خون خرابہ، جھگڑے اور فسادات
منی پور کے بعد اب ریاست ہریانہ کا علاقہ میوات فساد سے کراہ رہا ہے۔ فساد تو تھم چکا ہے لیکن مستقل اقلیتی فرقے کے افراد کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں کو مسمار کیے جانے کی خبریں آ رہی ہیں، جس سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ ہندوستان میں تشدد اور مصائب کا یہ نمونہ خطرناک حد تک مانوس ہوتا جا رہا ہے۔ تماشا کرنے والے تو چلے جاتے ہیں اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں منی پور میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ جہاں تشدد، میتی ہندو برادری اور عیسائی کو کی قبائلی برادری کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں ہوا۔ یہ تنازعہ ایک عدالتی حکم سے شروع ہوا جس میں میٹی کمیونٹی کے لیے شیڈول ٹرائب کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان احتجاج اور جھڑپیں ہوئیں۔
سینکڑوں افراد ہلاک، زخمی اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے۔ منی پور حکومت کے حالات سے نمٹنے اور پولیس کے تعصب کے الزامات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ تشدد میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کے الزامات بھی دیکھے گئے، ایک وائرل ویڈیو میں میتی مردوں کی طرف سے کوکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصویر کشی کی گئی ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی تنظیمیں اور سماجی کارکنان مستقل تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن میں اقلیتی برادریوں کے زیادہ تحفظ اور منی پور میں امن اور ہم آہنگی کی بحالی کے مطالبات شامل ہیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپوزیشن کی حالت بھی کوئی بہت اچھی نہیں ہے، اس طرح کے مسائل پر جس انداز میں کھل کر بات ہونی چاہیے یا مخالفت کی جانی چاہیے تھی ویسا کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔
منی پور کے انسانیت سوز واقعات کی ذہنی تکلیف ابھی کم بھی نہ ہو پائی تھی کہ میوات میں فسطائیت کے ننگے ناچ کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ میوات کے علاوہ، گزشتہ دنوں ٹرین میں جس طرح سے مسلمانوں کو چن چن کر گولی ماری گئی، اس نے سب کو ہلا کے رکھ دیا۔ دو ہزار چوبیس میں این ڈی اے کو شکست دینے کے لیے انڈیا نامی جو اتحاد بنا ہے وہ بھی اس معاملے پر خاموش ہے، شاید انھیں اندیشہ ہے معاملہ راست مسلمانوں سے جڑا ہے اور کچھ بولیں گے تو انھیں فائدے کے بجائے نقصان ہو جائے گا۔ ہری ونش ترون نے ”بھارت کے راشٹریہ ایکتا“ نامی کتاب میں درست کہا ہے :
”درحقیقت فرقہ وارانہ فسادات میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا ہاتھ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے خفیہ مفادات ہی ان کو مشتعل کرنے میں سرگرم ہوتے ہیں۔ ادھر بعض سیاسی جماعتیں بھی فرقہ پرستی کی آگ کو بھڑکا کر اپنی مطلب براری کرنے پرتل گئی ہیں۔ ان کی سیاست کی بنیاد تو اقتدار کا حصول ہے۔ اس لیے وہ بھولے بھالے لوگوں کو فرقہ پرستی کے زہر سے مسموم کر کے اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ یہ جماعتیں اقتدار کی بھوک میں قوم کو ہی کھاتی جا رہی ہیں۔
”فرقہ پرستی کا اصل مقصد ہوتا ہے سماج میں فسادات اور امن پسند، بھولے بھالے لوگوں میں دہشت پھیلانا۔“ آل انڈیا فرقہ پرستی مخالف کمیٹی کے دستاویزات کو نقل کرتے ہوئے ایک جگہ اور انھوں نے لکھا ہے : ”فرقہ پرستی کی سب سے واہیات شکل فسادات ہیں۔ یہ خود سے فروغ نہیں پاتے، بلکہ مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان آپسی میل محبت، ہم آہنگی اور اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ تشدد سے پیدا شدہ دہشت اور اخلاقی زوال سے وہ زمین تیار ہوتی ہے جہاں تخریب پسند عناصر اقلیتی فرقوں کے درمیان کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے فرقہ وارانہ فسادات قومی اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔“ (ص 140 )
انسان کے مسخ شدہ ذہن کی تختی پر فرقہ پرستی جنون پیدا کرتی ہے، جو دھماکہ خیز شکل اختیار کرنے کے لیے ہر وقت بہانے کی تلاش میں رہتی ہے۔ سماج کے مطلب پرست اور لالچی لوگ اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں، جس سے کوئی معمولی سا واقعہ خوف ناک دھماکے کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ جیسے ایک بہت بڑے سوکھے گھاس پھوس کے ڈھیر کو پھونکنے کے لیے ایک چھوٹی سی دیاسلائی کافی ہوتی ہے، ویسے ہی ایک چھوٹا سا واقعہ دو فرقوں کے درمیان ایک بھیانک جرم بن جاتا ہے ۔
