جناب حاشر ابن ارشاد کا انٹرویو


خیالات کا اظہار، فقط خیالات کی یلغار سے تو نتھی نہیں صاحب، اس لیے انھیں کہنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔ اور اگر حوصلے کی منزل طے ہو گئی، تو اگلا مرحلہ ہے سلیقہ۔ جی، سلیقہ نہ ہو، تو نہ ہی منصور کا سر سلامت رہتا ہے، نہ ہی سرمد کا۔

حاشر ابن ارشاد نے جبر کے اس دور میں جن روشن خیالات کا علم اٹھا رکھا ہے، اس کے مطالبات کڑے۔ سامنے ہتھیار بند لشکر اور آپ کے حواری محدود و مضطرب۔ مصنف بھی ادھر، جلاد بھی ادھر، اور آپ کے کاندھوں پر فقط اپنی صلیب۔

مگر حاشر صاحب وقت کی تنی ہوئی رسی پر اب تک اطمینان سے چلتے آئے ہیں کہ صاحب مطالعہ شخص ہیں، لکھنے اور بات کہنے کا ڈھب جانتے ہیں۔ مزاح نگاروں کو جم کر پڑھا، تو طنز و مزاح، دونوں کا رچاؤ ان کے برتاؤ میں ملتا ہے۔ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اس ایجوکیشنسٹ اور فنانشل اینالسٹ نے اپنے بلاگز اور باتوں سے بہتوں کو متاثر کیا، کئی کو گرویدہ بنایا۔ کئی جھگڑے مول لیے، کئی قضیے نمٹائے۔

ہم نے بھی ان سے چند باتیں کی ہیں۔ کچھ سوالات سامنے رکھے۔ جوابات سارے ہی بھرپور تھے۔ محظوظ ہوئے بغیر چارہ نہیں۔ بالخصوص وہ حصہ، جس میں وہ مطالعے کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ آئیں، ضیافت میں شامل ہوجائیں۔

اقبال: ہر لکھاری پہلے پہل قاری ہوتا ہے، تو اوائل میں کن مصنفین سے پالا پڑا، کس کا فکشن اچھا لگا؟

حاشر: بہت چھوٹے ہوتے تھے، تو پچاس پیسے کی جو کہانیاں آتی تھیں، وہ پڑھا کرتے تھے۔ اس کے بعد سعید لخت کو بھی پڑھا، مقبول جہانگیر کو بھی پڑھا، اشتیاق احمد صاحب کو بھی پڑھا۔ جو بچوں کے رائٹرز تھے، ان سب کو پڑھا۔ ہاں، بدقسمتی سے اقرار الحسن والی پڑھائی ہم نے نہیں کی۔ شروع شروع میں وہ پڑھا، جو عام بچے پڑھا کرتے تھے۔ مگر دھیرے دھیرے تاریخ اور دوسرے موضوعات سے دل چسپی ہو گئی۔ ہمارے گھر میں داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کے بھارت کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، جن میں آدھی فارسی آدھی اردو ہوتی تھی۔ بہت کم عمری میں انھیں پڑھا۔ پچیس فی صد سمجھ میں آیا، پچھتر فی صد سمجھ نہیں آیا، مگراس کا بہت اثر تھا۔ پھر رتن ناتھ سرشار کا فسانہ آزاد، رجب علی بیگ سرور، میر امن، عبدالحلیم شرر، میر بہادر علی حسینی، مرزا ہادی رسوا وغیرہ۔ اردو کلاسیک بہت جلدی پڑھ لی تھیں کہ گھر میں اماں ابا دونوں نے یہ سب مال متاع اکٹھا کیا ہوا تھا۔ ایمان داری کی بات ہے کہ جو کچھ پڑھا، سارا تو پلے نہیں پڑا، مگر وہ ہمیں دل چسپ بہت لگا۔ وہاں سے کہانی شروع ہوئی۔ پھر اسی زمانے میں ان کی جو تلخیص اور سلیس ترجمہ چھپنا شروع ہوا تھا، وہ پڑھا۔ جیسے مقبول جہانگیر صاحب نے عمرو عیار اور داستان امیر حمزہ کا ترجمہ کیا تھا، وہ ہم نے پورا پڑھا۔ میری کم عمری پر اس کا گہرا اثر ہے۔ پھر آپ کو یاد ہو گا کہ اے حمید صاحب کی عنبر ناگ ماریا سیریز ہوا کرتی تھی۔ وہ ہم نے پڑھی۔ ابو سب رنگ ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے، تو اس کی طرف منتقل ہو گئے۔ پھر سب رنگ ڈائجسٹ، اردو ڈائجسٹ پھر عالمی ڈائجسٹ۔ اس طرح کی سارے ڈائجسٹ پڑھے۔

