وطن کی بنیادوں پر حملہ اور زہر کی کاشت

بھارتی فلمی اداکار سلمان خان کے والد سلیم خان جو خود بھی بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اور متمّول شخصیت ہیں نے فرمایا ہے کہ گو کہ بھارت میں ”کچھ مشکلات“ واقعی ہیں، لیکن بھارت مسلمانوں کے رہنے کے لیے آج بھی ”بہترین“ ملک ہے۔ بھارتی ایجنسیوں کے پالتو اجرتی قاتل اور معروف سکھ گلوکار سِدھو مُوسے والا، کے قاتل گینگسٹر وشنو بشنوئی نے جسے اس کے تحفظ کے لیے جیل میں وی آئی پی طریقے سے رکھا گیا ہے، اور وہ وہاں سے اپنا اجرتی قتل اور بھتہ لینے کا بزنس چلا رہا ہے، اس نے جیل سے سلمان خان کو قتل کی دھمکی دی تو بغیر کسی وجہ کے سلمان خان کو سرعام اس سے معافی مانگ کر اور مانگا گیا بھتہ دے کر اپنی جان بچانی پڑی۔
سلیم خان نے بھارت میں رہنا ہے وہ اور کیا کہہ سکتے ہیں، اس طرح ارب پتی اداکار شاہ رخ خان کو آئی پی ایل کے میچز کے دوران اپنی ہی خریدی گئی ٹیم کے میچ کے موقع پر اس کے بچوں کے سامنے جس طرح ذلیل بھی کیا گیا، اور الٹا اس سے معافی بھی منگوائی گئی، اس کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو ہمیں اچھی طرح یاد ہیں۔ یو پی میں حال ہی میں چھ بار ممبر اسمبلی منتخب ہونے والے عتیق احمد اور ان کے بھائی کو کیسے سرعام پولیس کی حراست میں اجرتی قاتلوں سے قتل کروایا گیا، اس کے سترہ سالہ بیٹے کو جعلی پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک کروایا گیا، ان کی بیگم تک کو گرفتار کیا گیا، ان کے ایک کمسن بیٹے کو اس کی برین واشنگ کے لیے ایک ”سرکاری مرکز“ میں بھیج دیا گیا، ان کی پشتینی جائیداد کو بلڈوزروں کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کیا گیا، پھر بھارتی میڈیا چینلز کے نمائندوں کا مسلم علاقوں میں جا کر طنزیہ انداز میں لوگوں سے عتیق احمد کے قتل پر رائے پوچھنا، اور لوگوں کے خوف اور بے بسی کا عالم ان کے چہروں سے عیاں ہوتا تھا، اور وہ خوف کے مارے کچھ کہنے کی بھی ہمت نہیں کرتے تھے، سوشل میڈیا کے ذریعے یہ دردناک مناظر دنیا نے دیکھے۔
گجرات فسادات میں ہندو انتہا پسندوں کے ہجوم نے سرکاری محفوظ علاقے میں مقیم انڈین کانگریس کے سینئیر بھارت نواز لیڈر احسان جعفری کی بیٹیوں کی جس طرح اس کے سامنے عصمت دری کر کے باپ کے ہمراہ نذر آتش کیا وہ تاریخ میں رقم ہے۔ لیجنڈ اداکارہ اور مشہور شاعر اور دانشور جاوید اختر کی بیگم، شبانہ اعظمی جو کانگریس کی طرف سے ممبر اسمبلی بھی رہیں، وہ ریکارڈ پر ہیں کہ کسی مسلمان کو دِلّی یا ممبئی جیسے بڑے شہروں میں بھی کوئی فلیٹ یا مکان صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے کرائے پر نہیں دیتا۔
بھارتی مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ انھیں ہندو اکثریت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خود کو عام ہندو سے زیادہ بڑا دیش بھگت اور پاکستان دشمن موقف اختیار کرنا پڑتا ہے، لیکن ان پر پھر بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ کانگریس کے بڑے لیڈر اور معروف علمی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی وصیت کرنی پڑتی ہے، کہ ان کے کتاب کے آخری تیس صفحات ان کی موت کے بعد شائع کئیے جائیں، شیخ عبداللہ کے بیٹے کانگریسی لیڈر فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے والے ہم تھے، اور بھارت میں ہم پر بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔
