ایک عہد تمام ہوا؟


طویل اور جاں گسل کشمکش کے بعد بالآخر عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو بدعنوانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنا دی۔ جج ہمایوں دلاور نے فیصلہ میں لکھا ”وہ جان بوجھ کر قومی خزانے سے حاصل کردہ فوائد کو چھپا کر بدعنوان طریقوں کا ارتکاب کرتا رہا اور بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 140 ملین روپے سے زیادہ مالیت کے سرکاری تحائف کی فروخت اور اس سے ہونے والی آمدن کو چھپانے کا مجرم پایا گیا۔ عدالتی فیصلہ آتے ہی خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل پہنچا دیا گیا، ماحول میں اک گونہ ارتعاش سا ضرور پیدا ہوا تاہم حسب روایت خان کی گرفتاری کے خلاف کوئی بامعنی سیاسی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

خان اور اس کے رفقا عدالت میں قانونی جنگ لڑنے کی بجائے طریقہ کار کے ہتھکنڈوں کے ذریعے قانونی عمل کو التوا میں ڈالنے اور ان تکنیکی امور کو سیاسی رنگ دینے کی تگ و دو کے سوا موثر سیاسی مزاحمت یا مربوط قانونی چارہ جوئی میں ناکام رہے۔ بلاشبہ، سزا سے ان کا سیاسی کیریئر ختم اور مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے، بظاہر وہ ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔ خان اپنے سیاسی سرمایہ کو تشدد اور نفرت کی تلقین کے ذریعے ریاستی مقتدرہ کے ساتھ ٹکراؤ میں ضائع کرنے کی بجائے نواز شریف کی طرح اگر خاموش مزاحمت (Passive resistance) میں انوسٹ کرتے تو آج ہماری سیاسی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ اس وقت معروضی حالات کافی مختلف ہیں۔

آج سے پہلے دنیا بھر میں ان استبدادی حکومتوں کو برداشت کیا گیا جو عالمی قوتوں کے غلبہ کو قبول کرنے پہ آمادہ ہوتی تھیں لیکن ماضی کے برعکس افغانستان میں شکست کے بعد مغربی طاقتیں یہاں فوجی آمریتوں کی بجائے ایسی پاپولر جمہوری لیڈرشپ کے متمنی ہیں، جیسی پاپولسٹ قیادت انڈیا کے سیاسی ماحول پہ سایہ فگن نظر آتی ہے۔ قبل ازیں مغرب کی مہذب اقوام کے عالمی مفادات پاکستان میں جمہوری قوتوں کی بیخ کنی اور فوجی آمریتوں کی آبیاری کے متقاضی رہے، اس لئے لیاقت علی خان سے لے کر حسین شہید سہروردی اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک مقبول سیاسی لیڈرشپ کو پراسرار انداز میں عبرتناک انجام کا مزا چکھانے میں عالمی مقتدرہ کی مہارتیں کام آتی رہیں۔

اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بدلتے موسموں میں خان کے پالیسی ساز یہی سمجھتے رہے کہ جیسے 1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی عالمی سکیم نے ہماری مقتدر کی شکست کے اسباب مہیا کیے تھے، اسی طرح ریاستی مقتدرہ کے خلاف پی ٹی آئی کی پرتشدد جدوجہد بھی عالمی برادری کا تعاون حاصل کر لے گی لیکن جنوبی ایشیا کے معروضی حالات اور عالمی نظام کی زبوں حالی کے علاوہ 1970 کے برعکس 2023 کے ایٹمی پاکستان کی وجہ سے خطہ میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے، چنانچہ ہماری سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں امریکی اثر و رسوخ بتدریج ختم ہو رہا ہے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے مدت سے تین دن پہلے قومی اسمبلی تحلیل کر کے دو ہزار سترہ سے شروع ہونے والے اس ہنگامہ خیز عہد کو اختتام تک پہنچایا جس نے قومی سیاست کی پوری حرکیات کو بدل ڈالا تاہم اس سال کے آخر میں ہونے والے متوقع عام انتخابات کو نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں پہ جاری کام کے ذریعے تین ماہ تک التوا میں رکھا جا سکتا ہے۔ پی ڈی ایم گورنمنٹ نے اپنے آخری دنوں میں ایس آئی ایف سی جیسے غیرمعمولی فورم کی تشکیل کے علاوہ جس طرح کی قانون سازی کو وجود بخشا اس سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والی مالیاتی خود مختاری غیر موثر ہو جانے کے علاوہ مقتدرہ کی معاشی سلطنت کا آئینی چھتری تالے سمیٹ آنا بھی نہایت اہم پیش رفت تھی، یہی پیش دستی وسیع سیاسی تغیرات کے علاوہ ایک قسم کے اتھارٹیرین نظام کی طرف کرالنگ کا اشارہ دکھائی دے رہی ہے، تاہم صوبائی حقوق کی کسٹوڈین سمجھی جانے والی پیپلز پارٹی کو کراچی بلڈنگ اتھارٹی کے چیف منظور قادر کاکا کی گرفتاری کے علاوہ متوقع بندوبست میں مناسب حصہ پانے کی امیدوں نے بے بس کر رکھا ہے۔