تھوڑے بڑے ہو کر جیسے کہتے ہیں ؛ The Usual Suspects، شہاب نامہ پڑھا۔ پھر بانو قدسیہ کا راجا گدھ وغیرہ۔ انھوں نے متاثر بھی کیا، مگر جیسے جیسے مزید پڑھتے چلے گئے، یہ تاثر ماند پڑتا چلا گیا۔ مختار مسعود صاحب کا شروع میں بہت اثر رہا۔ شفیق الرحمان کا مزاح پہلے پڑھا۔ یوسفی صاحب کو بعد میں پڑھا، تو ناسٹلیجا کی وجہ سے شفیق الرحمان کا اثر مجھ پر بہت گہرا ہے۔ ابن انشا، پطرس، کنہیا لال کپور کو اس زمانے میں پڑھا۔ بے شمار رائٹرز ہیں۔ پھر تاریخ پڑھنی شروع کی۔ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے فارسی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہوا کرتے تھے، پروفیسر آفتاب اصغر۔ میرے والد کے دوست تھے۔ ان کا تاریخ کا مطالعہ بہت غضب کا تھا۔ اور مجھے تاریخ میں بہت دل چسپی تھی۔ تو مجھے یاد ہے ہم ساتویں آٹھویں میں تھے، ابو ان کے گھر چھوڑ دیا کرتے تھے اور وہ ہمیں تاریخ کی کتابیں پڑھاتے تھے۔ پنجاب کی تاریخ کا مقدمہ اس زمانے میں پڑھا۔ سمجھنے کی اپنی حد تک ہر کوشش کی۔ جتنا سمجھ میں آیا، اپنے اندر اتارتے گئے۔ پھر انگریزی ادب کی طرف مائل ہونے لگے۔ کالج میں جب گئے، تو نصابی کتب سے زیادہ اچھا تعلق نہیں رہا، حالاں کہ شروع میں بہت اچھا طالب علم سمجھا جاتا تھا۔ تو زیادہ وقت پنجاب پبلک لائبریری میں گزرا کرتا تھا۔ پہلے اس کا اردو سیکشن چاٹا پھر اس کا انگریزی سیکشن چاٹا۔ اسی زمانے میں پی جی ووڈ ہاؤس، ارنسٹ ہیمنگوے، گورکی، ٹالسٹائی، موپاساں، ایڈگر ایلن پو، او ہنری، ای ایم فورسٹر وغیرہم کو شروع کر کے ختم کر ڈالا۔ سفرناموں میں بیگم اختر ریاض الدین کے سفرنامے مجھے پسند رہے۔ بہت کم لوگوں کو ان کی خبر ہے۔ تین کتابیں انھوں نے لکھیں جن میں دو سفرنامے تھے۔ مجھے ان کی سب تصانیف بہت پسند آئیں۔ اگرچہ اب دوست یار ان کتابوں اور مصنف کے رشتے پر مشکوک ہیں۔

تاریخ جو آغاز میں پڑھی، وہ آرنلڈ ٹائن بی کی تھی، پھر ہیروڈوٹس، الفریڈ واٹس، ولیمز آف میلمز بری، قاسم فرشتہ، ابن خلدون جو ملا پڑھ ڈالا۔ پاپولر سائنس میں کارل سیگن کو بہت پڑھا۔ جیفری آرچر اور مائیکل کرائٹن کو شروع میں بہت پڑھا۔ پھر دوسری طرف شفٹ ہوتے گئے۔ آئزک ایسیموو کو بہت پڑھا۔ پھر ایک زمانے میں آٹو بائیو گرافی کی طرف چلے گئے۔ بزنس بائیوگرافی سے ہوتے ہوئے پولیٹیکل بائیو گرافکس کی سمت نکل گئے۔ تو یہ بڑی لمبی چوڑی داستان ہے۔ کسی ایک نام کا لینا میرے لیے مشکل ہے کہ فکشن میں کون پسند آیا۔ البتہ اردو افسانے میں کرشن چندر یقینی طور پر۔ منٹو اس کے بعد ۔ اور بیدی۔ ناولز مجھے لگتا ہے کہ اردو میں کم ہی اچھے لکھے گئے۔ کسی ناول نے مجھے کچھ خاص متاثر نہیں کیا۔ فکشن سے وقت کے ساتھ ساتھ توجہ ہٹتی چلی گئی۔ اب نان فکشن ہی پڑھتا ہوں۔ سائنسی کتب، تاریخ کی کتب، سوشیالوجی یا معاشیات سے دل چسپی اب بھی قائم ہے۔

اقبال: سلسلہ چل ہی پڑا ہے، تو کچھ تذکرہ شعرا کا بھی ہو جائے؟

حاشر: شاعری کی بات کی جائے، تو ایمان داری کی بات ہے، ابا کو اقبال پسند تھا، اور انھوں نے ہمارے ذہن میں بہت ڈالا کہ اقبال سے اچھا شاعر دنیا میں کوئی اور نہیں۔ امی کو غالب پسند تھا۔ تو ہم بچپن میں اقبال اور غالب کے درمیان پھنسے رہے۔ تھوڑے بڑے ہوئے تو فیض صاحب، ن م راشد اور مجید امجد کو پڑھا۔ وہی نام جنھوں نے اوروں کو متاثر کیا، ہمیں بھی متاثر کیا۔ مجھے ناصر کاظمی کے ساتھ ایک خاص قسم کی انسیت رہی ہے۔ اگر فیض سے زیادہ کسی نے اثر کیا تھا، تو وہ ناصر کاظمی تھے۔ اور اگر پیچھے جائیں تو میر کی شاعری بھی مجھے بہت پسند ہے۔ کیوں کہ ناصر کاظمی کا انداز بھی وہی تھا، جو میر کا تھا۔ مگر انھوں نے اپنی راہ بھی نکالی۔ ”پہلی بارش“ بہت کمال کا مجموعہ تھا۔ اسی رنگ میں ابن انشا کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ خیر آخری تجزیے میں کاظمی صاحب غزل میں اور نظم میں ن م راشد صاحب۔

 

اقبال:اتنی کتب پڑھیں، تو چند ایسی بھی ہوگی، جو متعدد بار پڑھی ہو اور دیگر کو بھی اسے پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے؟

