نانی اماں: ایک شخصیت، ایک داستاں ( حصہ دوم )


نانی اماں کا بچپن جلد ہی ختم ہو گیا تھا۔ جن بچوں کے سر سے باپ یا بڑے بھائیوں کا سایہ اٹھ جائے ان کی فکر و اظہار کے زاویے ان کے جسموں سے پہلے جوان ہو جاتے ہیں اور لا پرواہی کی جگہ سنجیدگی لے لیتی ہے۔ نانی اماں قد کاٹھ کی اچھی تھیں اور دوسرا سب سے بڑی تھیں چنانچہ ذمہ داریوں کے بوجھ نے ان کا بچپن وقت سے پہلے ہی تمام کر دیا تھا۔ باپ چلا جائے تو ماں کو فقط بچوں کو پالنے کی فکر نہیں رہتی بلکہ ان کی شادیوں کے فریضے سے جلد از جلد سبک دوش ہو جانے کی خواہش شدت پکڑ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہوئی کہ میری نانی کی شادی فقط 13 سال کی عمر میں 1944 ء کے وسط میں ہو گئی تھی۔ نانی بتایا کرتی تھیں کہ جس دن ان کو دیکھنے کی خاطر ان کے سسرالی آ رہے تھے وہ گلی میں کھیل رہی تھیں وہاں سے مجھے بلایا گیا اور نہلا دھلا کر جب میری ماں میرے سر میں کنگھی کر رہی تھیں تو میں بچوں کی طرح بال کھینچے جانے پر کسمساتی تھی۔ میری نانی کی شادی ”روہتک“ شہر میں ہوئی تھی اور نانی کا سسرال ان کی سگی پھوپھی کا گھر تھا لیکن میری نانی کی یہ پھوپھی اپنے بھائی ( عبد الرحیم ) سے بارہ سال تک ناراض رہی تھیں اور آنا جانا بالکل ختم تھا چنانچہ یہی وجہ رہی کہ نانا کے مکمل کوائف معلوم نہ ہو پائے۔

اس زمانے میں فوٹو وغیرہ تو ہوتی نہیں تھیں اس لیے میرے نانا کی عمر اور ان کے کنوار پن کا پتا نہ چل سکا۔ میرے نانا کی عمر 32 سال تھی اور وہ شادی شدہ بھی تھے ایک لڑکی کے باپ تھے اور ان کے تین بچے ہو کر فوت بھی ہو چکے تھے۔ یہ سب باتیں نانی کی سگی پھوپھی نے چھپا لیں اور یہی بتایا گیا کہ لڑکا غیر شادی شدہ ہے۔ میرے نانا روہتک کے رئیس تھے اور زمینوں جائیدادوں کے اکلوتے وارث تھے وہ بھی نانی اماں کی طرح اپنے والد کی تیسری بیوی سے پیدا ہوئے تھے ان سے پہلے ان کے والد کی بیٹیاں ہی تھیں بیٹا نہیں تھا اس لیے نانا بھی بہت لاڈ پیار سے پلے بڑھے تھے ان کی پہلی شادی 16 سال کی عمر ہو چکی تھی۔

بہر کیف نانی اماں کو بہت شان و شوکت سے بیاہ کر روہتک لایا گیا تھا۔ نانی بتایا کرتی تھیں میرے مکمل بازوؤں پر سونے کی چوڑیاں اور کڑے چڑھائے گئے اور گلے اور کانوں میں سونے کے بھاری بھرکم زیورات پہنائے گئے تھے۔ پلیٹ بھر کے سونے چاندی کی کھچڑی دی گئی تھی۔ میں نے پوچھا بڑی امی! سونے چاندی کی کھچڑی کیا ہوتی ہے؟ وہ بولیں : ایک چاول چاندی اور ایک چاول سونے کا بنا ہو تو وہ کھچڑی کہلایا کرتی تھی۔ میرے پرنانا جن کا نام عظیم اللّٰہ تھا اپنے بیٹے کی دوسری شادی پر بہت خوش تھے اور بارات کے موقع پر ہاتھی پر سوار ہو کر اپنے سمدھیوں سے ملے تھے۔

ولیمے کے دن ایک خاتون بڑھ چڑھ کر انتظامات دیکھ رہی تھی اور بچا ہوا کھانا اپنے ہاتھوں سے غریبوں میں تقسیم کر رہی تھی۔ اس عورت کی خوشی دیدنی تھی میری نانی نے پاس بیٹھی عورتوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے؟ تو عورتوں نے کھلکھلا کر جواب دیا کہ یہی تو تمہاری سوکن ہے جو اپنے شوہر کی شادی پر خوشی منا رہی ہے۔

( جاری ہے )

Facebook Comments HS