نہ ہم بدلے نہ ہماری سیاست
سیاسی نمائندوں کو دیکھ کے مجھے اس بات پر کوئی شک و شبہ نہیں کہ کہ ہم پاکستانیوں سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہوئی ہے جس کی سزا ہمیں پاکستان کی آزادی سے اب تک ملتی آ رہی ہے۔ نہ ہم جمہوریت پسند ہیں اور نہ ہی ہمارے سیاستدان۔
ماسوائے چند ان لیڈروں کے جنہوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے جد و جہد کی۔ وہی پاکستان اور اس کے غریب عوام کے مخلص تھے اور ان کے بعد ہم اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر رہ رہے ہیں۔ ہم ایسے قوم ہیں جو ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینے میں شرم محسوس نہیں کرتے اور اسی لیے ہم ان من پسند لوگوں کے تلوے چاٹتے ہیں جن کو لیڈر کے طور پر ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ان کو ایسے منہ کے بل گرایا جاتا ہے کہ ان کی نسلیں یاد کرتی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین نے عہدہ سنبھالا۔ 1953 میں اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد کی جانب سے ان کی حکومت تحلیل کردی گئی۔ پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے اپنی پارٹی اور اپنی انتظامیہ میں اتحادی جماعتوں کی حمایت سے محروم ہونے کی وجہ سے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد ابراہیم اسماعیل چندریگر جو کہ پاکستان کے چھٹے وزیراعظم تھے اس کو اپوزیشن کے ووٹروں کی اکثریت کی قیادت میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے سے ہٹا دیا گیا۔ اسی طرح پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم سر فیروز خان نون کو ان کی پارٹی کے صدر اسکندر مرزا نے 1958 میں ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
ملک کے نویں وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو جو کہ اسٹبلشمنٹ کے انکھ کا تارا ہوا کرتا تھا۔ جس کو وزیراعظم بنانے کے لیے شیخ مجیب الرحمٰن کو مائنس کرنے کی کوشش میں ملک کے دو ٹکڑے کر دیے گئے۔ اسی کی حکومت کو پھر جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں مارشل لاء کے ذریعے ختم کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ 1988 میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنے۔ اس وقت وہ اسلامی ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھی۔ 20 ماہ بعد انہیں صدر غلام اسحاق خان کے احکامات کے تحت کرپشن کے الزامات پر اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ 1993 میں وہ دوبارہ منتخب ہوئیں لیکن اس بار بھی 1996 میں صدر فاروق لغاری نے انہی الزامات کے تحت انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔
نواز شریف 6 نومبر 1990 ء کو وزیراعظم پاکستان نامزد ہوئے تھے۔ نواز شریف کی پہلی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے 18 اپریل 1993 ء کو برطرف کر دیا تھا جو عدالتی حکم پر 26 مئی 1993 ء کو بحال ہو گئی اور پھر 18 جولائی 1993 کو پھر رخصت ہونا پڑا۔ 17 فروری 1997 ء کو ایک بار پھر میاں نواز شریف، وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے لیکن 12 اکتوبر 1999 ء کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ان کا تختہ الٹ دیا۔ جون 2013 ء کو ایک بار پھر وزیراعظم پاکستان کے عہدے تک جا پہنچے تھے۔ 28 جولائی 2017 ء کو پانامہ کیس کی وجہ سے عدالت کی طرف سے برطرفی کے بعد ان کو تا حیات نا اہل کر دیا گیا۔ پاکستان کے اٹھارہویں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مارچ 2008 میں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ انہیں اپریل 2012 میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے الزام میں اس عہدے سے نا اہل قرار دیا تھا۔ پھر پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے 2022 میں ہٹا دیا گیا۔ اور اب تین سال قید کے ساتھ 5 سال کے لیے نا اہل کر دیا گیا۔
اسی لیے تو کہتا ہوں کہ نہ ہماری سیاست بدلی اور نہ ہم۔ ہم اسی طرح کسی نہ کسی کو گرتے ہوئے دیکھ کر تالی بجاتے ہیں۔ کیوں کہ ہم اپنی ذات تک محدود ہیں۔ یہی لوگ پہلے تالی بجاتے تھے اب رو رہے ہیں، اور جو پہلے رو رہے تھے اب تالی بجا رہے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ اپنے چاہتے بدلتی رہتی ہے۔ اور یہ لوگ گرتے ہوئے کو تھامنے کی بجائے بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانے والے کردار ادا کر رہے ہیں۔
چاہے نواز شریف ہو یا عمران، ذوالفقار علی بھٹو ہو یا زرداری سب ایک وقت پر اسٹبلشمنٹ کے لاڈلے تھے۔ یہ بدلتے رہتے ہیں۔ پستے رہے وہی غریب عوام۔


