بڑھتی ہوئی لادینیت اور مذہبی جنون


ملحد ہونا عقیدے سے زیادہ فیشن ٹرینڈ بن گیا ہے کیونکہ امریکا کی 81 فیصد آبادی ملحد ہے یعنی ایک خدا یا کئی خداؤں پر یقین نہیں رکھتی۔ دنیا اتنی تو تہذیب یافتہ ہو گئی ہے کہ ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق جینے کا حق دے رہی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے ملحد ہونے کے باوجود کیا امریکا میں عیسائیت کے ساتھ دیگر مذاہب پر ہتک آمیز تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ کیا قرآن مجید سمیت کسی بھی الہامی کتاب پر اپنی ذاتی رائے دے سکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس کا جواب نفی میں آئے گا۔

پاکستان میں توہین کے کثیر قوانین نے اور ہر مخالف پر اطلاق نے صرف مذہب ہی نہیں خود خدا اور اس کی الہامی کتابوں کی تکذیب کا راستہ کھول دیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ کی کیا بات کریں ان کثیر قوانین نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی تکذیب کا راستہ بنا دیا ہے۔ دیکھ کر دل افسردہ ہوتا ہے شدید دکھ ہوتا ہے کہ یہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ مولوی کی نفرت نے انھیں اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت سے ہی محروم کر دیا۔ مولوی کے دوغلے پن اس کی اقتدار کی ہوس نے دین بیزار کو موقع دیا کہ وہ پاکستان میں اسلام سمیت تمام مذاہب کو غیر ضروری قرار دے۔ ناقص عقل جو اکثر مولوی کی ہی طرح سوچتی ہے اسے مکمل قرار دے۔ سوال یہ ہے کہ مولوی اور سرکاری مفتی نے کب دین کو مکمل سمجھا؟ یا کب ایسا ہوا کہ اس نے اپنی پسند کے مطابق قرآن اور حدیث کی تشریح نہیں کی؟ کب اس نے اپنے اور سرکار کے فائدے کو خدائی قانون نہیں قرار دیا؟ تاریخ پڑھ لیں۔ فقہائے دین اور سرکاری مولوی ہمیشہ الگ رہے۔ امام ابو حنیفہ نے چیف جسٹس کا عہدہ نہیں لیے تو عباسی دور کے دوسرے خلیفہ نے انھیں جیل بھیج دیا اور کہا جاتا ہے ان کو وہی کھانے میں زہر دیا گیا جو ان کی موت کا سبب بنا۔ امام احمد بن حنبل ان ہی کے شاگرد تھے جو حنبلی مسلک کے امام ہے۔ ان کے پیروکار امام ابو حنیفہ کی نسبت کم ہے اور زیادہ تر افریقہ میں پائے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل کے شاگرد امام مالک ہے جنھوں نے مالکی فقہ کی بنیاد رکھی اور ان کے پیروکار مالکی کہلائے۔ اہل سنت کے چوتھے فقہی امام محمد بن ادریس شافعی ہے جو شافعی مسلک کے امام ہے۔ امام ابو حنیفہ کے ایک اور شاگرد جو فن اسماء الرجال کے بانی ہوئے وہ یحییٰ بن سعید القطان ہے آج اس فن کی بدولت 5 لاکھ شخصیات کا احوال کتابوں میں درج ہے اور اس کی جدید شکل علم بشریات ہے۔ ان سب نے ظلم و ستم برداشت کیے حتیٰ کہ ان کی شہادتیں ہوئی، جلاوطن ہوئے، جو ان کے مخالفین تھے وہ عہدوں پر بیٹھے رہیں اور اپنے جیسے فقہی اور عالموں پر ظلم و ستم ڈھاتے رہیں، ان کے پیروکاروں تک کو نہیں بخشا لیکن ان کی عوام میں اتنا ظرف تھا کہ انھوں نے بادشاہ وقت اور اس کے ساتھیوں کو ہی برا کہا کبھی اللہ اور اس کے دین پر انگلی نہیں اٹھائی۔ کیونکہ انھوں نے اپنی عقل اور علم کو مکمل نہیں سمجھا۔ اب کیا ہم مذہب دشمنی میں چنگیز خان کی طرح ان کے علمی خزانے کو دریا برد کردے۔