حاشر:شاعری کی بات کی جائے تو تین شاعر بہت پڑھے۔ ناصر کاظمی، ن م راشد اور فیض صاحب۔ دیوان غالب بھی بہت پڑھا۔ شاعری میں یہ چار کتابیں بار بار پڑھتے رہیں، تو نئے معنی آپ پر کھلتے ہیں۔ اب نثر کی طرف آجائیں، تو کئی کتب ہیں۔ مگر سب سے زیادہ شفیق الرحمان کی کتابیں پڑھیں۔ بار بار پڑھیں۔ ہر بار اس نے مجھے نیا لطف دیا ہے۔ میں کوئی فلسفیانہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کروں گا کہ سبط حسن کو بار بار پڑھا، یا علی عباس جلال پوری کو بار بار پڑھا۔ یا ویل ڈیوراں یا ٹائن بی کو بار بار پڑھا۔ میں نے جسے بار بار پڑھا ہے، وہ شفیق الرحمان ہی ہیں۔ اور صرف ان کی مزاح نگاری نہیں۔ ان کی منظر نگاری بہت کمال ہے۔ جس پر بہت کم بات ہوئی ہے۔ جذبوں کی، رشتوں کی جیسی تفہیم وہ کرتے ہیں، بہت کم لوگوں نے کی۔ ان کی ایک کہانی ہے ”برساتی“ مجھے بہت پسند ہے۔ ”دجلہ“ پوری کتاب ہی مجھے بہت پسند ہے۔ ”دجلہ“ کے اندر جو منظر نگاری ہے، ایک جگہ صحرا کی رات کا ذکر ہے، ایک جگہ جنگل کا ذکر ہے، جنگل میں پرندوں کے بولنے کا ذکر ہے۔ وہ بڑی کمال چیزیں ہیں۔ تو نثر میں جسے بار بار پڑھا ہے، وہ ہیں شفیق الرحمان۔ باقی سائنس کی کتابوں میں اسٹیفن ہاکنگ کو بار بار پڑھا ہے۔ کارل سیگن کو بار بار پڑھا ہے۔ کارل سیگن کا ناول کونٹیکٹ کئی دفعہ پڑھا ہے۔ اس کی کتاب ”دی ڈیمن ہائنٹڈ ورلڈ“ کئی بار پڑھی ہے۔ آرٹ بک والڈ کے کالمز کا ایک مجموعہ میرے پاس ہے، اسے بھی کئی بار نکال کر پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے اچھا لگتا ہے۔

اقبال: کہتے ہیں، ہمارے ادیب، ہمارے دانش ور حاشیے پر ہیں، سماج میں بے معنی ہو گئے۔ کیا یہ درست ہے؟ اور ایسا ہوا، تو اس کا سبب کیا رہا؟

حاشر: بھائی ادیب یا دانش ور اپنی کتاب یا تحریر کے ذریعے متعارف ہوتا ہے۔ یہ فیس بک وغیرہ تو بہت بعد کی کہانی ہیں۔ ورنہ تو کتاب لکھی جاتی ہے۔ جس بائیس کروڑ عوام کے ملک میں اچھی کتاب ہزار کی تعداد میں چھپے، چھ ماہ میں ختم ہو اور آپ اس پر بھنگڑے ڈالیں، تو وہاں آپ ہمیشہ ہی سے حاشیے پر ہیں۔ ہمیشہ ہی سے بے معنی رہے ہیں۔ ہمارے سماج سے نہ تو کوئی بڑا فلسفہ اجاگر ہوسکا، نہ یہاں سے کوئی بڑا ناول نکل سکا۔ ہمارے شاعر بھی عالمی سطح پر نمایاں شناخت نہیں بنا سکے۔ فیض صاحب اشتراکی ممالک میں پسند کیے جاتے ہیں، مگر عالمی سطح پر فیض کو بھی کوئی نہیں جانتا۔ اقبال کو بھی کوئی نہیں جانتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اچھے شاعر نہیں ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں وہ شناخت نہیں مل سکی۔ شناخت تو پہلے آپ کو اپنے ملک میں ملتی ہے۔ وہاں پڑھے جائیں گے، پسند کیے جائیں گے، تب ہی آپ کا کام باہر جائے گا۔ لوگوں نے بہت لکھا، اور اچھا لکھا۔ مگر کوئی فلسفیانہ تحریک، کوئی مزاحتمی تحریک یہاں پیدا نہیں ہوئی۔

