کیا جڑانوالا سانحے کا ذمہ دار ”مشتعل ہجوم“ ہے؟


آج کے اخبارات دیکھ رہا تھا تاکہ جڑانوالا واقعے سے متعلق واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پر گردش کرتی دل دہلا دینے والے مناظر پر مبنی ویڈیوز اور اس واقعے کا پس منظر معلوم کر سکوں۔

تمام اخبارات میں یہ خبر چھپی ہوئی تھی۔ ہر ایک اخبار نے اپنے اپنے طرز تحریر کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے واقعے سے متعلق ہیڈنگ بنائی ہوئی تھی۔ لیکن ایک لفظ ”مشتعل ہجوم“ سب ہی خبروں میں مشترک تھا اور ہر اخبار کی زینت نظر آیا۔ مطلب سب ہی اس نقطے پر متفق تھے کہ واقعہ دراصل اس لئے پیش آ گیا کیونکہ ”ہجوم“ ، ”مشتعل“ تھا۔

مشتعل ہجوم! کیا مطلب مشتعل ہجوم؟ مجھے کوئی سمجھا دے کہ اگر یہ ہجوم، ”مشتعل“ نہ بھی ہوتا تو کیا ”ہجوم“ سے جڑانوالہ کے گرجا گھر اور مسیحی آبادیاں محفوظ رہتیں! ؟

میں تو یہ سوچ کر بھی پریشان کم اور حیران زیادہ ہو رہا ہوں کہ ابھی کچھ روز قبل ہی سویڈن میں ایک الہامی کتاب کی گستاخی کے مرتکب شخص یا پھر چند ماہ قبل امریکا میں حملے میں زخمی ہونے والے ایک متنازعہ کتاب کے بھارتی مصنف کے لئے ”ملعون“ جیسے القابات کا استعمال کرنے والی یہ میڈیا محتاط اعداد و شمار کے مطابق بھی کم از کم 16 گرجا گھروں کو مسمار کر کے وہاں موجود انجیل، تورات اور زبور سمیت سینکڑوں مقدس کتب، اولو العزم پیغمبر و رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس تعلیمات و فرمودات کو نذر آتش کر کے، مسیحی برادری کے 215 کے قریب گھروں کو راکھ میں تبدیل کردینے والوں کے لئے کتنا نرم گوشہ رکھتا ہے۔

کیا تم بھی سمجھتے ہو کہ یہ واقعہ اس لیے پیش آ گیا کیونکہ ”ہجوم مشتعل“ تھا اور اگر ایسا ہے تو تم بھی اس میڈیا کی طرح منافقت کا شکار ہو۔ تم بھی سمجھتے ہو کہ یہ لوگ جنہوں نے آگ لگائی، جنہوں نے چرچ ڈھا دیے یہ سب معصوم لوگ ہیں، اصل قصور وار تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے انہیں اشتعال دلایا۔ اور سمجھتے ہو کہ قصور وار وہ اشتعال دلانے والے بھی نہیں کیونکہ ان بیچاروں کو تو اصل اسلام کا پتا ہی نہیں ہے۔ اگر یہ بھی سمجھتے ہو کہ انہیں اس لیے پتا نہیں ہے کیونکہ انہیں غلط تعلیمات دے کر اصل اسلام سے بھٹکا دیا گیا ہے۔ تمہیں بھی لگتا ہے کہ وہ بیچارے تو ہمارے بھٹکے ہوئے بھائی ہیں۔ اگر وہ اور کچھ نہ بھی ہوں تو بھی خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کا کلمہ پڑھنے والے ہیں کم از کم ان احمدیوں سے تو ہزارہا گنا بہتر ہیں۔

جی! تم! اپنا معائنہ کروا لینا کیونکہ تم منافقت کے آخری اسٹیج پر پہنچ چکے ہو اور اسی لیے تم دیکھ نہیں پا رہے کہ جڑانوالا میں مسیحی عبادت گاہوں اور غریب لوگوں کے گھروں کو آگ لگانا قطعی طور ”جذبہ ایمانی“ کے تحت بیدار ہونے والا ”اشتعال“ نہیں ہے۔ تم منافقت کی اس اسٹیج پر ہو جہاں سے تمہارے بچنے کی کوئی امید نہیں بس کوئی معجزہ ہی تمہیں بچا سکتا ہے کیونکہ تم دیکھ نہیں پا رہے کہ جس شخص نے سویڈن میں قرآن پاک کی توہین کرتے ہوئے الہامی کتاب کو نذر آتش کیا تھا پوری اسلامی دنیا کی قوت ایمانی، اشتعال انگیزی، مسجدوں کے ملاؤں کی بددعائیں، لعنتیں اور فتوے وہیں دھرے کے دھرے رہ گئے اور وہ شخص دوبارہ سامنے پہنچ گیا۔

