بے یار و مددگار چھوڑے گئے بچے
یہ نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے بی بی سی ٹیلی ویژن پاکستان میں مدرسوں کی بڑھتی تعداد، ان میں آنے والے طلبہ، ان کے مسائل، مدرسوں کے نصاب، نصاب سے جڑی دیگر سر گرمیوں پر بہت پابندی سے تحقیقی ڈاکو منٹریاں دکھایا کرتا تھا۔ میلوں میل میں پھیلے ان مدرسوں کا احاطہ دکھاتے ہوئے اکثر وہ یہ بھی کہہ جاتا تھا یا بتا دیتا تھا کہ ان کی تعمیر کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یا امداد کہاں سے آ رہی ہے۔
ایسے ہی ایک مدرسے کا احوال بتاتے ہوئے نمائندے نے مدرسے کے احاطے میں بیٹھے بے شمار لوگوں کے انٹرویو دکھاتے ہوئے بتایا کہ بچوں کی دید کے انتظار میں بیٹھے والدین کی اکثریت کئی، کئی گھنٹوں کی مسافت طے کر کے ایک رات قبل سے آئی بیٹھی تھی۔ ان دنوں ہفتہ واری تعطیل جمعہ مبارک کو ہوتی تھی۔
ڈاکو مینٹری چل رہی تھی کہ یک دم بچوں کا شور بلند ہوا اور کیمرے کی آنکھ نے دور سے بھاگتے ہوں بچوں کا غول دکھایا جو فاصلہ تیزی سے طے کرنے کی جدوجہد میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے، ناک منہ چھیل رہے تھے اور بے سدھ بھاگ رہے تھے۔ بھاگ دوڑ کے اس مقابلے میں جو، جو منزل مقصود تک پہنچ رہا تھا وہ اماں، باوا کی بانہوں میں چھپا سسک رہا تھا۔ سسکنے کا یہ عمل دوطرفہ تھا۔ اس منظر نامے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ ملاقات کے لئے آنے والے والدین میں اکثریت ماؤں کی تھی۔ کچھ ماؤں کے ساتھ بچوں کے باپ آئے تو تھے لیکن خاموش کھڑے داڑھیاں کھجا رہے تھے۔
بتانے والا بتا رہا تھا کہ ہر جمعہ مبارک کی نماز کے بعد قید خانے میرا مطلب ہے مدرسے کا دروازہ کھلتا ہے اور جس، جس کی ملاقات آئی ہوتی ہے وہ دید سے سیراب ہوتا ہے کچھ بدنصیب اس گھڑی سے فیضیاب نہیں ہو پاتے کہ ان کا تعلق بہت ہی دور دراز کے علاقوں سے ہوتا ہے۔
ڈاکو مینٹری میں بچوں کو فوکس کرتے ہوئے کیمرہ دکھا رہا تھا کہ مائیں اپنے پلوؤں میں کیا کیا چھپا کے اور باندھ کے لائی تھیں اور ان کے جگر گوشے بھنے چنے، مکئی کے سوکھے دانے، باسی روٹیوں میں لپٹی اچار کی پھانکیں، مولیاں، گاجریں، گڑ کے ٹکڑے انتہائی بے صبری سے کھاتے ہوئے بار، بار اپنی ماؤں کے ہاتھ اور منہ چوم رہے تھے۔
ان تمام بچوں کی عمریں چار سال سے لے کے آٹھ، دس سال کی تھیں۔ کیمرے نے تھوڑے فاصلے پر ملاقات کرتے دس سال سے بڑی عمر کے بچوں کو بھی دکھایا۔ عجیب بات ہے کہ اس جانب ملاقات کے لئے آنے والوں میں اکثریت باپوں کی تھی اور ملاقاتی بچوں میں وہ بے قراری بے تابی نہ تھی جو دوسری جانب تھی۔
ایک گھنٹے کے دورانیہ پر مشتمل اس ملاقات کے اختتام کا وقت آیا تو پردۂ ٹی وی پے ربڑ کی چپلیں پہنے، شلواریں ٹخنوں سے کئی انچ اوپر کیے ، گھٹنوں سے نیچے تک کے کرتے سنبھالتے، کالی یا شاید براؤن رنگ کی پگڑیاں باندھے، ہاتھوں میں چھڑیاں پکڑے سولہ سال سے بڑی عمر کے لڑکے آتے نظر آئے، ان سب کی داڑھیاں بھی اگی ہوئی تھیں۔ بچوں کے قریب آتے ہی انھوں نے پ سخت زبان میں بچوں کو ہانکنا، ڈانٹنا، دھمکانہ شروع کر دیا۔
وہ منظر۔ آج تک میری آنکھوں میں منجمد ہے۔ بچے چیخ رہے تھے، بلک رہے تھے، ماؤں کے دامنوں میں سر دے رہے تھے، ادھر سے ادھر بھاگتے تھے لیکن کوئی جائے پناہ نہ تھی۔ چند لمحوں کی اس آنکھ مچولی کے بعد آنے والوں نے بچوں کو گھسیٹنا، ڈانٹنا، اور چھڑیاں لگانی شروع کر دیں۔
