خالد سعید: روشنی کی سرگزشت

خالد سعید، دس مارچ انیس سو سینتالیس کو ملتان میں پیدا ہوا۔ اُس نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول ملتان سے میٹرک، اور ایمرسن کالج ملتان سے ایف۔اے کیا اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور چلا گیا، جہاں اُس نے پہلے گریجوایشن، اور پھر نفسیات میں ماسٹرز کیا۔ اُس کی شخصیت کی طرح اُس کا تعلیمی ریکارڈ بھی کافی متنوع اور کثیر الجہت ہے۔ اُس نے زندگی کے مفاہیم کھوجنے اور مقامی دانش تک رسائی کے لیے فلسفے اور پنجابی ادب میں ایم۔اے کیا اور اپنے والد، ملک سعید ایڈوکیٹ کی خواہش کے احترام میں لاء کی ڈگری حاصل کی۔ اِس دوران وہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ رہا اور کافی متحرک سیاسی و سماجی زندگی گزاری۔
خالد سعید کا شمار اُن معدودے چند افراد میں ہوتا ہے، جن کا معلم بننا حادثہ یا مجبوری نہیں، بلکہ اُن کی ذاتی خواہش تھی۔ اُس کی تدریسی زندگی لگ بھگ پانچ دہائیوں پر محیط رہی۔ سرکاری کاغذوں میں وہ محض نفسیات کا استاد تھا، مگر اُس کے حلقہ تدریس میں فلسفہ، سوشیالوجی، ادب، فائن آرٹس، ایجوکیشن اور بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے مضامین بھی شامل رہے۔ وہ ایک ایسے استاد کی حثیت سے جانا گیا، جو ڈسپلن سے زیادہ محبت اور اخلاص کا قائل تھا۔ اُس نے اپنے شاگردوں کو خواب دیکھنا ہی نہیں، اُن کی تعبیر ڈھونڈنا اور زندگی کی کٹھنائیوں کا مقابلہ کرنا بھی سکھایا۔
بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، جنوبی پنجاب کی ایک اہم درس گاہ ہے، جو سن انیس سو چھہتر میں قائم ہوئی، لیکن سن دو ہزار ایک تک یہاں اینتھروپولوجی، آرکیالوجی، جینڈر سٹڈیز اور جغرافیہ تو درکنار فلسفہ، نفسیات اور سماجیات جیسے بنیادی شعبے بھی موجود نہ تھے۔ اُنہی دنوں خالد سعید تین برس کی ڈیپوٹیشن پر یہاں آیا تو اُس نے سائیکالوجی، سوشیالوجی اور فلاسفی ڈیپارٹمنٹس کی بنیاد رکھی، جن کا نصاب بھی اُسی کی دِین تھا اور فیکلٹی بھی، یہاں تک کہ بجٹ کا انتظام بھی اُسے خود کرنا پڑا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حاتم طائی کی قبر پر لات رسید کرتے ہوئے اِن شعبوں کی منظوری تو دے دی، لیکن پیسے فراہم کرنے کا وقت آیا تو ہاتھ کھڑے کر لیے۔ خالد سعید اِن تین شعبوں کا بانی تو ہے ہی، ملتان کالج آف آرٹس، کرمنالوجی ڈیپارٹمنٹ اور جینڈر اسٹڈیز کا قیام بھی اُس کی براہِ راست معاونت، مداخلت اور رہنمائی کے بغیر ممکن نہ تھا، اور یہ تمام خدمات اُس نے کسی انتظامی عہدے یا معاوضے کے بغیر سر انجام دیں، محض اُس نادار طالب علم کے لیے، جو فلسفے کا شیدائی تھا، لیکن اُس کے پاس لاہور یا اسلام آباد جانے کی سکت نہیں تھی، یا اُس ہونہار طالبہ کے لیے، جو علمِ نفسیات کا فطری میلان رکھتی تھی، مگر اُس کے گھر والے اُسے ملتان سے دور بھیجنے پر آمادہ نہ تھے۔
خالد سعید اُن نایاب اساتذہ میں سے تھا، جو نہ صرف ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت سے آگاہ ہوتے ہیں، بلکہ اُن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ سن دو ہزار سات میں جب وہ ایمرسن کالج سے ریٹائر ہو کر یونیورسٹی کی وزٹنگ فیکلٹی کا حصہ بنا تو اُس نے زکرین لٹریری فورم، زکرین ڈبیٹنگ سوسائٹی اور زکرین ڈرامیٹک کلب کا اجراء کیا، جس کی بدولت یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو پہلی بار اپنی ہم نصابی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملا۔