پل بھر میں مار کاٹ، لڑائی جھگڑا، آتش زدگی، لوٹ پاٹ، اغوا، عصمت دری کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ چہار جانب چیخ و پکار، آہ و بکا، دوڑ بھاگ کا ماحول بن جاتا ہے ۔ بے قصور لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ بچے یتیم ہو جاتے ہیں، خواتین کی عزت تار تار کردی جاتی ہے۔ سماج کے امن پسند لوگوں کی دکانیں، مکانات وغیرہ لوٹ لیے جاتے یا نذرآتش کر دیے جاتے ہیں۔ غنڈے اپنی اپنی فتح کے ڈنکے بجاتے ہیں، مطلب پرست لوگ جلے ہوئے پر نمک چھڑکتے ہیں، مذہبی لیڈر اس پر مرہم لگانے کا کام کرتے ہیں، دونوں جانب سے ہلاک شدہ افراد کی گنتی ہونے لگتی ہے۔
کرفیو اور پولیس کا بول بالا ہوجاتا ہے ۔ سیاسی لیڈر دونوں فرقوں کے خیرخواہ بن کر ہمدردی ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ حکومت فساد کے متاثرین کو راحت کا اعلان کرتی ہے، ہلاک شدگان کو معاوضے کی رقوم تقسیم کی جاتی ہے۔ لیکن فرقہ پرستی کا عفریت تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے، جو دوبارہ ظاہر ہونے کی تیاری کرتا ہے، یہ مسخ شدہ فرقہ پرستی کی شکل و خصوصیات ہیں۔ فسادات کی اس عفریت کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اولاً: جس مذہبی گروہ کے خلاف اس فساد کی شروعات کی جاتی ہے، اس کے افراد کی جان و مال دونوں کو برباد کیا جاتا ہے ، تاکہ ان کے روزگار کے ذرائع وسائل بھی ضائع ہو جائیں۔ یہ سب سڑک پر ، گلی محلوں میں یا گھروں میں گھس کر کیا جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ انتہائی نازیبا اور ظالمانہ برتاؤ بھی کیا جاتا ہے ۔
کمزور اقلیتی گروہ کے متعدد افراد کو اپنے گھروں سے جان بچا کر کہیں بھاگنا پڑتا ہے۔ سبھی حملہ آور گھروں میں طرح طرح کے ناجائز ہتھیار پائے جاتے ہیں، جس کا فساد کے موقعے پر علانیہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس بات کا پتا لگانے کی کبھی کوشش نہیں کی جاتی کہ یہ ہتھیار کہاں سے آتے ہیں؟ ان کے لیے رقم کون خرچ کرتا ہے اور انتظامیہ انھیں گھروں میں اکٹھا کیوں ہونے دیتی ہے؟ کہیں کہیں اور کبھی کبھی دونوں فرقہ پرست گروہوں کے درمیان ایسی منصوبہ بند پر تشدد جنگ ہوتی ہے جس کے سبب پورے علاقے میں کرفیو لگا کر فوجی مدد لینی پڑتی ہے۔
پولیس بھی زیادہ سے زیادہ فرقہ پرستانہ رویہ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ انتظامیہ فرقہ وارانہ صورت حال کے آہستہ آہستہ بگڑنے تک تو ناکارہ بنا رہتا ہے، پھر اچانک بھرپور حملے پر اتر آتا ہے۔ انتظامیہ کے اس رجحان کے سبب غیر سماجی عناصر کا حوصلہ بڑھا رہتا ہے۔ مختلف فرقہ پرست تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے اندر گھسے غیر سماجی عناصر اور ان کے سرغنے ان فسادات کو مزید شدید بنا دیتے ہیں۔ انتظامیہ ان فسادات کو روکنے میں پوری طرح مذہبی غیر جانبدار سرگرم عناصر کی کوئی مدد نہیں لیتا۔ ایسے عناصر خود عام امن وامان کے زمانے میں اپنی عوامی خدمت کا کام لگاتار نہیں کرتے رہتے اور نہ سیاسی جماعتوں کے سرگرم لیڈر اور نہ ارکان ہی ایسا کرتے ہیں۔ انسانیت نواز نقطہ نظر اور جذبات سب جگہ سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔
فرقہ وارانہ فسادات کی وجوہات کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں حصہ لینے والے یا فساد برپا کرنے والے افراد کسی بھی مذہب، فرقہ و ذات کے لوگ نہیں ہوتے۔ انھیں ہندو، مسلمان یا سکھ وغیرہ کہنا ان کو انعام دینے کے برابر ہے۔ وہ محض غنڈے قاتل، غیر سماجی عناصر، لٹیرے، بدمعاش، بے رحم، ظالم، پر تشدد یا عفریت ذات کی جاندار ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ پردے کے پیچھے سے کارفرما عقل بہت بڑا عفریت کہلاتی ہے، جو انسان کو سکون، بھائی چارے، اور دوستی سے رہتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ ان میں ایک تخریب کاری طاقت پوشیدہ رہتی ہے جو اپنے حقیر مفادات کے لیے سماج میں بدامنی پھیلانا اپنی عقل مندی سمجھتی ہے۔ یہی ان کا مذہب ہے۔
فسادات میں ہمیشہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بے قصور و بے سہارا افراد ہی اس آگ کی نذر ہوتے ہیں۔ فسادات بھڑکانے والی قوتیں ہمیشہ اعلیٰ سرپرستی میں محفوظ رہتی ہیں۔ غنڈے، قاتل، متشدد، حیوان صفت، خونخوار یا بدمعاش میدان سنبھالتے ہیں، جو اپنا کام پورا کر کے انتظامیہ کے سرگرم ہونے پر فوراً غائب ہو جاتے ہیں۔ حفاظتی دستوں کے اہلکار تعداد بڑھانے کے لیے ان لوگوں کو پکڑتے ہیں جو جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنے اپنے گھروں میں چھپے رہتے ہیں۔
