عمران خان کی سزا نظامِ عدل و انصاف کے دامن پر ایک اور دھبہ


اُس نے کہا تھا اور 9 مئی کے تناظر میں اب دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ درست کہا تھا کہ اگر اسے سازش سے نکالا گیا تو وہ سازشیوں کے لیے مزید خطر ناک بن جائے گا۔ اقتدار میں تھا تو اس کی مقبولیت کا گراف بڑی تیزی سے گر رہا تھا۔ ضمنی انتخابات میں وہ مسلسل ہار تا چلا گیا تھا۔ یہاں تک کہ عام انتخابات میں جیتی ہوئی نشستیں بھی اس کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی تھیں۔ اسے لانے والے ہی نہیں بلکہ عوام بھی اس کی ناقص کار کردگی کی وجہ سے نا خوش و بیزار ہو چکے تھے۔

مگر جس نا مناسب اور عامیانہ انداز میں اُسے نکالا گیا اور جس درویشانہ شان سے وہ قصرِ اقتدار سے رخصت ہوا اس نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ لوگ بغیر کسی احتجاجی کال کے اس کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مسلم لیگ نون کے گڑھ پنجاب میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں اس نے اپنے جملہ مخالفین کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ ان انتخابات میں خفیہ ہاتھوں نے اسے کٹ ٹو سائز کرنے کی غرض سے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا جس سے خاکسار بڑی حد تک واقف ہے۔

ملکی سیاست کے جاری کھیل کی باریکیوں کا ادراک رکھنے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ اس کی یہ کامیابی در اصل مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتوں کی بجائے مقتدرہ اسٹیبلشمنٹ اور خلائی مخلوق وغیرہ کے نام سے موسوم کیے جانے والے ان حلقوں کے خلاف تھی جنہیں اس نے دبیز پر دوں سے نکال کر عوام کے رو برو اظہر من الشمس کر دیا تھا۔ اس کے عزم و استقلال اور بے پناہ عوامی مقبولیت سے ہراساں سیاسی اور غیر سیاسی عناصر پر یہ تلخ، نا خوشگوار اور ان کے حق میں خطر ناک حقیقت واضح ہو گئی کہ انتخابی سیاست میں کوئی رکاوٹ یا ہتھکنڈہ اس کی اقتدار تک رسائی کی راہ میں کار گر نہیں ہو سکتا۔

سیاسی صورت حال کا یہی درست ادراک و تجزیہ تھا جس کے پیشِ نظر موجودہ حکومت اور اسے عوام پر مسلط کرنے والوں نے اُسے راہ سے ہٹانے کا قطعی فیصلہ کر لیا۔ پلان اے اس پر قاتلانہ حملہ کروا کے اسے ہمیشہ کے لیے زیرِ زمین کر دینا اور الزام تھوپنے کے لیے تو موجودہ حالات میں درجنوں آپشنز موجود ہیں کسی کے سر بھی منڈھا جا سکتا تھا۔ زندگی اور موت بانٹنے کا دفتر و اختیار خدا نے خصوصی طور پر اپنے لیے مختص کر رکھا ہے۔

خدا کی قدرت ملاحظہ کیجیے کہ اس نے انہی کو اس کی زندگی کی چوکیداری پر لگا دیا ہے جو روزانہ خیالوں اور خوابوں میں اسے جان سے مارا کرتے تھے۔ اسے گرفتار کر کے اٹک جیل پہنچا دیا گیا ہے جہاں اس کی جان کو کم ظرف، شکست سے قبل شکست خوردہ اور اس کی شخصیت کے رعب سے لرزاں دشمن عناصر سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ِ خدا وندی ہے۔ ( وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی چال چلتا ہے اور اللہ چال چلنے میں ان سے بہتر ہے ) ۔

عمران خان کی گرفتاری کی ”خبر“ ون کے ذریعہ دوست نے پہنچائی جس سے حیرت و استعجاب کا قطعیٔ احساس نہ ابھرا کیونکہ خاکسار کے لیے اس میں خبریت نام کی کوئی شے نہ تھی۔ یہ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ تجسس ختم ہو جائے تو کہانی مر جاتی ہے۔ عمران مخالف کہانی کے کلا کاروں کے اسکرپٹ کا یہ حصہ مطلعٔ سیاست پر نشتر ہونے سے قبل ہی متوقع تھا۔ اس سے ہوا یہ ہے کہ اس ڈبہ فلم کے پروڈیوسرز، اسکرپٹ رائٹرز، ڈائریکٹر و اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور ٹیم کے دیگر کھلے اور چھپے عناصر کے ذہنی اور اخلاقی دیوالیہ پن کے تمام پرت الٹ کر رہ گئے ہیں۔ گرفتاری کا مقصد کیا ہے اور آگے کیا ہونے جا رہا ہے خلقِ خدا پوری طرح آگاہ ہے۔ لیکن پھر وہی ”وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی چال چلتا ہے“ ۔

پیشہ ٔ وکالت سے منسلک ہونے کے باعث خاکسار علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے ضابطۂ فوجداری اور عدل و انصاف کے مسلح تقاضوں سے سرا سر انحراف کرتے ہوئے عمران خان کو سزا سنائی ہے۔ ویسے تو جسٹس منیر سے لے کر مولوی مشتاق، انوار الحق، افتخار اور ثاقب نثار اور اگر نام گنواتا جاؤں تو کالم کی تنگ دامانی ان کا بوجھ نہ برداشت کر پائے جن کے ہاتھوں لکھے فیصلوں، اندازِ منصفی اور ان کی مالیاتی بدعنوانیوں کے باعث نظام عدل و انصاف بے توقیر ہوا۔

