محمود خان اچکزئی کی نئی حکمت عملی


پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں دراڑ پڑنے کے بعد تجربہ کار سیاستدان محمود خان اچکزئی پارٹی کی ازسرنو تشکیل اور اس میں ریفارمز کے لیے اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔ ایک پاپولسٹ قوم پرست ہونے کے ناتے وہ اگلے عام انتخابات میں پارٹی سے راہیں جدا کرنے والے گروپ کو ہر ممکن حد تک روکنے اور اپنے ووٹ بنک کو اکٹھا رکھنے کے لیے کمان باندھ رہے ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنی پارٹی کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے کے لئے تگ و دو میں مصروف ہے جس کے لیے وہ نوجوانوں کو مقامی اور صوبائی سطح پر مستقبل کی قیادت کے طور پر تیار کرنے کے لیے اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

سب سے اہم پالیسی جو محمود خان اچکزئی اختیار کر رہے ہے وہ یہ ہے کہ منقسم گروپ اور وہ پارٹیاں جو اس گروپ کی اتحادی ہے ان کی راہ روکی جائے۔ اس کے لیے وہ اگلے عام انتخابات میں اتحاد بنانے میں مصروف عمل ہے۔ مزید براں، جے یو آئی اور بی اے پی کے ساتھ ضلع چمن اور قلعہ عبداللہ میں اتحاد بنانے کی حکمت عملی پر کام یو رہا ہے جس کے لیے پہلے ہی بلدیاتی انتخابات میں اتحاد بنا کر ماحول کو سازگار بنایا گیا ہے۔ انتخابی اتحاد کی صورت میں ضلع چمن کے حلقے میں ان کی پارٹی کی بی اے پی کے کیپٹن عبدالخالق کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی چمن کے ایک صوبائی نشست پر ریٹائرڈ کیپٹن کی حمایت کرے گی جبکہ قلعہ عبداللہ کی قومی اسمبلی کی نشست پر باپ پارٹی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی حمایت کرے گی۔

محمود خان اچکزئی سنجیدگی سے اپنی آبائی نشست توبہ اچکزئی جن کا حلقہ گلستان اور قلعہ عبداللہ خان پر مشتمل ہے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جہاں سے ان کے چچا عبدالحمید خان اچکزئی اور حمید خان اچکزئی کے بیٹے اور محمود خان اچکزئی کے کزن عبدالمجید خان اچکزئی ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں۔ اس حلقے کا براہ راست اثر قلعہ عبداللہ کی قومی اسمبلی کی نشست پر بھی ہے۔ اگر پارٹی مذکورہ صوبائی سیٹ جیت جاتی ہے تو پارٹی کی قومی اسمبلی کی سیٹ پکی ہو جاتی ہے، اگر ہار جاتی ہے تو قومی اسمبلی کی سیٹ کی جیت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔

اس کے لیے محمود خان اچکزئی اپنے پتوں کو دوبارہ سے ترتیب دے رہے ہیں۔ جس کے لئے انہوں نے اپنے ایک پرانے حریف قاسم خان اچکزئی کے خاندان سے صلح بھی کر لی ہے۔ جس کا براہ راست اثر توبہ اچکزئی کی صوبائی نشست پر پڑے گا جبکہ قومی اسمبلی کی نشست کے لیے جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں کہا گیا تھا کہ جناب اچکزئی بی اے پی کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں جو قومی اسمبلی کی نشست کے لیے محمود خان اچکزئی کو ووٹ کرے گی۔

دریں اثنا، جناب اچکزئی صوبے کے باقی پشتون علاقوں میں جے یو آئی کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کر سکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کی جا سکیں، اور منقسم گروپ اور تقسیم شدہ ووٹ کے خلا کو پر کیا جا سکے اور اگلے عام انتخابات میں منقسم گروپ کی جیت کو روکا جا سکے۔ دوسری طرف یہ بھی قابل توجہ ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ووٹ بینک کی تقسیم کے بعد یہ اتحاد کیسے کامیاب ہو گا کیونکہ ضلع چمن اور ہرنائی کے علاوہ باقی پشتون بیلٹ میں اگلے عام انتخابات میں جے یو آئی کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ ہے۔

اگرچہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جے یو آئی نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کر کے ضلع چمن، قلعہ عبداللہ، پشین، ہرنائی اور ضلع قلعہ سیف اللہ کی ضلعی چیئرمین اور وائس چیئرمین شپ جیتی لیکن پھر بھی اگلے عام انتخابات میں اس اتحاد کے بننے کے امکانات اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے فضا ابر آلود ہے۔ کیونکہ پشتون بیلٹ میں جے یو آئی کی بہت مضبوط گرفت ہے اور وہ بغیر کسی اتحاد کے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایک تجربہ کار سیاستدان ہونے کے ناتے محمود خان اچکزئی منقسم گروپ کی طرف سے پہنچنے والے نقصان سے بخوبی واقف ہے اسی لئے وہ اب اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے اور نئی شکل دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔ گزشتہ مہینوں کے دوران پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے تحصیل اور ضلعی سطح پر درجنوں کانفرنسیں منعقد کیں جس میں نئی مقامی کابینہ تشکیل دیے گئے جس میں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں حصہ دیا گیا۔ جناب اچکزئی کے ذہن میں ضرور پارٹی کا مستقبل کا نقشہ ہو گا جس کے لیے وہ نئی قیادت کی اہمیت و صلاحیت سے خوب آگاہ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگرچہ مقامی سطح پر نوجوانوں کو ترجیح دی گئی ہے لیکن صوبائی سیٹ اپ میں ان کی نمائندگی متاثر کن نہیں ہے جبکہ مرکزی ایگزیکٹو میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی پارٹی کو مقامی سطح پر مضبوط بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے لیے انہوں نے مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ یونٹس بنانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے اضلاع کو زیادہ سے زیادہ علاقائی (علاقائی کمیٹیوں ) میں تقسیم کرنے کا بھی خاکہ بنایا ہوا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو پارٹی سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔ لیکن بہت سی چیزیں ابھی تک غیر واضح ہیں اور ان کے حوالے سے کوئی قابل ستائش پروگرام اور حکمت عملی نہیں ہے۔

مثال کے طور پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں کئی دہائیوں سے شدید کمزوریاں ہیں۔ اس کی ایک ویب سائٹ ہے لیکن غیر فعال ہے۔ ذرائع نے مجھے بتایا کہ اگرچہ پارٹی نے میڈیا کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینے اور ویب سائٹ اور سوشل میڈیا مہم شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن یہ ابھی تک مبہم ہے اور ہمیں ابھی تک اس میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔

مزید برآں، ایک حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس پارٹی میں (خود محمود خان اچکزئی کے علاوہ) پارٹی پالیسیوں کا دفاع کرنے اور قومی، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کا تجزیہ کرنے اور صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا سامنا کرنے والے ترجمانوں کی کمی ہے۔ پارٹی میں ایسے تجزیہ کاروں کی کمی ہے جو میڈیا کو سنبھالنے کے ماہر ہوں، معیشت اور آئین کا علم رکھتے ہوں۔ محمود خان اچکزئی ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں، اس کا جواب غیر یقینی ہے۔ کیونکہ اس حوالے سے پارٹی میں نی کوئی کمیٹی بنی ہے اور نہ اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل نظر آ رہا ہے اور نہ کوئی پیشرفت۔

دوسری طرف، جس طرح وہ اپنی پارٹی کو از سر نو تشکیل دے رہے ہیں، اور محمود خان اچکزئی اب اپنی حکمت عملیوں کا از سر نو تعین کر رہے ہیں، پارٹی کے اندر تھنک ٹینکس کی تشکیل کے حوالے سے ان کے منصوبے ابھی تک کہیں نظر نہیں آ رہے۔ میں ذاتی طور پر تاریخ، بین الاقوامی تعلقات، معیشت، سیاسیات، ارضیات، اور معدنی وسائل، میڈیا، آئین وغیرہ جیسے بے شمار شعبوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے دانشوروں اور ماہرین کو جانتا ہوں جن کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ لیکن ان کی مہارت کو بروئے کار نہیں لایا جا رہا۔ کیا محمود خان اچکزئی ان کو بلا کر ان ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینک بنائیں گے جو پارٹی کے کم از کم مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کو ان شعبوں پر بریفنگ اور لیکچرز دیں۔ فی الحال جواب غیر یقینی ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ٹوٹنے کے بعد محمود خان اچکزئی اپنی پارٹی کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔ وہ اپنی پارٹی میں نئی ​​اصلاحات متعارف کرانے کے لئے کمر کسے ہوئے ہیں جس کے لیے انہوں نے پارٹی کی ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے سیٹ اپ میں نوجوانوں کو شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، یونٹ اور علاقائی ایگزیکٹوز کو بڑھا رہے ہیں، اور اپنی پارٹی کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اسی دوران، محمود خان اچکزئی اگلے عام انتخابات کے لیے جے یو آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ منقسم شدہ گروپ اور اپنے حریفوں کو شکست دی جا سکے۔ سب سے اہم چیز جو منظر سے غائب ہے وہ ماہرین اور دانشوروں پر مشتمل تھنک ٹینکس کی تشکیل کا نہ ہونا ہے۔ کیا محمود خان اچکزئی اس پر توجہ دیں گے؟ اور، کیا وہ اپنی نئی صف بندی میں کامیاب ہو سکے گا؟ عام انتخابات تک اگلے تین ماہ ان کی حکمت عملیوں کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔

Facebook Comments HS