بے قصور عام لوگ ہر اعتبار سے متاثر ہوتے ہیں اور پولیس بھی ان ہی لوگوں کے ذریعے اپنی خانہ پری کرتی ہے۔ اس میں اپنی فعالیت دکھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بے قصور افراد کو گرفتار کر کے قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے ۔ اگر اصلی مجرم پکڑے بھی گئے تو ان کو فوراً چھوڑنے کے لیے سیاسی دباؤ آ جاتا ہے ۔ افسران کا فساد زدہ علاقوں کا دورہ ہوتا ہے، اخبارات میں جان و مال کے نقصان کے اعداد و شمار اور گرفتار شدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی تعداد شائع ہوتی ہے۔
اس موقع پر بعض دیگر کارروائیاں بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق اصل مسئلے کو حل کرنے سے کم اور ڈرامہ کرنے سے زیادہ ہوتا ہے اور اس میں اعلیٰ سیاسی شخصیات کا ہی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ یہ وہ باتیں جو بار بار اخبارات اور ذمہ دار سماجی شخصیات اٹھاتی رہتی ہیں۔ دراصل اس نوع کی سرگرمیوں سے ہندستان کی ایک الگ تصویر بن رہی ہے مگر اس سے زیادہ تشویش کی بات ہے کہ ہم سب سماجی سطح پر ایک غیر ذمہ دارانہ رویے کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں اور ایک ایسے سماج میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں سماج کے تانے بانے کو سبوتاژ کرنے والے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ان پر کاروائی اور سزا کا تصور ایک دور افتادہ صدا ہوتی جا رہی ہے۔
ہندوستان میں فسادات کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بالعموم اصلی مجرمین نہیں پکڑے گئے اور نہ قاتلوں کو اس طرح سے سزا ملتی ہے کہ اس سے دوسروں کو عبرت ملے۔ ملک میں آئے روز فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ فرقہ پرستی کے بطن سے پیدا ہوئے انتہا پسندی، دہشت گردی اور ظلم و تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن قصوروار افراد کو سزا نہیں مل پاتی، کیوں کہ انھیں اعلیٰ سطح کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محافظ افسران بھی انھیں ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کرتے۔
ہندوستان میں جب فسطائی قوتوں کو فروغ ملا، معاشرے میں فسادات اور جھگڑے بڑھنے لگے۔ فسطائی قوتوں کو اکسانے اور بھڑکانے میں ہمیشہ براہ راست یا بالواسطہ اس وقت کی حکومت کا ہاتھ ضرور رہا ہے۔ اگر ہم ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا باریکی سے جائزہ لیں تو اس کے پس منظر میں اقتدار کا تعاون ضرور ملے گا، جس میں برسراقتدار فریق کے قریبی سماج کے ٹھیکیداروں کی شراکت شامل ہوتی ہے۔
15 اگست 2022 کو گجرات مسلم کش فسادات کے 11 ملزمان کی رہائی سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم مخالف فسادات کے دوران انتظامیہ اور پولیس کس طرح کام کرتی ہے۔ سال 2002 کے گجرات مسلم کش فسادات کو چھوڑ کر فرقہ وارانہ فسادات میں کسی مرکزی یا ریاستی حکومت کے براہ راست ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے باوجود پولیس کو تقریباً ہر فساد میں مسلم مخالف کردار ادا کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور کسی افسر کو اس کے کردار کے لیے سزا نہیں دی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف بی جے پی بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کا کردار بہت جانبدارانہ رہا ہے۔
حکومت کے اقدامات کو براہ راست مورد الزام ٹھہرائے بغیر، معروف ماہر سماجیات پال براس اسے ”ایک ادارہ جاتی حرکت“ کہتے ہیں۔ اس لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومتوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور متاثرین کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کرنے چاہئیں۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تفرقہ انگیز مفادات سے اوپر اٹھ کر شمولیت اور قومی اتحاد کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں۔ بین المذاہب مکالمے کو فروغ دے کر ، دقیانوسی تصورات کو دور کر کے، اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھ کر ، ہندوستان ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہو اور ہر شہری کی قدر اور حفاظت کی جائے، چاہے اس کا مذہبی پس منظر کچھ بھی ہو۔


