ٹوئیٹر لوگو کی تبدیلی اور”نواۓ وقت ٹائپ” اخبار کا اداریہ
گزشتہ کچھ عرصہ سے اقوام عالم نے یہ وتیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ ترقی پسندی، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ایج جیسی اصطلاحات کی آڑ میں ڈیرہ ارب سے بھی زائد مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے رہتے ہیں۔ کبھی یہ لوگ کشمیر پر ہندو اور ارض مقدس فلسطین پر صیہونی ایجنڈے کی تکمیل میں اپنی توانائیاں صرف کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی مسلم کش پالیسیوں کو روا رکھتے ہوئے افغانستان اور عراق کے مسلمانوں پر ستم ڈھاتے ہیں۔ مغربی میڈیا بھی مسلمانوں سے نفرت اور عناد میں کسی سے کم نہیں۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو یا اسلامی شعائر کی بے حرمتی کا معاملہ۔ یہ اس کو ایک خاص زاویہ اور نقطہ نگاہ سے ہی دکھاتے ہیں۔ جس کا مقصد اہل اسلام کو کم علم، جاہل اور ماڈرن زمانے سے ناآشنا قرار دینا ہوتا ہے۔ اس پہ طرہ یہ کہ عالمی سطح پر ہونے والے بڑے فیصلوں میں اول تو مسلم عوام کی رائے لی ہی نہیں جاتی۔ اور بہت سے امور میں یہ فیصلے عام مسلمانوں کے دلی جذبات کے خلاف کر لئے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ رویہ مغربی معاشروں کے صرف مقتدر حلقوں میں ہی روا نہیں رکھا جاتا بلکہ یہ زہر اب ان معاشروں میں بہت دور دور تک سرایت کر چکا ہے۔
اسی رویہ کی تازہ مثال ٹویٹر نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نئے مالک ایلون مسک ہیں جنہوں نے انتہائی بزدلی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں ٹویٹر لوگو تبدیل کر کے کروڑوں مسلمانوں کے سینے میں خنجر گھونپا ہے۔ ایک معصوم پرندہ والے لوگو کو ایک کاٹے ( ایکس) والے نئے لوگو سے ذبح بلکہ جھٹکا کرتے ہوئے مسٹر مسک اخلاقیات کی تمام حدیں بھی پار کر گئے ہیں۔ انہیں یہ احساس تک نہیں ہوا کہ وہ اپنی اس ذاتی خوشی کی رو میں عالم اسلام پر کتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ ٹویٹر ایک سیکولر پلیٹ فارم ہے اور اس کا کسی خاص مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلے بیس سال سے معصوم پرندے کا لوگو مسلمانان عالم کے دل میں گھر کر گیا تھا۔ پرندے کی دلکش اور من موہنی صورت دیکھ کر بے شمار لوگوں کا دل بے اختیار عبادت کرنے کو کرتا تھا۔ یہ لوگو دیکھ کر دل میں رحم، محبت، صلہ رحمی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی نمو ہوتی تھی جو کہ صرف مسلمانوں کا ہی خاصہ ہے۔ اس لوگو کو دیکھ کر لوگ علامہ اقبال کے طائر لاہوتی اور شاہین ( پرندہ کا ذکر ہے، کسی لڑکی کا نہیں) وغیرہ کو بھی یاد کر لیتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ چڑا اور چڑی کے آئیڈیل کپل کی زود ہضم کھچڑی والی کہانی کی یاد بھی دلاتا تھا۔ جس سے شادی شدہ لوگوں کو آپس میں پیار محبت سے نباہ کرنے کی ترغیب ملتی تھی۔ بعض لوگ یہ نشان دیکھ کر بٹیر اور چڑی کا باربی کیو کھانے کی طمع بھی کرتے تھے مگر ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔
