اسلام علیکم سَر سالار اعلی
واہ واہ کیا شان تھی، میں نے آپ کو جرگے کی صدارتی کرسی پر دیکھا، سر آپ ٹوپی کے بجائے پگڑی پہنے ہوئے تھے۔ پگڑی کی وجہ سے آپ کی پرسنیلٹی کئی بار بڑھ گئی تھی، کیوں نہ بڑھتی پگڑی پاکستان میں میں بسنے والی تمام اقوام کی مشترکہ ثقافتی علامت ہے۔ پگڑی سے آپ کی شان کو ایسے چار چاند لگے کہ فوج کا سردار اعلی قوم کا بھی سردار اعلی لگ رہے تھا۔
ٹوپی سے اگر پگڑی زیادہ خوبصورت لگتی ہے تو سر کیوں نہ پگڑی کو یونیفارم کا حصہ بنا دیا جائے؟ ویسے بھی پاکستان میں لوگ پگڑی کو عزت و افتخار کی علامت سمجھے ہیں۔ سر آپ با اختیار ہیں اتنے با اختیار ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو ابرو کے ایک اشارے سے فوج میں ٹوپی کی جگہ پگڑی کو دلا سکتے ہیں۔ ویسے بھی تبدیلی اچھی ہوتی ہے پر وہ بیس سو اٹھارہ والی نہیں۔
مجھے اخبار کے ذریعے سے جرگے میں آپ کی تصویر دیکھنے اور آپ کا خطاب پڑھنے کا موقع ملا۔ آپ نے اپنے خطاب میں بہت کچھ کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ”جنھوں نے اس دین کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا ان کو جواب دینا پڑے گا“ ۔ سچ ہے کہاں دین میں پیار محبت و بردباری اور کہاں دہشت گردی، کوئی آپسی تعلق ہی نہیں بنتا، کسی نے سخت محنت کر کے دین اور دہشت گردی کو ملا دیا۔ آپ نے بہت درست فرمایا ایسے عناصر کا کھوج لگانا چاہیے۔
آپ کو اللہ تعالی نے اب اتنے بلند مقام پر بٹھایا ہے جہاں سے آپ باآسانی حاضر و ناضر سب کچھ دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ پر سر ایک بات ہے، دین کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے والوں کو جواب دینا خاصا لمبا کام لگتا ہے، ایسا کرنے سے تو ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے اور ہم کب تک جنگوں میں رہیں گے۔ پھر اس میں یہ مشکل بھی ہو سکتی ہے کہ ان میں کچھ ایسے کردار بھی ہوں جو ہمارا سالانہ، ششماہی یا سہ ماہی بجٹ بنوانے میں مدد کرتے ہوں۔ ایسے میں ہم ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکیں گے۔ مجبوری ہے اس لیے ہمیں ان کو جواب دینے کے بجائے اپنے آپ کو سنبھالنا چاہیے۔
ساری بڑی جماعتوں نے متفقہ طور پر آپ کی ذات پر اعتماد کیا ہے اس لیے قوم بھی آپ پر اعتماد کرتی ہے، آپ ایسا کریں کہ برے کرداروں کو جواب دینے کے بجائے صرف ان کو عوام کے سامنے بے نقاب کر دیں۔ ایسا کرنے سے عوام کے ماضی اور حال بارے کانسیپٹ کلیئر ہو جائیں گے، ویسے بھی قومی ترقی کے لیے تاریخ کا سچ سچ سامنے ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لیے جواب دینے کے بجائے، آپ اپنی قوم کو صرف ان کے نام بتا دیں جنھوں نے دین کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا مزید دہشت گردی کی بھینٹ چڑھانے والے کے مقاصد بھی۔
سر آپ نے جتھوں کی بات کی ہے، آپ اگر جتھے بنانے والوں کے نام بھی عوام کو بتا دیں تو بہت احسان ہو گا ایسا کرنے سے قوم کے نوجوان دھوکا بازوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔
سر آپ جس کرسی پر برا جمان ہیں وہ اتنی بلندی پر واقع ہے کہ وہاں سے آپ باآسانی ہر چیز کو کرسٹل کلیئر دیکھ سکتے ہیں، سر آپ اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کا قبلہ درست کرنے کے لیے کچھ اور باتیں بھی ان کو بتا دیں۔
مثلاً
منتخب وزیر اعظم کو پھانسی دینا کیوں ضروری تھی؟
قوم کو پہلے روس اور پھر افغانستان جنگ میں کس نے دھکیلا؟
اعلان لاہور کے پروگرام کو کس نے کیوں نہ آگے چلنے دیا؟
کارگل کے معرکے میں کس کے کیا مقاصد تھے؟
مشرف صاحب کا مارشل لا کیوں ضروری تھا؟
نعروں کے سانچے جیسے ”۔ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے“ خالی جگہ پر کبھی بش، کبھی مودی و واجپائی اور کبھی روس رکھ دیا جاتا ہے، ایسے سانچے اور نعرے کہاں اور کیوں تیار ہوتے ہیں۔
لگے ہاتھوں اگر آپ باجوہ ڈاکٹرائن پر سے پردہ ہٹا دیں تو لگتا ہے کہ تاریخ کافی شفاف ہو جائے گی۔ سر اس کے علاوہ تاریخ کی دھول میں اور بہت کچھ ہے۔