مزید یہ ہے کہ کوئی بڑا ناول نہیں نکلا۔ شارٹ اسٹوریز میں بڑے نام ہیں، مگر کیا انھیں باقی زبانوں کے شارٹ اسٹوری رائٹرز کے سامنے رکھا جا سکتا ہے؟ اس پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہم یہاں اپنی زبان میں نہیں پڑھ پاتے، تو دنیا کی باقی زبانوں میں کیا مطالعہ کریں گے؟ مثال کے طور پر ہمارے ہاں علاقائی زبانوں کے بڑے شاعر گزرے ہیں، مگر کیا وہ گلوبل لیول پر اثر انداز ہو سکے؟ وہ تو لوکل لیول پر بھی اثر انداز نہیں ہو سکے۔ وارث شاہ بڑا شاعر ہے، بلھے شاہ، خواجہ فرید؛ آپ نام لیتے چلے جائیں۔ ان کی شاعری بہت گہری ہے۔ کمال کی ہے۔ مگر کیا اس کا سماج پر کوئی اثر ہے؟ سماج کی بنت آپ کے سامنے ہے۔ جس طرح کا معاشرہ ہم نے تشکیل دیا تھا، جن بنیادوں پر تشکیل دیا تھا، اس کے پیش نظر تو یہاں وہی ہو رہا ہے، جو یہاں پر ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان جیسے مصنوعی معاشروں اور مصنوعی ممالک میں دانش ور ہمیشہ حاشیے پر رہتا ہے۔ یہ تو سوشل میڈیا نے کچھ اسپیس پیدا کردی ہے کہ لوگ آپ کو پڑھ لیتے ہیں۔ سن لیتے ہیں۔ لیکن وہ بھی تھوڑا بہت۔ اور اس کا بھی کوئی بڑا اثر نہیں ہے۔ تو یہاں پر کوئی روسو ہو گا، کوئی والٹیئر ہو گا، کوئی علی شریعتی ہو گا؛ مجھے مشکل ہی لگتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ جہالت یا تعلیم کی کمی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اس خطے میں پایا جانے والا وہ نظریاتی فریب ہے، جس کی بنیاد پر یہ ملک تشکیل پایا۔ اور جس کی بنیاد پر اس ملک میں لوگوں کو ہانکا گیا، اور اب بھی ہانکا جا رہا ہے، جن افراد کے مفادات کے لیے یہ ملک تشکیل پایا تھا، ان کا مفاد اسی میں ہے کہ یہاں کوئی اچھا بیانیہ تشکیل نہ پا سکے۔ اور اسی وجہ سے وہ تشکیل پا بھی نہیں سکا۔ اور نہ مجھے اس کی کوئی امید ہے۔ تو ادیب اور دانش ور ہمیشہ ہی سے حاشیے پر تھے۔ آپ اور مجھے ایسے دس بارہ نام پتہ ہوں گے جن کی فکر غیر معمولی رہی اس ملک میں۔ عام لوگوں کو ان ناموں کی بھی خبر نہیں۔ نہ ہی ان سے کوئی غرض ہے۔ ہماری اشرافیہ کتاب نہیں پڑھتی۔ اسے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ اس کے گھر آپ کو کتاب نہیں ملے گی۔ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والا کنسٹرکشن کرے گا، پراپرٹی بیچے گا، پلاٹ بیچے گا، اور اچھی زندگی گزارے گا۔ آپ کے یا میرے جیسے پڑھنے والے لوگ تو ہمارے معاشرے میں بیوقوف سمجھے جاتے ہیں۔

اقبال: مجھ جیسے قنوطی تو خیال کرتے ہیں کہ اب معاشرے میں مکالمہ کی گنجائش نہیں رہی، آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ پرامید ہیں؟

حاشر:آپ تو بعد میں قنوطی ہوئے ہیں۔ میں تو برسوں سے قنوطی ہوں۔ میرے خیال میں اس معاشرے میں مکالمہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ہمارے ایک دوست نے مجھے بہت قائل کرنے کی کوشش کی کہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ میں نے انھیں یہی کہا ہے کہ اس معاشرے میں مکالمہ نہیں ہو سکتا، جہاں ایک طبقے کو سب کہنے کی اور لکھنے کی آزادی ہو، اور مکالمے کی دوسری طرف بیٹھے شخص کو دس جملے لکھ کر انھیں پچاس بار کاٹنا پڑتا ہو، یہ سوچ کر اس کے بعد میرے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ وہاں کاہے کا مکالمہ۔ مکالمہ برابری کی سطح پر ہوتا ہے۔ یہاں آپ کے اور میرے جیسے لوگ جو ہیں، یعنی مبینہ طور پر سوچنے والے لوگ۔ یا اس معاشرے میں مختلف نظریہ رکھنے والے لوگ، وہ کیڑے مکوڑے ہیں۔ انھیں کچل دیا جاتا ہے۔ یہ اونچے لوگ، بڑے لوگ، طاقتور لوگ جنھیں اپنے پیروں تلے کچل سکتے ہیں، ان سے کبھی مکالمہ نہیں کیا کرتے۔ آپ نے کسی چیونٹی کے ساتھ، کسی کاکروچ کے ساتھ مکالمہ کیا ہے آج تک؟ تو یہ مکالمہ شکالمہ بس بک بک ہے۔ کہہ بول کر دل بہلا لیتے ہیں۔ اور اب تو ہمارے مکتبہ فکر میں بھی مباحثوں، بلکہ مناظروں کا دور شروع ہو چکا ہے (غالباً اویس اقبال کے مناظرے کی سمت اشارہ ہے)۔ اور اس کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں، وہ بھی آپ کے سامنے ہی ہیں۔

اقبال: کیا سوشل میڈیا پاکستانی سماج میں کوئی فکری تبدیلی لا سکا، یا یہ محض سستی تفریح کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے؟

حاشر:فکری تبدیلی بہت بڑا لفظ ہے، مگر تبدیلی ضرور آئی ہے۔ سیاسی سطح پر شعور اجاگر ہوا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ مذہبی تنقید کے میدان میں کچھ اسپیس ملی ہے۔ تو اسپیس ہے، لیکن لوگ اسے سمجھ نہیں پا رہے۔ پھر جب جب مقتدرہ اس اسپیس سے پریشان ہوتی ہے، تو کبھی آپ نے فیس بک بند کر دیا، کبھی یوٹیوب بند کر دی، کبھی ویب سائٹس بند کر دیں۔ ایسی ہزاروں ویب سائٹس ہیں، جہاں آپ کے نظریے سے مختلف چیزیں موجود ہیں۔ تو آپ انھیں بند کرتے ہیں، مگر ہر کوئی کھول لیتا ہے۔ پراکسی لگانا کوئی مشکل کام تو نہیں ہے۔ اسپیس بن رہی ہے۔ اس سے بہت سے لوگ خوف زدہ بھی ہیں۔ ابھی فکری تبدیلی آئی نہیں۔ آ رہی ہے۔