علی ہذا القیاس یہ سب اسی محوری عمل کا حصہ ہے جس کے تحت ماضی میں بھی وزرائے اعظم کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کی مشق ستم کیش کو آزمایا گیا، افسوس کہ خان خود بھی کبھی ایک صفحہ کی سیاست کے ذریعے اسی جدلیات کے بینافشری رہے لیکن بالآخر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی طرح انہیں بھی قانونی عمل کے ذریعے اگلے الیکشن سے پہلے کھیل کے میدان سے ہٹا دیا گیا، جو سیاسی رہنماؤں کے پیچیدہ اختلاف کے ذریعے معمول کی پلے بک کا حصہ ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران گرفتار ہونے والے سابق وزرائے اعظم میں خان ساتویں پی ایم ہیں جنہیں جیل بھیجا گیا، حتیٰ کہ موجودہ وزیر اعظم کے بھائی نواز شریف، جو تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں، کو بھی کئی بار کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا لیکن وہ سیاسی تلویث اور قانونی و سیاسی مزاحمت کے ذریعے اقتدار کی سیاست میں واپس پلٹ آئے تاہم اظہار کی من مانی عادتوں اور تنہا پرواز کا شوق اقتدار میں ان کی دوبارہ واپسی کے امکانات کو معدوم کر رہا ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک جیسے آئینی طریقہ کار کے ذریعے اقتدار سے الگ کیے جانے کی عمل کو آمرانہ انداز میں روکنے کی جسارت ان کے ذہنی رویوں کی عکاس تھی یعنی وہ جمہوری حکمراں بن سکے نہ مزاحمتی سیاست کا ہنر جان پائے۔ قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر گورنمنٹ کے لئے میدان خالی چھوڑ کر خود پرتشدد طریقوں سے ریاست کو جھکانے کی کوشش میں پورے متاع سیاست داؤ پہ لگانا کہاں کی دانشمندی تھی، اسی مخمصہ میں خان نے بتدریج پنجاب و خیبر پختون خوا کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں گنوائیں، وہ اگر پارلیمان میں سیاسی عمل کا حصہ رہ کر متذکرہ بالا صوبوں میں اقتدار بچاتے تو آج ان کے ہاتھ سیاسی فیصلہ سازی کی قوت موجود ہوتی مگر تشدد کے راہ اپنانے سے صف اول کی لیڈر شپ بے مقصد جنگ میں ڈوب گئی۔

شیریں مزاری، اسد عمر، پرویز خٹک اور فواد چوہدری سمیت تمام باصلاحیت لوگ ٹوٹتے گئے۔ اگرچہ سیاسی طور پہ خان کو مٹانا اب بھی مشکل ہے لیکن کم از کم وہ نومبر میں اقتدار میں واپس نہیں آ سکیں گے۔ انہیں معمول کے سیاسی دھارے کا حصہ بننے کی خاطر سیاسی قوتوں کے ساتھ باہمی تعاون کی ضرورت ہوگی لیکن اس میں بھی کچھ وقت لگے گا چنانچہ سابق وزیر اعظم کی قانونی پریشانیوں کا جلد خاتمہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اگر وہ میسر سیاسی قیادت کو بے وقت موت مرنے پہ مجبور نہ کرتے تو خان کے بغیر بھی پی ٹی آئی الیکشن جیت سکتی تھی مگر ان کی افتاد طبع پورا سیاسی سرمایہ ٹھکانے لگانے کے بعد خود تاریک راہوں میں گم ہو جانے پہ قناعت کر بیٹھی۔

اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تو خان قانوناً کسی حلقہ سے انتخاب لڑنے یا پی ٹی آئی کی قیادت کرنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ تاہم ان کی پارٹی اب بھی پارلیمانی الیکشن لڑ سکتی ہے، خان کا مستقبل غیر یقینی سہی لیکن عام خیال یہی کہ متوقع عام انتخابات کی ساکھ کو بچانے کی خاطر تحریک انصاف کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جائے گی ہر چند کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی بڑی تعداد میں سیٹیں جیتنے کی صلاحیت محدود رہے گی لیکن سیاسی بقا کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے لوگ قابل ذکر تعداد میں پارلیمنٹ تک پہنچ جائیں گویا ہر حال میں الیکشن میں شرکت پی ٹی آئی کا مستقبل بچانے کے لئے ناگزیر ہے لیکن خان کی ذہنی روایت کے باعث اس امر کا قوی امکان ہے کہ وہ پارٹی کو الیکشن بائیکاٹ کا حکم دے کر اپنے مخالفین کی حیران کر سکتے ہیں، بلاشبہ قید کی سزا کے باوجود خان کی مقبولیت کا دائرہ مزید وسیع ہوا، کچھ سالوں میں، وہ واپسی کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ سیاسی صلاحیتوں کو ظاہر کرے، خاص طور پر سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کیونکہ وہ اکیلا اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، چاہیے ساری عالمی برادری بھی ان کے ساتھ کھڑی کیوں نہ ہو جائے۔

Facebook Comments HS