ہمارے عدالتی نظام کی حیثیت اس کوڑھی جیسی ہے جس کا پورا جسم اس مرض سے گل سڑ گیا ہو اور اس سے نا قابل برداشت تعفن کے بھبوکے اٹھ رہے ہوں۔ مسلم لیگ نون تو خریدو فروخت کے چالیس سالہ تجربہ سے لیس ہے۔ کسی ایڈیشنل سیشن جج کو رام کرنا تو ان کی چٹکی کا کھیل ہے جبکہ یہ جنس صبح تیار ہو کر عدالتوں میں اپنا کام کرنے کے لیے آتی ہے نہ کہ عدل و انصاف بانٹنے۔ یہی حال اوپر تک ہے۔ اعلیٰ عدالتی مناصب پر فائز اور ماضی میں یہ منصب نباہ چکے منصفوں کی مالیاتی بد عنوانیوں کے قصے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی آئے دن زینت بنتے ہیں لہٰذا اب یہ کوئی ڈھکی چھپی تلخ حقیقت نہیں کہ ہمارا عدالتی نظام اندر سے گل سڑ چکا ہے۔

عمران خان کو لانے سے لے کر نکالنے اور بالآخر انتہائی بیہودہ عدالتی فیصلے کے بل بوتے پر اسے جیل بند کرنے تک کے پانچ سالوں کے دوران سیاست سے قانونی اور آئینی روشنی میں غیر متعلقہ مگر پسِ پردہ رہ کر ملکی سیاست میں ناک ناک ڈوبی قوت کے کارہائے مذمومہ کے باعث ہم سیاسی عدمِ استحکام کی اس منزل تک آ پہنچے ہیں کہ۔ جہاں ہر طرف مایوسی اور غیر یقینی کے گہرے سائے ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ یہ یک طرفہ تجزیہ ہو گا اگر اظہار نہ کیا جائے کہ اس صورتِ احوال کی تشکیل میں عمران خان کی ناتجربہ کاری، مخصوص طبع، غلط فیصلوں اور سیاسی رویوں کے فقدان جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔

وہ ملک جس نے فقط 75 کروڑ روپے سے اپنی قومی زندگی کا آغاز کیا تھا چند ہی سالوں میں اس قابل ہو گیا تھا کہ جرمنی اور جاپان کو قرضہ دے سکے۔ مسقط سے گوادر خریدے۔ تربیلا اور منگلا ڈیم جیسے دیو ہیکل پراجیکٹس کھڑے کرے۔ اس کی ترقی کے ماڈل کو سمجھنے کے لیے کوریا، سنگا پور اور ملائیشیا ء ریسرچ ورک شروع کر دیں۔ ہم نے بٹوارے میں ملنے والے فقط 75 کروڑ روپوں سے معیشت کا پہیہ چلا کر ڈالر کو اپنے ایک روپے سے باندھے رکھا اب ایک ڈالر 283 روپے کے برابر اور مسلسل روپے کو بے وقعت کرتا جا رہا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کہ ماضی میں ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ تمام تر بشری کمزوریوں کے باوجود ایمان دار تھے اور قومی جذبہ ان کے رگ و پہ میں دوڑتا تھا۔

میں چونکہ خود ضمیر کے قیدی کی حیثیت سے ڈیڑھ سال ذوالفقار علی بھٹو اور ساڑھے آٹھ سال جنرل ضیا الحق کے دور میں قلعوں جیلوں اور پھانسی کوٹھڑیوں کی سختیاں بھگت چکا ہوں اور اسیری کے طویل تجربے کی بنا پر انتہائی عجز و انکسار اور سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ کوچہ ٔ سیاست کے راہروؤں کے لیے زنداں خانے ایسی اعلیٰ تربیت گاہیں ہوتی ہیں جہاں عام حالات میں دبی چھپی صلاحیتیں موسم بہار کونپلوں کی طرح باہر نکل آتی ہیں۔

اس کی گرفتاری کے قانونی اور غیر قانونی ہونے کا فیصلہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ سے جلد آ جائے گا۔ بحیثیت وکیل میں توقع کرتا ہوں کہ جس انداز میں عمران کو سزا دلوائی گئی ہے، اعلیٰ عدالتیں اس کی توثیق کر کے غلط نظیر قائم نہیں ہونے دیں گی۔

” فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندی“ کے مصداق فطرت اس کی خوب تربیت کر رہی ہے۔ گرمی کا موسم، تپتا فرش، پنکھا اس کی مرضی چلے نہ چلے، ساون کا مہینہ، حشرات الارض کی پیدائش و افزائش کا موسم، جسم کی پیمائش کرتے اور لہو پیتے مچھر چیونٹیوں اور کیڑوں مکوڑوں کے لشکر۔ فرش پر لیٹے اُس کی نگاہیں عرش پر مرکوز!

” اور ہم آزمائیں گے تمہیں خوف طاری کر کے، بھوک میں مبتلا کر کے، مال و زر کے نقصان اور جان کے چلے جانے کے خوف سے اور زندگی میں حاصل شدہ ثمرات کے نقصان سے اور (ان حالات میں ) جو صبر سے کام لیں انہیں ہماری طرف سے (اجر کی ) بشارت دے دو۔ (القرآن)

Facebook Comments HS