ملحدین کا یہ بھی اعتراض ہے کہ اسلام تو اپنے آپ کو سچا دین کہتا ہے لیکن اس میں ہمیشہ اختلاف رہا جھگڑا رہا ہے یہ آپس میں ہی لڑتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے اسلام حقوق اللہ سے زیادہ اہمیت حقوق العباد کو دیتا ہے یعنی بندوں کے حقوق اسلام صرف غریب کے حقوق کی بات نہیں کرتا امیر کے حقوق کا بھی تحفظ چاہتا ہے، ریاست کے حقوق کا تحفظ چاہتا اس لیے مسلمان ہمیشہ حالت جنگ میں رہیں، جیسے حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جب خلیفہ بنے تو ایک گروہ نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں جنگ بند نہیں کروں گا جب تک کہ یہ لوگ زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے راضی نہ ہو جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خلیفہ اول نے یہ جنگ اپنے لیے کی تھی، وہ تو خود زکٰوۃ دینے والے تھے، اگر ان لوگوں سے زکوٰۃ لی جاتی تو کس کو ادا کی جاتی یقیناً مستحق افراد یا عام الفاظ میں کہہ لے تو عوام کو جاتی کیونکہ زکوٰۃ تو آل رسولؐ پر حرام ہے اور ہر صاحب حیثیت پر حرام ہے اور قیامت تک حرام رہے گی۔

اس کا مقصد ہے انھوں نے جنگ عوام کے مفاد میں لڑی باقی جنگوں کے کچھ ایسے ہی احوال رہیں۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام پر ظالم بادشاہ نے اپنی حکومت بچانے کے لیے جنگ مسلط کردی، اس نے آل رسولؐ پر تلوار چلائی۔ کیا وہ مسلمان نہیں تھا کیا دین کو نہیں جانتا تھا سب جانتا تھا لیکن اس نے یہ سوچ رکھا تھا کہ اب اقتدار ہمارے پاس ہی رہنا چاہیے یعنی میں ہوں میرے بعد میری اولاد ہو یعنی یہ سلطنت کبھی بنو امیہ کے پاس سے نہ جائے۔

اس کا مطلب ہے کہ خلفائے راشدین سے لے کر تمام اماموں نے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی کبھی حکومت کو عوام سے لڑنا پڑا کبھی اماموں کو حکومتوں سے لڑنا پڑا کیوں کہ چاہے عوام ہو یا حکومت کوئی بھی اپنے حصے کی تقسیم پر راضی نہیں ہوا۔ لیکن اس بیدار مغز قوم نے اللہ کا دین اور سیاسی دین دونوں کو الگ رکھا۔

اب آتے ہیں پاکستان کی طرف ہم کسی ذی شعور سے پوچھے جتنے بل ہماری حکومت پاس کرتی ہے کیا وہ عوامی مفاد میں ہے؟ تو اللہ کے ہر نیک بندے کا جواب نہ میں ہو گا کیونکہ اگر ہم اتنے ہی قانون پسند ہوتے تو آج ہم جنت میں رہ رہیں ہوتے۔ امیر ہو یا غریب، حکومت ہو یا عوام سب کو اس کے حقوق برابری پر ملتے۔ حال ہی میں توہین صحابہ رضی اللہ عنہ پر پھر بل پاس ہوا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ توہین رسالت سمیت تمام معاملات پر ہم 1973 میں ہی قانون سازی کر چکے ہیں۔ مودودی رح ہو یا مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی شامزئی ہو یا ڈاکٹر ملک مرتضیٰ یا ان جیسے دیگر کئی اکابرین جو قادیانیت سمیت دیگر مسائل پر کام کرچکے ہیں۔ انھوں نے جیلیں کاٹی، حکومتی سختیاں برداشت کی حتیٰ کہ ان میں سے کئی علماء کرام کی شہادتیں بھی ہوئیں۔ جب پاکستان میں اتنا کام ہو چکا تو اسی قانون سازی کے ساتھ عوام کی تربیت کیوں نہیں کی جا رہی ہے؟ سیاسی مذہبی جماعتیں آئے روز سیاسی جماعتوں کی طرح ایک نیا بل پیش کر دیتی ہے۔ ان علماء کرام کے کام سے مستفید کیوں نہیں ہوا جاتا۔ یہ تمام علماء تو خود مفتی تھے، فقہی تھے انہیں تو حکومتی بلوں کی ضرورت نہیں تھی اس لیے ضروری قانون سازی کے بعد انھوں نے ایوانوں کا رخ نہیں کیا۔ اب روز سیاسی مولوی حضرات ان علماء کرام کے کام کو اپنی جماعتوں کے نام سے بل بنا کر پیش کرتے ہیں جو ایک طرف مذہبی جنونیت اور دوسری طرف لادینیت بڑھا رہا ہے۔ اس ہجوم کے ہاتھ میں قانون کا ڈنڈا نہیں دیں بلکہ علم کی دلیل دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص علم کی طلب میں کوئی راستہ چلے گا تو اللہ پاک اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلائے گا اور بے شک فرشتے طالب علم کی خوشی کے لئے اپنے پروں کو بچھاتے ہیں اور بے شک عالم کے لئے آسمانوں و زمین کی تمام چیزیں اور پانی کے اندر مچھلیاں مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور یقیناً عالم کی فضیلت عابد کے اوپر ایسی ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے اور بے شک علماء انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہ بنایا انہوں نے صرف علم کا وارث بنایا تو جس نے علم اختیار کیا اس نے پورا حصہ لیا۔

Facebook Comments HS