کابلی پلاو۔۔۔۔ ڈرامہ انڈسٹری میں خوشگوار اضافہ
پاکستانی ڈرامہ ایک لمبے عرصے سے یکسانیت کا شکار ہے۔ یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ زندگی صرف گھریلو مسائل , ساس بہو کے جھگڑے اور محبت کی جھوٹی سچی کہانیوں تک محدود ہے۔لیکن اب کچھ وقت سے ڈراموں کے موضوعات میں تبدیلی اور تنوع نظر آنے لگا ہے۔ ڈراموں میں معاشرتی مسائل کو موضوع بنایا جانے لگا ہے۔
یوں تو گرین چینل سے نشر کیے جانے والے سارے ہی ڈرامے اچھے ہیں۔ لیکن ڈرامہ سیریل ” کابلی پلاو” نے اس قدر مقبولیت حاصل کر لی ہے کہ ناظرین شدت سے اگلی قسط کے منتظر رہتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے ڈرامے کا منفرد موضوع اور شاندار ایکٹنگ ہے۔جس میں ہیروئن( باربینہ) کا کردار تیرے بن والی حیا یعنی سبینہ فاروق نبھا رہی ہیں۔
یہ افغان مہاجر کم عمر بیوہ کی کہانی ہے جس کا بھائی جنگ کی وجہ سے معذور ہوگیا ہے۔ یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ خیبر پختونخواہ آجاتی ہے۔ یہ اپنے بھائی کے علاج کے لیے حق مہر میں مخصوص رقم کا تقاضا کرتی ہے اور علاقے کا کوئی نوجوان یہ رقم ادا نہیں کرسکتا۔ایک سابق ادھیڑ عمر کاروباری شخصیت حاجی صاحب جنہوں نے اب تک شادی نہیں کی اپنا سب کچھ بہن بھائیوں کے نام کرکے اور چھوڑ چھاڑ کے اللہ کی راہ میں نکلتےہیں۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ لاہور سے خیبر پختونخواہ آتے ہیں۔ انہیں اس معاملے کی خبر ہوتی ہے تو وہ رقم ادا کر دیتے ہیں لیکن شادی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ لڑکی بضد ہے کہ اگر شادی کرے گی تو اسی شخص سے اور آخر کار حاجی صاحب کو اُس سے شادی کرنی پڑتی ہے۔
حاجی صاحب اُس کو گھر تو لے آتے ہیں لیکن یہ شادی ان کے گلے پڑ جاتی ہے۔ ان کو اب نئے امتحان کا سامنا ہے۔ بظاہر تو وہ اپنے گھر والوں کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتے ہیں کہ یہ محض کام کرکے بھائی کی گئی امداد کا قرض اتارنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ راز بھی جلد ہی فاش ہوجاتا ہے۔ حاجی صاحب کا ایک دشمن جو پولیس میں ملازم ہے باربینہ کے بھائی کو ڈرا دھمکا کر راز اُگلوا لیتا ہے اور تمام راز فاش کردیتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا کیا قدم اٹھائیں گے حاجی صاحب؟ کیا وہ دے پائیں گے باربینہ کو تحفظ ؟ یا وہ ہوجائے گی گھر والوں اور شمیم ( حاجی صاحب کی پہلی منگیتر) کی نفرت اور انتقام کا شکار ؟ یا پھر گھر والے کر لیں گے اُس کو قبول ؟ کیا ہوگا باربینہ کا انجام یہ تو ناظرین آنے والی اقساط میں ہی جانے سکیں گے۔
اس کہانی میں بے جوڑ رشتے کی محبت کی کہانی دکھائی جائے گی۔ یہ پختون معاشرے کی منفرد رسم و رواج اور ہمارے عمومی معاشرتی رویے کا عکاس بھی ہوگا۔ حاجی صاحب اور باربینہ جن کی عمر، زبان اور تہذیب و ثقافت ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ کہانی اس بنیاد پر آگے بڑھے گی کہ یہ دونوں سماجی اور ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا کیسےکریں گے۔ اس ڈرامے کی مقبولیت سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ واپس اپنے اُس معیار پہ گامزن ہے جہاں ناظرین پورا ہفتہ آنے والی قسط کے منتظر رہتے تھے۔ یقیناً یہ تبدیلی انڈسٹری کے لیے خوش آئند ہے۔

