لیاقت علی عاصم فن اور فکر


معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم کا شمار شعرا کی اس قبیل سے ہوتا ہے جو عوام کے دلوں کو چھوتے ہوئے اور خواص کی توجہ حاصل کرتے ہوئے غزل کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔انھوں نے نہ تو جدت سے منہ موڑا نہ روایت سے دامن چھڑایا بلکہ روایت سے شعر کہنے کا سلیقہ سیکھ کر آج کے مسائل و موضوعات کو غزل کے دامن میں سمویا۔
انھی کے بقول

تمھاری طرح سے لکھتا تو مٹ چکا ہوتا
یہ میں جو ہوں یہ روایات کا ثمر ہے میاں

لیاقت علی عاصم کی شاعری کی مجموعی فضا احساسِ تنہائی، یادِ رفتگاں، بے مقصدیت، کربِ مسلسل، گھٹن، مغائرت، موت کی تمنا اور بے اعتباری و بے یقینی سے عبارت ہے۔اگرچہ ان کے کلام میں اور بھی کئی موضوعات کی جھلک موجود ہے لیکن داخلی کیفیات کا اظہار غالب ہے۔انھوں نے جیسی زندگی بسر کی ہے ویسے ہی لکھ دی ہے کوئی تصنع و بناوٹ نہیں، تخیل آفرینی اور فکر و فلسفہ نہیں اور کوئی حقیقت سے ورا خیالی دنیا نہیں لیاقت علی عاصم کی شاعری ایک سیدھے سادے حساس انسان کی زندگی اور اس کے معاشرے کا عکس ہے۔معاصر غزل میں لیاقت علی عاصم کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔

1951 میں کراچی میں پیدا ہونے والے لیاقت علی عاصم 2019 میں کورونا نامی وبا کے دوران کراچی ہی میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔ان کے کُل آٹھ شعری مجموعے ہیں۔ دو شعری مجموعے 1990 سے پہلے شائع ہوئے۔ایک نوئے کی دہائی میں اور بقیہ پانچ شعری مجموعے 2000 کے بعد منظرِ عام پر آئے۔ سات شعری مجموعوں پر مشتمل کلیات "یکجان” کے عنوان سے شائع ہوئی اور آٹھواں شعری مجموعہ ان کی وفات سے کچھ وقت قبل 2019 میں شائع ہوا۔
یہاں ان کے آخری دو شعری مجموعے لیے گئے ہیں۔”نیشِ عشق” 2014 میں اور "میرے کتبے پہ اس کا نام لکھو” 2019 میں شائع ہوا۔انھی دو مجموعوں پر آئندہ سطور میں بات ہو گی۔ جس میں لیاقت علی عاصم کے موضوعات اور فن کا جائزہ لیا جائے گا۔
آخری دو مجموعوں کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ مجموعے غزل کو ایک عمر عطا کرنے والے شاعر کی کُل ریاضت کا حاصل ہیں۔شاعر غزل کی تمام تر باریکیوں اور غزل کے مزاج سے واقف ہو چکا ہے۔فن پہ دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ شاعر معاصر موضوعات کو غزل میں بیان کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔آخری مجموعے اس اعتبار سے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ وہ مٹتے مٹتے کچھ اَن مٹ نقوش چھوڑنا چاہتا ہے اور کچھ غیر معمولی کام کر کے جانا چاہتا ہے۔

