ایک ہی راگ الاپنا۔ دانش یا کم علمی؟
آپ نے اپنے آپس پاس یا سوشل میڈیا پر ایسے لوگ ضرور دیکھے ہوں گے جن کی سوچ ایک ہی موضوع پر طے شدہ اور غیر تبدیل پذیر یعنی سکت و جامد ہے۔ وہ ہر وقت یا تو بڑے ہی جارحانہ انداز سے مذہب کو نشانہ بناتے نظر آتے ہیں یا پھر ہر وقت فوج پر جملے کستے دکھائی دیں گے۔ کئی لوگ اس کا الٹ بھی کرتے ہیں یعنی مذہب اور فوج کی حمایت میں شدت پسند ہوتے ہیں۔ یہ دو موضوعات ایسے ہیں جن پر بولنے والے یا لکھنے والے اپنا مقصد بہت جلدی حاصل کرلیتے ہیں یعنی جن لوگوں کے معاشی و سماجی مفادات ہوتے وہ جلد حاصل ہو جاتے ہیں اور جن افراد کا مقصد محض شہرت حاصل کرنا ہوتا ہے وہ اچھی اور بُری دونوں طرح کی شہرت حاصل کرلیتے۔ اس میں کامیابی کا مطلب یہ ثابت کرنا ہے کہ میں ذہین اور باصلاحیت ہوں۔ اس میں زور اپنے آپ کو ثابت کرنے پر ہوتا ہے۔
ان دونوں موضوعات کے علاوہ بھی کئی موضوعات ہیں جن پر لوگوں کی سوچ آ کر ٹھہر گئی ہے جیسے سیکس یا عورت، سیاسی یا شخصی حمایت یا مخالفت، سائنس اور مذہب کے درمیان تخت نشینی کا مقابلے کروانا اور اپنے من پسند فرقے کی حمایت اور ناپسندیدہ مسلک کو صرف تنقیدی نگاہ سے دیکھنا وغیرہ۔
ایسے لوگ خود کو ماہر دانشور کہلوانا پسند کرتے ہیں اور اپنی کہی یا لکھی بات پر تعریفی کلمات سن کر یا پڑھ کر خوش ہوتے ہیں اور اس طرح ان کی نظریاتی شدت پسندی کو تقویت ملتی ہے۔ یہ لوگ اپنی کہی یا لکھی بات کو ہی حق اور خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ ایسے میں کوئی ان کی کہی بات پر سوال اٹھا دے یا منفی جملہ کہہ دے تو یہ لوگ اس کا منہ نوچ لیتے ہیں اگر سوال کرنے والا سامنے نہ ہوتے ہوئے سوشل میڈیا پر ہو تو یہ فوراً اسے بلاک کر کے سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ جو ٹکر کا شخص آیا تھا اسے بلاک کر کے ہرا دیا اب آئندہ کوئی مجھ سے سوال کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ یہ لوگ اپنی سوشل میڈیا فرینڈ لسٹ کے علاوہ اپنی زندگی میں بھی آس پاس واہ، بہت خوب، کیا زبردست بات لکھی، مخالفین کی بولتی بند کروا دی، آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے جیسی باتیں کرنے والے خوشامدیوں کو جمع رکھتے ہیں۔
یہ لوگ ہر روز یا ہفتے میں ایک بار اپنے پڑھنے یا سننے والوں کو اپنی علمی قابلیت ضرور بتاتے ہیں۔ مثلاً میں سب سے بڑا اصل لبرل ہوں اور موجودہ اور گزشتہ دور کے تمام لبرل افراد منافق ہیں یا پھر میں ہی اصل مومن ہوں میرے علاوہ سب بے دین ہیں۔ میں نے فلاں فلاں فلاں کتابیں لکھیں جس نے لوگوں کی سوچ کو بدل دیا۔ میری لکھی کتاب نے انقلاب برپا کیا، مجھ سے پہلے پاکستان میں اس موضوع پر کسی نے لکھنے یا بولنے کی ہمت نہیں کی۔ اے لوگوں تم کتنے بدبخت ہو جو مجھ سے لاعلم ہو، میری کتابوں سے نا واقف ہو، کیا میری بے باک تحریریں تم پر اثر انداز نہیں ہوتیں، میں نظریات میں تم سب سے اعلی ہوں یعنی اس نظریے کے ماننے والے سب میرے سامنے بچے ہیں، دنیا کی آٹھ ارب آبادی کا فرض ہے کہ وہ مجھ سے واقف رہے، میں جہاں سے گزروں لوگ مجھے گھیر لیں، میرے ساتھ سیلفیز بنائیں کیوں کہ میں ایک ہی موضوع پر ایک جیسی باتیں لاکھوں بار لکھ اور بول چکا ہوں۔
بہرحال میرا خیال ہے کسی بھی انسان اور خصوصاً ادبی، مذہبی، سائنسی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے یا بولنے والے افراد کو اپنی سوچ کا دائرہ وسیع رکھنا چاہیے یقیناً ایسے لوگ چند اور بہت قیمتی ہوتے ہیں مگر ہر وقت ایک ہی طرح کی بات کرتے ہیں اور اس طرح اپنے حلقے میں مذاق بن جاتے ہیں۔
دانش ور وہ ہوتا ہے جو ہر قسم کے موضوع پر مکمل گرفت رکھتا ہو، گھنٹوں ملکی و بین الاقوامی حالات گفتگو کر سکتا ہو، جنگ و امن، تاریخ، لبرل ازم، ترقی پسند، کمیونسٹ، تمام مذاہب اور ہر مذہب کے فرقوں پر، ادب، سینما، کھیل، تعمیر و ترقی، ملک کے مالی و سیاسی معاملات سمیت ہر موضوع پر غیرجانبداری کے ساتھ کھل کر لکھے اور بولے۔ مگر ایسے دانشور، محقق ہمارے یہاں کم ہی ہیں۔ ان عظیم لوگوں کا نہ شہرت مسئلہ ہے اور نہ دولت یہ لوگ تحقیق کرتے ہیں اور آگے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں اور یہ ہی لوگ سننے، پڑھنے اور پوجے جانے کے قابل ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ انتہاپسندی جس بھی نظریے میں ہو ناقابل برداشت ہے پھر چاہے وہ نظریہ لبرل ازم، ترقی پسندی، فیمنزم، مارکسی اور کمیونزم ہو یا پھر مذہبی، لسانی یا قومیت کے تحفظ کا ہی کیوں نہ ہو۔ اپنی سوچ کو محدود نہ رکھیں، دوسرے کی بات کو کھلے دل سے سنیں اور اس کا مدلل جواب دیں۔ مخالف کی اچھی باتوں اور کاموں کی تعریف کریں۔ اپنی ساری توانائی مخالف نظریے کو جھوٹا ثابت کرنے میں خرچ نہ کریں۔ کوئی جانے یا نہ جانے اپنا کام کرتے رہیں۔
یاد رکھیں ہر وقت ایک ہی راگ الاپتے رہنا دانش مندی نہیں بل کہ کمی علمی اور کم عقلی ہے۔