کیا سوشل میڈیا کوئی بڑی فکری تبدیلی یا امکان لا سکے گا۔ مجھے لگتا نہیں ہے، مگراس کے امکانات بھی ہیں۔ بے شک سوشل میڈیا سستی تفریح بھی ہے۔ کوئی بھی میڈیا ہو گا، کوئی بھی میڈیم ہو گا، اس میں یہ چیزیں بھی ہوں گی، مگر اس کے ذریعے لوگوں تک باتیں پہنچنا بھی شروع ہوئی ہیں۔ مثلاً، وہ لوگ جو میری آڈینس ہیں، جن سے میں بات کرتا ہوں، اسی سوشل میڈیا کی دین ہیں۔ میں نے اب تک کوئی کتاب نہیں لکھی، یا کہہ لیں لکھ کر رکھی ہوئی ہے۔ چھپوائی نہیں۔ مگر بہ ہرحال میری بات بہت سے لوگوں تک پہنچی ہے۔ کہیں مجھے بلایا جاتا ہے۔ کہیں میں خطاب، اب خطاب تو بہت بڑا لفظ ہو گیا۔ کہیں میں بک بک کرنے پہنچتا ہوں۔ تو وہاں بہت سے نوجوان آ جاتے ہیں۔ جن تک میری بات سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پہنچی۔ تو میڈیم تو ہے۔ ابلاغ بھی ہو رہا ہے۔ فکری تبدیلی کا لفظ تو بڑا ہے۔ وہ میں استعمال نہیں کرتا، لیکن فکری رجحانات تشکیل پا رہے ہیں۔ ایسی اسپیس بن رہی ہے، جس میں لوگ اپنی بات کر سکتے ہیں۔ بہت سی چیزیں، جو پہلے اس ملک میں آسانی سے ہوجاتی تھیں۔ اب سوشل میڈیا پر ان پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ لوگ مزاحمت بھی کر رہے ہیں۔ اس کی اہمیت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اقبال: کچھ لوگوں کو شکوہ ہے کہ اس سوشل میڈیا نے کئی اچھے ادیبوں اور قلم کاروں کو نگل لیا؟ آپ متفق ہیں؟

حاشر: میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ جو اچھا ادیب ہے، اچھا قلم کار ہے، لکھنا چاہتا ہے، اسے سوشل میڈیا روکتا تھوڑی ہے لکھنے سے۔ مگر چند لائنیں لکھنے سے فوری فیڈ بیک مل جاتا ہے۔ کتاب کا تو فوری فیڈ بیک نہیں آتا۔ تو ہم سب لائیکس کے اور کومنٹس کے بھوکے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس نے کسی کو نگلا ہے۔ بہت سے دوست جو سوشل میڈیا پر لکھا کرتے تھے، انھوں نے ان تحریروں کو جمع کر کے اپنی کتاب چھپوا دی۔ کیا یہ فرض ہے کہ ایک ہی طرح سے چیز لکھی جائے گی۔ آزاد نظم پر لوگوں کا اختلاف تھا۔ پھر نثری نظم آ گئی۔ اس نے اثر پیدا کیا۔ کبھی نثر کے بھی پیمانے متعین تھے۔ تو سوشل میڈیا پر لوگوں کو اظہار کا موقع مل رہا ہے۔ اور کتاب کون لکھ سکتا ہے؟ کتنے لوگ لکھ سکتے ہیں؟ البتہ سوشل میڈیا پر دس لائنوں یا بیس لائنوں کی تحریریں سب لکھ سکتے ہیں۔ آپ لکھیں گے، تو سیکھنے کی گنجائش بھی نکلے گی۔ اس سے فروغ مل سکتا ہے۔ مزید قلم کار سامنے آسکتے ہیں۔ اس سے کمی نہیں ہو رہی۔ البتہ یہ میرا نکتہ نظر ہے۔ بہت سے لوگ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر کیوں کہ آپ کو ”فوری تسکین“ مل جاتی ہے۔ فوری ردعمل مل جاتا ہے۔ تو آپ طویل المدتی منصوبوں پر کام نہیں کرتے۔ مگر ایسا کون سا قلم کار تھا، جس نے سوشل میڈیا کی وجہ سے لکھنا چھوڑ دیا ہو۔ یا اس کی کتابیں آنا بند ہو گئی ہوں یا شاعری سامنے آنا بند ہو گئی ہو۔ بلکہ شاعری میں تو دن دونی رات چوگنی برکت پڑ گئی ہے۔ اگر آپ اسے برکت کہنا چاہیں تو۔

اقبال : وہ سوال، جو گزشتہ کچھ عرصے سے زیر بحث ہے، اور آپ کی رائے اس بابت زیادہ اہم ہوگی کہ کیا پاکستان ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے؟

حاشر: پاکستان ڈیفالٹ ہونے جا نہیں رہا۔ پاکستان ڈیفالٹ کرچکا ہے۔ اب یہ ایک معاشی سوال ہے۔ اس پر میں سوچ رہا ہوں کہ ایک لمبی چوڑی گفت گو کروں۔ مختصراً یہ ہے کہ ڈیفالٹ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی لائیبلیٹیز ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ وہ تو ہم برسوں سے ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ہمیں انجیکشن لگا کر آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر زندہ رکھا ہوا ہے۔ کب تک ہم زندہ رہیں گے، یہ ڈیڈ لائن تو نہیں دے سکتا۔ مگر دو سال پہلے جو ڈیڈ لائن دیتا، وہ سکڑ کر آدھی رہی گئی ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ اب ہمارے پاس سرواؤ کرنے کے لیے زیادہ وقت بچا ہے۔

اقبال: اسی تناظر میں سوال ہے کہ اگر ان مشکل حالات میں ایک روز کے لیے آپ کو اقتدار سونپ دیا جائے، تو کیا کیجیے گا؟

