5 اگست۔ کشمیر بھارتی عفریت کے جبڑوں میں


جولائی 2019 ء میں عین اس وقت جب پاکستانی وزیراعظم عمران خاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کشمیر پر ثالثی کا وعدہ لے رہے تھے، بھارتی گجرات کا ”بوچر“ نریندر مودی کشمیر ہڑپ کرنے کے منصوبے باندھ رہا تھا۔ عمران خاں جب امریکی دورہ کر کے لوٹے تو ائرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال ہوا جس پر انہوں نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک دفعہ پھر 92 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہوں لیکن انہیں شاید نہیں معلوم تھا کہ چند دنوں بعد ہی بھارت کشمیر کو ہڑپ کرنے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے۔

ماہ اگست شروع ہوتے ہی قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں پر جبر و تشدد کی انتہا شروع کر دی اور 5 اگست کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35۔ A کا خاتمہ کر دیا۔ آرٹیکل 370 کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ظاہر کرتا تھا اور 35۔ A میں وضاحت کردی گئی تھی کہ کوئی غیر کشمیری نہ تو کشمیر کا مستقل شہری بن سکتا ہے اور نہ ہی وہاں جائیداد خرید سکتا ہے۔ گویا بھارتی آئین ہی کے مطابق کشمیر کوایک آزاد ریاست کی حیثیت حاصل تھی۔ جب ان آرٹیکلز کا خاتمہ ہوا تو مقبوضہ کشمیر کی بطور خودمختار ریاست کی حیثیت بھی ختم ہو گئی اور یوں مودی نے کشمیر ہڑپ کر لیا۔

دراصل انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے رکن مودی کو مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کھٹکتی تھی اور وہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ اس کے مشن کی راہ میں آرٹیکل 35۔ A حائل تھا کیونکہ اس آرٹیکل کی موجودگی میں کوئی بھی بھارتی ہندو نہ تو کشمیر کا شہری بن سکتا تھا اور نہ ہی وہاں جائیداد خرید سکتا تھا۔ ان آرٹیکلز کے خاتمے کے بعد اب صورت حال یہ ہے کہ آر ایس ایس نامی ہندو تنظیم کے غنڈے مقبوضہ کشمیر میں دندناتے پھرتے ہیں۔

یہ غنڈے گھروں میں گھس کر خواتین کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ کشمیریوں کے کاروبار بند کرواتے، املاک کو نذرآتش کرتے اور جابجا تشدد کی خونچکاں داستانیں رقم کرتے نظر آتے ہیں۔ 5 اگست سے اب تک ان 4 سالوں میں بیشمار شہادتوں کے علاوہ لگ بھگ 1200 گھر جلائے جا چکے ہیں پھر بھی عالمی ضمیر خاموش جبکہ سات عشرے پہلے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کیا گیا۔

نریندر مودی کشمیری اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے اسی لیے آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں زبردستی زمینیں اور باغات اپنے نام لگوا رہے ہیں اور غیر ریاستی افراد کو دھڑادھڑ ملازمتیں بھی دی جا رہی ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر پر مکمل قبضہ کیا جا سکے۔ ادھر ہمارا یہ حال کہ ”کشمیر ہماری شہ رگ“ جیسے بلند بانگ نعرے اور دعوے جابجا مگر عمل مفقود۔ جب 5 اگست 2019 ء کو بھارت نے کشمیر ہڑپ کیا تو 6 اگست کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اعظم سواتی نے مذمت کی قرارداد پیش کی جس میں آرٹیکل 370 اور 35۔ A کا ذکر تک نہ تھا۔ اس قرارداد کے پیش ہونے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور اس وقت کے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے سخت تنقید کی۔ اس کے جواب میں عمران خاں نے چڑ کر کہا ”مجھے بتا دیں کہ میں کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کر دوں؟“ ۔

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو سات دہائیوں سے زائد ہو چکے پھر بھی بھارتی مظالم کشمیریوں کا حوصلہ نہ توڑ سکے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ 3 دہائیوں میں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ 25 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں ور صرف 5 اگست 2019 ء کو اپنے غیرقانونی قبضے کو دوام بخشنے کے لیے 308 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ خواتین کی بے حرمتی اور بچوں پر بہیمانہ تشدد کی دل گداز داستانیں سن کر انسانیت بھی شرمانے لگتی ہے۔

