دو مردوں کی آپس میں شادی حرام ہے
آپ کو تو یاد ہو گا کہ آپ کی پیدائش سے کچھ ہی دیر قبل جب آپ کی نانی اور دادی درد سے کراہتی ہوئی آپ کی ماں کی چارپائی کے گرد بیٹھی آپ کے لڑکا ہونے کی دعائیں کر رہی تھیں تو آپ فرشتوں کے ساتھ اپنی شخصیت سیٹ کرانے میں مصروف تھے۔ آپ صرف اور صرف اپنی شرائط پر پیدا ہونا چاہتے تھے۔ پورے کا پورا ارتقاء کا سسٹم اور جنسی اور تولیدی نظام آپ سے جاننا چاہتا تھا کہ آپ کیسی طبیعت کے ساتھ پیدا ہونا چاہتے ہیں۔ آپ نے پیدا ہونے سے تھوڑا ہی پہلے قدرت سے فرمائش کی کہ آپ اپنی نانی اور دادی کی دعاؤں کے عین مطابق لڑکا پیدا ہونا چاہتے ہیں۔ آپ نے ہی تجویز دی کہ آپ ایک مسلمان پاکستانی گھرانے میں پیدا ہونا چاہتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمائش کی کہ آپ میں گوشت اور سبزی دونوں قسم کے کھانے پسند اور ہضم کرنے کی استطاعت ہونا چاہیے۔
آپ کی فرمائش تھی کہ آپ کا رنگ قدرے گورا ہو، بال کالے ہوں اور آپ کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں۔ فرشتوں کے پوچھنے پر آپ نے بتایا کہ مٹن، زیادہ تر سبزیاں، اور ساری لڑکیاں آپ کی پسندیدہ لسٹ میں ڈال دی جائیں۔ فرشتوں نے آپ کو بتایا تھا کہ مٹن اور سبزیاں تو ٹھیک ہے لیکن قدرت نے آپ کو "گے” پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یعنی آپ کو جنسی طور پر عورتیں نہیں مرد پسند ہوں گے۔ آپ سراپا احتجاج ہو گئے۔ آپ نے فرشتوں پر واضح کر دیا کہ آپ انگریزوں، امریکنوں اور این جی اوز کی یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اس وقت تک آپ نے پیدا ہونے سے مکمل انکار کر دیا جب تک آپ کو ایک ایسا "سٹریٹ” نہیں بنا دیا جاتا جس کو اپنی دائی سے لے کر کفن سینے والی عورت تک سب پر کرش ہو۔ فرشتوں نے درستی کرنے کی کوشش کی کہ انگریزوں اور این جی اوز کی بات تو درست ہو سکتی ہے لیکن امریکنوں کو بیچ میں نہ لائیں۔ وہ تو زیادہ تر ٹرمپ کے ماننے والے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ، جماعت اسلامی اور چائنیز مساج سینٹرز تینوں ہی "گے” لوگوں کے سخت مخالف ہیں۔ "گے” لوگوں کی وجہ سے ان کی دکانداری پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
آپ کو فرشتوں کی یہ بات تو سمجھ نہیں آئی تھی لیکن بہرحال آپ اپنی ضد پر قائم رہے اور کہا کہ آپ اس وقت تک پیدا ہونے سے انکار کرتے ہیں جب تک آپ کے شریر اور بھیجے سے یہ "گے” والی گندی سٹریک نکال باہر نہ کی جائے۔ آپ نے کہا کہ ایک "گے” کے طور پر پیدا ہو کر آپ اپنے خاندان، وطن اور اپنے "گے” پارٹنر کی عزت کو خاک میں نہیں ملانا چاہتے۔ آپ کی عقل مندی، رعب اور دبدبے سے متاثر ہو کر فرشتے آپ کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے اور آپ کے اندر سے "گے” والی علت نکال باہر کی۔ فرشتوں نے سوچا کہ یہ کسی ایسے بچے میں ڈال دیں گے جس کو اپنی، اپنے خاندان اور اپنے پارٹنر کی عزت کا خیال نہ ہو۔ پیدا ہونے سے پہلے البتہ آپ نے فرشتوں سے کہا کہ لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ بونس کے طور پر تھوڑا سی کشش خواجہ سراؤں کے لیے بھی ڈال دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ آپ نے سوچا اس علت کو تو چوری چھپے بھی پورا کیا جا سکے گا کیونکہ پاکستان میں پیدا ہونے کا کچھ تو اضافی فائدہ ہونا چاہیے۔
اس طرح قدرت نے جب آپ کی خواہش اور کوشش کے عین مطابق آپ کی جنس، رنگ، قد اور جوتے کا سائز آپ کے ڈی این اے میں پرنٹ کر دیا تو پھر آپ پیدا ہونے پر راضی ہو گئے۔ جن لوگوں نے پیدا ہونے سے پہلے آپ جیسی غیرت، محنت اور دوراندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا وہ "گے” وغیرہ پیدا ہوئے اور بجا طور تمسخر کے حق دار ہیں۔
پس نوشت: علی سیٹھی کی پیدائش ایک بہت ہی کھاتے پیتے گھرانے میں ہوئی۔ وہ ایک انتہائی کامیاب فنکار ہے۔ اس کا مشہور گانا "پسوڑی” یوٹیوب پر تریسٹھ کروڑ مرتبہ بجایا جا چکا ہے۔ اسی گانے کے متعلق جو باقی ویڈیوز بنائی گئی ہیں وہ بھی کروڑوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں۔ ایک اتنے کامیاب فن کار کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں تھی۔ لڑکیوں کے جانب کشش محسوس نہ کرنا صرف قدرتی ہی ہو سکتا ہے۔ اور کوئی وجہ نہیں۔ علی سیٹھی نے پاکستان جیسے گھٹن زدہ معاشرے میں بھی اپنی نیچرل زندگی پوری ایمانداری سے جینے کا انتہائی مشکل فیصلہ کیا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں بھی اس کے اس فیصلے کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ لاکھوں "گے” مردوں اور عورتوں کو جس گھٹن اور دوہری زندگی کا سامنا ہے اس کا خاتمہ اسی طرح کے بولڈ لوگوں کے فیصلوں سے ہی ممکن ہو گا۔