فکر

معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم سماجی رویوں کا شعور رکھنے والے اور داخلی کیفیات کو شعر میں ڈھالنے والے غزل گو شاعر ہیں۔شاعر کا سماج سے تعلق ہے سماجی و معاشی حالات کا فکرِ شاعر پہ گہرا اثر پڑتا ہے۔بد نصیبی سے نہ ہمارے حالات بدلتے ہیں نہ ہی موضوعات بدلتے ہیں۔تقسیمِ ہند سے لے کر آج تک ایک کربِ مسلسل ہے جس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔نہ قوم کی تقدیر بدلتی ہے، نہ حاکموں کی تدبیر بس ایک بے بسی اور ذلت کا سفر ہے اور مسلسل سفر ہے۔ایک حساس شاعر اپنے گرد پھیلے ظلم و ستم، جبر، بھوک، بے بسی اور احتیاج سے کیا کشید کر کے شعر میں ڈال سکتا ہے؟
لیاقت علی عاصم کسی انقلابی یا رومانوی فکر کا حامل نہیں ہے۔وہ تو بس زندگی کے رویوں کا عکاس ہے اور سماج کے برتاو پر نوحہ کناں ہے۔

لیاقت علی عاصم اس شور انگیز، خون انگیز اور درد انگیز معاشرے میں شدید گھٹن کا شکار ہے۔اس کا دل لگانے سے بھی اس جہاں میں نہیں لگ رہا۔اس بارود کی باس بھری فضا میں سانس لینا اس کے لیے محال ہے۔وہ تو بازار میں نیلا ہونے آیا ہے وہ بھلا کیسے کہے کہ اس کا دل بازار میں نہیں لگ رہا۔اسے دعا اور ہوا کی ضرورت ہے کیونکہ حبس اور پریشانی زیادہ ہے۔اسے آنسوؤں کی زبان نے پیا ہے اور بے بسی کے کلام نے کھایا ہے۔

میں ہوں نیلام ہونے کو آیا ہوا میری اوقات کیا
کہہ بھی سکتا نہیں میرا بازار میں دل نہیں لگ رہا

بہت ہے حبس ہوا کی بہت ضرورت ہے
دعا کرو کہ دعا کی بہت ضرورت ہے
مری غزل کا نہیں مسئلہ ہے محفل کا
فضا بناو فضا کی بہت ضرورت ہے

وہ جو آنسوؤں کی زبان تھی مجھے پی گئی
وہ جو بے بسی کے کلام تھے مجھے کھا گئے

یہ بے دعا نہیں ہے کہ تُو بھی ہو بے چراغ
دل چاہتا ہے اور اندھیرا دکھائی دے
آنکھوں کے اس ہجوم میں گھٹنے لگا ہے دم
اے کاش کوئی دیکھنے والا دکھائی دے

بوئے حنا نہیں نہ سہی، بوئے خوں سہی
کیسے فضا سے ہو کے جدا سانس لیجیے

معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم اپنے عہد کے ادبی رویوں سے سخت نالاں ہیں۔ شعرا تو معاشرے کا عکس ہوتے ہیں یہ حساس اور دردِ دل رکھنے والے صاف دل و صاف نیت انسان سمجھے جاتے ہیں لیکن لیاقت علی عاصم ان کی ادبی سازشوں سے خوب واقف ہیں یہ شہرت کمانے کے لیے کس حد تک جاتے ہیں اور کیا کیا تخریب کاریاں کرتے ہیں ان سے لیاقت علی عاصم خوب واقف ہیں۔ادبی چوریاں اور بے جواز نقد ان کا خاصا بن چکا ہے۔لیاقت علی عاصم ادبی رویوں کو کچھ اس طرح بے نقاب کرتے ہیں۔

شعر جیسے بھی کہے ہوں مگر اس ناز کے ساتھ
میں نے شہرت کے لیے شہر میں سازش نہیں کی

جاگتی آنکھوں سنانا بزم میں عاصم غزل
دوسروں کے خواب پر شب خوں بہت ہوتا ہے اب

میں تو اٹھ آیا مرے شعر پہ جب بات چلی
نکتہ چینوں میں وہی شور تھا یوں ہے یوں ہے

لیاقت علی عاصم کی مجموعی شعری فضا میں احساسِ تنہائی نمایاں ہے۔وہ اس بھری بھرائی دنیا سے کنارا کش ہو کر اپنے ہی ساتھ وقت بِتانا چاہتے ہیں۔جلوتِ دہر میں خلوت کے مزے لوٹتے ہیں۔غالب نے جو کہا تھا کہ آدمی محشرِ خیال ہے شاید لیاقت علی عاصم اسی خیال کے محشر میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ان کے گردِ مجمعِ تنہائی ہے۔وہ تنہائی کے بستر سمٹے پڑے ہیں۔وہ تنہائی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ذیل میں کچھ اشعار ان کی کیفیت کے ترجمان ہیں۔

