پاکستان کا ارتقائی سفر


مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا ایک ملک جو آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر اور اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک جس کی آبادی 2023 کی مردم شماری کے مطابق 24.5 کروڑ ہے۔ اس کے مغرب میں ایران، شمال مغرب و مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین اور مشرق و جنوب مشرق میں انڈیا واقع ہیں۔ اس کے جنوب میں بحیرہ عرب ہے۔ آئیے، آج اس کے ارتقائی سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

انڈیا کے لارڈ وائسرائے منٹو سے 1906 ء ڈھاکہ میں جب مسلم لیگ پارٹی کے لیڈروں کی ملاقات ہوئی جس میں ان کا مطمح نظر انڈیا کے مسلمانوں کا سیاسی و سماجی تحفظ تھا تو یہ ہی مسلمانوں کی سیاسی پارٹی کی قیام کی وجہ بنی۔ اس کے بانی ممبر خواجہ سلیم اللہ تھے۔ مسلم لیگ کی بنیاد احسن منزل پیلس ڈھاکہ کے نواب خاندان کے گھر رکھی گئی۔ اس کے قیام کا مقصد انڈیا کے مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی اور ان کی نمائندگی تھا۔ اس کے دوسرے ممبران میں نوابزادہ وقار الملک کمبوہ، سر سلطان محمد شاہ جو کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے تاحیات صدر بنے۔ سید امیر علی نے برطانیہ میں 1908 ء کو اس سیاسی پارٹی کا قیام عمل میں لایا۔ قائداعظم محمد علی جناح آل انڈیا مسلم لیگ کے 1913 ء سے لے کر پاکستان بننے تک صدر رہے اور پاکستان بننے کے بعد آپ اس نومولود مملکت اسلامیہ کے پہلے گورنر جنرل بھی بنے اور اپنی رحلت تک اسی عہدے پر فائز رہے۔

شاعر مشرق علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1930 ء کو الہ آباد (اتر پردیش) میں مسلم لیگ کے اکیسویں سالانہ اجلاس میں ایک ایسی مسلم ریاست کے قیام کا خیال پیش کیا جو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہو اور جہاں وہ آزادانہ طور پر رہ سکیں۔ علامہ اقبال جب اس آزاد مسلم مملکت کی ابتدائی شکل بیان کر رہے تھے تو ان کی نظر میں صوبہ پنجاب، نارتھ ویسٹ فرنٹیئر صوبہ (موجودہ کے پی کے صوبہ) ، صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان اور کشمیر کا علاقہ شامل تھے۔

اسی جلسے میں علامہ صاحب نے اپنی مشہور تقریر میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ پیش کیا جو ان کے نزدیک ہندووں اور مسلمانوں کے مسائل کا حل تھا۔ یہ علامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے 21 جون 1937 ء میں قائداعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر مسلمانوں کے صوبوں پر مشتمل ایک ریاست کا نظریہ پیش کیا۔ اسی خیال کو بعد میں 1940 ء لاہور میں دو قومی نظریہ کی صورت میں قرارداد کے ذریعے منظور کیا گیا۔ دو قومی نظریہ کیا ہے؟

”اس کے تحت ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں بلکہ دو الگ تہذیبیں ہیں جن کا تمدن و رہن سہن جدا گانہ، زبان و لٹریچر، آرٹ اور آرکیٹیکچر، نام اور قوانین سب کچھ جدا ہیں“ ۔ مسلمان ایک خدا کے ماننے والے جبکہ ہندو کئی خداؤں کے پیرو کار۔ دونوں معاشروں کی سوچ و فکر جدا جدا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کا ہندووں کے ساتھ رہنا نا گزیر ہو گا۔ یہ بات اب سچ ثابت ہو رہی ہے مسلمانوں کا ہندوستان میں جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ ان کا مال، عزت و حرمت محفوظ نہیں۔ دن بدن ان پہ زیست کے ہر راستے کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ نہتے مسلمانوں پر حملے اب معمول بنتے جا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہندوستان کی پولیس و سرکاری ادارے مظلوموں کی داد رسی کے بجائے ظلم کا ساتھ دے رہے ہیں۔

