کرپشن کے خاتمہ کے لیے "سمارٹ آفس سسٹم” لانا ضروری کیوں
ابا! میکوں مونجھ آئی اے (ابا! مجھے یاد آئی ہے ) ۔ پاکستان کی سرائیکی اور سندھی بیلٹ، ہمسایہ ملک کے تامل اور تیلگو علاقوں، کیرالہ، سری لنکا کے تامل اور کسی حد تک سنہالی علاقوں کے مقامی باشندوں کے جینز میں مونجھ ایک مستقل کیفیت کے طور پہ پائی جاتی رہی ہے۔ گھر سے دوری ان کے لیے ایسے ہی ہے جیسے کسی کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال دیا جائے۔
ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے تو انھوں نے عرب حکمرانوں سے اپنی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانیوں کے لیے مفت ورک ویزہ کی سہولت حاصل کر لی۔ پھر بھی سرائیکی اور سندھی بیلٹ کے عوام ملک سے باہر جا کر اپنے خاندان کے لیے روپیہ کمانے پہ تیار نہ تھے۔ انھیں سمجھایا گیا کہ سعودی عرب تم سوہنے کا گھر دیکھنے جا رہے ہو وہاں عمرہ اور حج کر لو گے تو پھر جا کے وہ خلیجی ریاستوں میں جانے پہ تیار ہوئے۔
پاکستان کے بالائی پنجاب اور ہمسایہ ملک کے مشرقی پنجاب سے بڑی تعداد میں لوگ امریکہ اور یورپ پہنچ گئے۔ جنوبی ایشیا خصوصاً سابق برصغیر میں باہر سے آئے پیسے کی ریل پیل ہو گئی تو ریال، درہم اور ڈالرز کا زیادہ استعمال ”چونچوں“ والے ایسے مہنگے اور فضول گھر بنانے پہ ہونے لگا جہاں ہوا کی آمد و رفت کا تو خیال نہ رکھا گیا بس ”شو بازی“ اور ہمسایوں کو زیادہ سے زیادہ مرعوب کرنے والی آؤٹ لک ہاؤس ڈیزائننگ اور آرکیٹیکچر پہ زیادہ دھیان دیا گیا۔ محلے کی گلی اتنی تنگ کے چھوٹی کار کو موڑا نہ جا سکے وہاں لمبی لمبی کاریں گھروں کے باہر لا کے کھڑی کر دی گئیں۔ بقول ایک نودولتیے شوخے کے ”بندے کے پاس چار پیسے ہوں اور انھیں رشتہ داروں اور اردگرد کے لوگوں پہ رعب ڈالنے اور انھیں“ ساڑنے ”کے لیے استعمال نہ کیا جائے تو پھر پیسہ کمانے کا فائدہ؟“ ۔
جو لوگ ملک سے باہر نہ جا سکے اور مقامی طور پر سرکاری یا پرائیویٹ ملازمتیں کرتے رہے اور چھوٹا موٹا کوئی کاروبار کرتے رہے ان کے اندر بھی خواہش نے سر ابھارا کہ جیسے ملک سے باہر گئے ہمارے ہم وطنوں نے اپنے ملک میں اونچے اونچے مہنگے گھر بنا لیے اور لش پش کرتی گاڑیاں خرید لی ہیں ایسا ہی سب کچھ ہمارے پاس بھی ہو۔ خواہش نے زور مارا تو اپنی تکمیل کے لیے اس نے مالی کرپشن کا راستہ اپنا لیا۔ سرکاری دفاتر میں رشوت کے بغیر جائز کاموں کو بھی بریک لگ گئی اور پرائیویٹ سیکٹر میں اینٹیں اور لکڑی پیس کر ان کا برادہ مرچوں میں مکس ہو نے لگا۔ واشنگ پاؤڈر اور شیمپو سے دودھ تیار ہونے لگا۔ گندم میں مٹی مکس کر کے فروخت کیا جانے لگا۔ جانور ذبح کر کے اس کی بڑی رگ میں پانی کا پائپ ڈال کر پانی بھر کے گوشت فروخت کیا جانے لگا۔
باہر سے آئی ہومیوپیتھک دوائیں کارسنو سن، ہائیڈراسٹس، کونیم، کلکیریا فلور، لیکسس، کروٹیلس وغیرہ کینسر کی ابتدائی سٹیج کو ٹھیک کرنے میں بربریس ولگیریس، لائیکوپوڈیم، کلکیریا کارب، کینتھرس، ہائیڈرنجیا، اپی جیا، کلکیریا رینلس وغیرہ گردے سے پتھری نکالنے میں، لیکسس اکیلی دوا تک کالے یرقان کو ٹھیک کرنے میں، بیلاڈونا دوا منٹوں کے اندر اندر ہائی بلڈ پریشر کو لو کرنے میں، ارجونا دوا دل کے بند والوز کو کھولنے میں، دمہ کے دورہ میں نیٹرم سلف اور آرسنک البم دوائیں تھوڑی دیر کے اندر اندر سانس بحال کرنے میں اور دیگر دوائیں مختلف بیماریوں میں حیرت انگیز نتائج دے رہی تھیں۔ پھر کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور، بمبئی، دہلی اور ڈھاکہ وغیرہ کی شیشہ گلیوں سے جرمن دواؤں کی شکل کی شیشیاں بنوائی گئیں۔ مقامی طور پہ میڈ ان جرمنی کے اسٹیکرز پرنٹ کروا کر ان شیشیوں پہ لگائے گئے اور ان میں صرف سیب اور چقندر سے بنا الکحل اور سرکہ بھر کر بطور امپورٹڈ ہومیوپیتھک دوائیں مارکیٹ میں فروخت کیا جانے لگا۔