چھٹتے چھٹے بھی اسے عمر لگے گی عاصم
یہ کوئی بھیڑ نہیں مجمعِ تنہائی ہے

تنہائی کے بستر پر افسوس کی چادر میں
سمٹا ہوا رہتا ہوں موجود و میسر میں
دل کو تری صورت نے آئینہ کیا ورنہ
اک شے بھی نہیں روشن اس خاک بھرے گھر میں

کام ہی کیا ہے مجھے فرصتِ تنہائی میں
ٹوٹتا پھوٹتا رہتا ہوں در و بام کے ساتھ

دور تک ساتھ چلا ایک سگِ آوارہ
آج تنہائی کی اوقات پہ رونا آیا

کوئی آئے کوئی جائے کسی سے کام ہی کیا تھا
میں اس ہوٹل میں بیٹھا چائے کا معیار گرنے تک

لیاقت علی عاصم کی شاعری حالاتِ حاضرہ کا واضح عکس ہے۔جو کچھ کہ اس خرابے میں ہو رہا ہے وہ لیاقت علی عاصم رقم کرتے جا رہے ہیں۔جیسے ہمارے ملک کے حالات ہیں اور جو ہماری حالت ہے اس سب کی نوحہ گر لیاقت علی عاصم کی غزل ہے۔

درج ذیل اشعار میں اپنے سماج اور اپنی حالت کی واضح صورت دیکھی جا سکتی ہے۔

ایک دو ساون تو ہم سہہ لیں مگر ہر سال ہی
بستیوں کا نذرِ سیلِ آب ہونا ظلم ہے

دار و رسن پہ جھول گیا تھا وہ بے گناہ
وہ دن ہے اور آج کا دن مر رہے ہیں ہم

مشقت کے نتیجے مل رہے ہیں
ہمیں اجرت میں دھوکے مل رہے ہیں

آسماں عریاں، زمیں ننگی، زمانہ بے حیا
شاعری میں اور ان کو بے لبادہ کیا کروں

جانے والو تمھیں مبارک ہو
اچھے وقتوں میں جی گئے تم لوگ

کہیں بھی بیٹھ کے رو لے کوئی نہ پوچھے گا
تمام شہر ہی دیوارِ گریہ ہو گیا ہے
دلِ گداختہ ایسی بھی کیا گرفتہ دلی
ہماری آنکھ کو آزارِ گریہ ہو گیا ہے

اے ارضِ وطن اب تری مٹی سے کہیں کیا
لاحاصلی اگتی ہے پسینے سے ہمارے

دیکھنا نو واردانِ شہرِ جاناں دیکھنا
ان گلی کوچوں میں کشت و خوں بہت ہوتا ہے اب

سمندر بھی تمھارا ہے جزیرے بھی تمھارے ہیں
کہاں سے اٹھ رہا ہے شورِ غرقابی تمھی دیکھو

شورِ جرس میں پھر مری فریاد کھو گئی
یہ قافلہ بھی چاہ سے آگے نکل گیا

خواہش و خواب و خدا سب قتل ہوتے جا رہے تھے
دل کی حالت شہر کے حالات ایسی ہو گئی تھی

ادھر لاش اٹھائی اُدھر دفن کی
ہمیں فرصتِ رسمِ ماتم کہاں

پھیلی ہوئی ہے آگ دھواں بن کے سینوں میں
ایسی فضا میں عید منائے گا کیا کوئی

صحرا ہیں کم زمیں پہ سمندر زیادہ ہیں
افسوس پھر بھی پیاس کے منظر زیادہ ہیں

لیاقت علی عاصم کی غزل بے اعتباری و بے یقینی کی فضا لیے ہوئے ہے۔انھیں دوستوں پہ اعتبار نہیں زمانے پہ یقین نہیں یہ نفسانفسی کا عالم ہے خود غرضی و بے اطمینانی کا عہد ہے۔اس دورِ پُرفتن میں کوئی کس پہ بھروسا کرے۔