جب قائداعظم محمد علی جناح نے نہرو رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے 14 نکات پیش کیے تو مسیحی برادری نے بھی اپنی آل انڈیا کانفرنس میں نہرو کی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح اور مسلمانوں کے مطالبات کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس سے قبل مسیحی برادری نے سر سرل ریڈکلف کے باؤنڈری کمیشن میں مسلمانوں کے حق میں ووٹ دیا۔ 46۔ 1945 ء کے الیکشن میں مسیحی برادری پاکستان کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کے مسیحی برادری کے دانشوروں کے ساتھ نہایت گرمجوش تعلقات تھے جن میں جوزف بر ( لارڈ وائسرائے کونسل کے ممبر اور بھوپال کے نواب کے مشیر) ، سر سیمیول راگن دھر (لندن میں ہائی کمشنر) ، کے ایل کندن لال (آل انڈیا کانفرنس کے صدر) ، ریورنڈ اینڈریو اور جان برائٹ شامل تھے۔ ان سب نے قائداعظم محمد علی جناح کے خوابوں کی تعبیر والی سر زمین کے بارے اپنی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ ان دانشوروں کے علاوہ جوشوا فضل دین نے انتھک محنت کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کے ویژن کی آگاہی اور پاکستان کی تحریک کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مسیحی برادری کے ایک اور دانشور دیوان بہادر، ایس پی، سنگھا نے گھر گھر جا کر مسلم لیگ کے پیغام کو مسیحی برادری تک پہنچایا۔ ان ہی کی قیادت میں مسیحی برادری نے بھی اپنے خوابوں کی تعبیر سر زمین پاکستان کو دیکھنا شروع کیا۔ یہ سنگھا صاحب ہی تھے جنہوں نے تارا سنگھ کا راستہ اس وقت روکا جب وہ پنجاب اسمبلی کے دروازے پر تلوار لہراتے ہوئے کہہ رہے تھے ”جو بھی پاکستان کا نام لے گا اسے قتل کر دیا جائے گا“ ۔ پھر جب مغربی پنجاب کے بارے رائے شماری ہوئی۔ اسے کس ملک میں شامل کیا جائے تو ہندوں اور مسلمانوں کے ووٹ 88، 88 سے برابر ہونے کی صورت میں سنگھا صاحب نے اپنا ووٹ مسلمانوں کے حق میں استعمال کیا۔ اور اس طرح مغربی پنجاب پاکستان کا حصہ بنا۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ویسے بھی زیادہ تھا۔

14 اگست 1947 ء ( 27 رمضان المبارک 1366 ء) کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ابھرا۔ اس کی آبیاری میں ان مسلمانوں کا خون بھی شامل تھا جو تقسیم ہند کے دوران ہندوؤں کے مظالم کا شکار بنے، مسلمان عورتوں کی عصمتوں کو تاتار کیا گیا اور بچوں کی جان کا نذرانہ نیزوں پر چڑھا کر پیش کیا گیا۔ لیکن پھر بھی پاکستان اللہ تعالٰی کی رحمت سے معرض وجود میں آیا۔ اس کے معرض وجود میں آنے کے تیرہ ماہ بعد قائداعظم محمد علی جناح اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

اس کے تین سال بعد 1951 ء میں لیاقت علی کو بھی لیاقت باغ کے جلسے میں شہید کر دیا گیا اور پھر بدقسمتی سے اس مملکت خداداد میں میوزیکل چئیر کے ذریعے طاقت کا کھیل شروع ہو گیا۔ قائداعظم کے بعد غلام محمد گورنر جنرل کے عہدے پر براجمان ہوئے جنہوں نے بعد میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل بن گئے۔ جب غلام محمد نے گورنر جنرل کے عہدے کی پاورز کو کم کرنے کی کوشش کی تو گورنر جنرل نے انہیں ان کے عہدے سے فارغ کرتے ہوئے محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم کے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔

