نوٹس کے پھول


ایم۔ فل کی کلاس کا پہلا دن تھا۔ عروہ آج اسپیشل تیا ر ہو کر آئی تھی۔ عروہ اگر چہ حسن پری نہ تھی لیکن دیکھنے میں پر کشش تھی۔ اس کی آنکھیں شربتی، موٹی اور بہت خوبصورت تھیں۔ آج اس نے لینز بھی لگا رکھے تھے۔ چنچل سی، جذباتی لڑکی تھی۔ اپنے دل کی بات زیادہ دیر تک چھپا نہ سکتی تھی۔ سر وقار کلاس میں آئے اور انھوں نے لیکچر دیا۔ لیکچر دے کر کلاس سے باہر چلے گئے۔

”ردا! یہ لڑکا مجھے مسلسل گھورے جا رہا ہے“ عروہ نے اپنی کلاس فیلو ردا سے کہا

”عروہ تم آج ہی بتا دو کہ تم نے لینز لگا رکھے ہیں تاکہ کوئی کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہے“ ردا نے کہا۔ عروہ ایسے شرما گئی جیسے نئی نویلی دلہن ہو۔ اس کے گھنگھریالے بال جس وقت اس کی پیشانی کا بوسہ لیتے تھے تو لگتا تھا جیسے بادلوں نے آسمان کو چھو لیا ہو۔ مسکراتی تو رخسار میں گڑھے اس کی رعونت میں اضافہ کر دیتے تھے۔ عروہ کی منگنی اپنے چچا زاد سے ہوئی تھی لیکن ان دونوں کے خاندانوں میں لڑائی ہوئی اور اس کی منگنی توڑ دی گئی تھی۔ گھر کے حالات معاشی لحاظ سے اچھے نہ تھے۔ بھائی نشہ کرتے تھے اور والد بوڑھا بے روز گار تھا۔ کسی پرائیویٹ اسکول میں نوکری کر کے تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ عروہ کی والدہ اور والد چاہتے تھے کہ عروہ کی شادی جلدی ہو جائے۔ عروہ کے کچھ رشتے آئے تھے مگر گھر کی حالت کی نظر ہو گئے۔ والد بھی اب کبھی مایوس ہو جاتا کہ بیٹی کی عمر بڑھتی جا رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنی پھوپھی کی طرح کنواری ہی رہ جائے۔ اس کی پھوپھی بھی اچھے رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو گئی تھی۔ اس وجہ سے جیسے والدین کے لیے ایک بوجھ بن چکی تھی۔ ایم۔ فل کی کلاسز ہو رہی تھیں۔ ایک دن ردا نے عروہ سے کہا ”عروہ جاؤ وہ جو لڑکا بیٹھا ہے جو ہم سے سینئر ہے۔ سنا ہے کہ اس کے پاس اچھے نوٹس ہیں ایم۔ فل کے، تم اپنے حسن کا جلوہ دکھاؤ اور نوٹس لے کر آؤ، ہم فوٹو اسٹیٹ کاپی کروا کر واپس دے دیں گے“ عروہ مسکرائی اور اس کے پاس گئی۔ کافی دیر بعد آئی۔

”اتنی دیر کہاں رہ گئی تھی؟ نوٹس لینے بھیجا تھا“ ردا نے پوچھا۔

” جی! پوچھنے اور بات کرنے میں دیر ہو گئی۔ اس نے کہا ہے میں کل نوٹس دے دوں گا“ عروہ نے جواب میں کہا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ دن گزرتے رہے مڈ ٹرم کے پیپر قریب تھے۔ سب تیاری میں مصروف تھے۔ پڑھائی کے علاوہ بات کم ہی ہوتی تھی۔ ڈیٹ شیٹ مل چکی تھی۔ پہلا پیپر تھا۔ امتحانی ہال کے سامنے سب طالب علم جمع تھے۔ اچانک ردا کی نظر عروہ پر پڑی۔

”عروہ کس کے ساتھ اتنا بے تکلفی سے بات کر رہی ہے، پہلے تو اسے کسی کے ساتھ اتنا قریب ہوتے نہیں دیکھا؟ یہ ہے کون؟“ ردا نے اپنے ذہن پہ زور ڈالا تو گتھی سلجھی۔