یاد آ جاتا ہے اک دوست نما راز فروش
ہم نیا دوست بناتے ہوئے رہ جاتے ہیں
دیکھتا ہوں میں جنھیں خواب میں اکثر عاصم
کیا زمانے ہیں کہ آتے ہوئے رہ جاتے ہیں

پناہِ عشق میں محفوظ گزرا
قیامت خیز دورِ بے یقینی

بے یقینی کے اس اندھیرے میں
ہاتھ کو ہاتھ کیا سجھائی دے

مغائرت و بے گانگی کے عناصر بھی معاصر غزل گو کے کلام میں دکھائی دیتے ہیں۔ان کا دل دنیا سے اچاٹ ہے۔وہ ہنگامہِ ہاؤ ہو سے خود کو الگ کیے ہوئے ہیں۔وہ اس جہانِ رنگ و بو سے اس قدر بیگانہ ہیں ہیں کہ صحنِ گلزار ہو یا صحبتِ یار ان کا دل نہیں لگتا۔

سچ کہا اے صبا صحنِ گلزار میں دل نہیں لگ رہا
سایہِ سبز میں صحبتِ یار میں دل نہیں لگ رہا
روپ کیا شہر کا شکل کیا گاؤں کی دھوپ اور چھاؤں کی
ایک تکرار ہے اور تکرار میں دل نہیں لگ رہا
کیا مری شاعری کیا کتابیں مری رایگاں رایگاں
میر و غالب کے پرسوز اشعار میں دل نہیں لگ رہا ہے

اس کی گلی میں بھی نہیں جانا ہے دل کو آج
یہ بے دلی تو ترکِ محبت سی ہو گئی

وہ محض حالاتِ حاضرہ کی سنگینیوں سے گھبرائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ اک یادِ مسلسل ان کے تعاقب میں ہے جو انھیں دو جہاں سے بے خبر کر رہی ہے وہی یاد ان کی اس کرب ناک حالت کا باعث بنی ہوئی ہے۔

رفتگاں کی بستیوں تک جا کے آنے کا سفر
مر کے ہی ممکن ہے تم کو بھول جانے کا سفر

وہ زندگی جو گزاری تھی اس کے ساتھ کبھی
وہ یادآئی مگر بے دلانہ یاد آئی

یاد آئی اور رو لیے، روئے تو سو لیے
مشکل ہی رفتہ رفتہ سہولت سی ہو گئی

معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم کے ہاں بے مقصدیت کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔وہ زمین آسمان کے بیچ خود کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ان کے نزدیک میرا وجود بس زمین کی خوراک بننے کے لیے بنا ہے اور میرا کوئی مقصد نہیں۔اس مٹی کے پُتلے کو زمین و زمن کے کھیل کا مطلق پتہ نہ تھا۔

زمیں سے تا بہ فلک گردِ راہ کرنے کو
مجھے بنایا گیا ہے تباہ کرنے کو
پھر ایک بار بہشتِ بریں سجا یارب
میں آ رہا ہوں دوبارہ گناہ کرنے کو

مٹی کو خبر کیا تھی کہ کیا ہونا ہے عاصم
کوزے میں ڈھلی ٹوٹنے کو چاک سے آئی

وہ کہیں کہیں عزم و حوصلہ سے کام لینے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کر نہیں پاتے۔وہ عشق کو اپنا حوصلہ قرار دیتے ہیں۔دنیا کے ان دکھوں میں ان کا دوسرا حوصلہ یا سہارا شاعری ہے۔وہ عشق اور غزل سے کام چلانے کی بات کرتے ہیں اور کہیں کہیں دنیا کی بھاگ ڈور اپنے ہاتھ لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کر نہیں پاتے۔