اب ملکی سیاست میں بیوروکریسی، طالع آزماؤں اور عدلیہ کا ایک ایسا تعلق بنا جس کے مضمرات پاکستان کی سیاست میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ 56۔ 1955 کے مشرقی و مغربی پاکستان کے صوبائی الیکشنز جس میں مشرقی پاکستان کے جگتو فرنٹ، جو کہ صوبائی خود مختاری کی حامی سیاسی جماعت تھی، نے وہاں کے الیکشن میں میدان مار لیا لیکن بدقسمتی سے اکثریتی سیاسی پارٹی کو عنان حکومت منتقل کرنے کے بجائے وہاں گورنر راج لگا دیا گیا اس طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پہلا بیج اس سرزمین پر بو دیا گیا جو بعد میں تناور درخت بنتے ہوئے بنگلہ دیش بننے کی صورت میں رونما ہوا۔

1956 ء میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنا دیا گیا۔ محمد علی بوگرہ ستمبر 1956 ء میں اکثریت کھو جانے کے باعث عنان حکومت سے فارغ ہو گئے اور حسین شہید سہروردی، عوامی لیگ کے بانی، نے ریپبلکن ممبران جو مسلم لیگ کو چھوڑ کر ایک نئی پارٹی بنا چکے تھے، کے اشتراک سے عنان حکومت سنبھال لی۔ لیکن گورنر جنرل نے وزیراعظم کو اس الزام کے تحت کہ وہ اپنی سپورٹ فیروز خان نون کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں، کو فارغ کر دیا۔ نوزائیدہ حکومت ہچکولے کھاتے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھی لیکن شومئی قسمت جنرل ایوب خان آرمی کے چیف کمانڈر نے مارشل لاء لگا دیا جنھوں نے تقریباً گیارہ سال عنان حکومت سنبھالے رکھی۔

انہوں نے 1959 ء میں ایبڈو کے قانون کے تحت سیاست دانوں کو کرپشن کے الزامات تحت سیاست سے فارغ کر دیا۔ 1965 ء کی پاک بھارت جنگ اور ملکی حالات کے تحت ان کا اقتدار پر کنٹرول کم پڑتا گیا اور پھر جنرل یحییٰ خان نے عنان حکومت سنبھال لی۔ جنہوں نے عوامی لیگ کو الیکشنز میں کامیابی کے بعد اقتدار حوالے نہ کیا۔ 1971 ء میں مشرقی پاکستان میں حالات انتہائی مخدوش ہو گئے اور انڈیا نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر ملک کو دو لخت کر دیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل پذیر ہوا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ اقتدار کی اس میوزیکل چئیر سے ابھی تک اسے چھٹکارا حاصل نہ ہو سکا۔ یہ 1971 ء سے تاحال جمہوریت و مارشل لاء کے درمیان ایک فٹبال بنا ہوا ہے جو فٹبال کے گراؤنڈ کے کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف لڑھک رہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں بھی اپنے اندر جمہوریت اور ملکی جمہوری نظام کو بہتر نہ بنا سکیں۔ ہم اپنا سفر دائرے میں متواتر جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں ہے۔ ہمارے رویے جمہوریت کے غمازی نہیں کرتے اور نہ ہی ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ رہے ہیں۔

ملکی قرضے، مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ، رشوت، کساد بازاری، لاء اینڈ آرڈر، انصاف کا خون، اداروں کی توڑ پھوڑ ملکی سالمیت پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور سب مل کر اس ملک سے اپنے اپنے حصے کے مطابق کھلواڑ کر رہے ہیں۔ آزادی ایک نعمت جس کی ہمارے کوئی قدر نہیں۔ جو قوم خود اپنی حالت نہیں بدلتی خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا۔ ابھی بھی حالات اس نہج پر نہیں پہنچے جن کی درستگی ممکن نہیں۔ آج بھی ہم دیانتداری کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو جائیں تو کامیابی قدم چومے گی۔ چیلنجز کا مقابلہ اتفاق و اتحاد میں مضمر ہے۔

پاکستان پائندہ باد!

Facebook Comments HS