بلوچستان میں تعلیم کی حالتِ زار
گزشتہ دو ہفتوں سے مجھے بلوچستان کے مختلف سکولوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ شہروں میں تو پھر بھی کچھ نہ کچھ پڑھنے کی گنجائش موجود ہے مگر دیہی علاقوں کے سکول انتہائی قابل رحم ہے۔ زیادہ تر سکولوں میں تمام مضامین کے اساتذہ نہیں ہہیں۔ سکول عمارت خستہ حالت میں ہیں۔ ایک ہی استاد پورے سکول کو کنٹرول کرتے ہیں۔ تمام بچے ایک ہی چھت کے نیچے کچی کلاس سے لے کر پنجم تک صرف ا، ب، پ پڑھ کر کتابیں بند کر کے گھر چلے جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کے تعلیم یافتہ طبقے میں ایک عام تاثر خوفناک حد تک پھیل چکا ہے کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں چھوٹی سی پوسٹ اپنے لئے حاصل کریں اور پھر انہی کی تنخواہ سے بڑی پوزیشنز کی تیاری کریں۔ اسی لئے اکثر اساتذہ تقرری کے بعد عوضی لگا کر خود بڑے شہروں میں سی ایس ایس اور پی سی ایس کی تیاریاں کر رہے ہیں اور جن کا ملک یا نواب سے کوئی قریبی رشتہ یا گٹھ جوڑ ہو اسے تو عوضی رکھنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی مگر سلام ہے خالد عثمان صاحب کو جو اپنے شہر لکی مروت سے ہزاروں کلو میٹر دور ”دول گڈ“ کے پہاڑوں میں گزشتہ تیئیس سال سے رہ کر پڑھانے کی مقدس فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور سینہ تان کر فخر سے اپنے شاگردوں کو یاد کرتے ہیں جو ان سنگلاخ پہاڑوں سے نکل کر آج بڑے اہم عہدوں پر فائز ہے۔
اساتذہ دس بجے آ کر دو کپ چائے پی کر گیارہ بجے واپس گھر جاتے ہیں اور شکایت یہ کرتے ہیں کہ ہم بچوں کو اس تپتی دھوپ میں کیسے پڑھائیں جہاں پنکھے کے علاوہ بچوں کو پینے کے لئے پانی تک میسر نہیں ہے۔ یہ بات شاید ان کی صحیح بھی ہو مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہر سال لاکھوں روپوں کے کلسٹرز آتے ہیں وہ کس کھاتے میں جاتے ہیں؟ واضح رہے کہ سکول کی دیکھ بھال اور بہتری کے لئے ہر سال لاکھوں غیر ملکی فنڈز بھی بڑی مقدار میں حکومت کو ملتے ہیں مگر بد عنوان اور کرپٹ مافیا اس فنڈ کو استعمال کر کے سکولوں کی حالت کو بہتر بنانے اور نظام تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر خورد برد کر لیا جاتا ہے جس سے سکولوں کی تعمیر و توسیع اور مرمت کا کام صحیح معنوں میں نہیں ہو پاتا جبکہ اکثر خورد برد اور کرپشن کے متعدد کیسز محکمہ اینٹی کرپشن میں چل رہے ہیں۔ اگر حکومت نے تعلیم کو عام کرنے اور تعلیمی اداروں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے اور محکمہ تعلیم سے بدعنوان افسران اور عملے کو فارغ نہیں کیا تو بچا کچا تعلیمی نظام بھی برباد ہو جائے گا۔
پاکستان میں عموماً اور بلوچستان میں خصوصاً شرح خواندگی پہلے ہی خطرناک حد تک گر چکی ہے اور نظام تعلیم بھی تباہی کے دہانے پر ہے جس کے لئے حکومت کو ایمرجنسی بنیادوں پر اصلاحات کرنی چاہیے تا کہ حقیقی طور پر تعلیم کو عام کیا جا سکے کیونکہ تعلیم ہی کسی ملک یا قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتی ہے۔
گورنمنٹ کی عدم توجہی اور اساتذہ کی سکول سے غیر حاضری کے باعث معاشرے میں ایک خلا پیدا ہوتی ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لئے پسماندگی، بے راہ روی اور مجرمانہ رویے خود بخود بچے جنتے ہیں۔

