میرے نانا ابو ، داستان عزم و یقین پاکستان
وطن سے محبت فطرت انسانی میں شامل ہے
آقا صلی للہ علیہ و سلم کا فرمان ہے
حب الوطن من الْاِیمَان
”وطن سے محبت جزو ایمان ہے۔“
دیار وطن کے در و دیوار بھی پیارے لگتے ہیں
بخاری شریف میں ہے
”بلاشبہ نبی کریم ﷺ جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے سواری (اونٹنی) کو تیز کرتے اور اگر کسی چوپائے پر سوار ہوتے تو اسے بھی دوڑاتے“
مگر افسوس آج کل اک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف سے جان بوجھ کر قومی پرچم کی بیحرمتی اور پاسپورٹ جلانے کے متعدد واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں اور جان بوجھ کر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایسی ڈی پی لگائی جا رہی ہیں کہ 14 اگست کو بلیک ڈے منایا جائے۔ ایسے واقعات دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے اور اپنے آبا و اجداد کی اس وطن کے لئے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں جانے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔
ویسے تو پرچم کا مطلب علامت یا نشان ہوتا ہے اور سب سے پہلے اس کا استعمال گروہوں کے مابین جنگوں میں فوجوں کی شناخت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ہر ملک اور قوم کا شناختی نشان ہے۔
کسی بھی ملک کا پرچم اُس ملک کے نظریے کو بیان کرتا ہے اور ملکوں کی طرح سیاسی جماعتیں بھی نظریات کی بنیاد پر اپنا پرچم تشکیل دیتی ہیں۔
کاش ہمارے سیاسی قیادت اپنے ورکروں کو سیاسی شعور کے ساتھ ساتھ قومی پرچم کی اہمیت اور وطن کی محبت سے بھی آشنا کرتی۔
الحمدللہ مجھ ناچیز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس پاک وطن کی پاک دھرتی میں ہمارے پرکھوں کا لہو بھی شامل ہے اس لئے اس وطن کی محبت میرے جسد میں خون بن کے دوڑتی ہے۔
میرے ابو کے ماموں زاد بھائی یونس کمال لودھی جن کا شمار تحریک پاکستان کے عظیم کارکنان میں ہوتا ہے اور ان کی مرتب کردہ کتاب ”پاکستانی قومی پرچم اور ترانہ“ قومی نصاب کا حصہ ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے۔
میرے نانا ابو محمد علیم خان ولد عبد الحکیم خان نے ہندوستان کے کنج پورہ (ضلع کرنال) سے ہجرت کی۔ پارٹیشن کے وقت شہروں کی نسبت گاؤں میں رہنے والوں کو ہجرت میں بہت مشکلات پیش آئیں کئی بار سکھ بلوائیوں کے نرغے میں آئے تمام راہ موت زندگی کی آنکھ مچولی جاری رہی مگر کسی نہ کسی طرح جان بچا کے کرنال ریفیوجی کیمپ میں پہنچے۔
یوں دکھوں صدموں سے بوجھل ننھیال خاندان کرنال سے بذریعہ ٹرین عازمِ پاکستان ہوا مگر ابھی مصائب کے بادل نہ چھَٹے تھے ٹرین کچھوے کی سی چال سے چل رہی تھی (یہ پری پلان تھا ڈرائیور ہندو تھا) ڈرائیور نے ویران جگہ پہ ٹرین کی خرابی کا بہانہ بنا کے ٹرین روک لی۔ وہاں بلوائیوں نے آ لیا خونریز لڑائی ہوئی کئی مسلمان شہید ہوئے ان میں میرے نانا کے قریبی عزیز و اقارب بھی شہید ہوئے ڈرائیور ٹرین کو اسی جگہ چھوڑ کے فرار ہو گیا۔
اب ٹرین میں اعلان کیا گیا کہ کوئی مسلمان مہاجر جو ٹرین چلانا جانتا ہو بزرگ بتاتے ہیں ایک نحیف و نزار شخص ضُعف سے جس کے ہاتھوں میں رعشہ تھا مگر اس نے ٹرین ایسے جذبے سے چلائی کہ مہاجرین بہت جلد انڈین سرحد عبور کر آئے آگ اور خون کا دریا عبور کر کے ملتان کبیر والہ بعد ازاں سیالکوٹ جیسروالہ آباد ہوئے۔ اُدھر میرے ددھیال خاندان نے سہارنپور سے ہجرت کر کے میانوالی بھکر آباد ہوئے۔ ان کی ہجرت کی داستان پہلے اک اور مضمون میں بیان کر چکا ہوں۔
آج کا مضمون اپنے نانا ابو مرحوم کے بارے ہے۔
میرے نانا ابو محمد علیم خان 1919 کو ریاست کنج پورہ میں پیدا ہوئے اور آٹھویں کلاس تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے ریاست کنج پورہ کے نواب فیاض علی خان سے گہرے مراسم تھے۔ میری مرحومہ والدہ محترمہ بتاتی تھی کہ کنج پورہ شہر کے تین پڑھے لکھے مسلمانوں گھرانوں میں ان کے گھر کا بھی شمار ہوتا تھا میری والدہ محترمہ اس وقت کی آٹھویں پاس تھی۔