اب عیسائی مذہبی علامت صلیب سے متشابہ کاٹے یعنی ایکس کا نشان بہت سے مسلمانوں میں جائز تشویش پیدا کر رہا ہے۔ مسیحی دنیا میں ایکس کا حرف تہجی کرسمس اور دیگر مذہبی نشانات کے لئے استعمال ہوتا آیا ہے۔ چنانچہ اس امر کا احتمال ہے کہ اس کاٹے کی آڑ میں مسلم دنیا میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کی جائے گی۔ اور مسیحی رسومات کو فروغ دیا جائے گا۔ پہلے ہی مغربی معاشرے ویلنٹائین ڈے، نیو ائر نائٹ اور دیگر تہواروں کے نام پر مسلمان معاشروں میں جو ننگ دھڑنگ کلچر اور طوفان بدتمیزی برپا کیے ہوئے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
مغرب کے بر عکس کاٹے کا نشان ہو یا لفظ ایکس، ہمارے یہاں متضاد و مجہول معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک طرف تو لفظ ایکس سے قطع تعلقی، ترک محبت اور رجعت قہقری وغیرہ کے آثار متشرح ہوتے ہیں۔ ایکس ہزبینڈ، ایکس وائف، ایکس باس، ایکس ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ وغیرہ انہی کیفیات و واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جبکہ کبھی کبھی لفظ ایکس عہد رفتہ اور درخشاں ماضی کا مظہر اور آنے والے شاندار مستقبل کی نوید بھی ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہی اخبار کے فرائی ڈے ایڈیشن میں یہ خبر چھپ چکی ہے کہ نیو ہائٹس پلمبرز کباڑ مارکیٹ کے مدارالمہام اور ایکس سینیٹری انسپکٹر مسٹر بلند بخت خان عنقریب جرمن پلمبرز سے اعلیٰ معیار کی ٹوٹیاں اور فلش ٹینک درآمد کرنے کے لئے مذاکرات کریں گے۔ یا پھر یہ تازہ خبر کہ بھاٹی چوک لاہور کے مشہور دال چاول والے مسٹر جوڑا شاہ عرف تین ٹانگ کا گھوڑا جو کہ ایکس سیکرٹری شاد باغ فٹ بال لیگ بھی ہیں اور حال ہی میں افیم نوشی کے سبب گر کر زخمی ہو گئے تھے، سفر عراق و بغداد کو بعد از رمضان المبارک روانہ ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
تاہم لفظ ایکس کے برعکس ایکس یا کاٹا بطور نشان کبھی بھی مبارک اور مقبول تصور نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا ہر استعمال منفی معنوں میں ہی ہوا ہے۔ مثلاً دوستوں نے آپس کی دوستی ختم کر کے کٹی کرنا ہو تو ایک دوسرے کو ایس ایم ایس یا واٹس ایپ پر گالیوں کے ساتھ کاٹا بھیجتے ہیں۔ امتحانات میں ممتحن نے جس طالب علم کو سال گزشتہ میں بر محل اور بر وقت گھی اور گندم کے کنستر فراہم نہ کرنے پر تادیباً فیل کرنا ہو اس کے پرچہ جوابات پر پہ کاٹے یا کراس لگائے جاتے ہیں۔ ریاضی کے پرچہ میں سوال کے آگے ایکس لگا کر معصوم بچوں سے ضرب کی بابت پوچھا جاتا ہے بلکہ کیلکولیٹر اور سمارٹ فون کی عدم دستیابی سے ان کی بے بسی کا لطف اٹھایا جاتا ہے۔ دکاندار نے جس گاہک کا عدم ادائیگی کی وجہ سے ادھار بند کرنا ہو اس کے کھاتے پر کاٹا اور آگے ”ادائیگی زکوۃ سے کر دی گئی ہے“ لکھا جاتا ہے۔ اس طرح بجلی کے کھمبوں پر خطرے کے لفظ کے ساتھ ایک کراس لگا ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کھمبے سے دور رہا جائے۔ اس پر کنڈی، کانٹا یا کمند وغیرہ ڈالنے سے اجتناب برتیں۔ ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز کے باہر بھی کراس لگا کے لکھ دیا جاتا ہے کہ اس مقام سے آگے مریض کے ساتھ کوئی نہ آئے اور مریض اپنے منقولہ و غیر منقولہ سامان بشمول دل، جگر، گردہ وغیرہ کی خود حفاظت کرے۔ ایسا ہی نشان ائرپورٹس کے کچھ علاقوں میں بھاری بھر کم دروازوں پر بھی لگا ہوتا ہے۔ عقلمند لوگوں کے لئے اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہوتا ہے کہ اندر کسٹم کے افسران اور دیگر سرکاری حکام گنتی اور بندر بانٹ میں مصروف ہیں۔ ان کی کمائی خراب نہ کی جائے۔