بھارت کے مسلمانوں کا نوکریوں اور دیگر سروسز میں یہ حال ہے کہ ان کا سب سے بڑا مطالبہ ہے کہ ان کو درجہ فہرست، یعنی شیڈول کاسٹ ( چوڑے چماروں {معذرت، راقم یہ لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن قارئین کو سمجھانے کے لیے مجبوراً لکھنا پڑا} ) ذاتوں میں شمار کیا جائے، تاکہ ان کے لیے مختص نوکریوں میں کوٹہ میں سے ان کو بھی کچھ نوکریاں مل سکیں۔ فلم میڈیا دیکھ کر بھارتی مسلمانوں کے بارے میں رائے قائم کرنا درست نہیں جو بھارتی مسلمان محنت مزدوری کر کے یا بیرون ملک جا کر کچھ خوشحال ہو جاتے ہیں، تو کچھ عرصے میں منظم فرقہ ورانہ فسادات کروا کر ان کو دوبارہ سے تباہ کر دیا جاتا ہے۔
آپ بھارت جا کر آزادانہ گھومیں پھریں لوگوں سے ملیں۔ سلم پر آباد مسلم بستیوں میں جائیں تو آپ یہ سب مشاہدہ کر سکتے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ آپ کھلے ذہن کے ساتھ وہاں مسلمانوں کا عدم تحفظ، ان کی عمومی حالت اور اکثریت کا تعصب دیکھ لیں، تو واپسی پر پاکستان کی سرزمین کو سجدہ کریں گے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں بار بار کی آمریت اور منظم طریقے سے پھیلائی گئی مذہبی جاہلیت اور انتہا پسندی نے پاکستانی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، لیکن ذرا غور فرمائیے کہ اس کا آغاز منّظم اور منصوبہ بند طریقے سے قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصہ بعد سے، آمروں اور طالع آزماؤں کے ذریعے امریکی مدد، سرپرستی اور مشورے سے ہی کیا گیا تھا، امریکی مفاد کے لیے آمروں کے ذریعے لگایا یہ زہریلا پودا اب ایک تن اور درخت بن چکا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں موجود اندھا مذہبی اعتقاد جو عوام کو ازراہ تقدس کچھ سوچنے کے قابل نہیں چھوڑتا، لیکن اس سب کے باوجود زمین اور آسمان کا فرق ہے، پاکستان کے باشعور عوام کی اکثریت آج بھی انتہاپسندی، سے نفرت کرتی ہے، اور جب بھی ان کو اپنی رائے کے اظہار کا آزادانہ موقع ملا انہوں نے اس کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا ہے، پاکستان میں انتہا پسندوں کی منّظم سرپرستی اور مدد کے باوجود وہ کبھی یہاں اتنی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، کہ اپنے طور پر الیکشن جیت کر برسراقتدار آ سکیں۔
جبکہ بھارت میں گاندھی تک کو قتل کرنے والی، ہندو فرقہ پرست اور انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہر بار انتہا پسند اور متعصب ہندو اکثریت کی مدد اور حمایت سے ہر الیکشن میں پہلے سے زیادہ اکثریت سے برسراقتدار آتی ہے۔ بھارت کا صوبہ اتر پردیش جو مسلم تہذیب کا ایک مرکز رہا ہے، وہاں یہ حالت ہے کہ وہاں کا متعصب، فرقہ پرست، درندہ صفت وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ سوامی جو علانیہ طور پر مسلمانوں کا شدید مخالف ہے، وہ کھلے عام یو پی کے چار کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کے بارے میں کہتا ہے، کہ ہمیں ان کے ووٹوں کی اور ان کی حمایت کی کوئی ضرورت نہیں، اس کے یہ کہنے کی وجہ اتر پردیش کی ہندو متعصب سوچ کی حامل اکثریت کی روزبروز بڑھتی ہوئی حمایت کا زعم ہے۔