حاشر:اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ میں پہلا فیصلہ یہ کروں گا کہ استعفا دے دوں گا۔ کیوں کہ ایک دن میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ہمارے ہاں یہ get۔ rich۔ quick والی فلاسفی ہے ناں، تو لوگوں کو لگتا ہے کہ تبدیلی ایک دن میں آ سکتی ہے۔ آپ چٹکی بجاتے ہیں، اور تبدیلی آجاتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں کوئی تبدیلی لا سکوں، تو آپ کو مجھے دس سال، بیس سال دینے پڑیں گے۔ یا میرے ہم خیال لوگوں کو دس بیس سال دینے پڑیں گے۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں ڈنڈے کے ذریعے مسلط کر دیں۔ جب معاشرہ میرے جیسے، آپ جیسے لوگوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گا، تب ہمیں ووٹ کے ذریعے یہ اسپیس مل جائے گی۔ لیکن اگر ڈنڈے کے زور پر ہمیں ٹیکنو کریٹس کی طرح بٹھا بھی دیا جائے، تو ہم کوئی تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔ کیوں کہ معاشرے میں ہمارے لیے کوئی قبولیت نہیں ہے۔ یہ ابھی بنیادی طور پر ایک فیوڈل سوچ والا معاشرہ ہے۔ جہاں ہم نے پارلیمانی ڈیموکریسی تک کو فیل ہوتے دیکھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں صدارتی نظام کے حق میں بات کر رہا ہوں، مگر بنیادی طور پر ڈیموکریسی کو ہمیں کئی پہلوؤں سے دیکھنا ہو گا۔ مثلاً میں ہمیشہ سے متناسب نمائندگی کے حق میں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ پارٹیوں کو منشور کی بنیاد پر آنا چاہیے۔ آپ کو اور مجھے پتا نہیں ہے کہ پارٹیوں کا مینی فیسٹو کیا ہوتا ہے؟ ہم بنیادی طور پر پارٹی کے نام پر فرد کو ووٹ دے رہے ہوتے ہیں۔ تو بھائی میری بالکل یہ خواہش ہے کہ کوئی مجھے مسند اقتدار پر بٹھا دے، مگر ذرا لمبے عرصے کے لیے۔ یہ کوئی انڈین فلم نہیں ہے، جس میں ایک دن میں ہیرو کوئی تبدیلی لا سکتا ہے۔ میرا فیصلہ اگلے روز تبدیل ہو جائے گا، تو اس فیصلے کو کرنے کا فائدہ۔ تو آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ نظام سقے والی سچویشن میں، میں ایک ہی فیصلہ کروں گا کہ استعفا دے دوں گا۔ اور جو کام پہلے کر رہا تھا اسی کام سے لگ جاؤں گا۔

اقبال: کیا مریم اور بلاول میں مستقبل کی قیادت بننے کی قابلیت نظر آتی ہے؟

حاشر: مریم میں تو مجھے نظر نہیں آتی۔ اب تک نہیں آئی۔ بلاول پرومیسنگ ہے۔ بلکہ جتنے نوجوان سیاست دان ہیں، ان میں بلاول سب سے زیادہ میچور ہے، مگر کیا بلاول ایک اچھی مثال قائم کر سکتا ہے؟ اس بارے میں میں اس اسٹیج پر کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ مریم بی بی میں مجھے اب تک وہ اسپارک نظر نہیں آیا۔ میں موروثی سیاست کے خلاف رہا ہوں، مگر ہم کسی سیاست دان کو اس بنیاد پر کہ وہ کسی کا بیٹا ہے یا بیٹی ہے، رد نہیں کر سکتے، مگر جمہوری اقدار کے لیے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ جو نوجوان قیادت ہے، اسے اوپر آنے کا موقع ملے۔ بہت اچھے لوگ مسلم لیگ نون میں بھی موجود ہیں، پیپلز پارٹی میں بھی موجود ہیں، بلکہ پی ٹی آئی میں بھی موجود ہیں۔ سیاست شخصیات کے گرد نہیں گھومنی چاہیے۔ انڈیا میں بھی تب سیاست نے grow کیا، جب یہ نہرو فیملی سے باہر نکلی۔ من موہن سنگھ کے دور میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ اور بی جے پی کسی ایک شخص کی محتاج نہیں۔ گو کہ اب مودی ان کا چہرہ بن گیا ہے، مگر ضروری نہیں ہے کہ مستقبل میں بھی وہی رہے۔ تو جب تک یہ تبدیلیاں ہمارے ہاں نہیں آئیں گی، مجھے نہیں لگتا ہے کہ مستقبل کی قیادت ہمیں بدل سکے گی۔ وہ الگ مسئلہ ہے کہ قیادت کے پاس چلانے کے لیے کوئی ملک بچے گا یا نہیں۔

اقبال: پاکستان کرکٹ میں بہتری کے کیا امکانات ہیں؟ اور کیا کرکٹ پر لکھے مضامین کو کتاب شکل دینے کا ارادہ ہے؟