اس سارے معاملے میں یہ خدشہ بھی ہے کہ اس نئے لوگو کی آڑ میں مسلمان معاشروں میں نفاق پیدا کیا جائے گا اور بے حیائی کو فروغ دیا جائے گا۔ پہلے پہل یہ ٹویٹر نامی چیز ایک کاٹا ہو گی، پھر دو کاٹا اور پھر تین کاٹا یا ٹرپل ایکس۔ یہی وہ ڈبل اور ٹرپل ایکس طاغوتی لمحہ ہو گا جب ٹویٹر کے ذریعہ مسلم معاشروں میں دو کاٹا اور تین کاٹا فلموں کے ذریعہ فحاشی کا سیلاب لایا جائے گا۔ اور نوجوانان امت کی برین واشنگ کر کے ملت اسلامیہ کے خاندانی نظام کو نئے حادثوں سے دو چار کیا جائے گا۔
مناسب ہوتا مسٹر مسک اتنی بڑی تبدیلی اچانک کرنے کی بجائے پہلے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں مثلاً او آئی سی، تحریک لبیک، جمعیت علمائے ہند، جمعیت اہل حدیث اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ وغیرہ سے مشاورت کر لیتے اور کاٹے (ایکس) سے وابستہ مسلمانوں کے خدشات کو دور کرتے۔ اگر انہیں پرندے کا لوگو تبدیل کرنا ہی تھا تو اسے گھوڑے، تلوار، اونٹ یا کسی متفقہ نشان یا لوگو سے بدلا جاسکتا تھا۔
اگرچہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے مگر ابھی بھی وقت ہے کہ مسلمان اقوام اور حکمران خواب غفلت سے جاگ جائیں اور ٹویٹر لوگو کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت کریں۔ اس ضمن میں او آئی سی اور عرب لیگ کو ٹویٹر لوگو پر خصوصی نمائندہ مقرر کر کے مسٹر مسک پر زور دینا چاہیے کہ وہ کاٹے کا نشان منسوخ کریں اور اہل اسلام کے مشورہ سے کوئی نیا لوگو منتخب کر لیں۔ مسٹر مسک کو بھی چاہیے کہ وہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں اور جو غلطی ان سے ارادتاً یا سہواً ہوئی ہے اس کی فوری تصحیح کر لیں۔
وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ کو گروہ بندیوں اور فرقوں سے بالا تر ہو کر اس ضمن میں یکجہتی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ ٹویٹر لوگو کی تبدیلی ہو، ویلنٹائین ڈے کی آڑ میں اخلاقی اقدار کا جنازہ ہو یا نیو ائر نائٹ کی صورت میں خرافات کا بے قابو طوفان، مسلم معاشروں کو ان پے درپے ہونے والے ثقافتی حملوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہو گا۔ انہی سطور میں ہم مسلم قیادت کو یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ غیر ملکی فیس بک اور ٹویٹر پر بھروسا کرنے کی بجائے مسلمانوں کا اپنا جدید ملی پلیٹ فارم جس کا نام حبیبی بک، روئے حبیب یا کتب حبیبی ہو سکتا ہے وغیرہ لانچ کریں۔ اس طرح کے پلیٹ فارم پر مختلف فرقوں اور گروہوں کو الگ شناخت بھی دی جا سکتی ہے۔ چنانچہ روئے حبیب سنی اور روئے حبیب شیعہ الگ سے بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح کاٹے والے ٹویٹر کی جگہ سبز ہلالی نشان والے ٹویٹر کا اجراء اور واٹس ایپ کی جگہ ”کیف حالک“ یا اسی طرز کی کوئی مسینجر سروس بھی شروع کی جا سکتی ہے۔