”یہ تو ہمارا سینئر ہے جس کے پاس میں نے اسے نوٹس لینے بھیجا تھا۔“ ردا نے خود کلامی کی اور سوچنے لگی۔

”چلیں سب اپنے رول نمبر کے مطابق بیٹھ جائیں“ سر آصف کی آ واز آئی۔ سب پیپر کرنے میں مصروف تھے کہ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔ پیپر کے بعد سب جلد گھروں کو روانہ ہوئے کہ اگلے پیپر کی تیاری کرنی تھی۔ مڈ ٹرم کے پیپر ختم ہوئے۔ دوبارہ کلاسز ہونے لگیں۔ وقفے میں ردا اور عروہ کینٹین سے کھانا کھا رہی تھیں۔ ردا نے عروہ سے پوچھا۔ ”عروہ تمھارے رشتے کا کیا بنا؟ کہیں بات پکی ہوئی؟“ عروہ نے ردا کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور کہنے لگی۔ ”میں تمھیں بتاؤں گی کچھ دنوں میں“ ردا اور عروہ ایک ہی علاقے سے آتی تھیں اور عموماً اکٹھی ہی آتی جاتی تھیں۔ عروہ ردا سے ہر بات کر لیتی تھی۔ ابھی دونوں وہیں بیٹھی تھیں کہ عروہ نے ردا کی طرف دیکھا جیسے کوئی راز بتانا چاہتی ہو۔ ”ردا! وہ جو ہمارا سینئر ہے نا!“

”ہاں! کیا ہوا اسے؟“ ردا اس کی طرف دیکھ کر سب بھانپ چکی تھی لیکن وہ عروہ کے منھ سے سننا چاہتی تھی۔ عروہ کی تیز سانسوں کی آ واز سر گوشی کر رہی تھی۔

”اس نے مجھے پروپوز کیا ہے لیکن“
عروہ کہتے کہتے رک گئی۔
لیکن کیا؟ ردا۔ نے پوچھا۔

”میرے والد پرانے خیالات کے ہیں۔ اگر انھیں پتہ چل گیا کہ یونیورسٹی میں ہم دونوں نے خود ایک دوسرے کو پسند کیا ہے تو نہیں مانیں گے؟“ عروہ کی نظریں جھکی اپنی مجبوریوں کی کہانی سنا رہی تھیں۔ عروہ اور سینئر کی ملاقات ہوتی رہتی تھیں۔ عروہ اپنے گھر کے گھٹے ماحول سے نکلنا چاہتی تھی۔ اب یہ پروپوزل گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ بعد میں کسی طرح اس نے اپنی والدہ کو ساتھ ملایا اور ظاہر کیا کہ یہ رشتہ کسی رشتہ کروانے والے نے بتایا ہے۔ اس طرح اس کی منگنی ہو گئی۔ یونیورسٹی میں کلاس فیلوز کو پتہ چل چکا تھا۔ کلاس کی دوسری لڑکیاں ردا سے کہتی ”ردا جی ہمیں بھی کسی کے پاس نوٹس لینے کے لیے بھیج دیں۔ کیوں کہ یہ نوٹس نہیں پھول ہوتے ہیں جو ملتے ہی سانسوں کو معطر بنا دیتے ہیں اور زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے عروہ کی طرح۔“ اور پھر قہقہہ لگتا تو آواز پورے کمرے میں پھیل جاتی۔ کلاس فیلوز میں سے ایک تجربہ کار اور جہاں دیدہ خاتون تھیں۔ اس نے عروہ کے منگیتر سے ملنا چاہا، عروہ بڑی خوشی سے اسے ملانے گئی۔ جب وہ ردا سے ملی تو کہنے لگی:

”ردا! اللہ خیر کرے، عروہ کا منگیتر مجھے کچھ شکی مزاج انسان لگتا ہے“
”اب کیا ہو سکتا تھا؟“ ردا نے کہا۔
کچھ دن گزرے تو ردا نے عروہ سے کہا:
”تم جلد دونوں شادی کر لو، سادگی سے ہی کر لو ایم۔ فل مکمل ہونے کا انتظار نہ کرو۔“