ٹوٹنے کا سلسلہ ٹوٹا نہیں
ورنہ دل کے ساتھ کیا ٹوٹا نہیں
روح مجھ کو آندھیوں سے لے اڑی
میں بدن سے دور تھا ٹوٹا نہیں
ٹوٹا پھوٹا راستہ تھا عشق کا
پھر بھی میرا حوصلہ ٹوٹا نہیں
دکھ بہت آئے تھے مجھ کو توڑنے
میں غزل کہتا رہا ٹوٹا نہیں

منتشر ہو رہی ہے بزمِ جہاں
اپنے ہاتھ انتظام لے اے دل

اگر وہ جینے کا حوصلہ کر پاتے تو موت کی تمنا نہ کرتے۔وہ دنیا کے دکھوں سے گھبرا کر اور دنیا کو بے مقصد سمجھتے ہوئے خود کو ختم کرنے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ان کے ہاں کئی ایسے اشعار ہیں جہاں دنیا سے بیگانہ، دنیا کو بے مقصد سمجھنے والا ایک دردمند شخص موت کی تمنا کرتا دکھائی دیتا ہے۔

صرصرِ وقت آئے بکھیرے مجھے چار اطراف اب
اس عناصر بھرے ٹھوس انبار میں دل نہیں لگ رہا

حادثے ہو رہے ہیں ہونے دو
میں بہت تھک گیا ہوں سونے دو

میں انتہائے رفاقت کو چھونا چاہتا تھا
سوائے موت کوئی انتہا نہ یاد آئی

معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم کی غزل میں ایک کربِ مسلسل رواں ہے۔دکھ درد کی فضا ہے۔خود اذیتی ہے۔سماج سے نالاں خدا سے شکوہ کناں شخص اپنی غزل میں چھلنی چھلنی دکھائی دیتا ہے۔ناامیدی اور مایوسی ہے۔تکلیفوں کا اظہار ہے۔

درج ذیل اشعار میں ان کی کرب ناک حالت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

کوئی لباس کفن کے سوا نہیں جچتا
مرے وجود میں ایسا سلا ہوا دکھ ہے
علاج یہ ہے کہ نشتر لگا دیا جائے
لہو نہیں یہ رگ و پے میں دوڑتا دکھ ہے
ابھی سے دوست دعا دے رہے ہیں جینے کی
ابھی تو میں نے کہا بھی نہیں کہ کیا دکھ ہے
نصیب ہو نہ ہو اگلے پڑاو پر مہلت
یہیں دکھا دو جو دل میں پڑا ہوا دکھ ہے

شکوے کی بات نہیں لیکن آوازِ شکست تو آئے گی
تقدیر کے نانِ سنگیں میں کوئی نرم نوالہ ہے ہی نہیں
ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے سائے بھی ٹوٹے پھوٹے ہیں
اس دھوپ میں لیکن کیا کیجے کوئی اور سنبھالا ہے ہی نہیں

یہ پریشان کُن خبر ہے میاں
جو جہاں ہے وہیں پریشاں ہے
میں نے پوچھا ہوا خفا ہے کیا
شمع بولی نہیں پریشاں ہے

وطن میں ہوتے ہوئے بے وطن سے رہتے ہیں
خدائے بے کساں ہم سا نہ ہو غریب کوئی

کوئی قریب سے گزرے تو غصہ آتا ہے
عجب فریبِ رفاقت دیا گیا ہے مجھے

لیاقت علی عاصم کی شاعری محض حالات کا نوحہ ہی نہیں ہے نہ ہی داخلی کیفیات کے اظہار پہ اکتفا ہے بلکہ لیاقت علی عاصم اپنے دور کے نئے موضوعات سے واقفیت رکھتے ہیں اور نئی ایجادات سے پیدا ہونے والے مسائل کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔کیمرے کی ایجاد اور پھر حفیہ کیمروں کے استعمال سے جو بلیک میلنگ کا سلسلہ دراز ہوا ہے لیاقت علی عاصم اس پہ خاص نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔وہ نہ صرف اس مسئلے کو سمجھتے ہیں بلکہ اس سے بچنے کے لیے منفرد انداز میں نصیحت بھی کر دیتے ہیں۔