آپ کبھی اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر آفس یا کسی بھی سرکاری محکمہ کے دفاتر میں کسی کام سے گئے ہیں؟ کبھی میونسپل کارپوریشن کے دفتر گئے ہیں؟ یا کوئی بھی سرکاری محکمہ ہو گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک بڑے صاحب کا کمرہ ہو گا۔ پھر اس سے چھوٹے افسران کے علیحدہ کمرے ہوں گے پھر کلرکوں اور دیگر سٹاف کے بہت سارے کمرے ہوں گے۔ آپ نے اپنے جائز کام کے لیے بھی کوئی درخواست دی تو آپ کی فائل کافی عرصہ تک مختلف کمروں کا چکر کاٹتی رہے گی۔ سارا سسٹم ہی مینوئل ہے۔ آپ جائیں گے تو بتایا جائے گا کہ آج آپ کی فائل فلاں سیکشن یا کمرے میں گئی ہوئی ہے اور صاحب ”میٹنگ“ میں مصروف ہیں۔ جب تک آپ اپنے جائز کام کے لیے بھی اپنی فائل کو رشوت کے پہیے نہیں لگوائیں گے آپ کی فائل سرکاری دفتر کے مختلف کمروں میں ہی گھومتی رہے گی اور آپ زچ ہو کر سوچ رہے ہوں گے کہ یار اس ملک کو ہی چھوڑ دینا چاہیے۔
مجھے تسلیم ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والا سارا عملہ بے ایمان اور کرپٹ نہیں ہوتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری دفاتر میں ایسے افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہوتی ہے جو رشوت کے عوض اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے۔
یہاں پہ اکبر شیخ اکبر حکومتوں کو ایک تجویز دیتا ہے۔ آپ مستقل قانون سازی کر دیں کہ آئندہ سے تمام سرکاری محکموں کے تمام دفاتر کئی کمروں والی عمارت کی بجائے صرف اکلوتے یعنی سنگل ہال پہ مشتمل ہوں گے۔ اس قانون کے تحت پہلے سے موجود کئی کمروں والے پرانے سرکاری دفاتر بھی گرا کی سنگل ہال عمارتیں بنوا لی جائیں۔ ایک ہی ہال پہ مشتمل سرکاری دفتر جس کی شیشے کی دیواریں ہوں کے ایک کونے میں بڑے صاحب کے لیے شیشے کے کیبن والا دفتر ہو تو ساتھ والے شیشے کے کیبن میں چھوٹے افسران بیٹھے ہوں اور ہال میں کلرکس اور دیگر سٹاف کی کمپیوٹر ٹیبلز ہوں۔ فائل ہال سے باہر کسی بھی طرف نہیں جانا چاہیے۔ ہال کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے اور ساؤنڈ ریکارڈر ڈیوائسز سب کچھ ریکارڈ کر رہے ہوں۔ ایسا کرنے سے آپ سرکاری دفاتر کے بجلی کے بلوں کی مد میں اربوں روپے بچا لیں گے تو ساتھ ہی کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی ہو رہی گی کہ آنے والے افراد کے جائز کاموں میں جان بوجھ کر تاخیر تو نہیں کی جا رہی؟
بند کمروں میں رشوت کے لین دین کا معاملہ طے ہو رہا ہو تو کس کو پتہ اندر کیا ہو رہا ہے؟
اس کے ساتھ ساتھ سارا سرکاری ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر کے سمارٹ آفس سسٹم کو اپنا لیا جائے تو فائل کئی کمرے یا کئی سیکشن گھومنے یا کئی ڈیسکوں اور میزوں پہ جانے کی بجائے ایک ہی کاؤنٹر پہ اپنا مسئلہ حل کرا لے گی۔
اب رہ گیا پرائیویٹ سیکٹر یعنی جنوبی ایشیا کے عوام کے اندر پائی جانے والی مالی کرپشن تو عرض ہے کہ جنوبی ایشیا کے دولتمند افراد مالی کرپشن اس لیے کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ جائیدادیں بنانے کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں جب کہ غریب افراد کو فکر ہوتی ہے کہ شام کو چولہے میں ہانڈی پکانے کے لیے کچھ نہ کچھ کما نا ہے چاہیے جائز طریقے سے پیسے ملیں یا تھوڑی بہت بے ایمانی کرنی پڑے۔
یہاں پہ آپ قانون سازی کے ذریعے ہر شخص کے لیے زرعی اور شہری جائیدادیں بنانے کی حد مقرر کر دیں۔ اس حد سے زیادہ کوئی بھی شخص جائیداد نہ بنا سکے۔ غریبوں کو سیکنڈے نیویا ممالک جیسا سوشل سیکورٹی تحفظ دے دیں۔ اگر چہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کر نے کی کوشش کی گئی لیکن آئے روز باورچی خانہ کے لیے اشیاء ضرورت، بجلی، گیس، پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیتموں نے اس اچھے پروگرام سے ملنے والی تھوڑی سی مالی امداد کو بھی بے وقعت کر دیا ہے۔ ایک تو مہنگائی کو فوری طور پہ لگام ڈالی جائے دوسرا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سوشل سیکورٹی پراجیکٹس سے غریبوں کو ملنے والی امداد میں اضافہ کیا جائے۔