تم دیکھ نہیں پا رہے کہ کسی مسلمان نے جذبہ ایمانی کے تحت سویڈن کی شہریت کو ترک نہیں کیا۔ تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ اسلامی دنیا کی قوت ایمانی ایک ملک کے قانون کے آگے گھٹنے ٹیک کر کھڑی ہوئی ہے۔ اگر تم منافق نہ ہوتے تو تمہیں نظر آتا کہ یہ گرجا گھر اس لیے نہیں جلائے گئے کہ ہجوم کو کسی نے اشتعال دلایا۔ یہ گرجا گھر اس لیے جل کر راکھ ہوئے کہ اس ریاست نے ہجوم کو یہ اختیار دیا ہوا ہے جب چاہو جسے چاہو جلا کر راکھ کر دو۔ اور اس ریاست کو یہ اختیار تم نے دیا ہے، جو منافقت کی آخری انتہاؤں کو چھو رہے ہو۔

جی ہاں! تم نے ہی اختیار دیا ہے، تم جو کہتے ہو کہ ہمیں تو دین و دنیا کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ تم نے ہی دیا ہے۔ دراصل یہ منطق بھی تمہاری منافقت کی آخری اسٹیج پر پہنچنے کی ایک دلیل ہے کیونکہ تم دین کے ساتھ بھی منافقت کر رہے ہو اور دنیا کے ساتھ بھی۔

تمہیں پتا ہے کہ دین و دنیا ساتھ نہیں چلتے لیکن تمہیں ایک کا مزہ لوٹنے کے لئے دوسرے کا استعمال کرنا ہے۔

ارے بھئی نہیں چلتے دین اور دنیا ایک ساتھ۔ یا تم دین کے ساتھ ہو یا پھر دنیا کے۔ یہ دونوں مختلف انتہائیں ہیں اور تم دونوں کو لے کر نہیں چل سکتے۔ مذہب تمہیں چوائس نہیں دیتا۔ مذہب نے کہا تم پر 30 روزے فرض ہیں، تو فرض ہیں۔ کہا نماز پانچ وقت فرض ہے، تو فرض ہے۔ کہا عورت کو پردہ کرنا واجب ہے، تو کرنا واجب ہے۔ کہا جو مسلمان نہیں وہ کافر ہے، تو تمہیں کو ببانگ دہل کہنا ہو گا کہ جو مسلمان نہیں وہ کافر ہے۔ کہا جو خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتا ہے وہ مشرک ہے، تمہیں کہنا ہو گا وہ مشرک ہیں۔ کہا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دشمن ہیں، تو کہنا ہو گا کہ دشمن ہیں۔ کہا کہ فلاں قسم کا شخص واجب قتل ہے، تو واجب القتل ہے۔ تمہیں اسے قتل کرنا ہے۔ تمہاری کیا مرضی ہے رکھو اپنے پاس۔ خدائے بزرگ و برتر کے حکم کے آگے یہ نہیں ہو سکتا کہ تمہاری جتنی مرضی روزے رکھ لو، تمہاری جتنی مرضی نمازیں پڑھ لو، تمہاری جتنی مرضی پردہ کر لو، تمہاری جتنی مرضی یہود و نصاریٰ کے ملک کی ویزے لے کر وہاں دوستیاں کرتے پھرو۔ تم جس دین پر ایمان کی دعویداری کر رہے ہو تم اسی مذہب کے ساتھ بھی منافقت کر رہے ہو۔

آج ہی افغانستان میں طالبان نے یہ کہہ کر ملک میں سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگائی ہے کہ ہم شرعی نظام کی دعویٰ کرتے ہیں اس لیے شریعت میں سیاسی پارٹیوں کی گنجائش نہیں۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ تو کیا لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں بھی پڑھنے کی اجازت نہیں یہ سب غیر شرعی ہے۔ اور یہ کیا کہ تم اپنی بیٹیوں کو جینز اور کرتے پہنا کر لڑکوں سے بھری یونیورسٹیوں میں بھی بھیج رہے ہو اور جذبہ ایمانی کی دعویداری بھی کر رہے ہو۔

جی ہاں تم سب لوگ منافقت کی آخری اسٹیج پر ہو۔ اور تم جو یہ سمجھ رہے ہو کہ یہ گرجا گھر کسی مشتعل ہجوم نے جلائے ہیں تو تمہاری آنکھوں پر منافقت کے پردے چڑھے ہوئے ہیں تم دیکھ نہیں پا رہے ہو کہ یہ لوگ تم خود ہو۔ منافقوں کا ایسا ہجوم جو کبھی ”جذبہ ایمانی“ کے جواز کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا تو کبھی ”اشتعال انگیزی“ کی ڈھال سامنے کر دیتا ہے۔ یہ ہجوم تم ہو! یہ گرجا گھروں کو آگ لگانے والے تم ہو۔ آج تک اس ملک میں گرائی گئی، جلائی گئی ہر عبادت گاہ، ہر بستی اور دیگر مذاہب کے ہر معصوم شہری کے قاتل تم ہو۔

Facebook Comments HS