سیاسی جماعتوں کی کوتاہ نظری
کسی شخص کو ایک سیاسی جماعت کی حمایت، اس کو پسند اور ووٹ کیوں دینا چاہیے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب کسی ملک میں سیاست کے رخ کا تعین کرتا ہے۔ پاکستان جیسا ملک جس کی سیاسی و جمہوری تاریخ مختصر اور وہ بھی عدم تسلسل کا شکار ہو اور مقتدرہ کی طرف سے سیاسی عمل کی حمایت سے زیادہ مخالفت رہی ہو وہاں لوگ عموماً ایسے بنیادی سوالات کے بجائے سیاسی حمایت اور مخالفت رد عمل کے طور پر کرتے ہیں اور نتیجتاً سیاست عقیدت اور نفرت میں تقسیم ہوجاتی ہے۔
کسی سیاسی جماعت کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سے عامۃ الناس کی حمایت حاصل کرے اور اکثریت کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت بنائے اور اور اپنے منشور پر عمل درآمد کرے جس کے تکمیل کے لئے لوگوں نے اس کی حمایت کی ہوتی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو اپنے مخالف پر نظر رکھے اور اس کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تاکہ اگلی بار لوگوں کی حمایت حاصل ہو سکے۔
کوئی شخص کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت اس لئے کرتا ہے کہ وہ اس کے ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ پارلیمان میں قانون سازی کے دوران کون سی سیاسی جماعت کس کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ اس کی قانون سازی کے عمل میں حمایت اور مخالفت سے واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اپنے اسی طرز عمل سے سیاسی جماعتوں کا بیانیہ تشکیل پاتا ہے اور اظہاریہ واضح ہوجاتا ہے جس کو اس جماعت کا سیاسی نظریہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
پاکستان کا پارلیمانی نظام اور وفاقی طرز حکومت 1973 ء کے متفقہ دستور کا تابع ہے جس سے انحراف سنگین غداری کا جرم قرار پایا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ جرم متواتر ہوتا رہا اور آج تک کسی کو سزا نہ دی جا سکی۔ ہاں البتہ اس دستور کے بنانے والے اور اس کا دفاع کرنے والے بار بار رندہ درگاہ ٹھہرے اور اس کا خالق تختہ دار پر لٹک گیا۔
جمہوریت پر شب خون مارنے والے ہر آمر نے آئین کو اپنی منشا کے مطابق بدل ڈالا اور اس کی منظوری اسی پارلیمان سے لی جس نے اس آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا تھا۔ ترکوں، مغلوں اور انگریزوں سمیت ہر ڈنڈا بردار کی حاشیہ برداری کرنے والے جاگیرداروں، قبائلی سرداروں، گدی نشینوں اور تاجروں سے کسی بھی دستاویز پران کے انگوٹھے لگوانا یا ان کی حمایت حاصل کرنا مقتدرہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں رہا۔
موجودہ قومی اسمبلی جو ایک جماعت کے اجتماعی استعفوں کی وجہ سے آدھی رہ گئی تھی اس کے آخری مہینے میں درجنوں قانونی مسودات راتوں رات کہیں سے لکھے لکھائے اس حکم کے ساتھ مل گئے کہ ”پاس کرو“ ۔ یہ مجوزہ قوانین 55 سے زیادہ بتائے جاتے ہیں جو ایسے اقدامات کو قانونی تحفظ دیتے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کی آئینی ضمانت سے متصادم ہیں۔
فرحت اللہ بابر صاحب ان چند قانون سازوں میں سے ایک ہے جس نے بنیادی انسانی حقوق کے احیا میں عام لوگوں کی ہمیشہ نمائندگی کی ہے۔ ان سے ملاقات ہوئی تو حالیہ دونوں میں قومی اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی کی سرعت اور تعداد پر انتہائی پریشان تھے۔ زیادہ بات تو نہ ہو سکی مگر ان کے چہرے سے سب ایسے عیاں تھا کی نہ کچھ پوچھنے کی ضرورت تھی نہ کچھ کہنے کی۔
سینیٹر رضا ربانی ایک ایسی شخصیت ہے جس نے اس ملک میں پارلیمانی جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کے لئے زندگی وقف کیے رکھی۔ اس قانون سازی پر ان کا یہ جملہ بھی تاریخی ہو گیا کہ ”لگتا ہے میں کسی رجواڑے میں بھیجا گیا ہوں“ ۔ کامران مرتضیٰ کی جماعت ایک مذہبی جماعت ہے مگر ان کی طرف سے ان قوانین کی مخالفت نے کم از کم ان کو نام نہاد جمہوریت پسندوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ممتاز کر دیا۔