تیسری آنکھ کا زمانہ ہے
تیرگی میں بھی بے لباس نہ ہو

فن

آج کی غزل میں فن کی سطح پہ اساتذہ کی طرح زیادہ کاری گری تو نہیں ہے یعنی تراکیب سازی، تشبیہات و استعارات کا اعلیٰ درجے پہ استعمال یا بیان و بدیع کا ترجیحاََ استعمال لیکن موجود غزل میں داخلی آہنگ، لفظوں کی ترتیب اور مصرعے کی بُنت سے ایک جمالیاتی تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔عمومی طور پہ غزل کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔الفاظ کا زیادہ تر چناؤ بھی عوامی ہے۔
خوش بیانی مری فطرت میں ہے شامل عاصم
شاعری سے مری وابستگی کیوں ہے، یوں ہے

لیاقت علی عاصم نے کرب کے اظہار کو پُرسوز بنانے کے لیے جادہِ سادہ اپنایا، مصرعے کی بُنت، لفظوں کے انتخاب، لفظوں کی نشست و برخاست، عام فہم تراکیب، تازہ الفاظ کے برتاؤ، تشبیہات، استعارات، تضادات اور تمثال کاری کے استعمال سے دیر پا تاثر چھوڑنے والے اشعار تخلیق کیے۔

تمثال کاری یا پیکر تراشی انگریزی لفظ امیجری کے اردو متبادل ہیں۔تمثال میں لفظوں سے تصویریں بنائی جاتی ہیں۔یہ تصویریں مرئی اور غیر مرئی اشیا کی ہو سکتی ہیں۔رنگ کے تمثال، روشنی کے تمثال اور حرکت کے تمثال سے کام لے کر شاعر اپنے کلام کو حسن اور دوام بخشنے کی کوشش کرتا ہے۔تمثال محض لفظوں سے تصویر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ بعض اوقات ویڈیو کلپ آنکھوں کے سامنے چلنے لگتا ہے۔
لیاقت علی عاصم کے ہاں بھی کہیں کہیں تمثال کاری کے عمدہ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

میں آئنے کی جبیں سے جبیں لگائے رہا
کسی کی آج بہت والہانہ یاد آئی

پیچھے کی سمت بھاگ رہا تھا جہانِ خاک
میں ریل سے اتر گیا زنجیر کھینچ کر

پہلے شعر میں آئنے کی جبیں سے جبیں لگائے رکھنا کس قدر واضح تمثال ہے اور کیفیت کا بھرپور اظہار ہے۔نہ صرف یہ کہ آئنے سے ماتھا ٹیکے ہوئے شخص کی تصویر سامنے آتی ہے بلکہ اس کیفیت کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے جس نے اسے یہ سب کرنے پہ اکسایا۔
دوسرے شعر میں حرکت کے تمثال سے کام لیا گیا ہے ریل میں بیٹھے شخص کے لیے جہانِ خاک کا پیچھے بھاگنا اور وحشت سے زنجیر کھینچ کر اس شخص کا اتر جانا کسی ویڈیو کلپ کی مانند ہے اور اس کی داخلی حالت کا بیان بھی ہے۔

تازہ زمینوں، دل کش تراکیب اور لفظوں کے عمدہ برتاو کے ساتھ لیاقت علی عاصم نے اپنی غزل کی فضا مہکائی ہے۔

