زندگی تماشا
سرمد کھوسٹ نے اپنی فلم ”زندگی تماشا“ کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا ہے اور اب یہ ہر خاص و عام کے لیے مفت دستیاب ہے۔ ہمارا سینسر بورڈ ہماری عمومی ذہانت کے زیر اثر ہے۔ اب وہ فلم چلنے سے زیادہ کرسیاں اور ڈنڈے چلنے سے خوفزدہ ہے۔ گویا ریاستی ادارے اب تحفظ دینے میں ناکامی کا اظہار ہر شعبے میں ”بند کریں /جان چھڑائیں“ پر عمل کرتے ہوئے کر رہے ہیں۔ فلم دیکھنے کے بعد ہمارے دانشوروں کی طرف سے مکس تجزیے سننے کو ملے ہیں۔ کسی کو لگتا ہے فلم کا کوئی بھی پہلو قابل اطمینان یا قابل ستائش نہیں ہے اور سرمد کھوسٹ نے دیکھنے والوں کے ساتھ مذاق کیا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس کی تعریفوں میں رطب السان ہیں۔
عموماً ہوتا یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی کسی فلم کا چرچا ہو یا کوئی فلم سامنے آئے تو اس کا تجزیہ کرتے ہوئے دنیا بھر کی عظیم آرٹ فلموں یا بڑی فلموں سے اس کا تقابل کیا جاتا ہے۔ ہر شخص جس نے کوئی بھی اچھی فلم دیکھی ہو وہ اپنے ذہن میں اسی کو معیار رکھتے ہوئے فلم دیکھتا ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ غلط ہے۔ ہمیں پاکستانی سینما کو اسی کے پس منظر یا حالات کے مطابق دیکھنا چاہیے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ پچھلے دس سالوں میں ہمارے ہاں کتنی اور کیسی فلمیں بنی ہیں اور اس کے تناظر میں اس فلم کی اہمیت کیا ہو سکتی ہے؟ پچھلے دس سالوں میں بنی فلموں کو ہم انگلیوں پر باآسانی گن سکتے ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان میں سے بیشتر فلمیں مصالحہ فلمیں تھیں جو سینما گھروں میں بالی ووڈ کی فلموں کی کمی کو پورا کرنے کی کوششوں میں بنائی گئی تھیں اور ان میں سے کوئی بھی کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دے سکی۔ ایسی فلم جو کسی سماجی مسئلے کو مرکز بنائے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں سرمد کھوسٹ کو اس بات پر داد ملنی چاہیے کہ انہوں نے نہ صرف ایک سوشل ایشو کو سمجھا بلکہ اسے فلم کی صورت میں پیش کرنے کی جرات بھی کی۔
مجھے اس فلم کے مرکزی کردار کی پیشکش پسند آئی کہ وہ اجتماعی سطح پر ہماری منافقت کو ہر جگہ بے نقاب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فلم کا مرکزی کردار ایک بہت اچھا مسلمان ہے۔ وہ دل میں حب رسول رکھتا ہے اور بہت عقیدت و احترام سے نعتیں پڑھتا ہے۔ پانچ وقت کا نمازی ہے اور نذر نیاز پر یقین رکھتا ہے۔ خود اپنے ہاتھ سے نیاز بناتا ہے۔ وہ سماجی حوالے سے بھی اچھا انسان ہے۔ ایک اچھا شوہر ہے جو معذور بیوی کی خدمت کرتا ہے۔ اس کے بال باندھنا اور اسے باتھ روم تک لے جانے کے فرائض بخوشی نبھاتا ہے۔ تین بیٹیوں کا باپ ہے جو اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں اور جن میں سے ایک کسی پرائیویٹ ٹی وی چینل کی ڈائریکٹر ہے۔ وہ مذہب کے تمام ثقافتی پہلوؤں پر عمل کرتا نظر آتا ہے۔ مذہبی ثقافتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ وہ اس دھرتی کے فنون رقص اور موسیقی کو بھی پسند کرتا ہے۔ وہ لوگ جنہیں ان فنون میں دلچسپی ہے وہ جانتے ہیں کہ اچھا رقاص یا سامع وہی ہوتا ہے جو موسیقی کی جزئیات کو سمجھتا ہے کس بول پر کیسے لہکنا ہے یا کہاں پر بیٹ Beatبدل رہی ہے تو جسم کا زاویہ بدلنا چاہیے یہ سب ایک گہرا عمل ہے۔ اور اس پر سب کا عبور ہونا ناممکن ہے۔ تو میرا ماننا یہ ہے کہ یہ کردار ثقافتی حوالے سے کامل ہے اور اس کے یہ سارے روپ اس کی شخصیت کا حصہ ہیں۔ لیکن ہمارے مصنوعی اور منافق بھرے لوگ اس کی گہرائی کو سمجھ نہیں سکتے۔ مرکزی کردار کے ارد گرد موجود لوگ یہ بات نہیں سمجھ سکتے یہاں تک کہ اس کی اپنی بیٹی بھی نہیں سمجھتی جو مارننگ شو میں ایک مرد کو رقص کرنے کے لیے بلا لیتی ہے لیکن اپنے باپ کو رقص کرتے نہیں دیکھ سکتی۔
مرکزی کردار کوئی بدقماش شخص نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنے دوست کے کہنے پر رقص و سرور کی محفلوں میں شریک ہوجاتا لیکن وہ اس کے برعکس نہ صرف ان میں شامل ہونے سے انکار کرتا ہے بلکہ بعد میں پولیس میں اس کے خلاف شکایت بھی درج کرواتا ہے۔ اب اس کردار کے ساتھ کیا ہوا؟ وہی جو ہمارے جیسے معاشروں میں ہوتا ہے اسے تنہا کر دیا گیا۔
فلم شائقین کے لیے یہ بات بھی اچنبھے کی ہے کہ اسے بین کیوں کیا گیا۔ اصل مسئلہ وہ تضاد ہے جو ہمارے معاشرے کے دوہرے معیار اور تنگ نظری کے حوالے سے دکھایا گیا ہے۔ ایک عام نیک مزاج شخص کی دینداری اور آرٹ کی ثقافتی صورتوں کے ساتھ ٹکراؤ اور کشمکش کے اہم موضوع پر ایک خوف کے گہرے سائے میں کیے گئے فیصلے ایسے ہی ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں نیکی کی طے شدہ شکلوں اور انسانیت پسندی کی کلچرل صورتوں کے مابین خلیج شاید ناقابل عبور ہو چکی ہے۔
فلم کیوں بنائی جاتی ہے؟ فلم بنانے والوں کا ایک مقصد یقیناً اس سے پیسے کمانا ہوتا ہے کہ یہ ایک بزنس ہے۔ پاکستان جیسی سوسائٹی میں فلم بنانا اور وہ بھی ایک سماجی مسئلے کو لے کر جس میں کوئی رنگین پھڑکتے ہوئے ڈانس اور گیت نہ ہو، محبت کی سطحی سی کہانی نہ ہو ایک بہت بڑا کام ہے۔ کیونکہ بجائے پیسہ کمانے کے یہ پیسہ ڈبونے کے مترادف ہے۔ بہت سے لوگ کیمرہ ورک اور کم بجٹ پر بھی بات کر رہے ہیں۔ فلم سینما گھروں میں لگ ہی نہیں سکی تو یہ بات طے ہے کہ سرمد اس فلم کے ذریعے سے کچھ بھی نہیں کما سکے۔ تو میرا خیال ہے کہ بجائے اس کی کمیوں اور کوتاہیوں پر بات کرنے کے اس بات کو سراہنا چاہیے کہ ہمارے بیج کوئی ایسا بھی ہے جو فلم کو شعور پھیلانے اور پیغام پہنچانے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور وہ بھی مفت۔