مائیں! ان بچوں کی سگی مائیں منہ میں دو بٹے ڈالے، چہروں کو چھپائے، ہاتھ ملتے ہوئے اپنے سگے بچوں کو دور جاتا دیکھتی رہیں، دیکھتی رہیں۔
ڈاکو منٹری بنانے والے نے مقامی مددگار کے توسط سے پوچھا کہ انھوں نے بچوں کو کیوں جدا کیا ہے؟
باپ کماتا نہیں، باپ نشئی ہے، چھ، آٹھ، نو بچے ہیں گزارہ نہیں ہوتا، کام پر جاتی ہوں بچے آوارہ پھرتے ہیں، یہاں پیٹ بھر کھانا مل جاتا ہے، اللہ کا نام پڑھتے ہیں کچھ ثواب ہی مل جائے گا، ہم نے قرآن نہیں پڑھا بچے حفظ کر لیں گے ہماری بھی کچھ بخشش ہو جائے گی۔
انٹرویو کرنے والے کے یہ پوچھنے پر کہ پھر رو کیوں رہی ہیں؟
ماں نے آنکھیں رگڑتے ہوا جواب دیا تھا ”ماں ہوں نا“ ۔
تقریباً تیس سال قبل دیکھی یہ ڈاکو منٹری مجھے گزشتہ کئی دنوں سے پریشان کر رہی ہے۔ تفصیلات تو اس ڈاکو منٹری کی اور بہت سی ہیں۔ اس کو بنانے کی وجہ تسمیہ بھی کچھ اور ہے۔ جس کا بیان میں یہاں ضروری نہیں سمجھتی۔
اس تیس سال پرانی ڈاکو مینٹری کے کچھ حصوں کا بیان میں نے اس لئے کیا ہے کہ وہ سارے بچے جو اس وقت اپنی ماؤں کے دامنوں میں پناہ مانگ رہے تھے آج خود کئی، کئی بچوں کے باپ ہوں گے اور سو فیصد، نہیں تو اسی فیصد گھروں میں تیس سال پرانی ڈاکو منٹری چہروں کی تبدیلی کے ساتھ زندہ ہوگی۔
اسلام آباد کے جج کے گھر میں رضوانہ نامی بچی کے ساتھ جو غیر انسانی، غیر اخلاقی اور حیوانی سلوک ہوا ہے۔ اس کی مذمت یا اس کے بارے میں کچھ بھی کہنے سننے کے لیے میرے پاس نہ تو الفاظ ہیں، نہ ہی احساسات، کئی دن سے خود کو کچھ کہنے کے لئے تیار کر رہی ہوں لیکن سمجھ نہیں آتا بات کہاں سے شروع کروں۔
بچی کے ٹوٹے بازؤوں، زخمی آنکھوں، سر کے زخموں میں رینگتے کیڑوں، منہ کے آبلوں، بھوکے پیٹ، پشت کی چوٹیں، لڑکھڑاتی ٹانگوں، گیارہ بچوں کی ماں، گھر کی مفلسی، باپ کی بے حسی، اولاد کی فراوانی، جج کی فرعونیت، اس کی بیوی کی دیوانگی حیوانگی، وہ فرشتہ صفت ڈاکٹر جو بس کے سفر میں تمام راستہ رضوانہ کے زخموں کی نہ صرف مرہم پٹی کرتے رہے، انھوں نے ہی سرگودھا کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کو بچی کے لئے بس اڈے پر ایمبولینس بھیجنے اور اس کی نازک طبی صورت حال سے آگاہ کی، ڈسٹرکٹ ہسپتال کا وہ عملہ جس نے رضوانہ کی زندگی سے کھیلنے کے بجائے اگلے دن ہی اس کو لاہور جنرل ہسپتال بھیج دیا، پونے دو سال کا وہ گیارہواں بچہ جو بلکتی ماں کے ساتھ جنرل ہسپتال کے برآمدوں کی سیر کر رہا ہے، اس سرکاری ہسپتال کا وہ مستعد عملہ جو ایسے مواقع اور مریضوں سے خوب نمٹنا جانتا ہے، عدالتی نظام جس میں انصاف کا کوٹھا ہر پیسہ پھینکنے والے کے آگے ٹھمکا لگاتا ہے، دلال کا کردار ادا کرنے والا زمیندار، ڈاکٹر عمر عادل جو آج صبح ایک چینل پر رضوانہ کی حالت بیان کرتے ہوئے پورے معاشرے اور معاشرتی نظام کو ننگا کر رہے تھے، ہر سال دو سال بعد ہونے والے ان واقعات میں ملوث سرکاری افسران کی دیوانی بیگمات جن کو گھر بیٹھے ضمانت مل جاتی ہے، سینکڑوں غیر سرکاری تنظیمیں، سالوں سے پرورش پاتے خاندانی منصوبہ بندی کے ادارے۔
رضوانہ کی ننھی سی جان کے اطراف پھیلے یہ سارے کردار اپنی اپنی جگہ ایک کہانی ہیں، ڈاکومنٹری ہیں، وی لاگ ہیں، موضوع ہیں۔
سمجھ نہیں آ رہا کس کو پکڑوں، کس کو چھوڑوں، کس کی بات کروں نا کروں۔
یا چپ رہوں!