پھر ایسا ہی ہوا تمام کلاس فیلوز لیکچر لے رہے تھے کہ سر وقار کو کال آئی۔ ان کے انداز گفتگو سے سب جان گئے کہ عروہ اور عمار کا نکاح ہو گیا ہے۔ نکاح کے بعد عروہ کلاس میں آئی۔

”ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو، بہت مبارک ہو“ سب نے کہا۔ عمار ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھاتا تھا۔ کرائے کے مکان میں رہتا تھا لیکن اس کا آبائی گھر کسی دور دراز علاقے میں تھا۔ شادی کے بعد کچھ دن آبائی گھر میں گزارے۔ پھر شہر میں کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئے۔ یہاں اس کا ایک دیور بھی ساتھ رہتا تھا۔ وہ بدتمیز ہونے کے ساتھ کبھی کبھار پیسے بھی چرا لیتا تھا۔ زندگی کی گاڑی چلنے لگی۔ ایک دن اچانک عروہ کا نمبر بند ملا۔ جب عروہ کی ملاقات ردا سے ہوئی تو ردا نے پوچھا:

”بڑی مصروف ہو گئی ہو موبائل بھی بند رہنے لگا ہے“
ردا نے اداس سی نظروں سے دیکھا اور گویا ہوئی:
”عمار نے کہا ہے کہ سم تبدیل کرو۔ اس نے نئی دی ہے اور کہا ہے کسی کو نمبر نہ دینا“

ردا سوچنے لگی: ”یہ تو واقعی شکی مزاج شخص نکلا“ یہ چنچل سی لڑکی سنجیدہ رہنے لگی۔ دن گزرتے رہے سب اپنی دنیا میں مگن تھے۔ کچھ عرصہ رہ گیا تھا پڑھائی مکمل ہونے میں۔ عروہ بہت کم بولتی اور خامشی کی چادر میں لپٹی رہتی تھی۔ ایک دن ردا کے پاس آئی، ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی لیکن اس کی آنکھیں نم تھیں۔ ”کیا بات ہے عروہ سب ٹھیک تو ہے؟ عمار تمھارے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟“

عروہ کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں جیسے وہ ان میں ڈوب رہی ہو۔ غم کے سمندر میں ڈوبتے ردا کو دیکھ رہی تھی

تو ردا نے کہا: ”مجھے بتاؤ کیا ہوا“ اور عروہ کو گلے لگایا۔ عروہ ایسے پھوٹ پڑی جیسے کوئی منھ زور چشمہ کہ روکے نہ رکے۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ”ردا جو ہمیشہ سے دکھوں اور محرومیوں کی چھٹی میں جلتا رہا ہو اسے سکون کا سایہ کہاں ملتا ہے؟“ ردا اس کی باتیں سن کر دکھی ہو رہی تھی۔

”ردا وہ بہت شکی مزاج ہے۔ میری ایم اے کی ایک گروپ فوٹو اس نے دیکھی ہے جس میں میرا ہاتھ ایک کلاس فیلو کے کندھے پر ہے۔ وہ دیکھ کر اس نے مجھے کیا کچھ نہیں کہا“ وہ بات کرتے کرتے یک دم خاموش ہو گئی۔ ”اچھا تم رو نہ ہم سب بات کریں گے“ ردا نے کہا۔

”کوئی فائدہ نہیں وہ مجھے طلاق دینا چاہتا ہے“ عروہ نے کہا اور اٹھ کر چلنے لگی۔ ردا اور عروہ دونوں بس کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ عروہ اپنا سارا ماضی کھنگال رہی تھی۔ بس آ کر پاس رکی ”باجی جانا ہے“ کنڈکٹر نے آواز لگائی عروہ کو آج نہ منزل کا پتہ نہ راستے کا۔ قدم بہت بھاری ہو رہے تھے۔ سوچتے بس کی طرف بڑھی ”کاش جو نوٹس میں پھول سمجھ بیٹھی تھی ان نوٹس کے پھولوں میں کانٹے نہ دیکھ پائی۔ کاش میں وہ نوٹس لینے نہ جاتی، کاش!“

Facebook Comments HS