرین کئی پٹریاں بدلتی چلی جاتی ہے۔ یہ بھی شکوہ کرتے ہیں کہ تمہارے بلاگ بہت طویل ہو جاتے ہیں تھوڑا ہلکا ہاتھ رکھا کرو۔ چلیں، تو بات ہو رہی تھی کہ اسلامیہ یونیورسٹی اسکینڈل کا انجام کیا ہو گا؟ راقم کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یونیورسٹیوں سے متعلق میڈیا میں آنے والی حالیہ خبروں کی وجہ سے ارباب اقتدار مجبور ہو کر کہیں سرکاری یونیورسٹیوں کو پرائیوٹائز ہی نہ کر دیں۔ ایک بات تو یقینی ہے کہ اب ملک کی تمام سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کو ایجوکیشن کالجز میں ریفارمز آئیں گی۔