خالد سعید کی ادبی خدمات کسی بھی طرح اُس کی تعلیمی خدمات سے کم نہیں۔ اُس کا شمار ملتان کے ابتدائی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ عرش صدیقی، صلاح الدین حیدر اور انوار احمد کا ہم عصر تھا۔ اُس کا واحد افسانوی مجموعہ "سوال کے ہاتھ اور دوسری کہانیاں” اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یوں تو اس کے تمام افسانے اپنے موضوع اور کرافٹ کے اعتبار سے منفرد ہیں، لیکن "جندرا”، "نیلی بھیڑ”، "اولڈ راوین” اور "متولیہ” کو نسبتاً زیادہ سراہا گیا۔
خالد سعید نے افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کی۔ بنیادی طور پر وہ ایک نظم گو شاعر تھا۔ اُس کی نظموں کا مجموعہ "نیلی شام ” کے عنوان سے ضوریز پبلی کیشنز ملتان نے شائع کیا۔ "ایک مورکھ ناری سوچتی ہے”، "تمہارے پیر مرمریں”، اور "میرا باغ عدن اِسی شہر میں ہے” اُس کی نمائندہ نظموں میں شمار ہوتی ہیں۔
خالد سعید ایک بلند پایہ نقاد اور ان تھک مترجم بھی تھا۔ اُس کے دیباچوں اور تنقیدی مضامین کا واحد مجموعہ "معنی کی تلاش” کے عنوان سے شائع ہوا۔ اُس کی تنقید میں ایک خاص طرح کا تاریخی شعور، سماجی بصیرت اور تخلیقی رچاؤ ہے، جو اُسے اپنے دیگر ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے، تاہم مقدار کے اعتبار سے خالد سعید کا سب سے نمایاں کام اُس کی ترجمہ نگاری ہے۔ اُس کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی ادب کے غیر معمولی مطالعے اور قارئین کو اپنے مطالعے میں شریک کرنے کی خُو نے اُسے فکشن نگار سے مترجم بنا دیا۔ اُس نے دس سے زائد کتابوں کا ترجمہ کیا، جن میں سے "ایک مرد”،” سن بالشتیے”، "کتھا ایک نیک ناری کی” اور "برف پر تمہارے پاوں کی لکیر” کو نسبتاً زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔
ایک ہمہ جہت ادیب ہونے کے ناتے خالد سعید ایک غیر معمولی روداد نویس بھی تھا۔ نوے کی دہائی کا ایک اہم ادبی واقعہ، اردو اکادمی ملتان میں اُس کی بہ طور جوائنٹ سیکرٹری تقرری تھی۔ یہ اُس کی بے پایاں تخلیقی توانائی، جدت طرازی اور اختراعی ذہن کا اعجاز تھا، جس نے منٹس آف میٹنگ کو صحافت کے پنگھوڑے سے نکال کر ایک باقاعدہ اور بھرپور ادبی صنف میں تبدیل کر دیا۔ تقریباً چھتیس برس پرانی اُن رپورٹوں کا ایک انتخاب "پرکھ بان ” کے نام سے زیرِ اشاعت ہے، جس میں رپورٹس کے ساتھ ساتھ معاصرین کے شخصی خاکے بھی شامل ہیں ۔
یہ بات اب قریب قریب پر شخص پر عیاں ہے کہ اردو اکادمی کے انتظامی ممبران کے ساتھ خالد سعید کا نظریاتی اختلاف ہی ممتاز ادبی تنظیم ملتان آرٹس فورم کے قیام کا سبب بنا۔ آرٹس فورم پچھلے ستائیس برسوں سے ملتان میں ادب اور فنون لطیفہ کی ترویج کا سب سے معتبر ادارہ ہے اور کولاج سیریز اس کی شناخت کا ایک مستند حوالہ، جو خالد سعید ہی کی ادبی رپورٹنگ کا تسلسل اور ارتقا ہے۔ اس سیریز کے تحت اب تک دس کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں سے کولاج پانچ، نو اور دس کا مصنف، خود خالد سعید ہے۔