مگر اسی قبیلے کی شیری رحمان جو اپنی پارلیمانی سرگرمیوں کے علاوہ پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کے لئے ایک تھنک ٹینک بھی چلاتی ہیں ان کا بھی جملہ تاریخ کی کتاب میں رقم ہو گیا ’قانونی مسودات کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے، پاس کر دو، ترمیم ہوتی رہے گی‘ ۔ ریاست ہوگی ماں کی جیسی کا خالق اور عام شہریوں کو فوجی عدالتوں کی فوری دی جانے والی سزاؤں سے بچانے کے لئے میدان عمل میں اترے اعتزاز احسن کا یہ جملہ کہ نو مئی کے دن فوج کو گولی چلانا چاہیے تھی سن کر کئی لوگ سکتے میں آ گئے۔
یہ بائے ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ ہر وہ تمام قوانین جو جمہوری اقدار کی نفی میں بنائے گئے وہ ان ہی کے خلاف استعمال ہوئے جنھوں نے بنایا تھا یا ان کی حمایت کی تھی۔ اس کی ایک مثال جنرل ضیاالحق کے دور کا بنایا گیا منتخب نمائندگان کی اہلیت اور نااہلی کے لئے بنایا گیا صادق و آمین کے خود ساختہ معیار کا عرف عام میں 62 اور 63 کا قانون ہے جو اٹھارہویں ترمیم کے وقت نواز شریف (اور فضل الرحمن) کی مخالفت کی وجہ سے آئین سے نہ نکالا جا سکا اور سب سے پہلے وہی اس قانون کا شکار ہوا۔ یہی کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا جس نے اپنے تئیں سپریم کورٹ سے صادق و امین ہونے کی سند بھی پائی تھی۔
عمران خان کو لانا اور پھر اس کو نکالنا حماقت تھی، غلطی تھی یا مکافات عمل اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی مگر نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں اور آئین کے پاسداروں کا یہ جانتے ہوئے اسی راستے پر چلنا جس کی منزل ہی نہیں ایک سوچا سمجھا شعوری فیصلہ سمجھا جائے گا۔ معدودے چند لوگ عمران خان اور اس کی جماعت کی اس لئے مخالفت نہیں کرتے رہے کہ ان کی شکل اچھی نہیں لگتی تھی یا ان کو کسی اور ملک کے ایجنٹ سمجھتے تھے۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ عمران خان 2008 ء سے 2018 ء کے دوران مستحکم ہوئی جمہوری روایات اور سویلین بالادستی کو کمزور کر رہا ہے۔ اس ملک میں آزادی اظہار رائے پر قدغنیں لگا رہا ہے۔ اگر یہ سب کچھ آپ سب نے بھی کرنا ہے تو اکیلے عمران خان کی مخالفت کیوں کی جائے؟
آپ نے قانون کے مسودات پڑھے بغیر منظور کر لئے اور یہ بھی نہ سوچا کہ زبان بندی کے وہ تالے جن کی چابی آپ نے قانون سازی کے ذریعے کسی اور کو دیے ہیں کل آپ کے خلاف بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ آئین میں دی گئی چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی ضمانت آپ نے پامال کر کے بندوق برداروں کو گھروں میں گھسنے کی جو اجازت دی ہے وہ کل آپ کے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انسداد دہشت گردی کا قانون میں شیڈول 4 کے تحت نفرت پھیلانے والوں کی نقل و حرکت روکنا مقصود تھا مگر یہ اب گلگت بلتستان میں سیاسی کارکنان اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف استعمال ہوتا ہے اگر آپ کو کسی نے نہیں بتایا ہے تو انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی رپورٹیں خود ہی دیکھ لیں۔
ملک میں انتخابات کب ہوں اس کا اختیار آپ نے پارلیمان سے اٹھا کر الیکشن کمیشن کو دیا مگر یہ بھول گئے کہ کل کوئی بھی ہرکارہ اس دفتر میں بیٹھ کر آپ کا داخلہ شاہراہ دستور کی حدود میں بند کر سکتا ہے۔ ایک غیر منتخب نگران حکومت کو لامحدود اختیارات سونپ کر آپ نے ایک منتخب حکومت کی ضرورت ہی ختم کر دی۔ اگر کسی نگران کی نگرانی طویل ہوئی تو آپ کس کو دوش دیں گے۔
تیسری دنیا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان کے عوام نے ہمیشہ شخصی آمریت اور استبداد کو پنپنے نہیں دیا ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کی ضمانت آئین و قانون میں ہے جس کا تحفظ ان کی سیاسی جماعتیں ہی کرتی ہیں، مگر صد حیف کہ سیاسی جماعتیں ناکام نظر آئیں۔ اس بار آئین و قانون کے پاسداروں کے اپنے ہاتھوں سے لگی ضربیں شاید اگلے کئی سالوں اور دہائیوں تک پورے معاشرے کو زخمی کیے رکھیں گی کیونکہ ہاتھوں کی لگائی گرہیں دانتوں سے ہی کھلتی ہیں اور اپنے کیے کا علاج بھی تو نہیں۔


