APPS یورپ کے بانی و صدر ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد


جولائی 2021 میں خاکسار پر انفیکشن کی شکل میں بیماری نے اچانک حملہ کیا تھا۔ تین ہفتے ہسپتال میں گزارے جو کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھے۔ گھر پہنچ کر بھی کئی ماہ بستر تک ہی محدود رہا تھا۔ اللہ کے فضل اور پیاروں کی دعاؤں سے چلنے پھرنے والی شفایابی ملی لیکن بیماری اپنے پیچھے کچھ ایسے اثرات چھوڑ گئی کہ موسمی احتیاط لازم ہو گئی۔ اسی عرصہ میں اندازہ ہوا کہ ”تندرستی ہزار نعمت ہے“ والی کوئی بات نہیں ہے۔ صرف تندرستی ہی زندگی ہے۔

تندرستی کا نہ کوئی متبادل ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے۔ نہ ہزاروں میں، نہ لاکھوں، کروڑوں میں۔ صحت کی اہمیت کیا ہے اس بارے کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ صحت کی اہمیت بارے مزید جاننے کی غرض سے کی جانے والی سرچ کے دوران ایک مضمون نظر سے گزرا۔ ان سطور کو بار بار پڑھا۔ مضمون میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مکالمے کا ذکر تھا جو مقام کوہ طور پر ہوا تھا۔ جاوید چوہدری کی ویب سائٹ پر لکھے ایک مضمون بعنوان ”حضرت موسیٰ کا اللہ تعالیٰ سے مکالمہ“ میں لکھا تھا کہ ”حضرت موسیٰ نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے عجیب سا سوال کیا، آپ نے پوچھا کہ“ یا باری تعالیٰ، اگر آپ کا بھی کوئی رب ہوتا تو آپ اس سے کیا مانگتے؟

”۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا“ میں اس سے صحت مانگتا ”۔ پس صحت کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ سال 2022 شروع تھا اور وبا کرونا کا اختتام شروع ہو چکا تھا اور زندگی کے معمولات دھیرے دھیرے بہتر سے بہتر ہو رہے تھے۔ سردی کے دنوں میں مجھے کھانسی نے تنگ کر رکھا تھا۔ ایک دن جب ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد سے واٹس ایپ پر رابطے میں تھا۔ اچانک مجھے اپنی کھانسی کا خیال آیا تو انہیں بتایا۔

انہوں نے ایک دو باتیں مزید پوچھیں اور کہا کہ ایک شربت لکھ کر بھیجتا ہوں، نسخہ کے بغیر مل جائے گا۔ ان کے لکھے نسخہ کے مطابق شربت (PROSPAN ) خریدا جو جرمن ہربل جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ تھا۔ چند دنوں میں ہی افاقہ محسوس ہوا اور الحمدللہ بالآخر کھانسی سے نجات ملی۔ اب یہ شربت گھر میں موجود رہتا ہے کیونکہ موسمی تبدیلی کی کھانسی میں بھی مفید ہے۔ ڈاکٹر عبد الرحمن شاہد ایمرجنسی میڈیسن ماہر ہیں جنہوں نے جرمنی کے سب سے بڑے ایمرجنسی ہسپتال اور ٹراما سینٹرBG Klinik Ludwigshafen سے ٹریننگ حاصل کی اور آج کل کنسلٹنٹ ایمرجنسی میڈیسن جرمنی کام کر رہے ہیں۔

پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والے پاکستانی مسیحا گزشتہ 15 سالوں سے جرمنی و یورپ میں مسیحائی بانٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت اور فلاح و بہبود دونوں میدانوں میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے ایف ایس سی تک تعلیم سرگودھا سے حاصل کی اس کے بعد ایم بی بی ایس کرنے 2008 میں بیجنگ چین چلے گئے۔ ان دنوں چین کی ڈگری جرمنی میں قابل قبول تھی۔ ڈاکٹر کی ڈگری لینے کے بعد جرمنی پہنچ کر 2015 میں انہوں نے ایمرجنسی میڈیسن کے شعبہ میں عملی قدم رکھا۔

جرمنی کے ایمرجنسی ہسپتال اور ٹراما سرجری سنٹر بی جی کلینک میں کام شروع کیا۔ بعد ازاں ساتھ ساتھ ایمرجنسی میڈیسن کے شعبہ میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سے مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دنیا کے بہترین میڈیکل ہسپتالوں کے ساتھ ان کی وابستگی اور ممبرشپ ہے۔ ڈاکٹر شاہد صاحب نے جہاں اپنے شعبہ میں نمایاں کام کر کے شہرت حاصل کی، وہیں انسانی فلاح و بہبود میں بھی بہت کام کیا اور نیک نامی کمائی۔ کرونا کی عالمی وبا جب عروج پر تھی ان دنوں ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد کی خدمات اور کام بہت مثالی تھا۔

ہمت اور جوانمردی کے ساتھ اور موت کے خوف سے بالا ہو کر انہوں نے بطور ڈاکٹر اپنی ذمہ داری نبھائی اور آئی سی یو یونٹس میں فرنٹ لائن ڈاکٹر کے طور پر انسانی جانوں کو بچانے کے لئے دن رات خدمت ڈیوٹی دی۔ کرونا وبا سے متعلق ان کے تحقیقی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے اور جرمن میڈیا میں ان کے انٹرویوز لوگوں کی بہت راہنمائی کا موجب بنے۔ ان میں کرونا وبا سے بچاؤ سے متعلق اہم معلومات موجود ہوتی تھیں۔ اسی پابندیوں کے دور میں ضرورت مند خاندانوں میں امدادی فوڈ پیکجز، کووڈ سے بچاؤ کی ایڈوائزری تقسیم کرنے اور دیگر اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ سال ان کو فارن منسٹر ایوارڈ سے نوازا تھا۔