خالد سعید کی زندگی کا بیشتر حصہ ملتان کی درس گاہوں اور ادبی محافل میں گزارا۔ اُس کے ہاں جو ایک خاص طرح کی رومانویت اور ترقی پسندی کا امتزاج ملتا ہے، وہ ملتان ہی کی دین ہے۔ اُس کا حیات مرتکز بیانیہ، نان لینئر زمانی تصور اور تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے کا فلسفہ بھی مقامی لوک دانش سے منسوب ہے، جو اُس کے سیاسی، سماجی اور تاریخی شعور میں جذب ہو کر ایک ایسا آفاقی رنگ اختیار کر لیتا ہے، جہاں سقراط اور سرمد، گلیلیو اور گنیش، نرودا اور نیلسن، زمان و مکان کی حد بندیوں سے ماورا ہوکر زندگی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انتہا پسندی، عدم انصاف اور امریت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ۔۔۔ مگر ہتھیار اٹھا کر نہیں ۔۔۔ بانسری اور دھمال کے ذریعے ۔۔۔ طبلے اور سارنگی کے زور پر۔
خالد سعید کی زندگی کا آخری ڈیڑھ برس سرطان کی بیماری سے لڑتے گزرا۔ اُس نے اپنی کیمو تھراپی کے دوران اٹھارہ سو سے زائد صفحات تحریر کیے، جو اِس بات کا برملا اظہار ہے کہ لگن سچی ہو تو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی فسانہ ہائے دل تحریر کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک پرجوش لیکھک اور استاد تو تھا ہی، مگر اِس سے کہیں بڑھ کر ایک ایسا عالی ظرف انسان، جس نے اپنی ذات کا سورج فروزاں کرنے کے بجائے اپنے حصے کی روشنی بھی دوسروں میں بانٹ دی۔ وہ محبت اور انصاف سے تہی ایک غیر انسانی معاشرت میں شائستگی، رواداری اور احساس کا پیکر بن کر زندہ رہا۔ وہ ایک مردہ پرست سماج میں محبت اور آرٹ کا استعارہ تھا، جس نے زندگی کی ہر ممکنہ صنف سے مکالمہ استوار کرنے کی کوشش کی۔
خالد سعید مرد اور عورت، مشرق اور مغرب، فلسفی اور شاعر، مورخ اور کاہن، فطرت اور انسان کے بیچ مکالمے کا امکان ہے۔ وہ جانتا ہے کہ طاقت کے مراکز بدلتے رہتے ہیں، آج کا حاکم کل کا محکوم ہو سکتا ہے، ایک عہد کا مظلوم کسی دوسرے عہد میں ظالم کا روپ بھی دھار سکتا ہے، اُس کا فن یہ ہے کہ وہ تاریخی حقائق کا درست تجزیہ کرتے ہوئے ہمیشہ کمزور کے ساتھ کھڑا رہنے کا ہنر جانتا ہے، اور تب تک اُس کے ساتھ کھڑا رہتا ہے جب تک طاقت کا توازن بدل نہیں جاتا۔
خالد سعید کو اُس کے چاہنے والے صوفی منش کہتے ہیں کیونکہ وہ کبھی گریڈوں کے پیچھے نہیں دوڑا، اُس نے مال و زر کا تعاقب نہیں کیا، طاقت کی ہوس کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے، ایوارڈز کی دوڑ میں شریک نہیں ہوا، لیکن اگر صوفی کے لقب یا خطاب سے آپ کے ذہن میں کوئی رہبانیت پسند، آدم بیزار یا عبادت گزار بابے کا تصور آتا ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔ خالد سعید ایک قدیم روح رکھتے ہوئے بھی ایک جدید دنیا کا باسی تھا۔ وہ انسان کی ازلی شر پسندی کا قائل ہوتے ہوئے بھی ایک متحرک سماجی فرد تھا، جو آزاد کرنے اور آزاد ہونے کا ہنر جانتا تھا، جسے معافی مانگنا اور معاف کرنا آتا تھا۔ اُس نے بے عملی کے بجائے عمل کا راستہ اپنایا، سرنڈر کرنے کے بجائے مزاحمت کی راہ اختیار کی۔ اُس کی مزاحمت نرم خو لیکن مستحکم ہے، جو آرٹ، مکالمے، کتابوں، موسیقی، رقص اور محبت کے ذریعے جبر کا انکار کرتی ہے، مگر صرف اپنے لیے نہیں دنیا کے ہر فرد کے لیے ۔۔۔ ایک ایسی دنیا کی خواہش میں جہاں ہر انسان دیوتا بننے کی شکتی لے کر پیدا ہو مگر کسی کی جان نہ لے، کسی کی عزت نہ لوٹے، کسی کا مال نہ چھینے، کسی کا گھر نہ جلائے؛ ایک ایسے جہان کی آرزو میں جہاں فطرت کو تسخیر کرنے کے بجائے اُسے اپنا دوست سمجھا جائے، جہاں جھیلیں اور آبشاریں ہوں، جنگل اور ندیاں ہوں، جہاں انسانوں کو ہی نہیں پرندوں، جانوروں اور درختوں کو بھی خواب دیکھنے اور ان کی تعبیر ڈھونڈنے کا حق حاصل ہو۔ یہی اُس کا یوٹوپیا ہے۔ یہیں اُس کا باغِ عدن ہے۔ یہیں وہ انصاف کا موتی دھرا ہے، جو کبھی نہ کبھی سوال کے ہاتھ میں ضرور آئے گا۔