نوجوانوں کو اغوا کر کے ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور بعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں۔ خواتین پر جنسی تشدد اور ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج کا مشغلہ بن چکا ہے۔ بھارتی مظالم سے تنگ آ کر ہزاروں کشمیری کنٹرول لائن کے اس پار ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت یہ سب کچھ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے کر رہا ہے تاکہ کل کلاں اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کی نوبت آئے تو ثابت ہو سکے کہ کشمیر میں غیرمسلموں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں 7 دہائیاں پہلے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 80 فیصد تھی اب گھٹ کر 65 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اتنے ظلم و ستم کے باوجود بھی کشمیریوں کے حوصلے جواں اور وہ آزادی کی طلوع ہوتی صبح دیکھنے کے لیے بیتاب جس کی درخشندہ مثال 22 سالہ نوجوان برہان مظفر وانی۔

برہان مظفر وانی کی شہادت نے تحریک آزادیٔ کشمیر میں نئی روح پھونک دی جس کے بعد یہ تحریک ایسے نوجوانوں کے ہاتھ میں آ چکی جن کا نعرہ ”ابھی یا کبھی نہیں“ ۔ 15 سال کی عمر میں بھارتی مظالم کے خلاف علم آزادی بلند کرنے والے ہونہار طالب علم برہان مظفر وانی کشمیریوں کے نزدیک جدوجہد آزادی کی علامت بن چکے ہیں۔ 8 جولائی 2016 ء کو بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے برہان مظفر وانی سمیت 3 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ برہان مظفر نے جدوجہد آزادی کی نئی طرح ڈالتے ہوئے بندوق سے زیادہ انٹرنیٹ کے استعمال سے کشمیر میں ہونے والی ظلم و بربریت کی داستانیں دنیا تک پہنچائیں۔

اسی لیے اسے ”پوسٹر بوائے“ بھی کہا جاتا تھا۔ جب اسے صرف 22 سال کی عمر میں شہید کیا گیا تو مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا آتش فشاں پھٹ پڑا جس پر مقبوضہ وادی میں مسلسل 6 ماہ تک کرفیو نافذ رہا۔ اس دوران لگ بھگ 1400 شہری شہید ہوئے، 4000 سے زائد زخمی اور سینکڑوں گھر نذر آتش کیے گئے۔ اس کے علاوہ اسرائیل سے درآمد کی گئی پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال بھی ہوا جس سے سینکڑوں بے گناہ کشمیری اندھے اور معذور ہوئے۔ پیلٹ گنوں کے استعمال کی اقوام متحدہ نے بھی شدید مذمت کی لیکن گجرات کے بوچڑ لازمۂ انسانیت سے تہی نریندر مودی پر اس مذمت کا پرکاہ برابر اثر نہیں ہوا اور آج بھی قابض بھارتی افواج پیلٹ گنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔

کشمیری ہر سال برہان مظفر وانی کی شہادت پر 8 جولائی کو ”یوم مزاحمت“ مناتے ہیں اور 5 اگست کو ”یوم استحصال“ ۔ برہان مظفر کے ساتویں یوم شہادت پر ہر سال کی طرح 313 نوجوانوں نے سلامی دی اور قبر پر پھول چڑھائے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس موقعے پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جاتی ہے جو اس امر کی علامت ہے کہ کشمیریوں میں جذبۂ حریت جواں ہے۔ ”یوم استحصال“ علامت ہے اس امر کی کہ کشمیری بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35۔ A کو بقدر اشک بلبل بھی حیثیت نہیں دیتے۔ ان کا جذبۂ حریت مکمل آزاد اور خودمختار کشمیر کی جانب گامزن ہے۔ تاریخ عالم گواہ کہ آزادی کی ایسی تحریکیں جلد یا بدیر ثمر آور ہوتی ہی ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیری نوجوان طلوع ہوتی صبح آزادی کا نظارہ کریں گے۔

Facebook Comments HS