کیسی مہک کہاں کا کوئی پھول باغ میں
بس رنگِ بے وفائی ہے مقبول باغ میں
آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے نکلنا پڑا مجھے
اک یاد نے اڑائی بہت دھول باغ میں
آنکھوں میں حسن تھا کہ ہوس کچھ نہ پوچھیے
ہر چہرہ لگ رہا تھا مجھے پھول باغ میں
عاصم رسالہ ہائے گل و برگ و بار دیکھ
قدرت نے کھول رکھا ہے اسکول باغ میں

درج بالا اشعار میں مہک، پھول، باغ سے صنعتِ مراعات النظیر کا نقش ابھرتا ہے، رنگِ بے وفائی اور رسالہ ہائے گل و برگ و بار بطورِ تراکیب استعمال ہوئیں؛ آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر نکلنا، یاد کا دھول اڑانا، آنکھوں میں حسن و ہوس کی کش مکش، چہرے پہ پھول کا گمان گزرنا اور فطرت کا باغ میں اسکول کا کھولنا کس قدر جمالیاتی تاثر ابھرتا ہے اور کیسے کیسے تمثال بنتے دکھاتی دیتے ہیں نیز آخری مصرعے میں لفظ اسکول کا استعمال بھی بہت مہارت اور عمدگی سے کیا گیا ہے۔

عشق کے آگے عناصر ڈھے گئے
ایک بھاری پڑ گیا تھا چار پر

ایک امید ایک مایوسی
رہ گئے ہیں یہی کھلونے دو

درج بالا اشعار میں صنعت سیاق الاعداد کا عمدہ استعمال کیا گیا ہے۔

روز پیروں تلے کچلتا ہوں
پھر بھی سر پر سوار ہے دنیا

جاتا ہوں انجمن سے کہ آتا نہیں مجھے
بیگانہ بن کے بیٹھنا اک آشنا کے ساتھ

تضاد کا استعمال غزل کے اشعار میں عام طور پر کیا جاتا ہے اس سے شعر میں معنوی وسعت اور لطافت پیدا ہوتی ہے اساتذہ نے صنعتِ تضاد کے استعمال سے غیر معمولی شاہکار تراشے ہیں۔لیاقت علی عاصم کے ہاں اس صنعت کے استعمال میں کوئی باقاعدہ اہتمام تو نظر نہیں آتا لیکن جہاں جہاں تضاد استعمال کیا ہے وہاں وہاں شعر کا لطف دوبالا ہوا ہے۔درج بالا دونوں اشعار میں صنعتِ تضاد کا بہترین استعمال کیا گیا ہے۔ یوں تو پیر اور سر کا تضاد عام سا ہے لیکن پہلے شعر میں بہت عمدگی سے ان دو لفظوں کو برتا گیا ہے دنیا کا روز پیروں میں کچلنا اور روز سر پہ سوار ہونا، نیز سر پر سوار ہونا محاورہ بھی ہے جس سے اور بھی لطف بڑھا ہے۔اسی طرح دوسرے شعر میں بیگانہ بن کے آشنا کے ساتھ بیٹھنا بھی خوب پُرلطف ہے۔

صاف دیوارِ محبت نہیں رہتی اکثر
کچھ نہ کچھ خلقِ خدا لکھتی ہے ایسا ویسا

اے بادِ سرِ شام ترے آنے پہ افسوس
لائی نہ اسے زلفِ پریشاں سے پکڑ کر

اے عمرِ بے لحاظ بتا کیسے چھوڑ دوں
اتنے ادھورے کام اور اتنے اداس لوگ

شرطِ حسن و ہنر لگی ہوئی ہے
شاعری داؤ پر لگی ہوئی ہے
گھر سے باہر بھی گھر میں ہوتا ہوں
دل سے زنجیرِ در لگی ہوئی ہے

درج بالا اشعار میں دیوارِ محبت، خلقِ خدا، بادِ سرِشام، زلفِ پریشاں، عمرِ بے لحاظ، شرطِ حسن و ہنر، اور زنجیرِ در ایسی دل کش تراکیب سے شعریت اور لطافت پیدا کی گئی ہے۔

Facebook Comments HS