حاشر:پاکستان کرکٹ پر ہمارے کچھ دوست خود کو سکہ بند تجزیہ کار سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان سے زیادہ کرکٹ میں نے کھیلی ہے۔ فرسٹ کلاس تو نہیں کھیل پایا، مگر کالج کی سطح پر یونیورسٹی کی سطح پر میں نے کرکٹ کھیلی، کپتانی بھی کی۔ ایک وقت پر خیال تھا کہ کرکٹ کو بہ طور پروفیشن اپنا سکتا ہوں، مگر نہیں اپنایا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مجھے کرکٹ کی سمجھ ہے، مگر اس ملک میں سب کو لگتا ہے کہ انھیں کرکٹ کی سمجھ ہے۔ تو کرکٹ پر جو میری تحریریں ہیں، جو باتیں ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اب تک ٹھیک ثابت ہوئی ہیں، مگر بہت سوں کو یہی لگتا ہے۔ برسوں میں فواد عالم کے لیے لکھتا رہا تو سب نے مذاق اڑایا پھر اسے موقع ملا تو پہلے ہی سال وہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر آف دی ائر سے کم نہیں رہا۔ سال ڈیڑھ پہلے میں نے لکھا کہ اگر پاکستانی کھلاڑیوں سے پابندی اٹھ بھی جائے تو بھی آئی پی ایل میں کوئی بابر اور رضوان کو نہیں خریدے گا۔ اس پر پھر ہمارے احباب خفا ہو گئے لیکن دیکھیے مارچ میں ہنڈرڈز کی بڈنگ ہوئی، کسی نے بابر اور رضوان کو نہیں خریدا۔ خیر میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہارنے اور جیتنے پر میں راتوں رات اپنی رائے بدلنے کا قائل نہیں۔ ادھر آصف علی دو چھکے لگاتا ہے تو لوگ اسے اے بی ڈی ویلئرز بنا دیتے ہیں۔ احمد شہزاد کوہلی کہلانے لگتا ہے اور شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو وقار یونس اور وسیم اکرم سے ملا دیا جاتا ہے۔ بھئی ذرا ٹھنڈا کر کے کھاؤ۔ لیکن نہیں۔

تو میں کوئی دعویٰ نہیں کر رہا۔ مگر میرے جو سکہ بند اینالسٹ دوست ہیں، جنھوں نے دس مضامین مختلف اخباروں میں لکھ دیے ہیں، وہ میرے تجزیوں پر بہت ناراض ہوتے ہیں۔ کتاب لکھوں گا، تو مزید ناراض ہوجائیں گے۔ البتہ مضامین اگر کتابی شکل میں چھپوائے، تو ساتھ کرکٹ والے بھی چھاپ دیں گے۔ کرکٹ کے اوپر الگ سے شاید کتاب نہ آئے۔ اس کی دو تین وجوہات ہیں۔ یہ بات یہ ہے کہ تجزیہ تو آپ کر لیتے ہیں، مگر آپ کا تجزیہ بہ ہرحال ایک سپرفیشل تجزیہ کھلائے گا۔ میں گراؤنڈ میں نہیں بیٹھتا، ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کو اس طرح فالو نہیں کرتا، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار میری فنگر ٹپس پر نہیں ہیں، تو اس طرح کا تجزیہ نہیں کیا جا سکتا ہے، جو سسٹم کو تبدیل کر دے۔ مگر ہمارا سوشل فیبرک جس طرح کا ہے، کرکٹ کا فیبرک بھی اسی طرح کا ہے۔ جب تک باقی چیزیں ٹھیک نہیں ہوں گی۔ کرکٹ بھی ٹھیک نہیں ہوگی۔ کرکٹ اسی سسٹم کی پیداوار ہے۔ اسپورٹس ہے، تو اسپورٹس رہنے دیں۔ اسے مذہب کی طرح نہیں برتیں۔

اقبال: پاکستان کرکٹ کا سنہری دور کون سا رہا، یا یوں کہہ لیں، دست یاب میں بہترین۔ سب سے موثر کپتان کون تھا؟

حاشر:سنہری دور تو کوئی بھی نہیں رہا۔ موثر کپتان کی بات کی جائے، تو یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ حالیہ کپتانوں میں مصباح الحق اچھے کپتان تھے۔ سلیم ملک تکنیکی طور پر بہت اچھے کپتان تھے۔ مصباح الحق کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کی اپروچ بہت زیادہ دفاعی تھی۔ سلیم ملک کا مسئلہ یہ تھا کہ بہت سیلفش آدمی تھے۔ عمران خان اچھے کپتان رہے، مگر بہت آٹو کریٹک تھے۔ اپنے دور میں کامیابیاں سمیٹیں، مگر شکست بھی سمیٹی۔ جاوید میاں داد کے اپنے مسائل تھے۔ البتہ ان جیسا کرکٹنگ برین شاید ہی کوئی دوسرا ہوا۔ باقی وسیم، وقار اور معین والا جو دور ہے، اس میں ہم نے سات آٹھ سال میں تیرہ چودہ کپتان بھگتائے ہیں۔ ٹیم کا ہر کھلاڑی کپتان تھا۔ تو مجھے کوئی ایسا کپتان نظر نہیں آتا، جسے میں گریم اسمتھ یا رکی پونٹنگ کے برابر رکھ سکوں یا دھونی کے برابر رکھ سکوں۔ اوور آل دیکھا جائے، رینکنگ کرنی ہو، تو عمران خان اور مصباح الحق اس فہرست میں اوپر ہوں گے۔ باقی سارے ایک ہی لیول پر ہیں۔ بابر اعظم بہت کمال بیٹسمین ہے۔ انھیں اپنی بیٹنگ پر اسی طرح توجہ دینی چاہیے، جیسے سچن ٹنڈولکر نے دی۔ کیوں کہ سچن ہی کی طرح وہ اچھے کپتان نہیں ہیں۔ کپتان کون ہونا چاہیے؟ یہ میں تو نہیں بتا سکتا۔ مگر وائٹ بال میں شاداب کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ ریڈ بال میں شان مسعود۔ شان مسعود کی اپنی جگہ ٹیم میں بنتی ہے یا نہیں، یہ الگ مسئلہ ہے، مگر وہ اچھے کپتان بن سکتے ہیں۔ بالرز کو آزمایا جا سکتا ہے، مگر ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان فٹ بہت جلدی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یہ تجربہ کم ہی کیا جاتا ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا میں ابھی پیٹ کمنز کپتان ہیں اور پاکستان میں ماضی میں عمران خان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان کی سیاست سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اپنے آخر کے برسوں میں وہ صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ دنیائے کرکٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تو اس پر اپنی حتمی رائے محفوظ رکھتا ہوں۔ رائے دے کر مزید گالیاں نہیں کھانا چاہتا۔ کسی ایک کو سنگل آؤٹ نہیں کر رہا۔ ریکارڈ خود بولتا ہے مصباح کے انڈر ہم نے بہت سے کامیابیاں سمیٹیں۔ خان صاحب کے انڈر ہم نے ورلڈ کپ جیتا۔ انڈیا کو انڈیا میں ہرایا۔ ویسٹ انڈیز میں ہماری پرفارمنس بہت اچھی رہی۔ انگلینڈ میں ہم نے شاید 87 میں پہلی بار سیریز جیتی۔ جس کے بعد ایک ٹرینڈ سیٹ ہونا شروع ہوا۔ تو کوئی بھی آؤٹ اسٹیڈنگ کپتان نہیں۔ پرانے کپتانوں کو میں نے دیکھا نہیں۔ کاردار صاحب کو دیکھا نہیں، مشتاق محمد کو دیکھا نہیں۔ تو ان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ سنا ہے اچھے کپتان تھے۔ مگر ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ہمارے پاس شو کرنے کے لیے کہ ان کی کپتانی میں ہم نے بڑی کامیابی سمیٹی ہو۔