ہمارے وطن پاکستان میں کچھ عرصے سے ذرائع ابلاغ پر ایک منظم اور زہرآلود، گمراہ کن مہم جاری ہے، جس کے تحت پاکستان کی اپنی تاریخ سے بے خبر نوجوان نسل جس سے ہندو کا تعارف صرف میڈیا یعنی فلم کے میڈیم کے ذریعے ہی ہے، اور وہ ہندو کو ویسا ہی سمجھتے ہیں جیسا اسے بھارتی فلموں میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں بھارت سے محبت میں بھرا ہوا ”بجرنگی بھائی“ نہیں آتا، بلکہ خطرناک جاسوس بلیک پرنس، کشمیرا سنگھ اجیت دو گل اور کلبھوشن یادیو جیسے تربیت یافتہ قاتل، دہشت گرد، تخریب کار اور جاسوس آتے ہیں۔
جس طرح فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افسر جب کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تو اس منصوبہ بندی میں ان کے بنیادی شعبہ کی جھلک ضرور آ جاتی ہے، مثال کے طور پر بکتر بند دستوں سے تعلق رکھنے والا افسر جب کوئی منصوبہ بنائے گا تو وہ بھاری طور پر محفوظ حرکت پذیر حکمت عملی بنائے گا، آرٹلری یعنی توپ خانہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والا فاصلاتی نوعیت کی منصوبہ بندی کرے گا، جس میں وہ محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے ہدف حاصل کرنے کی پلاننگ کرے گا، انفنٹری سے تعلق رکھنے والا اپنے ہدف کی جانب پھیلاؤ پر مشتمل ایسی پیش قدمی کا منصوبہ بنائے گا، جو ہدف پر پہنچ کر اس پر مرتکز ہو جائے، اسی طرح سابق بھارتی جاسوس ”اجیت دو گل“ جو اپنے جاسوسی مشن کے دوران پانچ سال سے زائد عرصہ پاکستان میں گزار چکے ہیں، اور اب وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، کشمیر میں بھی ان ہی کے ڈاکٹرائن کے مطابق جارحانہ حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، اور وہاں کی تقریباً تمام قیادت کو جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے، پاکستان کے بارے میں بھی ان کی حکمت عملی ان کے بنیادی شعبے اور ان کے سابق پیشہ ورانہ تجربے کے مطابق ہی تشکیل دی گئی ہے، جس کے تحت ایک طرف تو پاکستان میں اپنے ایجنٹس کے ذریعے براہ راست تخریب کاری کروانا جیسے کلبھوشن یادیو جیسے جاسوس مقامی ناراض عناصر کی دہشت گردی کے لیے سہولت کاری کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف انڈر کَور افراد کے ذریعے پاکستان کی نوجوان نسل کے سامنے اس مملکت کے قیام کو ایک غلطی کے طور پر پیش کرتے ہوئے اس مملکت کی بنیادوں پر خطرناک حملہ کرنا اور اس بارے میں یہاں کی نوجوان نسل میں بے یقینی پیدا کرنے کا مشن مختلف افراد کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری ہے۔
اور یہ عمل روایتی تخریب کاری سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اور اس مذموم منصوبے کی مختلف جہتیں، اہداف اور طریقہ کار اس کے منبع اور مرکز کی طرف واضح طور پر اشارہ کرتی ہیں۔ دوسری طرف وہ نسل جس نے اپنی آنکھوں سے قیام پاکستان سے قبل کے حالات دیکھے اور بُھگتے اور پھر ان کے ردعمل کے طور پر تحریک پاکستان کی حمایت کی تھی، وہ نسل تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور آزادی کے بعد جس طرح ان کو اپنے نظریہ کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے تھا، بوجوہ وہ بھی نہ کر سکے، جس کی بنیادی وجہ قیام پاکستان کے فوری بعد سے آمریتوں کا جاگیردار اور سرمایہ دار کی مدد سے اس نظام کو یرغمال بنا لینے میں کامیاب ہو جانا تھا، اس عمل میں پاکستان کے عوام کی قیادت کو براہ راست قتل کروا کر، اور سازشوں کے ذریعے عوامی رائے عامہ کو یرغمال بناتے ہوئے بار بار اقتدار پر قبضہ کیا گیا، اس عمل میں پاکستان کے محل و وقوع کی وجہ سے ان عناصر کو بیرونی مدد اور سرپرستی بھی حاصل رہی، کیونکہ کسی بھی عوام کی نمائندہ حکومت کے مقابلے میں ان بیرونی طاقتوں کو اپنے مفادات کی تکمیل آمروں کے ذریعے کرنا زیادہ آسان محسوس ہوتا رہا، اور یہاں سے بھی ان کو پنجابی مہ اور ے ”پَنڈ چوراں نالوں تاولی“ کے مصداق اس عمل میں پوری پوری حمایت حاصل رہی۔
یہ آمر چونکہ عوام کے منتخب نہیں ہوتے تھے، لہذا اپنی کمزوری کی تلافی کے لیے، ذاتی فوائد اور طاقت حاصل کرنے کے لیے، بار بار بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن کر قومی مفادات کا سودا کرتے رہے۔ اس عمل میں یہ یہاں تک گئے کہ پاکستان کے عوام کے سامنے اپنی پسند اور مفاد کے مطابق ڈمی قیادت کو تشکیل دے کر کھڑا کرتے رہے، اور یہ تجربہ بھی بار بار بری طرح سے ناکام اور ایکسپوز ہوتا رہا۔ اسی تعصب اور جاگیردارانہ سوچ کی وجہ سے ہی مشرقی پاکستان کی اکثریتی آبادی ہم سے الگ ہو گئے، اور 1971 میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، گو کہ ظاہری طور پر بنگلہ دیش کا قیام بنگالی قومیت اور لسانیت کے نام پر عمل میں لایا گیا تھا لیکن اتنی عقل ان کو بہرحال تھی کہ مغربی بنگال جہاں وہی بنگالی قوم، وہی زبان اور وہی کلچر تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ وہاں ہندو بنگالی اکثریت تھی اور مشرقی بنگال یعنی ”بنگلہ دیش“ میں مسلم بنگالی اکثریت تھے، لہذا انہوں نے مغربی بنگال کے ہندو بنگالی کو نہ اپنے ساتھ شامل کرنے کی بات یا کوشش کی، نہ خود ان کے ساتھ شامل ہوئے، جو لوگ دوقومی نظریہ کو ایک ناکام اور متروک نظریہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ”بنگلہ دیش“ کا مسلم اکثریتی تشخص ان کے اعتراض اور طعنے کا شافی جواب ہے، گویا کہ بوجوہ پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا لیکن مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کے ہندو بنگال سے الگ رہنے کے فیصلے نے دو قومی نظریے کی صداقت کی ہی تصدیق کی، خطبہ الہ آباد میں بھی علامہ اقبال نے مسلم اکثریت پر مشتمل متعدد ریاستوں کے قیام کا ذکر ہی کیا تھا۔
تمام تر مشکلات اور حالات کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ پاکستان درحقیقت پاکستان کے عوام ہیں، اور پاکستان کے مستقبل کا دار و مدار بھی بنیادی طور پر پاکستان کے عوام پر ہی ہے۔ مجھے کراچی کے ایک معروف مزاحیہ اداکار شکیل احمد کا چھوٹا سا وڈیو کلپ دیکھنے کا موقع ملا، جس میں ان کی دردمندی اور حُب الوطنی نے مجھے بہت متاثر کیا، اس میں وہ بڑی سنجیدگی سے فرماتے ہیں، کہ ملک کبھی برا نہیں ہوتا، اس کے رہنے والے اچھے یا برے ہوتے ہیں، پاکستان بہت اچھا ملک ہے بس اس کے رہنے والے ہم لوگ اچھے نہیں، جس روز ہم خود اچھے ہو جائیں گے، یہ ملک بھی بہترین ہو جائے گا۔