اس وقت ڈاکٹر عبد الرحمان شاہد ایپس یورپ APPS Europe (ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنز اینڈ سرجنز آف یورپ) کے فاؤنڈر اور صدر ہیں۔ جس کی بنیاد انہوں نے دسمبر 2020 میں رکھی تھی۔ یہ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کا ہیڈ کوارٹر جرمنی میں ہے۔ APPS گلوبل کی ممبرشپ اور دیگر تمام امور کی نگرانی اور منصوبوں کی منصوبہ بندی APPS یورپ کے پاس ہے۔ ہیلتھ سروسز سے متعلق اس ادارے کو یورپ میں این جی او کا سٹیٹس حاصل ہے اور اس کو قانونی طور پر جرمنی اور یورپ میں ہر طرح کے تحفظات میسر ہیں۔

APPS یورپ میں وہ ہیلتھ ادارہ ہے جس نے پاکستانی ڈاکٹر کمیونٹی کو یورپ میں لاکر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے جو اب مختلف ممالک کے ہر شعبہ میں اب کام کر رہے ہیں۔ APPS یورپ کے بانی و صدر کے مطابق پاکستان بدتر سیاسی اور سماجی حالات، بڑھتا ہوا عدم تحفظ اور غیر یقینی معاشی صورتحال کے تناظر میں پاکستانی ڈاکٹرز کو اپنا مستقبل اپنے ہی وطن میں تاریک نظر آتا ہے جس بناہ پر ڈاکٹرز اب بیرون ممالک جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

اس ادارہ کے پلیٹ فارم سے جرمنی اور یورپ پہنچنے والے ڈاکٹرز اور نرسز کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ کے اندر ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی ڈاکٹرز پہنچ چکے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد کے کیسز پراسس میں ہیں۔ نرسز کے لئے بھی اس ادارہ کا حکومتوں کی اتھارٹیز کے ساتھ گفتگو و مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ مڈل ایسٹ کے بہت سے ممالک میں پاکستانی نرسز پہنچ چکی ہیں۔ اس ادارے میں ہر شعبہ ڈاکٹرز کے علاوہ نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف شامل ہے جن کی تعداد پینتیس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ APPS یورپ اور APPS یوکے دونوں نے باہمی مشاورت سے APPS گلوبل کو قائم کیا ہے تاہم

APPS گلوبل کے تمام انتظامی امور و منصوبہ بندی کا اختیار APPS یورپ کے پاس ہے۔ APPS گلوبل کی نگرانی میں APPS یوکے، APPS یورپ، APPSمڈل ایسٹ، APPS چائنہ، APPSایشیا، APPS افریقہ شامل ہیں۔ کینیڈا اور امریکہ میں وہاں کے پاکستانی ڈاکٹرز آرگنائزیشن ”اپنا“ APPNAکے ساتھ مل کر کام ہو رہا ہے۔ اسی طرح نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں پاکستانی ڈاکٹرز آرگنائزیشنAAPP ”آپ“ کے ساتھ مل کر کام ہو رہا ہے۔ چین کے اندر APPS کا افتتاح جلد متوقع ہے۔

APPS یورپ کے ایک منصوبے کے تحت پاکستان میں زچہ بچہ کی حفاظت کے سلسلہ میں معلوماتی ویڈیو سیریل جاری کی گئی تھی۔ خواتین کے لئے ایک وسیع ہیلتھ پروگرام شروع کیا جا چکا ہے۔ صحت مند پاکستان کے عنوان سے طبی نصائح پر مشتمل ایک ویڈیو لوگوں تک پہنچائی گئی تھی۔ اسی طرح انسانی جسم اور صحت سے متعلق بنیادی امور پر مشتمل پبلک ہیلتھ آگاہی کی مہم مکمل کی تھی جس میں پوسٹرز اور ویڈیوز کو عوام الناس میں پھیلایا گیا تھا۔

پاکستانی ڈاکٹروں کی یورپین ممالک میں تعیناتی اور ان کی مزید علمی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت میں اضافے کے لئے ٹریننگ پروگرام بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ ایپس کے پلیٹ فارم سے صحت سے متعلق آن لائن عالمی کانفرنسز، میٹنگ بھی منعقد ہوتی رہتی ہیں جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے ڈاکٹرز کے علاوہ صحت سے متعلق امور کے ماہرین شرکت کرتے ہیں۔ APPS یورپ کے دو سالانہ فنکشن بھی منعقد ہوچکے ہیں۔ پہلا اکتوبر 2022 میں سویڈن جس میں اسی کے قریب جب کہ دوسرا اسی سال مارچ سپین میں منعقد ہوا جس میں 150 کی تعداد میں ہیلتھ پروفیشنلز نے شرکت کی تھی۔ APPSیورپ کا ایک نیوز لیٹر بھی شائع ہوتا ہے جس میں ایپس کی سرگرمیوں کی رپورٹس مع تصاویر شائع ہوتی ہیں۔

Facebook Comments HS