سیاست اور جمہوری اقدار

انتقام اور مفادات کی سیاست ہمیشہ زیادتیوں اور نا انصافیوں کو جنم دیتی ہے۔ جب تک ہمارے سیاستدان اور میڈیا غلط کو غلط نہیں کہیں گے تب تک یہ چکی اپنے مخالفین کو پیسنے کے لئے ہمیشہ چلتی رہے گی۔ ادلے کا بدلہ ہوتا رہے گا۔
اپوزیشن لیڈر عمران خان شروع میں کسی کا سیاسی تخلیق کار ہوسکتے ہیں لیکن اب یہ حقیقت ہے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر بن چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی طرح اس پارٹی کی جڑیں بھی عوام میں مضبوط ہو چکی ہیں بلکہ ملک کے نئے نوجوان نسل اس کے جانثار سپوٹرز ہیں۔ اس طرح کی پارٹی کے لیڈر کو جبر اور ظلم کے ساتھ نااہل کرنا، پارٹی کے ٹکڑے کرنا اور قید وبند کی صعوبتں دینا لوگوں کے دلوں میں نفرتوں اور غم و غصے کا اضافہ تو کر سکتا ہے لیکن مستقبل کے لئےکوئی نیک شگون نیں بن سکتا ہے۔ کسی لیڈر کے مشکیزیں کسنے سے وہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اور پاپولر بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وجبر کی تاریک راتیں ایک جینوون لیڈر کو جنم دیتی ہیں۔
کیا آئین مقدس نہیں ہے؟ سیاستدان جن کو آئین کے محافظ، جمہوریت کے شہسوار ہونا چاہئے آج وہ صرف اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ان کی محنت مشقت صرف اقتدار حاصل کرنے تک ہوتی ہے۔ جب یہی سیاستدان جیلوں میں جاتے ہیں تو جمہوریت کی برکات، انسانی حقوق کی آزادی، میڈیا کی آزادی، اور آئین رٹو طوطے کی طرح یاد آتا ہے اور جب اقتدار کے ایوانوں میں ہوتے ہیں تو اسی آئین کو اپنے مخالفین کے ہاتھ، پاؤں باندھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
صحافی عمران ریاض اس وقت تکلیف، دکھ اور کرب سے گزر رہا ہے۔ اگر کسی کی طرز صحافت کسی کو پسند نہ بھی ہو پھر بھی آئین اسے آزادی اظہار رائےکی اجازت دیتا ہے۔ جمہوریت یہی ہے کہ مخالف پارٹی کے لئے جینے، زندہ رہنے اور بولنے کا حق دیا جائے اور ایک مضبوط حکومت کے لئے ایک مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تو اپوزیشن کے مقدر میں جیل اور کیسس ہوتے ہیں۔
ہمیں تو اپمپائر بھی نیوٹرل نہیں ملتے ہیں۔ دعویٰ تو یہ ہوتا ہے ملک اور قوم کی خدمت کرنی ہے لیکن طاقت ان کو یک طرفہ کھیلنا سکھاتی ہے۔ آج بھی جمہوریت یرغمال ہے۔ آج بھی عدالتوں کے فیصلوں پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں۔ آج بھی طاقت کی بالادستی ہے۔ آج بھی جبر ہے۔ ظلم ہے۔ آج بھی من پسند فیصلے ہو رہے ہیں۔ آج بھی طاقت کے بل پر سیاست ہو رہی ہے۔ آج بھی مخالف پارٹی کے جیتنے کے ڈر سے اس کے ٹکڑے کر رہے ہیں جیسے یہی طریقہ کار ماضی میں انہی فاتح پارٹیوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے اگر سیاست دان صحیح جمہوری اقتدار چاہتے ہیں تو وہ صرف دعوے کرنے کی بجائے ایسے طریقے اختیار کریں جس سے ملک میں آئین کی بالادستی ہو۔ سب پارٹیوں کو کھیلنے کا برابر موقع دیا جائے۔ فری اینڈ فیر الیکشن ہوں۔ ووٹ کی عزت ہو۔ عوام اپنی حق رائے دہی سے جس کو لے کر آئیں اس کو حکومت دے دیں۔ یہ عوامی فیصلہ ہونا چاہئے نہ کہ زور زبردستی کا۔ بڑی سیاسی پارٹیاں ایک حقیقت ہوتی ہیں ان پر طاقت کا استعمال نفرتیں بڑھانے میں مدد کر سکتی ہیں لیکن کم کرنے میں نہیں۔ اس کے لئے سارے سیاستدان کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے مل بیٹھ کر جمہوریت کے اعلی اقتدار کے لئے کام کریں۔ ایک روڈ میپ طے کریں جب تک سیاستدان ایسا نہیں کریں گے ایمپائر کبھی بھی نیوٹرل نہیں ہو گا۔ جمہوری اصول ٹرے میں سجا کر پیش نہیں کیے جائیں گے۔ سیاستدان اپنی باری پر کبھی جیل کبھی اقتدار اور کبھی نااہلیوں کے کے لئے اہل ہوتے رہیں گے۔