اقبال: چلیں فلمز پر بات کرتے ہیں۔ پسندیدہ اداکار اور ہدایت کار کون ہیں؟ اور کوئی فلم جو متعدد بار دیکھی ہو؟

حاشر: اس سوال میں مختلف باتیں ہیں۔ مطلب اداکار، تو کہاں کے اداکار؟ مثلاً پاکستان ٹیلی ویژن پر مجھے سلیم ناصر سب سے اچھے اداکار لگتے ہیں۔ پاکستانی فلمز میں کوئی میرا پسندیدہ اداکار نہیں رہا۔ تمام فلمیں دیکھنے کے باوجود۔ البتہ بھارت میں، اگر ہم کمرشل اور متوازی سنیما کو الگ کر لیں یا اکٹھا کر لیں، تو مجھے نہیں پتا کہ کیا کہانی بنے گی۔ راج کمار راؤ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ مجھے سنجیو کمار ایک دور میں بہت پسند تھے۔ گرو دت کی ہدایت کاری پسند تھی۔ متوازی سنیما میں ستیہ جیت رے، بمل رائے، مرینل سین اور شیام بینیگل کی ہدایت کاری کا میں مداح رہا۔ اداکاراؤں میں میرے خیال میں ماضی قریب میں کاجول بہت شان دار اداکارہ تھیں، گرچہ انہوں نے اپنے ٹیلنٹ سے انصاف نہیں کیا۔ سشمیتا سین ایک انڈر ریٹڈ مگر کمال اداکارہ۔ ہمارے دور میں ہم سب ریکھا کے کریز میں مبتلا تھے۔ مدھو بالا مجھے پسند تھیں۔ مینا کماری مجھے اپنی خوب صورتی کی وجہ سے پسند رہی ہیں۔ بہ نسبت ان کی اداکاری کے۔ اداکاری میں نوتن ان سے آگے تھیں۔ سمیتا پاٹیل کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ ہالی وڈ میں چلے جائیں، تو جیک نکلسن، رابرٹ ڈی نیرو۔ ہمیشہ ٹاپ آف دی لسٹ۔ میتھو میکانا ہے مجھے بہت پسند ہے، اگرچہ بہت سے لوگوں کو نہیں پسند۔ آج کے دور میں لیونارڈو ڈی کیپریو اور میٹ ڈیمن بہت اچھے اداکار ہیں۔ ایڈورڈ نورٹن مجھے بہت پسند رہے، خاص طور پر امریکن ہسٹری ایکس میں جو ان کا کردار تھا۔ اور جس طرح انھوں نے نبھایا۔ وہ بہت کمال تھا۔ بریڈ پٹ اچھا اداکار ہے۔ ہیریسن فورڈ ایک زمانے میں مجھے پسند رہے۔ ان کی اداکاری پر میرے تحفظات ہیں، مگر وہ پسند ہیں مجھے۔ سنگل آؤٹ کرنا ہو، تو جیک نکلسن اور رابرٹ ڈی نیرو۔ نصیر الدین شاہ بھی مجھے بالی وڈ میں پسند رہے۔ ہدایت کاروں میں بھی بہت سے نام ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر ہچکاک بہت پسند ہے۔ کرسٹوفر نولن نے چیزیں بہت تبدیل کی ہیں آج کے دور میں۔ ان کی ایک فلم مومینٹو اچھی لگی۔ اب تو ان کی چیزیں بہت زیادہ اوور دی ٹاپ ہو گئی ہیں، جن سے مجھے اختلاف ہے، مگر مومینٹو جیسی بریک تھرو فلم میں نے کم دیکھی ہیں اپنی زندگی میں۔ انڈیا میں وشال بھردواج کا کام بہت اچھا ہے۔

کون سی فلم بار بار دیکھی ہے؟

سٹیزن کین میں نے بار بار دیکھی ہے۔ کاسا بلانکا بار بار دیکھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ ٹرائے میں نے بار بار دیکھی۔ کیا میں نے کوئی بھارتی فلم متعدد بار دیکھی ہے؟ شاید نہیں۔ پاکستانی فلمز دیکھی ضرور ہیں، مگر کوئی ایسی نہیں لگی، جسے دوبارہ دیکھنے کی خواہش ہو۔

Facebook Comments HS