قیام پاکستان سے قبل نانا ابو ریلوے پولیس میں اچھے عہدے پر تعینات ہوئے لیکن گاؤں میں چیچک کی وبا پھیلنے کے سبب نوکری چھوڑ کر واپس آ گئے کیونکہ اس وبا نے جہاں میری والدہ محترمہ کے چہرے کو متاثر کیا وہیں ان کی اک آنکھ بھی ضائع ہو گئی تھی اور سب سے بڑی بیٹی کی محبت میں نانا ابو ریلوے پولیس کی نوکری چھوڑ کر واپس آ گئے۔ بہت بڑے زمیندار اور کاروباری گھرانے سے تعلق کی وجہ سے زمینوں اور کاروبار کی دیکھ بھال شروع کی۔ نانا ابو کا کنج پورہ شہر کے نواب محلے میں ڈیڑھ کنال پہ مشتمل وسیع و عریض گھر تھا اور ضلع کرنال سے متصل کسی گاؤں میں اچھی خاصی زرعی زمینیں تھی
بے سروسامانی میں ہجرت کے باوجود نانا جان ایک پاؤ کے لگ بھگ سونا اور 20 کلو چاندی بچا لائے تھے یعنی نانا ابو آسودہ حال اور شہر میں رہائش ہونے اور نواب خاندان سے قریبی مراسم کی وجہ سے سویلائزڈ فیملی تھی۔
قیام پاکستان کے بعد جب والدہ محترمہ کی میرے ابو سے شادی ہوئی تو جہیز ٹرکوں میں آیا تھا اور والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ کئی دن بھکر کے دور دراز کے گاؤں سے بھی خواتین جہیز دیکھنے آتی تھیں کہ الحمدللہ نانا ابو نے والدہ محترمہ کو اتنا زیادہ جہیز دیا تھا کہ اس وقت کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا۔
نانا ابو نے تحریکِ پاکستان میں حصہ بھی لیا انہیں دورانِ تحریکِ قیامِ پاکستان مسلم لیگ کے جلسے میں براہِ راست قائداعظم کی جھلک دیکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
پارٹیشن کے وقت ہمارے نانا ابو کے ساتھ ساتھ ریاست کنج پورہ کے نواب فیاض خان بھی اپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان منتقل ہو گئے اور انہیں لاہور میں عالیشان بنگلہ الاٹ ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ نواب صاحب کو 108 گاؤں الاٹ ہوئے جو سب کے سب سیالکوٹ میں تھے جس کی مکمل سپرداری اور ذمہ داری نواب صاحب نے نانا ابو کو دے دی۔ جبکہ نانا ابو کو خود ملتان کبیر والہ اور ساہیوال میں وسیع زرعی رقبہ الاٹ ہوا۔ لیکن نواب فیاض خان سے دیرینہ تعلق کی وجہ سے نانا ابو سیالکوٹ کے گاؤں جیسروالہ میں شفٹ ہو گئے۔ میری بچپن کی حسین یادوں میں نانا ابو کا وسیع و عریض دو منزلہ مکان بھی شامل ہے جو قیام پاکستان کے بعد نانا ابو نے تعمیر کروایا تھا اور اس وقت گاؤں میں وہ واحد پختہ گھر تھا جو نہایت صاف ستھرا اور بہترین حالت میں تھا۔
ہندوستان سے پاکستان ہجرت تمام ہوئی مگر ابھی خانہ بدوشوں کو سکون میسر نہ ہوا تھا کہ 1965 کی جنگ نے آ گھیرا۔ نانا ابو مرحوم محمد علیم خان نے ہمت نہ ہاری، وہ اپنی ایمانداری، لگن، بہادری اور دانشمندی کی وجہ سے سول اور مسلح افواج دونوں میں انتہائی قابل احترام شخصیت مانے جاتے تھے۔ 1965 کی جنگ میں نانا ابو نے مادر وطن کے لیے اپنی کمٹمنٹ ظاہر کرنے کے لیے نا صرف چونڈا بارڈر پر فوجیوں کو روزانہ اپنی جیب خاص سے تیار کھانا فراہم کرتے تھے بلکہ سینکڑوں رضاکاروں کی قیادت کرتے ہوئے ہمہ وقت دشمن سے لڑنے کے لئے تیار بھی رہتے تھے۔
جنگ کے اختتام پر اک فوجی تقریب میں انہیں خصوصی تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور پھر بعد ازاں وہ 1965 میں ہی بی ڈی ممبر اور کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، انھوں نے بطور چیئرمین علاقے کے لوگوں کی خدمت کی، اینٹوں کی سڑک کی تعمیر (سولنگ) ، نکاسی آب، بجلی، سکول اور یونین کونسل کے لوگوں کے لیے نہری پانی کا بندوبست کا انتظام کیا ان کے نام سے منسوب آج بھی اک نہر جیسروالہ سے گزرتی ہے۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین بھی تھے، ان کا انتقال 6 جنوری 1980 کو ہوا۔
لیکن آج پاک فوج سے لے کر مختلف سرکاری و غیر سرکاری محکموں میں ان کے بیٹے، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں اور دیگر خاندان کے افراد پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے۔ نانا ابو مرحوم اکثر اک ہی بات کرتے تھے کہ پاکستان کے لئے ہم نے بہت کچھ قربان کیا اس لیے اس دھرتی کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ اس لئے میرا پاک وطن اور پاک آرمی سے یک گونہ عقیدت و محبت قدرتی امر ہے۔ مجھے پاکستان اور پاک آرمی سے پیار ہے۔


